بھوک آداب تہذیب مٹادیتی ہے

بھوک آداب تہذیب مٹادیتی ہے !!
(انور غازی)
اس وقت ایک ارب سے زائد لوگوں کو بمشکل روٹی میسر ہے۔ ان میں سے 80 کروڑ انسانوں کو وقتاً فوقتاً بھوکا سونا پڑتا ہے۔ 25 ہزار افراد غذائیت کی شدید کمی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک کروڑ 4 لاکھ افراد مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بچوں کی تعداد تقریباً دو ارب بیس کروڑ ہے، ان میں سے ایک ارب بچے غربت وافلاس کی آغوش میں پل رہے ہیں۔ ہر سیکنڈ بعد کوئی نہ کوئی انسان بھوک کی وجہ سے جان دیتا ہے۔ بھوک کی وجہ سے صرف افغانستان میں ماہانہ 60 افراد موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ 85 لاکھ افراد وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ معاشی طورپر تباہ حال افغانستان کی کوکھ میں پچاس لاکھ یتیم بچے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 30 فیصد بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ صرف کابل میں 75 ہزار ننھے منے بچے بازار اور گلیوں میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ لاکھوں عراقی باشندے ہمسایہ ممالک میں پناہ گزینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں اپنے ہی ملک میں بے بسی، بے روزگاری، مفلسی اور بھکاریوں کی سی بودوباش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ صرف مصر میں پناہ حاصل کرنے والے عراقیوں کی تعداد 13 لاکھ ہے اور اُردن میں 8 لاکھ ہے۔
پاکستان میں چھ کروڑ 70 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں اس میں 3 کروڑ 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں 60 فیصد آبادی صاف پانی پینے سے محروم ہے۔ پاکستان گزشتہ 30 سالوں سے 40 لاکھ مہاجرین کا بوجھ اُٹھارہا ہے لیکن عالمی ادارے امداد نہیں کررہے۔ افریقی ممالک میں بھی غربت اپنی انتہاﺅں کو چھورہی ہے۔ ہندوستان میں غربت کے خاتمے اور سماجی بہبود کے متعدد پروگراموں کے باوجود آبادی کا ایک بڑا حصہ غذا کی کمی اور خوراک کی قلت کا شکار ہے۔ فلسطین کے علاقے ”غزہ“ میں فاقوں پر فاقے پڑرہے ہیں۔ بیمار سسکیاں لے لے کر مررہے ہیں۔ بچے دودھ کے لیے ترس رہے ہیں۔ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 8 لاکھ ہے جو شہریت کے حق سے بھی محروم کردیے گئے ہیں اور انہیں گندی پسماندہ بستیوں تک محدود کردیا گیا ہے جن میں وہ جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کررہے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا حال ایتھوپیا، بوسنیا، انڈونیشیا، لاطینی امریکا، افریقہ، جنوبی ایشیا، سوڈان اور دیگر کا ہے۔ ان ممالک میں غربت میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے۔ دنیا کے تسلیم شدہ 245 ممالک میں سے چند ترقی یافتہ ہیں، بیس تیس ترقی پذیر اور باقی سب پسماندہ ہیں۔ تیسری دنیا کے تمام ممالک میں غربت وافلاس اور بھوک کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

Comments