دشت میں شبنم'

'دشت میں شبنم'
ساجدہ غلام محمد، مانچسٹر.
...........

"حمیرا! نی مرن جوگے!  تجھے ہزار بار کہا ہے کہ آٹا نرم گوندھا کر، پتا نہیں آٹے میں پانی ڈالتے ہوئے تیرے ہتھ کیوں ٹُٹ جاندے نیں." کچے چولہے پر دھری چائے کی پتیلی کے نیچے خشک لکڑیاں گھساتے اور دھویں سے جلتی آنکھوں کو پونجھتے ہوئے بشیراں نے سارا غصہ حمیرا پہ نکالا تھا. کچے صحن میں لمبی سی چنری کی بکل مارے سات سالہ حمیرا نے اپنا منہ چنری میں مزید چھپا لیا اور جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے کوڑا ایک طرف کر کے چھوٹی سی ڈھیری بنا دی. اسی وقت ایک کمرے سے اویس آنکھیں ملتا اور چپل گھسیٹتا ہواباہر نکلا.
"اماں! روٹی دے. "
" اٹھ گیا میرا چاند، چل منہ ہتھ دھو لے، میں ابھی تیرے لیے گرم گرم پراٹھا ڈالتی ہوں. ایک تو اس نگوری نے آٹا اتنا سخت گوندھا ہے کہ پیڑا بھی نہیں بن رہا. " بشیراں کا لہجہ بیٹے کو دیکھتے ہی شہد سے میٹھا ہو گیا تھا اور جملے کے اختتام پہ بیٹی کے لیے اسی لہجے میں سو کانٹے اگ آئے تھے.
" دیکھ کے. " حمیرا نے اویس کو ٹوکا جو نیند کی خماری کے سبب اس کی 'کوڑے کی ڈھیری'  پہ پاؤں رکھنے لگا تھا. اویس نے اس کے ٹوکنے پہ آنکھیں کھول کر ڈھیری کو دیکھا اور پھر شرارت سے اسے زور سے ٹھوکر لگائی. اس ڈھیری میں تھا کیا، چوسی ہوئی گنڈیریاں جو پچھلے دن اویس ہی نے چوس کے صحن میں پھینک دی تھیں، حمیرا کی دو ٹوٹی ہوئی رنگوں کی پنسلیں جنہیں اویس نے حمیرا سے چھین کر توڑ دیا تھا، اور گردوغبار. حمیرا نے افسوس اور صدمے سے اس کوڑے کو دیکھا جو اویس کی ٹھوکر سے دوبارہ بکھر گیا تھا.
"اماں! اس نے کوڑا پھر بکھیر دیا ہے. "اس نے اماں کو شکایت لگائی.
" میں نے کچھ نہیں کیا اماں، میں تو غسل خانے جا رہا تھا کہ کوڑے پہ پیر آ گیا. "
" تجھے میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ تیز ہتھ چلایا کر اور کوڑا جلدی نہیں اٹھا سکتی تھی؟؟  اُس کونے پر جمع کر کے اٹھا لیا کر، تُو نے بھی اپنی ہی کرنی ہوتی ہے." اماں نے وہیں چولہے کے پاس بیٹھے بیٹھے حمیرا کو ڈانٹ پلائی تھی. اویس تو ہنس کر جلاتا ہوا غسل خانے چلا گیا، حمیرا نے دکھی دل کے ساتھ جلدی جلدی دوبارہ کوڑا اکھٹا کیا اور اسے ایک لفافے میں ڈال کر گھر کے باہر بنے خالی پلاٹ میں پھینک آئی.
ہاتھ دھو کر پلٹی تو گرم گرم پراٹھے کی خوشبو نے اسے بے چین کر دیا.
"اماں، یہ پراٹھا میں لے لوں؟ بہت بھوک لگ رہی ہے. "اس کے لہجے میں کچھ خوشامد، کچھ التجا تھی.
" پرے ہٹ، بڑی آئی 'یہ پراٹھا میں لے لوں.' "اماں نے پراٹھے والی چھابی جھٹ اس سے دور کی." یہ اویس کا ہے، تجھے دوسرا بنا دیتی ہوں. " اس کا منہ لٹک گیا.
" اچھا، میں تب تک سکول کی وردی پہن آتی ہوں. "کچھ ہی دیر بعد وہ سلیقے سے بال بنائے، سکول کی وردی پہن کر آ گئی. اماں اب اویس کے لیے چائے کی کھُلی پیالی میں چھلنی سے چائے چھانتے ہوئے ڈال رہی تھیں. حمیرا کو یہ منظر ہمیشہ ہی بہت دلفریب لگتا تھا. جب اماں پیالی میں اونچائی سے پوؤے کی مدد سے چائے انڈیلتیں تو پیالی کی اوپری تہہ ساری کی ساری ڈھیر سارے چھوٹے چھوٹے بلبلوں سے بھر جاتی. حمیرا کا دل کرتا، وہ ان سارے بلبلوں کو سنبھال کر رکھ لے، کبھی پھٹنے نہ دے. اسی لیے جلدی جلدی چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے بھی وہ ان بلبلوں کو اپنے ہونٹوں سے دور ہی رکھتی اور عموماً آخری گھونٹ میں بچے کھچے بلبلوں کو چھپاک سے اپنے اندر اتار لیتی.
"ٹکر ٹکر کیا دیکھ رہی ہے؟؟ یہ لے، روٹی کھا اور سکول جا. "اماں نے اس کی محویت توڑتے ہوئے اس کے سامنے چھابی رکھی جس میں پراٹھا اور اچار تھا.
" اماں، یہ اویس کے پراٹھے جیسا نہیں ہے. " اس نے تھوڑے سے تیل میں پکے ہوئے پراٹھے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہلکا سا احتجاج کیا. کہاں وہ گھی کی دو تہوں میں بنا ہوا خستہ سا، کڑکڑا سا پراٹھا اور کہاں یہ پراٹھا!
" ذیادہ نخرے نہ کر. کھانا ہے تو کھا ورنہ جا سکول پُکے(بھوکے)  پیٹ. " اماں کے جواب میں پراٹھا انڈا کھاتا اویس ہنسا تھا، اس نے چپ چاپ اپنے اچار پراٹھے کی جانب ہاتھ بڑھا دیے. ابھی آخر کے تین لقمے اور چائے کی آدھی پیالی رہتی تھی جب صحن کے آخر میں بنے داخلی دروازے کو کسی نے کھٹکھٹایا اور ساتھ میں آواز بھی دے ڈالی.
" حمیرا! آ جاؤ. " آواز سنتے ہی حمیرا نےچائےبلبلوں سمیت حلق میں انڈیلی، بچے کھچے پراٹھے پر اچار رگڑنے کے بعد اس کو لپیٹ کر ہاتھ میں پکڑا اور بستہ لینے اندر کی جانب بھاگی.
" اللہ حافظ اماں. "دروازے کی کنڈی اتارتے ہوئے اس نے آواز لگائی تھی.
" اللہ حافظ. "بےزاری سے بھرے لہجے میں اماں نے جواب دیا تھا.
......
" ارے یہ کون ہے؟ " سلام دعا کے بعد حمیرا نے دلچسپی اور حیرت سے شمسہ کے ساتھ چلتی ہوئی اسی کی ہم عمر لڑکی کو دیکھا.
" یہ زینب ہے ، میرے چاچے کی بیٹی. کل آئی تھی. میں نے اپنے سکول کی اتنی تعریفیں کیں تو کہنے لگی کہ اس نے بھی ہمارا سکول دیکھنا ہے. میں نے کہا چلو،آج اسے بھی ساتھ لے جاتی ہوں." شمسہ نے پگڈنڈی کے پاس پڑی خشک لکڑیوں میں سے ایک پتلی ٹہنی توڑ کے جھلاتے ہوئے کہا تو حمیرا فخر سے مسکرا دی.
"ہاں، ہمارا سکول ہے ہی اتنا اچھا. " زینب بس مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ چل رہی تھی.
" آج تو بڑا مزا آنا ہے. میں نے تو سبھی کھیلوں میں اپنا نام لکھوایا تھا. " شمسہ نے اپناکپڑے کا بنابستہ ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کرتے ہوئے کہا تو تیز تیز قدم چلتی حمیراکی آنکھوں میں بھی جیسے چمک سی لہرائی.
" میں نے تو بس چِڑی چھکا (بیڈمنٹن) اور کرکٹ میں نام لکھوایا تھا."
"میں نے تو دوڑ میں، ٹینس میں، بوری ریس میں، کرکٹ، چِڑی چھکا، سب میں نام لکھوا دیا تھا. "شمسہ جوش سے بولی.
" ٹیبل ٹینس؟اے کیڑھی گیم اے؟ " بالآخر زینب بھی بولی.
" ارے، ابھی پنجابی بول لو، سکول میں مت بولنا. وہاں پنجابی، سرائیکی کی اجازت نہیں ہے، ٹیچر کہتی ہیں کہ صرف اردو بولنی ہے. "حمیرا نے اسے ٹوکا تو وہ حیران ہو گئی.
" اے کی گل ہوئی....ساڈے سکول وچ تے استانیاں وی پنجابی بولدیاں نیں. "
" وہ تمہارا سکول ہے، یہ ہمارا سکول ہے. "شمسہ تنک کر بولی تھی. حمیرا زیرِ لب مسکرائی اورزینب منہ بنا کر چپ ہو گئی.
کچھ ہی دیر میں وہ تینوں مہتاب سکول پہنچ چکی تھیں. صاف ستھرے لباس اور سلیقے سے بال بنائے سکول کی بچیاں اسمبلی کے لیے جمع ہو رہی تھیں ، ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی بچیاں ہیں جن میں سے کچھ کو ناشتے میں کبھی باسی،  خشک روٹی پیاز کے ساتھ کھانے کو ملتی ہے اور کچھ کو لڑکوں کے مقابلے میں بہت پیچھے رکھا جاتا ہے....
"آپ سب کو معلوم ہے کہ آج سے تین روزہ سپورٹس ڈے یعنی کھیلوں کی سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں ، پہلے دو پیریڈذ پڑھائی ہو گی، اس کے بعد کھیلوں کے مقابلے کرائے جائیں گے. " جب سب طالبات نے لہک لہک کر 'لب پہ آتی ہے...'  پڑھ لی تو استانیوں کے ساتھ کھڑی ایک نفیس سی، نرم دل سی خاتون نے بلند آواز میں کہا.
" یہ ہماری میڈم ہیں. "شمسہ نے زینب کے کان میں سرگوشی کی تھی. میڈم کی جانب حیرت اور ستائش سے دیکھتے ہوئے زینب کے ذہن میں اپنے سکول کی میڈم کا چہرہ گھوم گیا، موٹے چشمے کے پیچھے سے گھورتی بےزار سی آنکھیں اور کرخت سا چہرہ....
" یہ میری پسندیدہ مس ہیں. اللہ کرے بڑی ہو کر میں بھی ان جیسی مِس بنوں. "اسمبلی کے بعد کمرے کی جانب جاتے ہوئے حمیرا نے ایک لمبی پتلی سی استانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی کی تھی. سرگوشی استانی نے سن لی، تبھی چونک کر حمیرا کی جانب دیکھ کے مسکرا دی تھیں. وہ تینوں بھی جھینپ کر مسکرا دیں.
دو پیریڈز تو گزرے لیکن ان میں بھی پڑھائی کہاں ہو پاتی. بچیاں کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے بے چین تھیں اور باقی بچیاں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے پُرجوش. استانیاں بھی بچیوں کے جذبات جانتی تھیں اس لیے آج تھوڑی چھوٹ تھی.
کھیلوں کی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں. زینب تو اس نرالے سکول کو دیکھ کر حیرت ہوتی جا رہی تھی. جنہوں نے کسی بھی مقابلے میں حصہ نہیں لیا تھا، ان کو بھی کھیلنے کے مواقع دیے جا رہے تھے. سب بچیاں پُر اعتماد تھوڑی تھیں کہ پورے سکول کے سامنے بیڈمنٹن کی شٹل کو ہوا میں اچھالیں اور ریکٹ نہ لگنے پر باقی بچیوں کی ہنسی برداشت کر پائیں!! بچیاں چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر کھیلنے اور شور مچانے میں مگن تھیں. خوشی اور جوش سے ان کے سرخ ہوتے چہرے دمک رہے تھے.
'ٹن ٹن ٹن. '
"اوہو، چھٹی ہو بھی گئی. ابھی تو مجھے اور کھیلنا تھا، اتنا سارا. " حمیرا نے ہاتھ پھیلا کر اپنی ہم جولیوں کو' اتنا سارا' کی مقدار بتانے کی کوشش کی.
" کل بھی کھیلیں گے. پرسوں تک سپورٹس ڈے ہے. "منزہ نے گیند اور بلا اٹھاتے ہوئے کہا تھا.
..............
" آ گئی اچھل کود کر کے؟ چل بھینس کو چارا ڈال دے. فر روٹی کھانا. " جونہی حمیرا گھر کے داخلی دروازے سے اندر آئی، تار پر گیلے کپڑے ڈالتی اماں نے اسے کہا تھا.
" اچھا اماں. " سارا دن سکول میں کھیلنے کودنے میں صبح کا اچار پراٹھا تو کب کا ہضم ہو چکا تھا. لیکن حمیرا خوش تھی، اس لیے بخوشی اماں کا کہا مان لیا. بھینس کو چارا ڈالنے کے بعد چولہے کے پاس بیٹھ کر جلدی جلدی روٹی سالن کھاتی حمیرا سکول میں گزرے ہوئے وقت کو یاد کر کے زیرِ لب مسکرا دی. اُسکول میں گزرے وقت سے اسے اتنی آکسیجن تو مل ہی جاتی تھی کہ دن کا بقیہ حصہ بخیروخوبی گزار لے. 'مہتاب اسکول'  کی پرنسپل صاحبہ کو اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے بچیوں کے لیے الگ اور معیاری اسکول قائم کر کے کتنی ہی بچیوں کو بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے والے حبس شدہ ماحول میں سانس لینا، جینا اور مسکرانا سکھا دیا تھا!

Comments