فیصل آباد میں ڈیڑھ گھنٹہ اور ایک شوخ سے ملنا

فیصل آباد میں ڈیڑھ گھنٹہ اور ایک شوخ سے ملنا! (سفرنامہ 3)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
30 جون… سفر کا دوسرا دن!
وہ چڑیوں کی چہچہاہٹ تھی، جس سے ہماری آنکھ کھلی تھی۔
’’ہائیں یہ بھلا ٹرین میں چڑیاں کہاں سے آ گئیں؟!‘‘
غنودگی بھرے ذہن نے حیرت سے سوچا۔ نیچے جھانکا تو دونوں معصوم چڑیوں سے بچے کھڑکی سے چپکے ہوئے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک باہر نکالے خوب زوروشور سے نجانے آپس میں باتیں کر رہے تھے یا الجھ رہے تھے۔
ہم نے فوراً انہیں ٹوکا:’’ارے بھئی کھڑکی سے ہاتھ تو اندر کرو۔‘‘
دونوں یکایک چپ ہو گئے اور گردن اٹھا کر ہمیں دیکھنے لگے۔ ہماری آواز سے ان کے ابا جان کی بھی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے بھی لیٹے لیٹے بچوں کو گھرکا۔
ہم نے اپنے’ سروقد' اور مسافروں کے سوئے ہوئے ہونے کا فائدہ اٹھایا اور سیڑھی سے اترنے کے بجائے بازوؤں کے بل اچک کر نیچے چھلانک لگائی… کھڑکی سے باہر جھانکا تو صبح کے دھندلکے نور میں تیزی سے پیچھے کو بھاگتے درخت اور سرسبز کھیت آنکھوں کو بہت ہی بھلے لگے۔’’شاید سات بجے ہیں۔‘‘ ہم نے اندازہ لگایا اور صابن لیے واش روم کی راہ پکڑی۔
واپس آئے تو چائے والا آواز لگا رہا تھا۔ اسے چائے کا آرڈر دیا۔ بچوں کے ابا جان بھی چائے منگوا چکے تھے۔ چاروں خواتین البتہ پچھلی رات کی زبردست’جبڑانہ مشقت‘ کے بعد ابھی تک لمبی تان کر سو رہی تھیں… بے شک ان کی زبانوں کا بھی پورا حق تھا کہ ان کو آرام دیا جائے۔
چائے آئی تو کل سے یہ پہلا موقع تھا جب ہم دونوں حضرات نے چائے پیتے ہوئے کچھ گفتگو کی… دو چار جملوں کے بعد مگر بات کرنے کو کچھ رہ ہی نہیں گیا… بس ایک دوسرے کی منزل کا علم ہو گیا… وہ بچوں کی چھٹیوں پر انہیں اپنے آبائی گاؤں تھاکوٹ لے جا رہے تھے اور ہم واہ کینٹ… اس مقصد کے لیے ہم دونوں کو ہی راولپنڈی کے 26 نمبر اسٹاپ پر جانا تھا… اسی وقت ٹکٹ چیکر آ گیا… ٹکٹ دکھایا تو وہ زیر لب مسکرا دیا… ہم سمجھ گئے کہ وہ ٹکٹ پر درج ہماری ’چار سو بیسی‘ دیکھ کر مسکرایا ہو گا… کیوں کہ اتفاق سے ہمارا کراچی سے فیصل آباد کا کرایہ کم نہ زیادہ پورا 420 روپے بنا تھا… اس نے ٹکٹ پر جرنلسٹ ڈسکاونٹ دیکھ کر ریلوے کارڈ بھی طلب کیا، دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔
بدمزہ چائے ختم ہوئی تو ٹرین میں زندگی آہستہ آہستہ جاگنے لگی تھی… مسافر واش روم کے باہر جمع ہونے لگے… معلوم یہ ہوا تھا کہ نو سوا نو بجے تک ہم فیصل آباد پہنچ جائیں گے… موبائل دیکھا تو خوش قسمتی سے سگنل پورے آ رہے تھے… فیس بک اوپن کی تو جناب سعود عثمانی صاحب کے کالم کا نوٹیفیکشن آیا ہوا تھا… ترکی کے دولما باشی سرائے سے متعلق وہ حیران کن شاہکار کالم اسی وقت پڑھا اور ایک اضمحلال سا رگ وپے پہ طاری ہو گیا… سلطنت عثمانیہ کے دور زوال میں، محض اپنی جھوٹی شان جتانے اور زوال پذیر دبدبے کو چھپانے کے لیے…غیر ملکی قرضے سے 35 ٹن سونے کی مالیت (تقریبا ڈھائی ارب ڈالرز) سے بنایا گیا یورپین طرز کا یہ محل، جس کی صرف چھت پر 14ٹن خالص سونا لٹکایا گیا تھا…عبرت کا ایک نمونہ ہی تھا۔
اگلے ڈیڑھ دو گھنٹے پھر ہم ماضی میں کھوئے، اپنے تئیں خود کو بڑا مفکر اور مصلح سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے زوال کے علت و اسباب پر غور فرماتے رہے… مگر پھر معدے میں شروع ہونے والی چوہوں کی دوڑ نے جلد ہی ہمیں ماضی سے حال میں لا پٹخا اور ہمارے سر سے مسلم امہ کا غم اتر کر اپنے پیٹ بھرنے کا غم سوار ہوا۔
بارہ گھنٹے سے اوپر ہو گئے تھے، ہم نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ آس پاس دیکھا تو سب ہی کچھ نہ کچھ کھا پی رہے تھے… دل کو سمجھایا کہ فیصل آباد بس قریب ہی ہے، سو بس وہیں اتر کر کچھ نوش جاں کریں گے۔
فیصل آباد واقعی قریب ہی تھا… کچھ ہی دیر میں ٹرین فیصل آباد کی حدود میں داخل ہو گئی تھی…نو بج کر دس منٹ پر گاڑی اسٹیشن پہنچ گئی… ہمارے کوپے سے لاہور جانے والی آنٹی کے علاوہ سب ہی کو اترنا تھا… رسمی سی باہمی سلام دعا ہوئی اور ہم سب اپنے اپنے بیگ سنبھالے پلیٹ فارم پر اتر گئے۔
بلال پاشا پہلے ہی بتا چکا تھا کہ اسٹیشن کے بالکل سامنے ہی ڈائیو کا اڈہ ہے، وہاں سے راولپنڈی 26 نمبر اسٹاپ کے لیے کوچ میں بیٹھیے گا…
باہر نکل کر ایک مقامی سے اڈے کی بابت استفسار کیا اور سڑک پار کر کے اڈے پر پہنچ گئے… یہ ڈائیو کا اڈہ تونہیں، اسکائی وے کا اڈہ تھا۔ گاڑیاں بہرحال اچھی لگ رہی تھیں… معلوم ہوا کہ پنڈی کے لیے پونے گیارہ بجے والی کوچ میں سیٹ موجود ہے… وقت دیکھا تو پورا ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا… ٹکٹ لیا اور ناشتے کی تلاش میں بیگ اٹھائے اڈے سے باہر آ گئے۔
برابر میں ہی چناب ریسٹورنٹ کے بورڈ پر نظر پڑی تو اسی میں جا بیٹھے… 80 روپے میں ایک چمڑے جیسی تیل میں چپڑی چیز کے چند لقمے چائے کے ساتھ بمشکل حلق سے اتارے اور باقی اسی طرح پلیٹ میں چھوڑ کر اٹھ گئے… دل کو تسلی دی کہ ناشتہ کر لیا ہے… دل تو بہت برا ہوا… مگر مسافر بھلا کیا نخرہ دکھائے، سو صبر شکر کرتے ہوئے باہر آئے اور انتظارگاہ میں بیٹھ کر وقت گزارنے لگے۔
بیٹھے بیٹھے اچانک شرارت سوجھی تو ایک قدیمی فیصل آبادی دوست کو چھیڑنے کے واسطے ایک چند سطری شرارتی پوسٹ کربیٹھے… شاید یہی پوسٹ دیکھی ہو گی کہ کچھ ہی دیر میں تصور کا فون آ گیا… اس نے ’الداعی الی الخیر‘ مولانا طاہر ریاض کو فون کھڑکا دیا تھا اور بتا رہا تھا کہ وہ آ رہا ہے۔
ہمیں کچھ اچھا نہیں لگا… رابطہ ہی کرنا ہوتا تو خود کرتے کہ لائل پور میں الحمدللہ محبین بے شمار رکھتے تھے… مگر صرف ایک گھنٹے کے لیے کسی کو تنگ کرنا بہت نامناسب بات تھی… خیر ہماری گاڑی کے وقت میں ابھی تیس منٹ باقی تھے… پندرہ بیس منٹ مزید گزرے ہوں گے کہ طاہر کا فون آ گیا… وہ پہنچ گیا تھا… ہم متلاشی نگاہوں سے کسی صحت مند ’باتوند‘ مولوی کو تاک رہے تھے کہ قریب سے ہی ایک باریک آواز آئی: ’’فیصل بھائی!‘‘
دیکھا تو ہماری ہی طرح سلم اسمارٹ سا ایک بندہ… مسکراتے شوخ چہرے اور آنکھوں میں شرارت کی چمک لیے ہماری طرف بڑھ رہا تھا… ہم اسے دیکھ کر یوں خوش ہو گئے، جیسے کسی اجنبی بے مروت جگہ، کسی اپنے کو اچانک دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
فیس بکی تعلق بھی کیا عجیب شے ہے… بغیر ملے، بنا دیکھے، محض ریڈیائی تعلق… فریقین کو بے تکلفی کی ان منازل پر لے جاتا ہے… جو اکثر برسوں دن رات ساتھ رہنے والے بھی سر نہیں کر پاتے… محض دو ’ڈی پیوں‘ کا یہ فیس بکی تعلق جب کبھی روبرو ملاقات میں متشکل ہوتا ہے تو حیرت اور خوشی، محبت اور بے تکلفی کے بڑے حسین مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
انیس غوری کی بیک وقت پھوپھواور خاوند (ارے بھائیو!یہ کیا عجیب رشتہ ہے؟😏) ہاتھ پھیلائے ہماری طرف آئے اور ہمیں بانہوں میں بھر لیا…ان کی اس وارفتگی پر ہم عادت کے مطابق شرم سے سرخ ہو گئے… مگر شاید وہ ان کی زندگی کا یادگار لمحہ تھا… تب ہی وہ اپنی سعادت سمجھتے ہوئے کافی دیر ہمارے سینے سے لگے رہے… ہم نے بھی ان کے جذبات کا خیال رکھا، ان کی پیٹھ تھپکتے سہلاتے رہے اورتب تک اسی بہانے ان کی پسلیاں بھی گن گئے کہ حضرت کتنے پانی میں ہیں! 😎
معانقہ، مصادرے میں اور مصادرہ جب مباطنے میں مبدل ہونے لگا تو ہمیں اگلی خطرناک منزل مذاکرے سے بچنے کے ڈر سے بالآخر انہیں خود سے جدا کرنا پڑا… دعا سلام اور شکوے شکایت کے بعد انہوں نے جلدی جلدی ہماری منزل، سفرکی تفصیل اور فیصل آباد واپسی کی بابت استفسار کیا… ہم جواب دیتے رہے اور ان کی جادو بھری چنچل آنکھوں کو دیکھتے رہے، جن میں شرارت گویا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
اسی اثنا میں ہماری گاڑی نے چلنے کا صور پھونک دیا… مسافر بیٹھ رہے تھے… طاہر نے جلدی سے موٹرسائیکل سےدو شاپرز اتارے اور ہماری طرف بڑھائے… دیکھا تو جوس اور دودھ کے ڈبوں سے شاپرز بھرے ہوئے تھے… بندہ مروت میں آ گیا تھا یا ہے ہی اتنا مہمان نواز…!؟ 🤔
ہم نے سوچا۔ خیرجو بھی ہو، ہم نے بہرحال ہلکا سا رسمی احتجاج کرتے ہوئے شاپرز سنبھال لیے کہ ہم نہ سہی، آگے ملنے والے بچے بلال پاشا کو جوس ووس پلا دیں گے…
مولانا طاہر ریاض بھائی کو جمعے کی تیاری کرنی تھی اور ہماری گاڑی بھی چلنے کو تیار تھی… سوان سے الوداعی معانقہ کر کے رخصت کیا اور اپنی سیٹ پر آ بیٹھے۔
اگلا پڑاؤ ہمارا پنڈی کا اسٹاپ تھا جہاں بلال کو ہمیں لینے آنا تھا… اسکائی وے چل پڑی۔
تھوڑی دیر بعد ہی ایک پکی شکل کی میک اپ زدہ آنٹی نمودار ہوئیں اور سب مسافروں کو ہیڈفون تھمانے لگیں… ہماری سیٹ تک محترمہ پہنچیں تو ہماری بغل میں بیٹھے لڑکے کوتو ہیڈ فون دیا مگر ہمیں جیسے دیکھا ہی نہیں اور آگے بڑھ گئیں… ہم نے خوش گمانی کی کہ محترمہ ہماری ریش مبارک کا احترام کر رہی ہیں شاید… مگر یہ خوش گمانی کچھ دیر بعد اس وقت ختم ہو گئی جب وہ گلاس اور کولڈڈرنک لیے میزبانی کرنے لگیں… اس بار بھی وہ ہمارے پڑوسی کو گلاس تھما کر جب آگے بڑھ گئیں۔
اب یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ آنٹی کو ہماری شوگر کا الہام ہو گیا ہو… سو ہم سے رہا نہیں گیا اور برابر بیٹھے لڑکے سے بول پڑے: ’’بھائی! دیکھنا… کیا ہم تمہیں نظر آ رہے ہیں؟‘‘
’’کک… کیا مطلب؟‘‘ وہ کچھ بوکھلا سا گیا تھا۔
’’ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو ہم نظر آ رہے ہیں تو ان آنٹی کے دیدوں کو کیا ہو گیا جو ہمارا احاطہ نہیں کر پا رہے!‘‘
ہماری بات اور لفظ آنٹی سن کر وہ مسکرا دیا۔ اس نے گردن موڑ کر اسکائی وے آنٹی کو پکارا: ’’انہیں بھی تو دیجیے۔‘‘
آنٹی شاید کسی پرانے قصے کو لے کر مولویوں سے بے حد خائف تھیں کہ منھ بنا کر دوسرا گلاس بھی ہمیں تھمانے کی بجائے لڑکے کو ہی تھما دیا… اس کی اس حرکت پر تو اب ہم باقاعدہ جل بھن ہی گئے… اور ایک فوری فیصلہ کر اٹھے… 😠(جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی شیخ شوخ و مستی

Comments