’مجھے جینے نہیں دیتے۔۔۔!‘
ساجدہ غلام محمد، مانچسٹر۔
’میں تھوڑی کنفیوز ہو رہی ہوں۔‘ہنیہ نے گاؤن کے بٹن بند کرتے ہوئے کہا تو سنیہ مسکرا دی۔
’کچھ نہیں ہوتا۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔ اور میری سمیہ آپی سے فون پر بات ہوئی تھی۔ ان کا موڈ ٹھیک لگ رہا تھا۔‘
’اﷲ کرے ٹھیک ہی رہے۔‘ہنیہ نے دعا مانگی اور شاپر میں وہ چیزیں ڈالنے لگی جو اس نے سمیہ آپی اور ان کے بچوں کے لیے خریدی تھیں۔کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں رکشے میں بیٹھی آپی کے گھر جا رہی تھیں۔
’میرا تو دل بہت زور سے دھڑک رہا ہے۔‘ہنیہ نے ایک بار پھر سنیہ کو اپنی دلی کیفیت سے آگاہ کیا۔
’ہاں، مجھے آواز آ رہی ہے۔‘سنیہ نے شرارت سے جواب دیا۔ ’دیکھو ہنیہ! ٹھیک ہے تم سے غلطیاں ہوئی تھیں لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ تم نے اﷲ سے معافی مانگ لی اور توبہ کر لی۔‘
’میں بہت روئی ہوں اللہ کے سامنے۔ مجھے اندازہ ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے میں نے کتنا بڑا گناہ کیا۔ میں اس پہ بہت شرمندہ ہوں۔‘
’یہی تو میں کہنا چاہ رہی ہوں کہ غلط بات یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہوئی اور اس نے توبہ کر لی۔ غلط تو یہ ہے کہ انسان غلطی کرے اور پھر اس پہ ڈٹ جائے۔اللہ جی تو فرماتے ہیں کہ انسان اگر غلطی کر کے نادم ہو اور توبہ کر لے تو اللہ بھی معاف فرما دیتا ہے۔‘
’لیکن اللہ کے بندے معاف نہیں کرتے۔‘ ہنیہ نے دکھی دل سے کہا۔
’ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اگر اللہ معاف کر سکتا ہے تو بندے کیوں نہیں؟؟؟بندوں کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی سے بڑھ کے تو نہیں ناں۔‘
’باجی!یہاں سے کس طرف مڑنا ہے؟‘ رکشہ ڈرائیور نے ان کی سرگوشیانہ گفتگو میں مداخلت کی تھی۔
’دائیں طرف وہ پیلے گیٹ کے سامنے روک دیں۔‘سنیہ نے بتایا تھا۔
’پہلے تو سمیہ آپی کا یہ گھر نہیں تھا۔ وہ تو یونیورسٹی روڈ پہ تھا۔‘وہ دونوں اب گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑی تھیں جب ہنیہ نے پوچھا۔
’تم خود ایک سال بعد آئی ہو۔ سمیہ آپی تو بس دو ماہ ہی پرانے والے گھر میں رہی تھیں۔‘
’احساسِ جرم اور شرمندگی کے سبب آ ہی نہ سکی۔‘ہنیہ نے سر جھکا کر جواب دیا تھا۔ اتنے میں سمیہ آپی نے گیٹ کھول دیا۔
’السلامُ علیکم آپی۔ ‘سنیہ گلے مل چکی تو ہنیہ جھجھکتے ہوئے آگے بڑھی۔
’وعلیکم السلام۔ آؤاندر آ جاؤ۔‘آپی نے اس سے گلے ملتے ہوئے کہا تو نجانے کیوں اسے لگا ، آپی کے لہجے میں اس کے لیے گرم جوشی نہیں ہے۔
”میرا وہم ہے۔‘ ‘اس نے سر جھٹک کر اس منفی سوچ کر ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔
”کیا حال ہے؟“تینوں بہنیں صوفوں پر بیٹھ چکی تھیں جب آپی نے اس سے پوچھا۔
”ٹھیک ہوں۔ اللہ کا شکر ہے۔ آپ کیسی ہیں؟“
”الحمد ﷲ ۔“ ااتنا کہنے کے بعد آپی نے اپنا رخ سنیہ کی جانب موڑ لیا اور اس سے باتیں شروع کر دیں۔شروع میں تو ہنیہ کو عجیب نہ لگا۔
”سنیہ بھی تو بہن ہے۔ اس سے بھی تو باتیں کریں گی ناں۔ صرف مجھ سے ہی تھوڑی باتیں کریں گی!“ اس نے اپنے آپ کو سمجھایا لیکن اس کا یہ سمجھانا بے سود گیا جب آپی نے اسے مکمل نظر انداز کر کے صرف اور صرف سنیہ سے باتیں شروع کر دیں۔اسے ایک بار پھر احساسِ شرمندگی نے گھیر لیا۔ لیکن اب اس احساس کے ساتھ ایک اور احساس بھی مل گیا تھا۔۔۔احساسِ ذلت!!!
”تو سمیہ آپی نے مجھے ابھی تک معاف نہیں کیا۔۔۔‘اس نے دکھی دل سے سوچا اور اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
”میں اتنے عرصے بعد اتنی دور سے انہیں ملنے آئی ہوں۔ حیدر آباد سکھر کے قریب تو نہیں۔ کچھ تو آپی خیال کریں۔۔۔“ یہ سوچتے ہوئے اس نے بڑی مشکل سے آنسوؤں کو بہنے سے روکا۔
”آپی ! یہ میں آپ کے لیے اور بچوں کے لیے لائی تھی۔‘ ‘اسی نے آپی اور سنیہ کے درمیاں مداخلت کی تھی۔
”ان چیزوں کی کیا ضرورت تھی۔‘ ‘وہی روایتی سا جملہ تھا لیکن ہر طرح کے جذبات سے عاری۔
”نہیں میری خوشی تھی اس میں۔“ ہنیہ نے نم لہجے کو بظاہر بشاش بناتے ہوئے کہا تھا۔ سنیہ بے چارگی سے آپی کے رویے کو دیکھ رہی تھی۔ مزید آدھا گھنٹہ گزر گیا ۔ آپی صرف سنیہ سے باتیں کرتی رہی اور وہ بے بسی سے اپنی گود میں دھرے ہاتھوں کو مڑورتی رہی۔
کچھ دیر بعد آپی سنیہ کو لے کر کچن میں چلی گئیں اور وہ وہیں کی وہیں بیٹھی رہ گئی۔ ایک آنسوؤں کا ریلا تھا جو فوراََ اس کی آنکھوں سے بہہ نکلا۔
”یا اللہ! یہ دنیا مجھے کب معاف کرے گی؟؟میں کیا کروں کہ یہ لوگ میری غلطیوں کو بھلا دیں؟میں جانتی ہوں کہ میں نے ان سب کا اعتماد توڑا تھا لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ میں ساری زندگی بُری ہی رہوں گی؟؟تُو جانتا ہے کہ میں ٹھوکر کھا کر سنبھل گئی ہوں۔ اب مجھ سے آیندہ کبھی ایسی غلطی نہیں ہو گی۔ میرے اللہ! تُو نے تو کہا ہے کہ غلطی کرنے کے بعد اگر انسان توبہ کر لے تو تُوبخش دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگ، یہ دنیا اُس ایک غلطی کو یاد رکھ کر خطاکار کو ساری عمر لعن طعن کیوں کرتی رہتی ہے؟؟کیا میں اس ایک غلطی کی وجہ سے کیا کبھی ان کے سامنے سر نہ اٹھا پاؤں گی؟؟کیوں میرے مولا؟؟‘ ‘آنسو بہت تھے لیکن موقع مناسب نہ تھا۔ اس لیے ہنیہ نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پہ قابو پایا اور منہ دھونے باتھ روم چلی گئی۔
منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو میز پر چائے کا سامان لگ چکا تھا اور سمیہ آپی سنیہ کو کچھ سوٹ دکھا رہی تھیں۔
”یہ دیکھو، کتنا خوبصورت پرنٹ ہے۔“ ہنیہ سنیہ کے برابر میں بیٹھی تھی لیکن مجال ہے جو آپی نے اس سے بات کی ہو یا اس کی جانب دیکھا تک ہو۔تذلیل کے احساس نے اس کی روح تک چھلنی کر دی تھی۔
”چلیں۔‘ ‘اس نے سنیہ کو آنکھ سے اشارہ کیا تھا ۔وہ بھی اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
”اچھا آپی، ہم چلتے ہیں اب۔“سنیہ نے ہی آپی سے کہا تھا۔
”ٹھیک ہے بھئی۔ یہ تمہارے لیے۔‘ ‘آپی نے یہ کہہ کر ایک شاپر ہنیہ کی جانب بڑھایا تھا۔ دیکھا تب بھی نہ تھا۔
”شکریہ۔“خلوص کے اس عجب اظہار پر وہ حیران تھی۔ یہ بھی شائد ایک روایت تھی جسے پورا نبھانے کی کوشش کی گئی تھی۔
”آپی!اگر آپ مجھے اس سوٹ کی بجائے ایک مسکراہٹ ہی نواز دیتیں تو یقین مانیں!میری روح اندر تک شانت ہو جاتی!!“ ہنیہ یہ بات صرف سوچ ہی سکی تھی، کہہ نہ سکی۔
”اچھا لگا آپ کی دوست سے مل کر ۔‘ واپسی کے سفر میں ہنیہ نے سنیہ کے کان میں کہا تو وہ حیران رہ گئی۔
”میری کون سی دوست سے مل کر؟؟“
”یہی جن کے گھر سے ہم آ رہے ہیں۔ایسا ہی لگ رہا تھا کہ میں آپ سے ملنے آئی اور آپ مجھے اپنی دوست سے ملوانے اس کے گھر لے گئیں۔ دوست نے مجھ سے تو صرف حال چال ہی پوچھنا تھا ناں۔ یہاں بھی تو یہی ہوا۔ بلکہ نہیں، آپ کی دوست شائد مجھ سے کچھ خلوص سے ملتی۔“سنیہ دکھ سے ہنیہ کی باتیں سن رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ ہنیہ کے نقاب کے پیچھے چھپا اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ رہا تھا!!!
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان غلطی کر بیٹھے تو ہم اسے معاف کرنے پر راضی ہی نہیں ہوتے!چاہے وہ انسان پچاس سال مسلسل عبادت ہی کیوں نہ کر لے، اگر ہمارے سامنے آئے ہم پھر بھی یہی کہیں،’اس نے فلاں غلطی کی تھی۔یہ انسان ٹھیک نہیں ہے۔‘
اپنے ارد گرد غور کریں۔ ہو سکتا ہے کوئی انسان اپنی غلطی پر شرمندہ ہو اور آپ کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر اندھیرے میں بلک بلک کر اللہ سے فریا د کر رہا ہو کہ ’ تُو نے تو مجھے معاف کر دیا۔ یہ دنیا معاف نہیں کر رہی۔‘
مجھے جینے نہیں دیتے
میرے ماضی کے کچھ حصے
یہ مانا، غلطی میری تھی
خطا میری بڑی ہی تھی
مگر دیکھو، میں انسان ہوں
پھسلنا جس کی فطرت ہے
بھٹک جانا لہو میں ہے
آدم نے بھی غلطی کی
پھر نادم ہو کے توبہ کی
تو رب نے بھی تو بخشش دی
کہ وہ تو معافی دیتا ہے
میں بھی دیکھو نادم ہوں
توبہ کی ہے میں نے بھی
دل میں یہ یقین بھی ہے
میری توبہ کے آنسو پر
رب نے مجھ کو معافی دی
مگر یہ لوگ۔۔۔
مجھے جینے نہیں دیتے
میرے ماضی کے کچھ حصے
یہ اکثر یاد رکھتے ہیں
اور پھر سے مار دیتے ہیں
مجھے جینے نہیں دیتے
میرے ماضی کے کچھ حصے۔۔۔۔
ساجدہ غلام محمد، مانچسٹر۔
’میں تھوڑی کنفیوز ہو رہی ہوں۔‘ہنیہ نے گاؤن کے بٹن بند کرتے ہوئے کہا تو سنیہ مسکرا دی۔
’کچھ نہیں ہوتا۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔ اور میری سمیہ آپی سے فون پر بات ہوئی تھی۔ ان کا موڈ ٹھیک لگ رہا تھا۔‘
’اﷲ کرے ٹھیک ہی رہے۔‘ہنیہ نے دعا مانگی اور شاپر میں وہ چیزیں ڈالنے لگی جو اس نے سمیہ آپی اور ان کے بچوں کے لیے خریدی تھیں۔کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں رکشے میں بیٹھی آپی کے گھر جا رہی تھیں۔
’میرا تو دل بہت زور سے دھڑک رہا ہے۔‘ہنیہ نے ایک بار پھر سنیہ کو اپنی دلی کیفیت سے آگاہ کیا۔
’ہاں، مجھے آواز آ رہی ہے۔‘سنیہ نے شرارت سے جواب دیا۔ ’دیکھو ہنیہ! ٹھیک ہے تم سے غلطیاں ہوئی تھیں لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ تم نے اﷲ سے معافی مانگ لی اور توبہ کر لی۔‘
’میں بہت روئی ہوں اللہ کے سامنے۔ مجھے اندازہ ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے میں نے کتنا بڑا گناہ کیا۔ میں اس پہ بہت شرمندہ ہوں۔‘
’یہی تو میں کہنا چاہ رہی ہوں کہ غلط بات یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہوئی اور اس نے توبہ کر لی۔ غلط تو یہ ہے کہ انسان غلطی کرے اور پھر اس پہ ڈٹ جائے۔اللہ جی تو فرماتے ہیں کہ انسان اگر غلطی کر کے نادم ہو اور توبہ کر لے تو اللہ بھی معاف فرما دیتا ہے۔‘
’لیکن اللہ کے بندے معاف نہیں کرتے۔‘ ہنیہ نے دکھی دل سے کہا۔
’ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اگر اللہ معاف کر سکتا ہے تو بندے کیوں نہیں؟؟؟بندوں کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی سے بڑھ کے تو نہیں ناں۔‘
’باجی!یہاں سے کس طرف مڑنا ہے؟‘ رکشہ ڈرائیور نے ان کی سرگوشیانہ گفتگو میں مداخلت کی تھی۔
’دائیں طرف وہ پیلے گیٹ کے سامنے روک دیں۔‘سنیہ نے بتایا تھا۔
’پہلے تو سمیہ آپی کا یہ گھر نہیں تھا۔ وہ تو یونیورسٹی روڈ پہ تھا۔‘وہ دونوں اب گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑی تھیں جب ہنیہ نے پوچھا۔
’تم خود ایک سال بعد آئی ہو۔ سمیہ آپی تو بس دو ماہ ہی پرانے والے گھر میں رہی تھیں۔‘
’احساسِ جرم اور شرمندگی کے سبب آ ہی نہ سکی۔‘ہنیہ نے سر جھکا کر جواب دیا تھا۔ اتنے میں سمیہ آپی نے گیٹ کھول دیا۔
’السلامُ علیکم آپی۔ ‘سنیہ گلے مل چکی تو ہنیہ جھجھکتے ہوئے آگے بڑھی۔
’وعلیکم السلام۔ آؤاندر آ جاؤ۔‘آپی نے اس سے گلے ملتے ہوئے کہا تو نجانے کیوں اسے لگا ، آپی کے لہجے میں اس کے لیے گرم جوشی نہیں ہے۔
”میرا وہم ہے۔‘ ‘اس نے سر جھٹک کر اس منفی سوچ کر ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔
”کیا حال ہے؟“تینوں بہنیں صوفوں پر بیٹھ چکی تھیں جب آپی نے اس سے پوچھا۔
”ٹھیک ہوں۔ اللہ کا شکر ہے۔ آپ کیسی ہیں؟“
”الحمد ﷲ ۔“ ااتنا کہنے کے بعد آپی نے اپنا رخ سنیہ کی جانب موڑ لیا اور اس سے باتیں شروع کر دیں۔شروع میں تو ہنیہ کو عجیب نہ لگا۔
”سنیہ بھی تو بہن ہے۔ اس سے بھی تو باتیں کریں گی ناں۔ صرف مجھ سے ہی تھوڑی باتیں کریں گی!“ اس نے اپنے آپ کو سمجھایا لیکن اس کا یہ سمجھانا بے سود گیا جب آپی نے اسے مکمل نظر انداز کر کے صرف اور صرف سنیہ سے باتیں شروع کر دیں۔اسے ایک بار پھر احساسِ شرمندگی نے گھیر لیا۔ لیکن اب اس احساس کے ساتھ ایک اور احساس بھی مل گیا تھا۔۔۔احساسِ ذلت!!!
”تو سمیہ آپی نے مجھے ابھی تک معاف نہیں کیا۔۔۔‘اس نے دکھی دل سے سوچا اور اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
”میں اتنے عرصے بعد اتنی دور سے انہیں ملنے آئی ہوں۔ حیدر آباد سکھر کے قریب تو نہیں۔ کچھ تو آپی خیال کریں۔۔۔“ یہ سوچتے ہوئے اس نے بڑی مشکل سے آنسوؤں کو بہنے سے روکا۔
”آپی ! یہ میں آپ کے لیے اور بچوں کے لیے لائی تھی۔‘ ‘اسی نے آپی اور سنیہ کے درمیاں مداخلت کی تھی۔
”ان چیزوں کی کیا ضرورت تھی۔‘ ‘وہی روایتی سا جملہ تھا لیکن ہر طرح کے جذبات سے عاری۔
”نہیں میری خوشی تھی اس میں۔“ ہنیہ نے نم لہجے کو بظاہر بشاش بناتے ہوئے کہا تھا۔ سنیہ بے چارگی سے آپی کے رویے کو دیکھ رہی تھی۔ مزید آدھا گھنٹہ گزر گیا ۔ آپی صرف سنیہ سے باتیں کرتی رہی اور وہ بے بسی سے اپنی گود میں دھرے ہاتھوں کو مڑورتی رہی۔
کچھ دیر بعد آپی سنیہ کو لے کر کچن میں چلی گئیں اور وہ وہیں کی وہیں بیٹھی رہ گئی۔ ایک آنسوؤں کا ریلا تھا جو فوراََ اس کی آنکھوں سے بہہ نکلا۔
”یا اللہ! یہ دنیا مجھے کب معاف کرے گی؟؟میں کیا کروں کہ یہ لوگ میری غلطیوں کو بھلا دیں؟میں جانتی ہوں کہ میں نے ان سب کا اعتماد توڑا تھا لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ میں ساری زندگی بُری ہی رہوں گی؟؟تُو جانتا ہے کہ میں ٹھوکر کھا کر سنبھل گئی ہوں۔ اب مجھ سے آیندہ کبھی ایسی غلطی نہیں ہو گی۔ میرے اللہ! تُو نے تو کہا ہے کہ غلطی کرنے کے بعد اگر انسان توبہ کر لے تو تُوبخش دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگ، یہ دنیا اُس ایک غلطی کو یاد رکھ کر خطاکار کو ساری عمر لعن طعن کیوں کرتی رہتی ہے؟؟کیا میں اس ایک غلطی کی وجہ سے کیا کبھی ان کے سامنے سر نہ اٹھا پاؤں گی؟؟کیوں میرے مولا؟؟‘ ‘آنسو بہت تھے لیکن موقع مناسب نہ تھا۔ اس لیے ہنیہ نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پہ قابو پایا اور منہ دھونے باتھ روم چلی گئی۔
منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو میز پر چائے کا سامان لگ چکا تھا اور سمیہ آپی سنیہ کو کچھ سوٹ دکھا رہی تھیں۔
”یہ دیکھو، کتنا خوبصورت پرنٹ ہے۔“ ہنیہ سنیہ کے برابر میں بیٹھی تھی لیکن مجال ہے جو آپی نے اس سے بات کی ہو یا اس کی جانب دیکھا تک ہو۔تذلیل کے احساس نے اس کی روح تک چھلنی کر دی تھی۔
”چلیں۔‘ ‘اس نے سنیہ کو آنکھ سے اشارہ کیا تھا ۔وہ بھی اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
”اچھا آپی، ہم چلتے ہیں اب۔“سنیہ نے ہی آپی سے کہا تھا۔
”ٹھیک ہے بھئی۔ یہ تمہارے لیے۔‘ ‘آپی نے یہ کہہ کر ایک شاپر ہنیہ کی جانب بڑھایا تھا۔ دیکھا تب بھی نہ تھا۔
”شکریہ۔“خلوص کے اس عجب اظہار پر وہ حیران تھی۔ یہ بھی شائد ایک روایت تھی جسے پورا نبھانے کی کوشش کی گئی تھی۔
”آپی!اگر آپ مجھے اس سوٹ کی بجائے ایک مسکراہٹ ہی نواز دیتیں تو یقین مانیں!میری روح اندر تک شانت ہو جاتی!!“ ہنیہ یہ بات صرف سوچ ہی سکی تھی، کہہ نہ سکی۔
”اچھا لگا آپ کی دوست سے مل کر ۔‘ واپسی کے سفر میں ہنیہ نے سنیہ کے کان میں کہا تو وہ حیران رہ گئی۔
”میری کون سی دوست سے مل کر؟؟“
”یہی جن کے گھر سے ہم آ رہے ہیں۔ایسا ہی لگ رہا تھا کہ میں آپ سے ملنے آئی اور آپ مجھے اپنی دوست سے ملوانے اس کے گھر لے گئیں۔ دوست نے مجھ سے تو صرف حال چال ہی پوچھنا تھا ناں۔ یہاں بھی تو یہی ہوا۔ بلکہ نہیں، آپ کی دوست شائد مجھ سے کچھ خلوص سے ملتی۔“سنیہ دکھ سے ہنیہ کی باتیں سن رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ ہنیہ کے نقاب کے پیچھے چھپا اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ رہا تھا!!!
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان غلطی کر بیٹھے تو ہم اسے معاف کرنے پر راضی ہی نہیں ہوتے!چاہے وہ انسان پچاس سال مسلسل عبادت ہی کیوں نہ کر لے، اگر ہمارے سامنے آئے ہم پھر بھی یہی کہیں،’اس نے فلاں غلطی کی تھی۔یہ انسان ٹھیک نہیں ہے۔‘
اپنے ارد گرد غور کریں۔ ہو سکتا ہے کوئی انسان اپنی غلطی پر شرمندہ ہو اور آپ کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر اندھیرے میں بلک بلک کر اللہ سے فریا د کر رہا ہو کہ ’ تُو نے تو مجھے معاف کر دیا۔ یہ دنیا معاف نہیں کر رہی۔‘
مجھے جینے نہیں دیتے
میرے ماضی کے کچھ حصے
یہ مانا، غلطی میری تھی
خطا میری بڑی ہی تھی
مگر دیکھو، میں انسان ہوں
پھسلنا جس کی فطرت ہے
بھٹک جانا لہو میں ہے
آدم نے بھی غلطی کی
پھر نادم ہو کے توبہ کی
تو رب نے بھی تو بخشش دی
کہ وہ تو معافی دیتا ہے
میں بھی دیکھو نادم ہوں
توبہ کی ہے میں نے بھی
دل میں یہ یقین بھی ہے
میری توبہ کے آنسو پر
رب نے مجھ کو معافی دی
مگر یہ لوگ۔۔۔
مجھے جینے نہیں دیتے
میرے ماضی کے کچھ حصے
یہ اکثر یاد رکھتے ہیں
اور پھر سے مار دیتے ہیں
مجھے جینے نہیں دیتے
میرے ماضی کے کچھ حصے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment