''اور پاکستان بن گیا''
سلجھن ۔۔۔۔ عمرفاروق راشد
یہ کیسا عید کا دن تھاکہ عید کی کوئی خوشی ہی نہ تھی۔ صرف مجھے نہیں، بلکہ ہر ایک کو۔ چہروں پر ہوائیاں، آنکھوں میں اداسیاں اور موت کے لہراتے سائے۔ میں چھوٹا تھا، اس لیے مجھے اپنے سوال کا کوئی جواب مل نہ سکا۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ والدین، بہن، بھائی آج انتہا مضطرب، نڈھال اور پریشاں کیوں ہیں؟ صاف کپڑے پہن کر قریب کی مسجد میں نماز پڑھ لی گئی اور عید کی رسم تمام ہوئی۔ رات کے اگلے پہر شور اٹھا۔ ہاؤ ہو کا سماں بندھ گیا۔ والدین نے ہمیں جگایا اور چھپا دیا۔ ہندوؤں اور سکھوں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کر دیا تھا۔ فائرنگ، ہا ہا کار اور شوروغل رات بھر رہا۔ مختلف اطراف سے چیخیں، سسکیاں اور آہیں آتی رہیں۔ رات کے آخری پہر ہمیں اٹھایا گیا۔ لوگ نہایت احتیاط سے قافلے کی صورت نکلے۔ قافلے کو خاص انداز سے ترتیب دیا گیا۔ نوجوان آگے، پھر بوڑھے،پھر عورتیں اور درمیان میں بچے۔
ہندوستان سے ہجرت کرتا ہوا یہ چھوٹا سا پاکستان تھا۔ ایک بے سروسامان پاکستان۔ یہ پاکستان چلتا رہا، چلتا چلا گیا۔ کہیں دور جا کر پھر سے بلوائیوں سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ اس حملے کے باعث ہمارا یہ کارواں بکھر گیا۔ میں اپنے والدین سے اور والدین مجھ سے چھوٹ گئے۔ میرے دکھ اور تکلیف کا اصل آغاز اب ہوا تھا۔ میں نے والدین کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی۔ وہ نہ مل سکے۔ میں نے اپنے گاؤں کا کوئی شناسا تلاش کرنے کی کوشش کی، بڑی دقت اٹھانے کے بعد مجھے اپنے والد کے ایک دوست مل گئے۔ انہوں نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا۔
ہم پھر سے چلنے لگے۔ ہم کدھر جا رہے تھے؟ مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ بس میں ایک لفظ پاکستان سے آشنا تھا، جس کا ذکر یہ سب لوگ کر رہے تھے۔ کوئی جگہ آئی کہ ہم ایک بار پھر حملہ آوروں کے نرغے میں تھے۔ تلواریں پھر سے چلنے لگیں۔ نیزے پھر سے برسنے لگے۔ کرپانیں پھر سے آر پار ہونے لگیں۔ میں نے خون کے ابلتے فوارے دیکھے اور جھٹ سے آنکھیں بند کر کے وہیں لیٹ گیا۔ مجھے لگا میں مر رہا ہوں۔ مجھے بہت دیر بعد ہوش آیا تو میں کسی لاش کے نیچے دبا ہوا تھا۔ وہ لاش کسی خاتون کی تھی۔ وہ مر چکی تھی۔ خون بہہ رہا تھا۔ میں بوکھلایا اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ ایک طرف کو اکیلا ہی چلنے لگا۔ بہت دور جا کر مجھے کوئی ندی نالا سا نظر آیا۔ دو گھونٹ پیے اور زندگی کی نئی رمق حاصل کی۔
اب تک میں اپنے پچھلے قافلے سے بالکل کٹ چکا تھا۔ اب مجھے یہاں ایک نیا کاروان آزادی نظر آیا۔ میں بھی ان کے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں مجھے ایک خاتون نے اپنے ساتھ ملا لیا۔ میں انہیں خالہ کہنے لگا، وہ مجھے بیٹا۔ معلوم ہوا یہ قافلہ ریلوے اسٹیشن کے راستے پر گامزن ہے۔ ہم اسٹیشن پہنچ گئے۔ یہاں ایک دنیا آباد ہو چکی تھی۔ خانماں برباد لوگوں کی دنیا۔ میں اور میری خالہ ایک ڈبے میں داخل ہو گئے۔ اس گمان کے ساتھ کہ شاید ہی پاکستان پہنچ سکیں۔
رات کے کسی پہر ٹرین کسی ویرانے میں رک گئی۔ بتایا گیا بلوائیوں اور دشمنوں نے روکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرین میں بھگدڑ سی مچی۔ دشمن نے اس ڈبے پر بھی حملہ کر دیا تھا۔ کچھ ہی وقت گزرا کہ ہمارے ڈبے میں موت کا سناٹا طاری ہو گیا۔ وہاں یا مردے تھے یا زخمی یا پھر بے ہوش۔ میں کسی سیٹ کے نیچے دبکا پڑا رہا۔ اگلے دن کسی وقت ٹرین لاہور اسٹیشن پر رک چکی تھی۔ یہ منظر بہت عجیب تھا۔ ٹرین نہیں، چلتا پھرتا قبرستان تھا۔ کتنی مائیں، بہنیں کٹ چکی تھیں۔ کتنے فرزند موت کی نیند سو چکے تھے۔ کتنے ہی خاندان بکھر کر روزانہ کی موت مرنے کے لیے باقی رہ گئے تھے۔ یہ آزادی کے متوالے تھے۔ کلمہ طیبہ کی خاطر جان دینے والے۔ اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے والے۔
بابا جی نے اپنی بات کا تسلسل یہاں لا کر توڑ دیا۔ میرا خیال تھا وہ اپنی داستان تفصیل سے سنائیں گے۔ وہ اپنے والدین کی کہانی بھی بتائیں گے۔ مگر وہ کہنے لگے: بیٹا! اس سے زیادہ کچھ کہنے کا یارا نہیں۔ ہمیں ان شہادتوں، اموات، مصائب، ہجرت اور مشکلات کا کوئی غم نہیں۔ وہ تو ہماری زندگی کی کمائی ہے۔ وہ تو ہمارا قیمتی متاع ہے۔ اسے تو ہم ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔ مگر افسوس اس کا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا مذاق تم جیسے نئی نسل کے لوگ اڑاتے ہیں۔ اس پاکستان کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرنے والے لوگ۔ اس وطن پاک کو اپنی جسارتوں سے ناپاک کرنے والے لوگ۔ بھلا تم میں اور ان سکھوں، ہندووں اور بلوائیوں میں کیا فرق؟ کاش تم لوگ سمجھو، اس سے پہلے کہ یہ احساس ہی مر جائے اور ہم جیسے آبا کی قربانیوں کے گواہ تہ خاک چلے جائیں!!
سلجھن ۔۔۔۔ عمرفاروق راشد
یہ کیسا عید کا دن تھاکہ عید کی کوئی خوشی ہی نہ تھی۔ صرف مجھے نہیں، بلکہ ہر ایک کو۔ چہروں پر ہوائیاں، آنکھوں میں اداسیاں اور موت کے لہراتے سائے۔ میں چھوٹا تھا، اس لیے مجھے اپنے سوال کا کوئی جواب مل نہ سکا۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ والدین، بہن، بھائی آج انتہا مضطرب، نڈھال اور پریشاں کیوں ہیں؟ صاف کپڑے پہن کر قریب کی مسجد میں نماز پڑھ لی گئی اور عید کی رسم تمام ہوئی۔ رات کے اگلے پہر شور اٹھا۔ ہاؤ ہو کا سماں بندھ گیا۔ والدین نے ہمیں جگایا اور چھپا دیا۔ ہندوؤں اور سکھوں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کر دیا تھا۔ فائرنگ، ہا ہا کار اور شوروغل رات بھر رہا۔ مختلف اطراف سے چیخیں، سسکیاں اور آہیں آتی رہیں۔ رات کے آخری پہر ہمیں اٹھایا گیا۔ لوگ نہایت احتیاط سے قافلے کی صورت نکلے۔ قافلے کو خاص انداز سے ترتیب دیا گیا۔ نوجوان آگے، پھر بوڑھے،پھر عورتیں اور درمیان میں بچے۔
ہندوستان سے ہجرت کرتا ہوا یہ چھوٹا سا پاکستان تھا۔ ایک بے سروسامان پاکستان۔ یہ پاکستان چلتا رہا، چلتا چلا گیا۔ کہیں دور جا کر پھر سے بلوائیوں سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ اس حملے کے باعث ہمارا یہ کارواں بکھر گیا۔ میں اپنے والدین سے اور والدین مجھ سے چھوٹ گئے۔ میرے دکھ اور تکلیف کا اصل آغاز اب ہوا تھا۔ میں نے والدین کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی۔ وہ نہ مل سکے۔ میں نے اپنے گاؤں کا کوئی شناسا تلاش کرنے کی کوشش کی، بڑی دقت اٹھانے کے بعد مجھے اپنے والد کے ایک دوست مل گئے۔ انہوں نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا۔
ہم پھر سے چلنے لگے۔ ہم کدھر جا رہے تھے؟ مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ بس میں ایک لفظ پاکستان سے آشنا تھا، جس کا ذکر یہ سب لوگ کر رہے تھے۔ کوئی جگہ آئی کہ ہم ایک بار پھر حملہ آوروں کے نرغے میں تھے۔ تلواریں پھر سے چلنے لگیں۔ نیزے پھر سے برسنے لگے۔ کرپانیں پھر سے آر پار ہونے لگیں۔ میں نے خون کے ابلتے فوارے دیکھے اور جھٹ سے آنکھیں بند کر کے وہیں لیٹ گیا۔ مجھے لگا میں مر رہا ہوں۔ مجھے بہت دیر بعد ہوش آیا تو میں کسی لاش کے نیچے دبا ہوا تھا۔ وہ لاش کسی خاتون کی تھی۔ وہ مر چکی تھی۔ خون بہہ رہا تھا۔ میں بوکھلایا اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ ایک طرف کو اکیلا ہی چلنے لگا۔ بہت دور جا کر مجھے کوئی ندی نالا سا نظر آیا۔ دو گھونٹ پیے اور زندگی کی نئی رمق حاصل کی۔
اب تک میں اپنے پچھلے قافلے سے بالکل کٹ چکا تھا۔ اب مجھے یہاں ایک نیا کاروان آزادی نظر آیا۔ میں بھی ان کے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں مجھے ایک خاتون نے اپنے ساتھ ملا لیا۔ میں انہیں خالہ کہنے لگا، وہ مجھے بیٹا۔ معلوم ہوا یہ قافلہ ریلوے اسٹیشن کے راستے پر گامزن ہے۔ ہم اسٹیشن پہنچ گئے۔ یہاں ایک دنیا آباد ہو چکی تھی۔ خانماں برباد لوگوں کی دنیا۔ میں اور میری خالہ ایک ڈبے میں داخل ہو گئے۔ اس گمان کے ساتھ کہ شاید ہی پاکستان پہنچ سکیں۔
رات کے کسی پہر ٹرین کسی ویرانے میں رک گئی۔ بتایا گیا بلوائیوں اور دشمنوں نے روکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرین میں بھگدڑ سی مچی۔ دشمن نے اس ڈبے پر بھی حملہ کر دیا تھا۔ کچھ ہی وقت گزرا کہ ہمارے ڈبے میں موت کا سناٹا طاری ہو گیا۔ وہاں یا مردے تھے یا زخمی یا پھر بے ہوش۔ میں کسی سیٹ کے نیچے دبکا پڑا رہا۔ اگلے دن کسی وقت ٹرین لاہور اسٹیشن پر رک چکی تھی۔ یہ منظر بہت عجیب تھا۔ ٹرین نہیں، چلتا پھرتا قبرستان تھا۔ کتنی مائیں، بہنیں کٹ چکی تھیں۔ کتنے فرزند موت کی نیند سو چکے تھے۔ کتنے ہی خاندان بکھر کر روزانہ کی موت مرنے کے لیے باقی رہ گئے تھے۔ یہ آزادی کے متوالے تھے۔ کلمہ طیبہ کی خاطر جان دینے والے۔ اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے والے۔
بابا جی نے اپنی بات کا تسلسل یہاں لا کر توڑ دیا۔ میرا خیال تھا وہ اپنی داستان تفصیل سے سنائیں گے۔ وہ اپنے والدین کی کہانی بھی بتائیں گے۔ مگر وہ کہنے لگے: بیٹا! اس سے زیادہ کچھ کہنے کا یارا نہیں۔ ہمیں ان شہادتوں، اموات، مصائب، ہجرت اور مشکلات کا کوئی غم نہیں۔ وہ تو ہماری زندگی کی کمائی ہے۔ وہ تو ہمارا قیمتی متاع ہے۔ اسے تو ہم ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔ مگر افسوس اس کا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا مذاق تم جیسے نئی نسل کے لوگ اڑاتے ہیں۔ اس پاکستان کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرنے والے لوگ۔ اس وطن پاک کو اپنی جسارتوں سے ناپاک کرنے والے لوگ۔ بھلا تم میں اور ان سکھوں، ہندووں اور بلوائیوں میں کیا فرق؟ کاش تم لوگ سمجھو، اس سے پہلے کہ یہ احساس ہی مر جائے اور ہم جیسے آبا کی قربانیوں کے گواہ تہ خاک چلے جائیں!!
Comments
Post a Comment