پنجشیر کا معاملہ


 پنجشیر کا معاملہ کیا ہے ۔؟


علی ہلال 


کابل سے شمال سمت میں 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پنجشیر افغانستان کی خوبصورت وادی ہے ۔ 

پنجشیر کی خوبصورتی پر بہت کچھ کہا اورلکھا گیا ہے۔  اس وادی کے سب سے با اثر شخص احمد شاہ مسعود کی اہلیہ نے ایک عرب میگزین کو انٹرویو میں پنجشیر کی خوبصورتی کا احاطہ  کچھ یوں کیا تھا "کہ آپ کو اگر کبھی زندگی میں دنیا کی سب سے پرسکون جگہ کی تلاش ہوئی تو آپ بغیر سوچے  میرے گاوں کا رخ کرلیجئے ۔

 دریا پنجشیر کے کنارے انگوروں کی بیلوں کی چھائو میں مٹی کے گھروں میں کس غضب کا سکون اور خاموشی چھائی ہوئی ہے ، یہ صرف پنجشیر کے باسی ہی جانتے ہیں ۔" 


پنجشیر ماضی میں پروان کا حصہ تھا۔ جسے کرزئی حکومت میں الگ صوبائی اختیارات دے دئے گئے ۔

 

3610 مربع کلومیٹر پرمشتمل پنجشیر میں گزشتہ ایک ہفتے سے شدید لڑائی جاری ہے ۔ آج ظہر کے بعد آنے موصول ہونے والی آخری معلومات کے مطابق شتل،خنخ اورعنابہ نامی اضلاع پر شمال گروپ کا کنٹرول ختم ہوچکا ہے جبکہ روخہ نامی ضلع کا محاصرہ ہوا ہے مگر شدید جھڑپیں جاری ہیں ۔

 

پنجشیر کیا ہے ۔ اور اس قدر ناقابل تسخیر کیوں ہے ۔؟ 


عالمی ذرائع ابلاغ پر پنجشیر کا نام پہلی مرتبہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے دوران آیا تھا ۔ عزام کی سرپرستی میں آنے والے عرب مجاہدین کی وادی پنجشیر کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات رہے ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی ہوا کھا کر لوٹنے والے سابق عرب عسکریت پسندوں میں سے سب سے زیادہ نے جس افغان لیڈر سے متعلق لکھا ہے وہ احمد شاہ مسعود  ہے ۔ 


 افغانستان کی قومی سیاست کی سطح پر پنجشیر کو زیادہ اہمیت  1992 میں اس وقت ملی جب احمد شاہ مسعود نے نجیب حکومت کے اندرونی معاونین کے تعاون سے کابل پر کنٹرول حاصل کرلیا ۔

 

’’امیر صاحب ‘‘ کہلانے والے احمد شاہ مسعود کو  مجاہدین کے حلقوں میں غیرمعمولی اہمیت حاصل تھی ہی جبکہ وزیر دفاع بننے سے ان کی مقبولیت مزید بڑھ گئی ۔ 

ان کے دور میں  پنجشیر کے کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد افغان وزارت دفاع میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی ۔ 


جس نے پختونوں اورتاجکوں کے درمیان خاموش نسلی چپقلش کو ابھاردیا ۔ 2001 میں امریکہ نے افغانستان پرحملہ کرکے پنجشیر کے کمانڈروں اورسابقہ نظام کے انٹیلی جنس ذمہ داروں کو کابل کی حالیہ انتظامیہ  کے خلاف ساتھ ملایا ۔ 

اس تعاون نے پنجشر کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ۔حامد کرزئی کی پہلی حکومت میں ہی پنجشیر کے نمائندوں کو جثہ سے بھی زیادہ حصہ مل گیا ۔ 


احمد شاہ مسعود کے نائب مارشل فہیم قسیم کو وزارت دفاع کے قلمدان کے ساتھ نائب  صدر کا عہدہ دے دیا گیا  ۔ مسعود کے سگے بھائی احمد ضیا مسعود کو  نائب صدراور  معاون خصوصی عبداللہ عبداللہ کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپ دیا گیا ۔ 

وزارت دفاع کا قلمدان یونس قانونی کو دیا گیا جبکہ مارشل فہیم کی وفات کے بعد نائب صدر کاعہدہ بھی انہیں کے حصے میں آگیا ۔ 

انٹیلی جنس چیف کا عہدہ پہلے انجنیئر عارف اوربعدازاں امراللہ صالح کے حصے میں آگیا ۔یہ تمام مذکورہ افراد پنجشیر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 


اس دوران افغانستان کی سب سے بڑی اتھارٹی لویہ جرگہ نے احمد شاہ مسعود کو قومی ہیرو کا درجہ دینے کا اعلان کردیا اوران کے یوم وفات پر تعطیل عام کی قرارداد بھی منظورکروائی گئی ۔

کرزئی کے بعد اشرف غنی کے دور میں بھی امراللہ صالح نائب صدر بنے رہے ۔عبداللہ عبداللہ پہلے چیف ایگزیکٹیو اوردوسری مدت میں مصالحتی کمیشن کے سربراہ رہے ۔ 

وزارت دفاع اورداخلہ پھر جنرل بسم اللہ محمدی ، جنرل تاج محمد جاہد اور انجینئر ویس برمک کے حصے میں آتی رہیں ۔یہ سب پنجشیر سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار ہیں ۔ 

 

اس طویل عرصے تک وزارت دفاع اور داخلہ نے افغانستان کو ملنے والے اسلحہ کا بڑا حصہ پنجشیر منتقل کیا گیا ہے  جس کی وجہ سے ماہرین پنجشیر کو ہتھیاروں کا ناقابل تسخیر قلعہ یا اسلحہ ڈپو بھی کہتے ہیں ۔ 

 اشرف غنی کے ملک سے نکلنے کے فوری امراللہ صالح نے خود کو صدر قراردے دیا ۔تاجکستان سفارت خانے میں ان کی تصاویر لگا دی گئیں ۔ امراللہ تاجکستان سے پنجشیر آگئے ،جبکہ جنرل بسم اللہ وزیردفاع اورجنرل دوستم کے ہزاروں عسکریت پسندوں نے بھی پنجشیر کارخ کرلیا ۔ 

امراللہ صالح نے پنجشیر کو کابل کے خلاف مرکزی بیس بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔ مگر امراللہ صالح کو پنجشیر میں وہ مقبولیت میسر نہیں جو احمد مسعود کو حاصل ہے ۔ 

پنجشیر کے علما اور اہل علم کو شکوہ ہے کہ انٹیلی جنس چیف کی حیثیت سے امراللہ نے بڑی تعداد میں تاجک علاقوں میں علما کو قتل کروا دیا ہے ۔ انہیں ان کے امریکی سی آئی اے سے حددرجہ قربت بھی پسند نہیں ہے ۔ 

یہی وجہ ہے کہ انس حقانی کی سرپرستی میں پروان میں پنجشیر کے اہل علم اورقبائلی زعما کے کابل کے ساتھ بات چیت کے دور چلے ہیں ۔ باخبر  عرب صحافی کے مطابق گزشتہ ہفتے امیر خان متقی اوراحمد مسعود کا ٹیلی فونک رابطہ بھی بہت خوشگوار انداز میں ہوا ہے اور تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔ 


یہی وجہ ہے کہ احمد مسعود کے بیانات اٹھاکر دیکھو تو ہربیان میں مصالحت کی بات ہورہی ہے ۔ دوسری جانب سے کابل انتظامیہ نے بھی پرامن بات چیت کو ترجیح دی ہے ۔ جمعہ کے روز حکومتی تشکیل  کے عمل کے موخر کئے جانے کی ایک بڑی وجہ بھی پنجشیر کا معاملہ ہے ۔ 

دونوں طرف سے بات چیت کو پرامن طریقے سے کرنے کی خواہش ہے مگر کچھ شرائط اب تک معاملے کو بنانے سے روکے ہوئی ہیں ۔ جبکہ خانہ جنگی کے خواہش مند عناصر ہرصورت حالات خراب کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ 

وادی کے اندرونی ذرائع کا ماننا ہے کہ امراللہ اوران کے عناصر کو اشتعال انگیز بیانات سے روکا جارہاہے ۔

Comments