پیسہ بنانے کے شرعی اور مروجہ طریقے

تبصرہ و تجزیہ پروگرام مطالعہ کتاب" امیر باپ، غریب باپ"
زیر اہتمام ملتان بک ریڈنگ فورم

مفتی عزیز الرحمان
"غریب باپ کہتا تھا: پیسے کا پیار تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔
امیر باپ کا کہنا تھا کہ پیسہ تمام برائیوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
غریب باپ اس کا حقیقی باپ تھا جبکہ امیر باپ اس کے دوست کا باپ تھا جسے وہ استاد کی حیثیت سے باپ کہتا تھا۔
غریب باپ اعلی تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ تھا۔
امیر باپ ایک کامیاب تاجر تھا۔
جس نے ایسی تجارت کی تھی کہ اس کی نسلیں بھی بیٹھ کر کھاسکتی تھیں۔
اسی راز کا پردہ مصنف رابرٹ کیساکی نے اپنی کتاب "امیر باپ، غریب باپ" میں اٹھایا ہے"
یہ اس پرمغز خلاصہ کی جھلکیاں ہیں جو جناب صدیق انصاری نے دلچسپ انداز میں ڈایا گرام کی مدد سے بھی خوب سمجھایا اور حتی الوسع شرکاء
 کے سوالات کے جوابات بھی دئیے ۔
یہ پروگرام بروز ہفتہ 8 اپریل 2017 کو ارتقاء آرگنائزیشن کے ذیلی ادارے ملتان بک ریڈنگ فورم کے زیر انتظام سپیرئیر سروسز اکیڈمی گلگشت ملتان میں اکیڈمی میں محترمہ صائمہ علی کی زیر نقابت اور محترم مظہر نواز صدیقی صاحب ڈائریکٹر ارتقاء آرگنائزیشن کی کوششوں سے منعقد ہوا۔
جس کے خطبہء صدارت میں انہوں نے باپ بیٹے کی مناسبت سے قرآن حکیم میں حضرت لقمان حکیم رحمۃ اللہ علیہ کی دس نصیحتیں بیان کیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں جو عقائد سے لے کر اخلاقیات سب کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں۔
پروگرام کا آغاز بندہ کی تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔
اس پروگرام سے جو مجھے یاد رہ سکا اور جو میں سمجھ سکا اس کا لب لباب اور حاصل درج ذیل ہے ۔
اس کتاب میں پیسہ بنانے ، بچانے اور اثاثہ جات تیار کرنے کا فن سکھانے کوشش کی گئی ہے
کہتے ہیں:
اولاً دو چیزیں ہیں۔
1…آمدنی
2… اخراجات
جو رقم آپ کو ملتی ہے وہ آمدنی ہے … جہاں آپ وہ رقم لگاتے ہیں وہ اخراجات ہیں۔
اور اسی طرح دو چیزیں اور ہیں:
1… مالی بوجھ
2… اثاثہ جات
جو اشیا پیسہ پیدا نہیں کررہیں وہ مالی بوجھ ہیں اور چیزیں آپ کی محنت کے بغیر پیسہ بنا رہی ہیں اس کو مصنف نے اثاثہ کہا ہے جس کی رو سے آپ کا رہائشی گھر مالی بوجھ ہے اور کرایہ پر چڑھایا ہوا گھر آپ کا اثاثہ ہے ۔
رابرٹ نے اس کتاب میں کہا ہے کہ ملازمت حاصل کرنے کی سوچ کی بجائے ملازمت دینے کی سوچ اپناؤ۔
تعلیم حاصل کرو مگر نوکر بننے کے لئے نہیں بلکہ نوکری دینے کے لیے ۔
جاب کی بجائے اپنا کاروبار شروع کرو اور اس کے مضمرات سے بچنا بھی سیکھو۔
صدیق انصاری صاحب نے بڑی خوبصورت بات کی کہ اثاثے بڑھاؤ اگرچہ ایک پودا ہی لگادو۔
آپ یہ دیکھیں کہ اگر آپ ملازمت یا تجارت کررہے ہیں تو اس سے لگ ہونے کی صورت میں آپ کتنے دن گھر کا خرچ اس کے بغیر چلا سکتے ہیں۔
دنیا کے سب سے امیر شخص اور مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اگر تم غریب پیدا ہوئے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں… تم غریب مرگئے یہ تمہارا قصور ہے …
ملازمین کیوں ترقی نہیں کرسکتے کہ وہ آمدنی بڑھنے کے ساتھ اخراجات از خود یا مجبوراً بڑھا لیتے ہیں جبکہ چائے کے کھوکھے والا اگلے سال اپنا گھر تعمیر کررہا ہوتا ہے …
ملازم اپنی ساری تنخواہ کا پہلے ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ تاجر اپنے اخراجات کمپنی کے کھاتہ میں ڈال کر صافی آمدنی کا ٹیکس دیتا ہے …
ایک بہترین بات یہ بھی سامنے آئی کہ آپ نے مثلاً 10 ہزار روپے بچوں کی فیسیں ادا کی ہیں تو یہ دس ہزار آپ نے اپنے لیے نہیں بلکہ اسکول مالک کے لیے کمائے ہیں…
ایک زبردست نکتہ یہ بھی ملا کہ جس جگہ آپ ملازمت کرتے ہیں وہاں آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو نہیں مل رہا تو آپ کا وہاں رہنا فضول ہے نئی جگہ تلاش کریں…
"امیر باپ… غریب باپ" میں پیسہ بنانے کے گر بتائے گئے ہیں… جس میں بتایا گیا ہے کہ ترقی کی رکاوٹیں کون کونسی چیزیں بنتی ہیں:
1… ناکامی کا خوف، یہ جب تک آپ کے دل میں ہے آپ کاروبار اور ترقی نہیں کرسکتے …
2… بدگمانی
3… سستی، رابرٹ کہتا ہے کہ جو سب سے زیادہ کام کررہے ہیں وہ سب سے بڑے کاہل ہیں کہ اثاثہ نہیں بنارہے …
4… بری عادات کہ لین دین کا صاف اور صاف گو نہ ہو…
5… فضول خرچی یہ ترقی کی دشمن ہے …
6… بااعتماد نہ ہونا…
7… تکبر
جبکہ جو چیزیں اپنانے کے لائق ہیں ان میں
1… دوسروں پر خرچ کرنا
2… دوسروں کو سکھانے سے بخل نہ کرنا
3… دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا
4… اثاثہ جات بناتے رہنا
5… پہلے اپنے اوپر خرچ کرنا
وغیرہ شامل ہیں۔
یہ چند چیزیں تھیں جو تحریر اور کچھ ذہن میں محفوظ کرلی تھیں۔
ان تمام کا حاصل JOB = Jail of Bossہے جبکہ اپنا کاروبار بادشاہت ہے …
اسلامی تعلیمات میں اسے یوں تعبیر کیا گیا کہ تجارت میں رزق کے نو حصے ہیں جبکہ بقیہ ایک فیصد رزق تمام شعبوں میں پھیلا ہوا…
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایا اور مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا جس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ خلافت میں سربراہی کے حق دار بھی یہی بنے .
 مقررین میں شامل افضل سپرا، شاہد سعید، اشرف انصاری، طارق اقبال،اظہر خان، اظہر سلیم مجوکہ اور اعظم خاکوانی نے بھی اسلامی نقطہ نظر واضح کیا کہ حدیث شریف کی روشنی میں اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے جو کہ تجارت میں بآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے …
اس سلسلہ میں یہ کتاب کافی مفید ثابت ہوسکتی ہے … اسی طرح تجارت کے حوالہ ایک تازہ کتاب بھی سامنے آئی ہے "تجارتی اخلاقیات" جو کہ عمر فاروق راشد صاحب( نائب مدیر ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس کراچی )کی لکھی ہوئی ہے یہ تجارت کو حرام سے بچا کر ترقی اور حلال کی طرف ہاتھ تھام کر لے جانے والی ہے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے غربت سے بچنے کا طریقہ ارشاد فرمایا ہے : ماعالَ مَنِ اقْتَصَدَ کہ جو آمد وخرچ میں توازن رکھے گا وہ کبھی مفلسی کا شکار نہ ہوگا… امیر بننے کے متعدد نسخے فرمائیں ہیں:جن میں باوضو رہنا، سورت واقعہ کا پڑھنا، والدین کی خدمت اور فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان وظیفہ پڑھنا اور گھر میں داخل ہوتے وقت درود شریف کا اہتمام وغیرہ شامل ہیں۔
جبکہ "بندہ کرے آرام اور پیسہ کرے کام" کے فارمولہ تحت شریعت نے مضاربہ اور اجارہ کے طریقے بتائے ہیں جن کے ذریعہ آپ کی جیب میں خود بخود پیسہ آتا رہے گا۔
اس بارونق محفل میں تمام شرکاء انتہائی اعلی تعلیم یافتہ تھے اور تقریباً ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے بھی۔ جو آخر تک دلجمعی کے ساتھ موجود رہے ۔
اکیڈمی کی سربراہ محترمہ فوزیہ یوسف کی طرف سے دی گئی بہترین ضیافت کے ساتھ پروگرام اختتام کو پہنچا… اگلے پروگرام کو جناب اظہر سلیم مجوکہ صاحب نے اکادمی ادبیات کے ہال میں منعقد کرانے کی پیشکش کرتے ہوئے شرکاء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مسئلہ کا خوبصورت حل پیش کیا۔
پروگرام کے اختتام پر گروپ فوٹو کھینچے گئے اور شائقین نے پروگرام کا لازمی حصہ سیلفی لے کر اپنی یادیں محفوظ کیں…

Comments