کولڈ اسٹارٹ پر ٹھنڈا پانی

کولڈ اسٹارٹ پر ٹھنڈا پانی

کارزار/ انور غازی

”بھارت کے جنگی نظریے کولڈ اسٹارٹ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے۔ اسٹرٹیجک صلاحیت جارح پڑوسی کے خلاف امن کی ضمانت ہے۔ جنگ سے ہر صورت میں بچنا چاہیے۔ علاقائی امن اور استحکام کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ “یہ الفاظ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہیں جو انہوں نے پاکستانی بیلسٹک میزائل نصر کے کامیاب تجربے کے بعد کہے۔ قارئین! آگے بڑھنے سے پہلے پس منظر و پیش منظر کے طورپر یہ جانیں کہ ”کولڈ اسٹارٹ “کیا ہے؟ بھارت کی تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائین میں سے پہلے نمبر پر ”کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائین“ (Cold Start Doctrine) ہے۔ یہ انڈین جنگی حکمت عملی ہے۔ اس کے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے 6 پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں۔ یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے۔ اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں، پلوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر ان کو سندھ میں.... کی اور بلوچستان میں.... کی مدد حاصل ہوگی۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے۔ پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی”عزم نو“ مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان ”امریکن ایف پاک ڈاکٹرائین“ کی زد میں ہےں۔ ”امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن“ (American Afpak Doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے، جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ہے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی شہید کرواچکی ہے۔ یہ تعداد پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ اس جنگ کے لیے امریکا اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تکنیکی مدد حاصل ہے، اس کے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو ان کے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا۔ پاک فوج نے عملی طور پر ان کو پیچھے دھکیل دیا، لیکن نظریاتی طور پر ان کو ابھی بھی کئی حلقوں کی حمایت اور سپورٹ حاصل ہے۔تیسری جنگی ڈاکٹرائن ”فورتھ جنرریشن وار “ہے۔ اس کے ذریعے امریکا اور اس کے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں۔ یاد رکھیں کہ ”فورتھ جنریشن وار “(Fourth-Generation War) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے، جس کے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے۔ مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے، صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے۔ اسی کے ذریعے کسی ملک کے میڈیا ہاو ¿سز خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی کے ذریعے سے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔ ”فورتھ جنریشن وار“ کی مدد سے امریکا نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا وغیرہ کا حشر نشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور شام پر آزمایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکا ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں۔ مسٹراوباما نے بذات ِخود کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے۔ آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کن کو یہ رقوم ادا کی جائیںگی؟؟ پاکستانی قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے۔یہ واحد جنگ ہوتی ہے جس کامکمل جواب صرف آرمی نہیں دے سکتی۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی پوری مدد حاصل ہے، نہ سول حکومتوں کی اورنہ ہی میڈیا کی، اس لیے بے شمار قربانیاں دینے کے باوجود اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے، اور اس کو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک کہ پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی۔ ”فورتھ جنریشن وار“ بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اس کا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن لوگ ہی دیتے ہیں۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اس لئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا۔ اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ہر اس چیز کو مسترد کردے جو پاکستان، نظریہ ¿ پاکستان، دفاعِ پاکستان اورقومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو۔“ان تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائین کو سامنے رکھ کر جائزہ لیں تو معلوم ہوگا پاک وطن کو گھمبیر حالات کا سامنا ہے، شورش ہے، بدامنی ہے، لاقانونیت، عوام عدم تحفظ کا شکار ہےں، لاشیں گررہی ہیں، تنصیبات پر حملے ہورہے ہیں اور خود کش حملوں میں ہم وطنوں کا لہو پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ خوف اور بے چینی کی کیفیت ہے۔ ہم وطنوں کا مال محفوظ ہے نہ ہی جان، حالانکہ جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ پریشانیوں، الجھنوں، غموں اور ناانصافی، بے روزگاری، بدامنی، مال وجان کے عدم ِتحفظ کی شکار دکھوں کی ماری قوم کو اندھیرے میں کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ ان حالات سے چھٹکارے کے لیے حکمرانوں اور پوری قوم کو مل کراستحکام پاکستان اور تعمیر وطن کا کام کرنا ہوگا۔ سب کو باہمی مل جل کر اس کا دفاع ناقابل تسخیر بنانا ہوگا۔ پاکستان صرف حکمرانوں ہی کا نہیں بلکہ ہم سب پاکستانیوں کا ہے۔ جب پاکستان سب کا ہے تو پھر اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں سمیت ہر قسم کی حفاظت بھی ہم سب کے ذمے فرض ہے۔ مدارس، علمائ، مشائخ، صوفیائ، وکلائ، سیاستدان، اسکالر، ایجنسیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مزدوروں، صنعت کاروں، طلبہ اور طالبات گویا ہر ایک محب وطن پر لازم ہے کہ وہ پاک وطن کے خلاف ہر قسم کی سازش کو باہم متحد ہوکر ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ملک کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ اسی میں سب کی بقا ہے۔ یہی قوم کی اپنے وطن کے ساتھ وفا داری ہے۔ ہمارا دین بھی یہی درس دیتا ہے۔ہمارے دفاعی ادارے پاکستان کو ہر لحاظ سے مستحکم کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ سائنسدانوں نے جدید میزائل ٹیکنالوجی میں امریکا اور بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب دیکھیں! دو دن قبل ہی پاکستان نے بیلسٹک میزائل ”نصر“ کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ زمین سے زمین پر مار کرنے والا بیلسٹک میزائل 60 سے 70 کلومیٹر پر ہدف کو نشانہ بنانے اور جوہری مواد لے جانے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پر ہمارے سائنسدان اور دفاعی ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یہ وطن چونکہ ہم سب کا ہے، لہٰذا ہم سب کو اپنے اپنے دائرئہ کار میں رہتے ہوئے ملک و قوم کی خوشحالی کے لیے اور وطن کے استحکام کے لیے کام کرنے چاہییں...
****

Comments