انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 3
===========
موضوع:گائے
گائے ایک گھریلو جانور ہے۔ اس کی ایک دُم اور چار پائے ہوتے ہیں۔ گائے کی دم ستر پوشی کے لئے ہوتی ہے۔ بوقت ضرورت گائے اپنی کیچڑ آلود دُم کو دشمنوں کی ناک میں دَم کرنے کے لئے بھی استعمال کرتی ہے۔
گائے کے پائے چار پائی سے قدرے اونچے ہوتے ہیں۔ عام طور پر گائے ان سےچلنے کا کام لیتی ہے۔ تاہم ہنگامی حالت میں یہ پائے رسید بھی کئے جا سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پَھجّے کے پائے بڑے اعلٰی پائے کے ہوتے ہیں۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ پائے پھجے کے نہیں گائے کے ہوتے ہیں۔
گائے کی کئی اقسام ہیں جن میں نیلی بار کی گائے اور اللہ میاں کی گائے قابلِ ذکر ہیں۔ اول الذکر کی وجہ شہرت اس کا کثرت سے دودھ دینا جبکہ ثانی الذکر کی خاص بات اس کا لکیر کا فقیر ہونا بتایا جاتا ہے۔
گائے اور گوالے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
دودھ گائے دیتی ہے اور گوالا اس میں بقدر جُثہ اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گائے اور گوالا دودھ دینے کا کام شراکتی بنیادوں پرکرتے تھے۔ مگر اب وہ دن گئےجب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ آج کل گائے کا صرف نام چلتا ہے۔ گوالا ملاوٹ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے بعد دودھ کو غسل دے کر عوام کے پینے کے قابل بناتا ہے۔ اس طریقہءِ آبپاشی پر دودھ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے مگر گوالے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ نقصان اٹھائے عوام اور گوالا وصول کرے آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔ گائے کو گوالا مکمل اندھیرے میں رکھتا ہے اس لئے وہ اس اندھیر نگری اور چوپٹ راج سے قطعی لاعلم ہوتی ہے۔
گائے کے بیل کے ساتھ بہت گہرے مراسم ہوتے ہیں۔ ان مراسم کی گہرائی جاننے کی متعدد کوششیں کی گئیں مگر بارآور نہ ہو سکیں۔ بیل کا آسان فہم تعارف یہ ہے کہ وہ گائے کا مذکر ہوتا ہے۔ بیلوں کی بہت سی اقسام میں سے بین الااقوامی شہرت کا حامل بیل صرف کولہو کا بیل ہوتا ہے۔ یہ دنیا کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے۔ قیاس ہے کہ کولہو کا بیل ہی اصل میں اللہ میاں کی گائے ہوتا ہے۔
بلی شیر کی خالہ ہوتی ہے۔ اسی قاعدے کے تحت گائےکو بھینس کی چچیری بہن کہا جاتا ہے۔ یہ چچیری عادات و اطوار میں کافی حد تک ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں۔ دونوں میں ایک قدرِ مختلف یہ ہے کہ بھینس کے آگے بین بجانا بے کار ہوتا ہے۔ جب کہ گائے پر بین کے الٹے اثر کےامکانات کی وعیدیں آئے روز سننے کو ملتی رہتی ہیں۔
گائے کو عام طور پر سنگل کے ساتھ کُھونٹے پر باندھا جاتاہے۔ صرف شعراء کو اجازت ہے کہ وہ اسے "فعلن" پر بھی باندھ سکتے ہیں۔ شعر دیکھئے:
"گائے گائے کوکتی میں تو آپ ہی گائے ہوئی"
"بولو مجھ کو گائے گائے بھینس نہ بولے کوئی"
کمال دیکھئے کہ حضرتِ شاعرنے بغیر سنگل اور کھونٹے کے پانچ عدد گائیوں کوایک چھوٹے سے وزن پر باندھ رکھا ہے۔ اسے کہتے ہیں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آوے۔
اب تک کی تحقیق کے مطابق گائے پر مضمون لکھنے کے دو طریقے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پہلا تو خاصا محنت طلب ہے جس میں گائے کی بودوباش, خصائل اور طرزِ معاشرت سے مکمل آگہی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے جوکہ گہرے مطالعے اور مشاہدے , بلکہ خاصے گوبرانہ عمل کا متقاضی ہے۔ جبکہ دوسرا آزمودہ اور قدرے آسان ہے : ایک عدد سفید رنگت کی گائے لیں, آدھا کلو مہندی کا لیپ تیار کریں اور ایک سفید گائے شکم ِضخیم کے دونوں طرف( اپنی جملہ خطاطی کو بروئے کار لاتے ہوئے) مختصر سا "مضمون" لکھ دیں۔
ممتحن بھی خوش, گائے بھی خوش یعنی ایک پنتھ دو کاج۔
===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/
کاوش نمبر: 3
===========
موضوع:گائے
گائے ایک گھریلو جانور ہے۔ اس کی ایک دُم اور چار پائے ہوتے ہیں۔ گائے کی دم ستر پوشی کے لئے ہوتی ہے۔ بوقت ضرورت گائے اپنی کیچڑ آلود دُم کو دشمنوں کی ناک میں دَم کرنے کے لئے بھی استعمال کرتی ہے۔
گائے کے پائے چار پائی سے قدرے اونچے ہوتے ہیں۔ عام طور پر گائے ان سےچلنے کا کام لیتی ہے۔ تاہم ہنگامی حالت میں یہ پائے رسید بھی کئے جا سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پَھجّے کے پائے بڑے اعلٰی پائے کے ہوتے ہیں۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ پائے پھجے کے نہیں گائے کے ہوتے ہیں۔
گائے کی کئی اقسام ہیں جن میں نیلی بار کی گائے اور اللہ میاں کی گائے قابلِ ذکر ہیں۔ اول الذکر کی وجہ شہرت اس کا کثرت سے دودھ دینا جبکہ ثانی الذکر کی خاص بات اس کا لکیر کا فقیر ہونا بتایا جاتا ہے۔
گائے اور گوالے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
دودھ گائے دیتی ہے اور گوالا اس میں بقدر جُثہ اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گائے اور گوالا دودھ دینے کا کام شراکتی بنیادوں پرکرتے تھے۔ مگر اب وہ دن گئےجب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ آج کل گائے کا صرف نام چلتا ہے۔ گوالا ملاوٹ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے بعد دودھ کو غسل دے کر عوام کے پینے کے قابل بناتا ہے۔ اس طریقہءِ آبپاشی پر دودھ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے مگر گوالے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ نقصان اٹھائے عوام اور گوالا وصول کرے آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔ گائے کو گوالا مکمل اندھیرے میں رکھتا ہے اس لئے وہ اس اندھیر نگری اور چوپٹ راج سے قطعی لاعلم ہوتی ہے۔
گائے کے بیل کے ساتھ بہت گہرے مراسم ہوتے ہیں۔ ان مراسم کی گہرائی جاننے کی متعدد کوششیں کی گئیں مگر بارآور نہ ہو سکیں۔ بیل کا آسان فہم تعارف یہ ہے کہ وہ گائے کا مذکر ہوتا ہے۔ بیلوں کی بہت سی اقسام میں سے بین الااقوامی شہرت کا حامل بیل صرف کولہو کا بیل ہوتا ہے۔ یہ دنیا کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے۔ قیاس ہے کہ کولہو کا بیل ہی اصل میں اللہ میاں کی گائے ہوتا ہے۔
بلی شیر کی خالہ ہوتی ہے۔ اسی قاعدے کے تحت گائےکو بھینس کی چچیری بہن کہا جاتا ہے۔ یہ چچیری عادات و اطوار میں کافی حد تک ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں۔ دونوں میں ایک قدرِ مختلف یہ ہے کہ بھینس کے آگے بین بجانا بے کار ہوتا ہے۔ جب کہ گائے پر بین کے الٹے اثر کےامکانات کی وعیدیں آئے روز سننے کو ملتی رہتی ہیں۔
گائے کو عام طور پر سنگل کے ساتھ کُھونٹے پر باندھا جاتاہے۔ صرف شعراء کو اجازت ہے کہ وہ اسے "فعلن" پر بھی باندھ سکتے ہیں۔ شعر دیکھئے:
"گائے گائے کوکتی میں تو آپ ہی گائے ہوئی"
"بولو مجھ کو گائے گائے بھینس نہ بولے کوئی"
کمال دیکھئے کہ حضرتِ شاعرنے بغیر سنگل اور کھونٹے کے پانچ عدد گائیوں کوایک چھوٹے سے وزن پر باندھ رکھا ہے۔ اسے کہتے ہیں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آوے۔
اب تک کی تحقیق کے مطابق گائے پر مضمون لکھنے کے دو طریقے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پہلا تو خاصا محنت طلب ہے جس میں گائے کی بودوباش, خصائل اور طرزِ معاشرت سے مکمل آگہی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے جوکہ گہرے مطالعے اور مشاہدے , بلکہ خاصے گوبرانہ عمل کا متقاضی ہے۔ جبکہ دوسرا آزمودہ اور قدرے آسان ہے : ایک عدد سفید رنگت کی گائے لیں, آدھا کلو مہندی کا لیپ تیار کریں اور ایک سفید گائے شکم ِضخیم کے دونوں طرف( اپنی جملہ خطاطی کو بروئے کار لاتے ہوئے) مختصر سا "مضمون" لکھ دیں۔
ممتحن بھی خوش, گائے بھی خوش یعنی ایک پنتھ دو کاج۔
===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/
Comments
Post a Comment