مٹی

تحریر :گل رعنا
"مٹی"

کھلکھلاتی ہنسی  ،چمکتی آنکھیں ، خوبصورت چہرہ ،شاندار گھر ، ......! کیا یہ سب خوشیوں کی ضمانت دیتے ہیں ؟
اس کے سوال پہ میں زرا نھیں چونکا.
"ہاں شاید " اپنے کچے پکے سے گھر کی مٹی میں پاؤں دھنسائے میں نے جواب دیا.
اور یہ مٹی ؟  اگلا سوال مجھے زرا چونکا گیا.
کیا؟ میں سمجھ کر بھی نہ سمجھا.
"یہ مٹی کیا خوشی دیتی ہے ؟  وہ اداسی اور خوشی کا مجموعہ بنی ہوئی تھی.پانچ سال پہلے اس نے پکے پکان کی خواہش کی تھی.پانچ سال میں اپنا ارادہ پکا کرتا رہا.اور چھٹے سال کے چھٹے مہینے میں میں نے پکا ارادہ "یقین "میں بدل دیا.اس عرصے میں کتنی بار میں ٹوٹا ..کچی دیواروں کی طرح ہر لمحے گرنے کے ڈر سے آشنا رہا.یہ سب چھوڑیے .مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے  اسے رکشے میں بٹھا کر بستی سے دور شہر کے پکے مکان  کے خوبصورت دروازے پہ لا ٹھہرایا.اس کی ہربڑاہٹ،حیرانگی ،تشکر ،بے یقینی  اور اس کے بعد ملنے والی خوشی کا اک اک پل میرے آنکھوں کے سامنے تھا.محض دو دن بعد ہم نے اس کچے گھر سے پکے مکان میں شفٹ ہو جانا تھا.وہ ابھی بھی اپنے جواب کی منتظر تھی.
"خوشی دیتی بھی تو کیا ...؟. یہاں سے جانا تو ہے."
میں نے ہولے سے کہا.اسے معلوم تھا میں اداس تھا.
مجھے بھی معلوم تھا کہ وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اداس بھی ہے.
"جانا ضروری تو نھیں " .اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا.
"دل رکھنے کی ضرورت بھی نھیں.وہ تمہارا گھر ہے ـتمہارا اپنا..تمہارا حق .جو بالآخر میں نے اپنی زندگی میں پورا کر ہی دیا.تمہیں خوش ہونے چاہیے.میں خوشی میں خوش ہوں." میں نے مسکرا کر تسلی دی.وہ بھی مسکرا دی .اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی.
وہ اب پیکنگ کر رہی تھی.مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ یہ ضروری ہے یا وہ لے جانا.
میں پھر سے مٹی میں پاؤں دھنسانے لگا.چھوڑ کر جانے والے ہمیشہ غمگین کیوں ہوتے ہیں.مجھے سمجھ آیا.
اور بالآخر ہم دو دن بعد پکے مکان کی خواہش میں کچے گھر کی مٹی سے پاؤں نکال آئے .ترقی کا سفر ایسے ہی ہوتا ہے.
"کچے سے پکے تک کے اس سفر میں مٹی مٹی ہونا پڑتا ہے."
.اپنے پکے مکان کی دہلیز پہ کھڑے ہو کر میں نے اپنے مٹی زدہ پاؤں کی طرف دیکھا.

Comments