مدارس کا موسم بہاراور "عنایۃ الباری"

مدارس کا موسم بہاراور "عنایۃ الباری"

غلام نبی مدنی
متعلم مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب
ان دنوں مدارس دینیہ  میں موسم بہار  کی تروتازہ ہوائیں چل رہی ہیں۔ہرطرف  طالبان ِعلوم اسلامیہ کی آمد سے خوشبومہک رہی ہے۔خوش نصیب ہیں وہ  لوگ جنہیں ان گلشنوں  میں اٹھنابیٹھنا نصیب ہوتاہے۔نیک بخت ہیں وہ لوگ جنہیں  ان  پھولوں کی نگہبانی میسرآتی ہے۔آفرین ہے ان  سعادت مندوں پر جومادیت پرستی کے اس پرفتن دورمیں بھی  فقط رضاءالہی کی خاطر نیابت محمدی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔کہنا بہت آسان، مگر کرنا بہت مشکل ہے۔مادیت  پرستی کی چکاچوند کرنوں سے منہ موڑ کر خدائے احد کے دین کی خاطر سب خواہشات کو قربان کردینا کس قدر مشکل ہے ،یہ اندازہ ان کو ہوگا  جو صبح سے شام تک آگے بڑھنے کی دوڑ میں سرگرداں رہتےہیں۔قدامت پسندی کا طعنہ دینا آسان ہے مگر خدا کے قدیم دین کی خاطر رات دن ایک کرناجان جوکھوں کا کام ہے۔

مدارس دینیہ کا نیاسال ہرسال ماہ شوال سے شروع ہوتاہے۔ہزاروں طلبہ علوم اسلامیہ کی خاطر اپنا گھربار،عزیز واقارب چھوڑکر مدارس کا رخ کرتے ہیں۔جن  کا ہدف اور مشن بس اتنا ہوتاہے کہ خدا کے دین کو سیکھ کر محبوب عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت کو لوگوں تک دیانت کے ساتھ پہنچادیا جائے۔یہ ہدف اورمشن الحمدللہ سالہا سال سے مدارس کامیابی  سے  مکمل کررہے ہیں۔

ایسے میں کچھ ناسمجھ ناک منہ چڑھائے ہمیشہ کی طرح یہ طعنہ دیتے  پائے جاتے ہیں کہ اجی!کیوں مدارس جدید علوم کے ہونہار پیدانہیں کررہے ؟حیرت تب ہوتی ہے جب یہ سوال وہ لوگ کرتے ہیں جو خود زندگی میں اپنے لیے یامعاشرے کے لیے کچھ نہ کرسکے ہوں۔بھلا کون انہیں سمجھائے کہ مدارس کا کام اسلام کی تعلیم وتبلیغ ہے جس میں اب تک مدارس سرخرو ہیں اوران شاءاللہ سرخرو رہیں گے۔ہاں اسلامی علوم کو جدیدانداز سے سیکھنے اور جدیدیت کے ہمنواؤں کے لیے دعوت کے نئے طریقوں  کے حوالے سے کچھ کمی کوتاہیاں  ہیں، جنہیں اہل مدارس اب رفتہ رفتہ سمجھ کر دور کررہے ہیں۔بہرحال مدارس دینیہ ملک وقوم کا وہ سرمایہ ہیں جو ہمیشہ ملک وقوم کا ستارہ بلندکرتے رہے اور ان شاءاللہ کرتے رہیں گے۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں کاٹنے کی بجائے انہیں سہارادیاجائے۔یہاں کے پھولوں کو پاؤں تلے روندھنے کی بجائے ہاتھوں میں لے کر ان کی  قدرکی جائے،تاکہ وطن عزیز کا یہ سرمایہ ہمیشہ ملک کا علم بلند کرتارہے۔

خیراب تذکرہ  سنیے ایک حسین وجمیل گلشن کے باغباں کا،جس کی باغبانی سے راقم سمیت ہزاروں  کلیوں نے حیات پائی ۔زندگی بِیت گئی کلام ِالٰہی کی خدمت میں،مگر جذبہ دین ہمیشہ بڑھتارہا۔خدا نے توفیق بخشی تو علوم اسلامیہ کے معماروں کے سایہ حیات بن گئے۔بخاری شریف( جسے رب کریم نے اپنے کلام کے بعدجہاں میں رونق بخشی )کی تدریس کا موقع ملاتو ہم جیسوں کو ایسا شراب پلایاکہ ساقی کی یاد آج بھی دل ودماغ کو معطر کیے رکھتی ہے۔خدا سلامت رکھے استاد ِمحترم شیخ الحدیث مولانا قاری محمد ادریس ہوشیاری پوری کوجنہوں نے رات  دن ایک کرکے قرآن  کریم کی طرح بخاری شریف پر محنت کی اورطلبہ بخاری شریف کے لیے ایک گوہرنایاب "عنایۃ الباری" کے نام سےمرتب کیا۔

امسال رمضان المبارک میں مدینہ منورہ تشریف لائے تو راقم کو بھی عنایۃ الباری عطاکی۔فہرستِ مضامین سے لے کر مضامین کے خاتمے تک اختصار اور شگفتہ وسہل انداز میں طلبہ بخاری کے لیے بخاری شریف کا ایسا خلاصہ مرتب کیا،جس کے پڑھنے کے بعد شاید ہی کسی طالب علم کو دیگر شروحات دیکھنے کی حاجت ہو۔آپ کو حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب ؒ کے  شہرہ آفاق خطبات مرتب کرنے کااعزاز بھی حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکیم الاسلام ؒ  کی حکمت وبیان کی جھلک بھی جگہ جگہ  عنایۃ الباری میں دیکھنے کو ملتی ہے۔اگرچہ عنایۃ الباری میں متداول شروحات ِبخاری اورمولانا حسین احمد مدنیؒ،مولانا انورشاہ کشمیریؒ ،مفتی شبیراحمد عثمانیؒ،مفتی  رشید احمد لدھیانویؒ،مولاناسعید احمد پالن پوریؒ  مولاناسلیم اللہ خانؒ اور مفتی محمد تقی عثمانی  وغیرہ اکابرین کے بیش قیمت افادات سے استفادہ کیا گیا ہے،مگر اندازِبیاں اور بوقت ِضرورت  تعلیقات وتشریحات ِمؤلف نرالی ہیں۔جس کا اندازہ بس عنایۃ الباری پڑھنے کے بعد ہی ہوگا۔عنایۃ الباری کی کشش اتنی ہے کہ پہلاایڈیشن بہت جلد ختم ہوگیاا ور اس وقت کتاب کا نیاایڈیشن مارکیٹ میں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرامین سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جس نے جتنی بھی اور جیسی بھی خدمت کی خدا نے اسے مقبولِ عام کیا ۔بھلا وہ چیز کیسے نہ قبولیت کے ہمالیہ کوپہنچے؟ جب بات ہی سیدالانبیاءاور ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو۔یہی وجہ ہے کہ کائنات میں اللہ نے بخاری شریف  کو بلند رتبہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے بخشا۔بہرحال عنایۃ الباری دورہ حدیث شریف کے طلبہ کے لیے ایک انمول تحفہ ہے جو دورانِ درس بھی اور دورانِ امتحانات بھی طلبہ کے لیے بے انتہاء مفید ہے۔دعاہے کہ اللہ تعالی عنایۃ الباری کو امت کے لیے نافع بنائے اور مؤلف کو اپنی شایان ِشان جزائے خیر عطاکرے اور ان کے گلشن جامعہ دارالعلوم رحیمیہ ملتان سمیت تمام مدارسِ دینیہ کو ترقی عطافرمائے اور شرور سے محفوظ رکھے۔

(مکتوبِ مدینہ منورہ)
غلام نبی مدنی،مدینہ منورہ
gmadnig@gmail.com

Comments