آج روزنامہ اسلام کے ادارتی صفحہ پر شائع ہونے والا میرا پہلا کالم
"اپنا گھر بچائیے"
الحمدللہ
شکریہ مدیر صاحب
اپنا گھر بچائیے
مفتی عزیز الرحمان، ملتان
پروفیسر ندیم احمد خان کی شادی کو پانچ ماہ ہوئے تھے۔ گھر میں نندیں، دیور، ساس، سسر تقریباً سب ہی رشتے موجود تھے۔ ایک چھوٹی سی جنت جہاں سب ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے اور بہت پیار سے رہتے تھے۔ ندیم میں بس ایک ہی برائی تھی کہ بیوی سے زیادہ فیس بک کو وقت دیا کرتا۔ رات گئے فیس بک پر اپنے دوستوں سے چَیٹ کرتا رہتا۔ ایک دن کسی خوبصورت لڑکی نے اسے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی جو اس نے فوراً کنفرم کردی۔بس اب کیا تھا۔ اب تو ندیم کی آئی ڈی اور بھی رنگین ہوگئی تھی۔ اب وہ رات تین چار بجے تک نازش (فیس بک کی فرینڈ) سے باتیں کرتا رہتا۔ اریبہ نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ پچھلے تقریباً دو ہفتوں سے ندیم اسے نظر انداز کررہا ہے۔ جب اریبہ کو یہ پتا چلا کہ ندیم اور نازش کی دوستی فیس بک سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئی ہے اور دوستی پیار کا رنگ اختیار کرتی جارہی ہے۔ اسے یہ جان کر بہت دکھ ہوا۔ اس نے اپنے اس شک جسے وہ شک یا اپنی غلط فہمی سمجھتی تھی کا ذکر اپنے شوہر سے کیا تو ندیم کو بہت غصہ آیا۔ اس نے اریبہ کو جاہل ، بیوقوف، کم عقل اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک آپہنچی۔ ندیم کے پاس تو اولاد نہ ہوئے کا بہانہ بھی موجود تھا حالانکہ ان کی شادی کو ابھی پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔ اس کے نزدیک اریبہ کا سب سے بڑا جرم یہی تھا۔ خیر دونوں طرف سے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ ندیم اور اریبہ کی جوڑی بنی رہے لیکن شاید ندیم اب کچھ اور ہی سوچ رہا تھا اور بہت کوششوں کے باوجودندیم اور اریبہ میں طلاق ہوگئی۔ اس بات کو ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دکھ کا مداوا بھی کردیا اور اریبہ کو ماں بننے کی خوشخبری بھی دے دی۔ دوسری طرف جب ندیم نے نازش سے شادی کی بات کی تو اس نے صاف انکار کردیاکہ اس سے شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اس کی شادی اس سے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
کیونکہ نازش اصل میں ایک لڑکا تھا جو محض تفریح کے لیے جعلی آئی ڈی سے لڑکی بنا ہوا تھا اور اس نے اپنی فوٹو کی جگہ کسی خوبصورت لڑکی کی تصویر لگائی ہوئی تھی۔ جب ندیم کو یہ پتا چلا کہ نازش ایک لڑکا ہے اور دوسری طرف اربیہ ماں بھی بننے والی ہے تو اسے اپنے کیئے پر بڑی شرمندگی ہوئی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک لڑکے کے چھوٹے سے مذاق سے ایک گھر تباہ ہوگیا۔ایک جعلی آئی ڈی نے دوانسانوں کی زندگی میں زہر گھول دیا۔
اس لیے سوشل میڈیا پر سوچ سمجھ کر دوستی کریں اور اس کی وجہ سے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کو مت ٹھکرائیں۔ کہیں کسی اور کا بھی ندیم اور اریبہ جیسا حال نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق فیس بک پر ہونے والی دوستیاں اور تعلقات شادی شدہ جوڑوں کی زندگی میں تلخی بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات اس کے ذریعے شوہر یا بیویاں اپنے ساتھی کی ایسی مصروفیت کے بارے میں بھی جان لیتے ہیں, جن سے وہ عموما ً بے خبر ہوتے ہیں اور یوں نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
اگر ہم مرد و عورت ضرورت کی بنا پر فیس بک وغیرہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو اپنی عزت و عصمت اور گھر بچانے کا طریقہ یہ ہے مرد صرف مردوں کو ہی فرینڈ بنائیں اور لڑکیوں کی ریکوئسٹ قبول نہ کریں خواہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو!
اگر بالفرض کسی خاتون کو فیس بک پر ریکوئسٹ قبول کرکے اسے شریک گفتگو کرنا بھی چاہیں تو سوشل میڈیا کے فساد سے اپنے گھروں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی پوسٹس پر بلا ضرورت کمنٹ نہ کریں. یقین جانیں اس طرح کبھی بھی آپ عورتوں کے فتنے کا شکار نہیں ہوں گے
کچھ عرصہ پہلے تک شاید سسرالی رشتہ دار یا بی جمالو قسم کی خواتین شادی شدہ جوڑوں میں طلاق کروانے کا اہم سبب بنتی تھیں لیکن اب یہ کام سماجی روابط کی ویب سائٹس فیس بک واٹس وغیرہ سر انجا م دے رہی ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطا بق گزشتہ دو سالوں میں دنیا بھر میں ہونے والی ایک تہائی طلاقوں کا سبب کسی نہ کسی طرح فیس بک رہا ہے، رپورٹ کے مطا بق گزشتہ سال برطا نیہ میں فائل کیے گئے، پانچ ہزار طلاق کے کیسو ں میں سے تنتیس(33) فیصدمیں فیس بک کا ذکر موجود ہے۔
حاصل اس تحریر کا یہ ہے کہ فیس بک، واٹس ایپ اور مسنجر وغیرہ پر غیر محرموں سے بلا وجہ تعلق نہیں بنانا چاہیے اور کسی شرعی ضرورت سے رابطہ رکھنا بھی ہو تنہائی( ان بکس) اور ہنسی مذاق سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے اگر گروپ میں کوئی خاتون گپ شپ کرنا چاہے تو اسے بغیر جھجکے کہ دیا کہ بہن! یہ مناسب نہیں.
تاکہ آپ اور آپ کا گھر بچا رہے اور جنت کی سی خوشی سے آباد رہے.
لنک
http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2017/july/29-07-2017/editorial/mag-06.html
"اپنا گھر بچائیے"
الحمدللہ
شکریہ مدیر صاحب
اپنا گھر بچائیے
مفتی عزیز الرحمان، ملتان
پروفیسر ندیم احمد خان کی شادی کو پانچ ماہ ہوئے تھے۔ گھر میں نندیں، دیور، ساس، سسر تقریباً سب ہی رشتے موجود تھے۔ ایک چھوٹی سی جنت جہاں سب ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے اور بہت پیار سے رہتے تھے۔ ندیم میں بس ایک ہی برائی تھی کہ بیوی سے زیادہ فیس بک کو وقت دیا کرتا۔ رات گئے فیس بک پر اپنے دوستوں سے چَیٹ کرتا رہتا۔ ایک دن کسی خوبصورت لڑکی نے اسے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی جو اس نے فوراً کنفرم کردی۔بس اب کیا تھا۔ اب تو ندیم کی آئی ڈی اور بھی رنگین ہوگئی تھی۔ اب وہ رات تین چار بجے تک نازش (فیس بک کی فرینڈ) سے باتیں کرتا رہتا۔ اریبہ نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ پچھلے تقریباً دو ہفتوں سے ندیم اسے نظر انداز کررہا ہے۔ جب اریبہ کو یہ پتا چلا کہ ندیم اور نازش کی دوستی فیس بک سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئی ہے اور دوستی پیار کا رنگ اختیار کرتی جارہی ہے۔ اسے یہ جان کر بہت دکھ ہوا۔ اس نے اپنے اس شک جسے وہ شک یا اپنی غلط فہمی سمجھتی تھی کا ذکر اپنے شوہر سے کیا تو ندیم کو بہت غصہ آیا۔ اس نے اریبہ کو جاہل ، بیوقوف، کم عقل اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک آپہنچی۔ ندیم کے پاس تو اولاد نہ ہوئے کا بہانہ بھی موجود تھا حالانکہ ان کی شادی کو ابھی پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔ اس کے نزدیک اریبہ کا سب سے بڑا جرم یہی تھا۔ خیر دونوں طرف سے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ ندیم اور اریبہ کی جوڑی بنی رہے لیکن شاید ندیم اب کچھ اور ہی سوچ رہا تھا اور بہت کوششوں کے باوجودندیم اور اریبہ میں طلاق ہوگئی۔ اس بات کو ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دکھ کا مداوا بھی کردیا اور اریبہ کو ماں بننے کی خوشخبری بھی دے دی۔ دوسری طرف جب ندیم نے نازش سے شادی کی بات کی تو اس نے صاف انکار کردیاکہ اس سے شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اس کی شادی اس سے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
کیونکہ نازش اصل میں ایک لڑکا تھا جو محض تفریح کے لیے جعلی آئی ڈی سے لڑکی بنا ہوا تھا اور اس نے اپنی فوٹو کی جگہ کسی خوبصورت لڑکی کی تصویر لگائی ہوئی تھی۔ جب ندیم کو یہ پتا چلا کہ نازش ایک لڑکا ہے اور دوسری طرف اربیہ ماں بھی بننے والی ہے تو اسے اپنے کیئے پر بڑی شرمندگی ہوئی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک لڑکے کے چھوٹے سے مذاق سے ایک گھر تباہ ہوگیا۔ایک جعلی آئی ڈی نے دوانسانوں کی زندگی میں زہر گھول دیا۔
اس لیے سوشل میڈیا پر سوچ سمجھ کر دوستی کریں اور اس کی وجہ سے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کو مت ٹھکرائیں۔ کہیں کسی اور کا بھی ندیم اور اریبہ جیسا حال نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق فیس بک پر ہونے والی دوستیاں اور تعلقات شادی شدہ جوڑوں کی زندگی میں تلخی بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات اس کے ذریعے شوہر یا بیویاں اپنے ساتھی کی ایسی مصروفیت کے بارے میں بھی جان لیتے ہیں, جن سے وہ عموما ً بے خبر ہوتے ہیں اور یوں نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
اگر ہم مرد و عورت ضرورت کی بنا پر فیس بک وغیرہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو اپنی عزت و عصمت اور گھر بچانے کا طریقہ یہ ہے مرد صرف مردوں کو ہی فرینڈ بنائیں اور لڑکیوں کی ریکوئسٹ قبول نہ کریں خواہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو!
اگر بالفرض کسی خاتون کو فیس بک پر ریکوئسٹ قبول کرکے اسے شریک گفتگو کرنا بھی چاہیں تو سوشل میڈیا کے فساد سے اپنے گھروں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی پوسٹس پر بلا ضرورت کمنٹ نہ کریں. یقین جانیں اس طرح کبھی بھی آپ عورتوں کے فتنے کا شکار نہیں ہوں گے
کچھ عرصہ پہلے تک شاید سسرالی رشتہ دار یا بی جمالو قسم کی خواتین شادی شدہ جوڑوں میں طلاق کروانے کا اہم سبب بنتی تھیں لیکن اب یہ کام سماجی روابط کی ویب سائٹس فیس بک واٹس وغیرہ سر انجا م دے رہی ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطا بق گزشتہ دو سالوں میں دنیا بھر میں ہونے والی ایک تہائی طلاقوں کا سبب کسی نہ کسی طرح فیس بک رہا ہے، رپورٹ کے مطا بق گزشتہ سال برطا نیہ میں فائل کیے گئے، پانچ ہزار طلاق کے کیسو ں میں سے تنتیس(33) فیصدمیں فیس بک کا ذکر موجود ہے۔
حاصل اس تحریر کا یہ ہے کہ فیس بک، واٹس ایپ اور مسنجر وغیرہ پر غیر محرموں سے بلا وجہ تعلق نہیں بنانا چاہیے اور کسی شرعی ضرورت سے رابطہ رکھنا بھی ہو تنہائی( ان بکس) اور ہنسی مذاق سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے اگر گروپ میں کوئی خاتون گپ شپ کرنا چاہے تو اسے بغیر جھجکے کہ دیا کہ بہن! یہ مناسب نہیں.
تاکہ آپ اور آپ کا گھر بچا رہے اور جنت کی سی خوشی سے آباد رہے.
لنک
http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2017/july/29-07-2017/editorial/mag-06.html

Comments
Post a Comment