مکھیاں... کاوش نمبر 2

انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 2
===========
موضوع: مکھیاں

اپنے شاعر مشرق فرما گئے ہیں،

؎ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانہ میں

مگر ہم میں سے بہت سے لوگ ابھی تک اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔
باقیوں کو چھوڑیں،”نکمی“ چیزوں میں صرف مکھیوں کی بات کرلیتے ہیں۔
اگر ان پر لوگوں کی رائےلیں تو اکثریت یہی کہتےہوئے ملتی ہے کہ کیا ان کی بھی کوئی اہمیت ہے؟
مکھیوں کے بھی فوائد ہوتے ہیں؟
گرمیوں کے دنوں میں بھنبھانے اور ”دیسی گانے“ گا کر دوسروں کو تنگ کرنے کے علاوہ اور کیاکام ہے انھیں؟
ایک حد تک ان کی باتیں درست ہیں۔
کچھ باتوں کا میں بھی شاہد ہوں۔

صبح کے وقت آپ کے اور اور آپ کے پیارے بچوں کے کی آنکھوں،گالوں اور ہونٹوں پر بوسہ دینے کا شرف انھیں ہی حاصل ہوتا ہے۔
یہ صبح آپ سے پہلے جاگ جاتی ہیں اور اپنے حصے کا رزق،آپ کے چہرے کے مخصوص حصوں سے حاصل کرتی رہتی ہیں۔
ویسے آپ لوگوں کا خیال ہوگا کہ ہماری طرح ان کے بھی باتھ روم اور ٹوائلٹ ہوتے ہوں گے، مگرمیں اس بات کو نہیں مانتا۔
کیوں کہ میں نے اکثر چھت والے پنکھے کے پروں پر ان کی ”پوٹیوں“ کے نشانات دیکھے ہیں۔
اور صرف پنکھے کے پر ہی کیوں؟
ان کے علاوہ بھی جہاں ان کا جی چاہا، یہ وہیں رفع حاجت کے لیے بیٹھ گئیں۔
تلاش رزق میں آنے والی مکھیوں میں اگر کسی کا پیٹ خراب ہوا، ہماری طرح انھیں بھی ”موشن“ لگے ہوئے ہوں تو یہ بات ہمارے لیے مقامِ فکر ہے۔
عین ممکن ہے کہ صبح سویرے، ہمارے جسم کا کوئی حصہ انھیں اپنے ٹوائلٹ جیسا نظر آئے اور.....ہمیں پتا ہی نہ چلے کہ....
دنیا میں آپ جس سے بھی مکھیوں کے فوائد پوچھیں گے، کوئی بھی آپ کو ان کے فوائد سے آگاہ نہیں کر سکے گا۔
لوگوں کو ان کے فوائد نظر آئیں تو وہ بیان کریں نا۔
ایک دن میں نے بیگم سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے مجھے ایسی کڑی نظروں سے دیکھا تھا کہ پھر کبھی ان سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
تاہم انھوں نے اتنا ضرور کہا تھا کہ مکھیاں سراسر نقصان کرتی ہیں، بیماریاں پھیلاتی ہیں اور کھانے پینے کی کوئی بھی چیز بھی ان کی دست رس سے محفوظ نہیں۔
ان میں تو تمیز اور عقل نام کی بھی کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ کبھی باتھ روم میں گندگی پر بیٹھی ہیں تو کبھی کھانے پینے کی چیزوں پر۔
ایسی ہی کچھ باتیں دوستوں اور دوسرے لوگوں سے سننے کو ملی تھیں۔

مگر میرے من سے یہ شعر نہیں نکل رہا تھا۔

؎نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

میری تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔

میرا ذہن یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ اوپر والے نے بلا مقصد اور بلا فائدہ مکھیوں کو پیدا کیا ہے۔

کہتے ہیں، انسان ڈھونڈے پر آئے تو خدا کو بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔
بلآخر ایک دن مجھے بھی مکھیوں کے فوائد معلوم ہوگئے۔
گو یہ فوائد آج میرے حق میں نہیں ہیں، مگر انھیں بیان کرنے کے علاوہ بھی میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس دن ہم قلم تھامے، مکھیوں کے فوائد سوچنے میں غرق تھے کہ امی کمرے میں چلی آئیں۔
اچانک میری آنکھیں چمک اٹھیں۔
امی بہت ذہین اور سمجھ دار تھیں۔
باذوق اور زمانہ شناس تھیں۔
وہ یقیناً میری اس معاملے میں مدد کر سکتی تھیں۔
میں نے انھیں علامہ اقبال کا شعر سنایا اور پوچھا کہ کیا سچ میں دنیا میں کوئی چیز نکمی نہیں ہے؟

” اللہ نے ہر چیز کسی نے کسی حکمت کے تحت بنائی ہے۔
یقیناً ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے۔“
”مکھیوں کا بھی ؟
لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ تو صرف نقصان کرتی ہیں، فائدہ نہیں دیتیں۔“
”غلط کہتے ہیں، ایک فائدہ تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
ایسا فائدہ، جس پر میں خدا کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے“
”کیسا فائدہ؟“
”تمھارے ٹھیک ہونے کا!
بچپن میں تم بہت بیمار اور کمزور تھے، بہت علاج کرایا،مگر تمھیں افاقہ نہیں ہوا۔
پھر کسی حکیم نے کہا کہ ہم ہر روز ایک مکھی مار کر، ایک چمچ دودھ میں تمھیں کھلایا کریں، تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔
ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
ہم نے ڈاکٹر کی بات پر عمل کیا اور تم ٹھیک ہوگئے۔
آج دیکھو، تم اپنے پیروں پر کھڑے ہو۔“
میں نے اپنی تھوک نگلی۔
”کیا میں واقعی مکھیاں کھا کھا کر صحت یاب ہوا تھا۔“
”اور نہیں تو کیا،اس بات کے بہت سے گواہ بھی ہیں۔“
میرا دل سینے میں بیٹھ گیا۔
بس وہ دن ہے اور آج کا دن، میں نے پھر کبھی کسی سے مکھیوں کے فوائد نہیں پوچھے۔
بھلا مکھیوں کے بھی فوائد ہوتے ہیں؟؟
===========

Comments