صحافت کورس اور ملکہ عالیہ



صحافت کورس اور ملکہ عالیہ — عالیہ ذوالقرنین

(کچھ کھٹی میٹھی یادیں)

ابھی ٹھیک ایک ماہ دو دن پہلے کی بات تھی جب میں نے ذوالقرنین کو بہت دیر سے کمپیوٹر کی طرف متوجہ دیکھا تو ان کا کندھا ہلاتے ہوئے کہا تھا

“ذوالقرنین میری طرف دیکھو مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے-“

“کہو کان تو میرے کھلے ہیں-” ذوالقرنین نے بغیر کوئی اہمیت دئیے کہا-

غصہ تو مجھے بہت آیا دل چاہا کہ یہ “اہم” بات انہیں بتاؤں ہی نہیں مگر جناب “آن لائن صحافت کورس” والوں کی طرف سے سرتاج سے اجازت لازمی تھی –

“وہ دراصل میں صحافت کورس کرنا چاہ رہی ہوں-“

“کیوں تم نے اور سارے کام کر لئے ہیں کہ اب بس یہی بچا ہے؟ “

بغیر کسی لگی لپٹی کے جواب آیا –

” ایسی کوئی بات نہیں! میں یہ کر سکتی ہوں اور تمہیں کر کے دکھاؤں گی – “

میں نے تھوڑا فخریہ انداز میں سر اٹھا کر کہا –

” کر تو تم اور بھی بہت کچھ چکی ہو وہ سب بھی جو تم کر کے نہیں “دکھا” سکتی تھی – “

وہ ایک لمحہ کے لیے رکے…

” زیادہ وقت تو نہیں ہوا ابھی پچھلی گرمیوں کی ہی بات ہے نا جب تم نے جوس بنا کر فروخت کرنے کا” اہم فیصلہ “کیا تھا اور نہ صرف یہ کہ فیصلہ کیا تھا بلکہ دعوی بھی کیا تھا کہ میرا جوس” نیسلے ” کی مارکیٹ ڈاؤن کر دے گا- مگر ہوا کیا تھا؟….. لگتا ہے یاد کروانا پڑے گا کہ آپ کا وہ” نیسلے کے معیار کے معیاری جوس ” صرف وہی بکے جو ہمارے جانے والے چند دکانداروں نے منہ دیکھے کو لے لئے اور پھر انہوں نے اسی فون نمبر ، جو آپ نے انہیں جوس کی ڈیمانڈ بڑھ جانے پر” کہیں سپلائی نہ رک جائے ” کے خوف سے دیا تھا، پر آپ کو فون کر کے کہا کہ” باجی جوس لے جائیں کوئی لیک ہو رہا ہے تو کسی میں سے سمیل آ رہی ہے یہ نہ ہو کہ گورنمنٹ کی طرف سے چھاپہ پڑے تو ہماری دکان سِیل ہو جائے “

اور ہم دونوں بڑی عزت سے وہ جوس بورے میں بھر کر لائے تھے اور ساتھ والے ربانی صاحب کے پوچھنے پر کہ اس میں کیا ہے؟ کا جواب دیا تھا کہ

” کچھ نہیں بس کچھ زائد چیزیں امی کے گھر رکھوائی تھیں وہ لائے ہیں”

“کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ ہر اچھی بری بات یاد دلانا فرض ہے کیا تم پر؟ بندہ کبھی کچھ بھول بھی جاتا ہے ” میں نے تنک کر کہا –

” بندہ بھول بھول کر تو یہ بھی بھول گیا ہے کہ وہ” کیا کیا ” بھول جانا چاہتا ہے”

ذوالقرنین نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا –

“اچھا چھوڑو سب باتیں تم صرف یہ بتاؤ کہ میں یہ کورس کر لوں تمہاری طرف سے اجازت ہے نا؟ وہ تمہیں پتہ ہے نا انور غازی صاحب کا ، وہ…. “عافیہ” کتاب لکھنے والے، وہ کروا رہے ہیں یہ کورس “

میں نے کچھ لجاجت سے کہا –

” ہاں ہاں مجھے تو پتہ ہے مگر انہیں تمہارا نہیں پتہ ورنہ کبھی یہ رزک نہ لیتے “

“ہونہہ! مجھے تو دشمن پالنے کی لوڑ ہی نہیں تم ہی کافی ہو “

دل ہی دل میں ذوالقرنین کو دانت کچکچاتے ہوئے کہا مگر بولی تو منہ سے گویا پھول جھڑ رہے تھے

” لو بھلا! میں نے تو تمہاری اتنی تعریف کی تھی چلو تمہاری مرضی نہیں ہے تو رہنے دو “

میں نے اداس ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا-شوہر کے جسم میں بے شمار رگییں ہوتی ہیں اور کون سی” رگ ” کس وقت دبانی ہے یہ ایک بیوی اچھی طرح جانتی ہے –

” اچھا چلو کر لو میں نے تمہیں کبھی روکا ھے کچھ کرنے سے “

ذوالقرنین نے رضا مند ہوتے ہوئے کہا

” مگر تمہیں صحافت کی” الف سے ب” نہیں پتہ تم کرو گی کیا؟ یہ بھی پتہ ہے کہ صحافت کس چڑیا کا نام ہے ؟”

ذوالقرنین نے کچھ طنزیہ انداز میں پوچھا –

” صحافت عربی زبان کے لفظ ’’صحف‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا مفہوم صفحہ یا رسالہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ انگریزی میں جرنلزم، جرنل سے ماخوذ ہے یعنی روزانہ کا حساب یا روزنامچہ۔ صحافت کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق یا پھر سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے – “

میں نے کبھی کی یاد کی ہوئی تعریف رٹے کے سے انداز میں سناتے ہوئے کہا –

” ارے واہ! تم تو واقعی بہت جینئس ہو اب میری طرف سے اجازت ہے تمہیں “

ذوالقرنین نے حیرت سے کہا -” مگر تم اس کورس کے بعد کرو گی کیا؟ “

انداز میں ایک بار پھر بے یقینی لہرائی –

” مرحوم اکبر الہ آبادی نے میرے لیے ہی تو کہا تھا کہ

کھینچوں نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہوتو اخبار نکالو “

” ہییییییں!! یعنی تم نے اخبار نکالنا ہے مستقبل میں…. صحافت پر اتنا برا وقت بھی آنا تھا!!! “

ذوالقرنین کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا –

” ہاں تو کیوں کیا ہوا؟ ہر بڑا کام ابتداء میں چھوٹا ھوتا ہے – میں یہ بھی کر سکتی ہوں -بس مجھے تمہارا “مالی تعاون” درکار ہے وہ اصل میں….. فیس بھی ہے نا کورس کی”

میں نے کچھ جھجھکتے ہوئے بتایا کہ کہیں ان کا اندر کا ازلی “شیخ” انگڑائی لے کر بیدار نہ ہو جائے –

“فیس ویس میں کچھ نہیں دینے کا.. انہیں کہو تمہیں مستحقین میں شمار کر کے کروا دیں آخر تم مستحق تو ہو نا”

“چلو اچھا مت دو میں ان سے درخواست کر لوں گی اچھے لوگ ہیں ٹیلنٹ کی قدر کرنے والے “

میں نے ذوالقرنین کے راضی ہو جانے پر خوش ہوتے ہوئے کہا اور دل ہی دل میں حساب لگایا کہ بچوں کے

“Summer vacation work”

کے چارجز نوٹس کے دائیں طرف محض “ایک صفر” کا اضافہ کر دینے سے بچوں کے ویکیشن چارجز کے ساتھ ساتھ میری فیس بھی نکل آئے گی اور گالیاں سکول والوں کے کھاتے میں ہی پڑے گیں مجھے اس سے کیا!



دل ہی دل میں اپنے آئیڈیے پر اپنا ہی کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا –

“ویسے تم نے آج تک کبھی کوئی اچھا کام کیا ہے؟ ” ابھی میری کچھ بے عزتی شائد باقی تھی-

” ہاں نا! “

میں نے ڈھیٹ بن کر جواب دیا

” تم سے شادی “

اور پھر ہم دونوں کے زور دار قہقہے سے سارا کمرہ گونج اٹھا –
بشکریہ 

Comments