محترم عابی مکھنوی صاحب کا سہل ممتنع ملاحظہ فرمائیے ، کیا ہی برجستہ اشعار ہیں. :)
میں زندگی سے جُڑا ہوا ہوں
اِسی لیے تو !! مَرا ہوا ہوں
تُو کہکشاؤں کی سیر کرلے !!
مُجھے ہے سونا !! تھکا ہوا ہوں
میں دوستوں سے کٹا ہوا ہوں
جبھی تو اب تک !! بچا ہوا ہوں
تمھارے بس میں نہیں وہ قیمت !!
میں اِتنا مہنگا !! بِکا ہوا ہوں
کوئی بھی رستہ نیا نہیں ہے
ہر ایک رُخ پر !! چلا ہوا ہوں
کسی پہ کیسے بھروسہ کر لُوں !!
میں خود سے مِل کے !! ڈرا ہوا ہوں
رگوں میں کالا لہو رواں ہے !!
میں اِتنا !! اب تک !! ڈسا ہوا ہوں
وہ سامنے بھی کھڑا ہوں میں ہی !!
اِدھر بھی میں ہی !! پڑا ہوا ہوں
وہ عابی جو تھا !! گُزر گیا ہے
یہ عابی جو ہے !! بنا ہوا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
میں زندگی سے جُڑا ہوا ہوں
اِسی لیے تو !! مَرا ہوا ہوں
تُو کہکشاؤں کی سیر کرلے !!
مُجھے ہے سونا !! تھکا ہوا ہوں
میں دوستوں سے کٹا ہوا ہوں
جبھی تو اب تک !! بچا ہوا ہوں
تمھارے بس میں نہیں وہ قیمت !!
میں اِتنا مہنگا !! بِکا ہوا ہوں
کوئی بھی رستہ نیا نہیں ہے
ہر ایک رُخ پر !! چلا ہوا ہوں
کسی پہ کیسے بھروسہ کر لُوں !!
میں خود سے مِل کے !! ڈرا ہوا ہوں
رگوں میں کالا لہو رواں ہے !!
میں اِتنا !! اب تک !! ڈسا ہوا ہوں
وہ سامنے بھی کھڑا ہوں میں ہی !!
اِدھر بھی میں ہی !! پڑا ہوا ہوں
وہ عابی جو تھا !! گُزر گیا ہے
یہ عابی جو ہے !! بنا ہوا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
Comments
Post a Comment