تبصرہ کتب
از مولانا نعیم الدین
سفر در سفر
صفحات: 374
مصنف: مفتی محمد تقی عثمانی
پبلیشر: مکتبہ معارف القران
دنیا کی پوری زندگی در حقیقت ایک سفر ہی، ایک ایسا سفر جس کی انتہا کسی کو معلوم نہیں ـ
میرا پسندیدہ مشغلہ کتابیں پڑھنا ہے پھر کتابوں میں سفر نامے، آپ بیتیاں اور ادبی کتب کو ترجیح دیتا ہوں ـ
کافی سفر نامے جس میں ابن انشاء تارڑ اور دیگر ادیب لوگوں کو کافی پڑھ رکھا تھا، دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ شیخ الاسلام صاحب کے تینوں سفر نامے "جہان دیدہ " ، "دنیا مرے آگے "اور سفر در سفر ضرور پڑھوں گا لیکن موقع نہ مل سکا، اب الحمدللہ موقع بھی میسر ہے اور مطالعہ بھی اپنی ترتیب سے تیز چل رہا جس میں سب سے پہلے سفر نامے " سفر در سفر " کا انتخاب کیا، شیخ الاسلام صاحب کا یہ سفر نامہ جس میں شام، ایران، کرغزستان، تاجکستان، البانیہ، روس جاپان، نیوزی لینڈ، فیجی آئر لینڈ اور ہندوستان کے سفرنامے شامل ہیں ـ
یہ کتاب مختلف ملکوں سفرناموں کے ساتھ تاریخ اسلام کی عظیم شخصیتوں کے تعارف کا ایک بھترین خزانہ ہے، جس میں شیخ صاحب کے اسلوب نگارش نے مزید چار چاند لگا دیے ہیں، اللہ کی توفیق سے ڈیڈھ دن کے مختصر عرصے میں یہ کتاب مطالعہ کرلی، کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ کھولنے کے بعد کتاب ختم کیے بغیر دل بے چین سا رہتا ہے ـ
از مولانا نعیم الدین
سفر در سفر
صفحات: 374
مصنف: مفتی محمد تقی عثمانی
پبلیشر: مکتبہ معارف القران
دنیا کی پوری زندگی در حقیقت ایک سفر ہی، ایک ایسا سفر جس کی انتہا کسی کو معلوم نہیں ـ
میرا پسندیدہ مشغلہ کتابیں پڑھنا ہے پھر کتابوں میں سفر نامے، آپ بیتیاں اور ادبی کتب کو ترجیح دیتا ہوں ـ
کافی سفر نامے جس میں ابن انشاء تارڑ اور دیگر ادیب لوگوں کو کافی پڑھ رکھا تھا، دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ شیخ الاسلام صاحب کے تینوں سفر نامے "جہان دیدہ " ، "دنیا مرے آگے "اور سفر در سفر ضرور پڑھوں گا لیکن موقع نہ مل سکا، اب الحمدللہ موقع بھی میسر ہے اور مطالعہ بھی اپنی ترتیب سے تیز چل رہا جس میں سب سے پہلے سفر نامے " سفر در سفر " کا انتخاب کیا، شیخ الاسلام صاحب کا یہ سفر نامہ جس میں شام، ایران، کرغزستان، تاجکستان، البانیہ، روس جاپان، نیوزی لینڈ، فیجی آئر لینڈ اور ہندوستان کے سفرنامے شامل ہیں ـ
یہ کتاب مختلف ملکوں سفرناموں کے ساتھ تاریخ اسلام کی عظیم شخصیتوں کے تعارف کا ایک بھترین خزانہ ہے، جس میں شیخ صاحب کے اسلوب نگارش نے مزید چار چاند لگا دیے ہیں، اللہ کی توفیق سے ڈیڈھ دن کے مختصر عرصے میں یہ کتاب مطالعہ کرلی، کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ کھولنے کے بعد کتاب ختم کیے بغیر دل بے چین سا رہتا ہے ـ

Comments
Post a Comment