من انگلیسی نمی دانم (میں انگلش نہیں جانتی)


من انگلیسی نمی دانم (میں انگلش نہیں جانتی)

وہ محترمہ پٹر پٹر انگریزی بولتی جا رہی تھی اور اس کی 'پٹر پٹر انگریزی' ہمارے سر کے بھی تین فٹ اوپر سے گزرتی جا رہی تھی. آخر میاں نے ہماری ہونق بنی شکل دیکھ کے اندازہ لگا لیا کہ ہمیں ککھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا 'پٹر پٹر' ہو رہی ہے تو انہوں نے مترجم کے فرائض انجام دینا شروع کر دیے.
ہوا کچھ یوں کہ ہم تازہ تازہ مانچسٹر آئے تھے. غالباً اپنے لیے گرم کوٹ خریدنا تھا. شاپ پہ گئے، جو پسند آیا، وہ ہمارے سائز کا نہیں تھا. میاں نے مشورہ دیا،
"وہ سامنے ہی اس شاپ پہ کام کرنے والی لڑکی کھڑی ہے، اس سے پوچھ لو کہ تمہارے ناپ کا کوٹ ان کے پاس ہے یا نہیں. "
" نہیں، نہیں، آپ پوچھیں. " نئی جگہ، نئے لوگ، ہم کاہے کو اس سے بولتے!!  خیر میاں جی نے اس سے دریافت کیا اور اس نے میاں کو جواب دینے کی بجائے ڈائریکٹ مجھے بتانے کی کوشش میں 'پٹر پٹر'  شروع کر دی. پتا چلا کہ ہمارے ناپ کے کوٹ ختم ہو چکے ہیں، اگر ہم اپنا نمبر اس کے پاس چھوڑ دیں تو نیا سٹاک آنے پہ وہ ہمیں فون کر دے گی یا ہم آن لائن خرید لیں.
وہاں سے واپسی پہ میاں جی نے مشکوک نظروں سے ہماری طرف دیکھا.
"تم تو کہہ رہی تھی کہ تم نے انگلش میں ماسٹرز کیا ہے. "
" جی ہاں، کیا ہے ناں. "ہم نے گردن اکڑائی.
" سچ سچ بتاؤ، کیا بھی ہے یا...! "ہم نے صدمہ اور غصہ ملا کے ان کی جانب دیکھا.
" یعنی کہ آپ کو شک ہے ہماری ماسٹرز کی ڈگری پہ؟؟ " یقین مانیں، اتنا صدمہ ہمیں شاید میتھ کے پیپر میں فیل ہونے پہ نہیں ہوتا تھا جتنا ان کی بات سن کے ہوا.
" بھئی، ناراض نہ ہو. جب سے تم انگلینڈ آئی ہو، میں ہی تمہیں بتاتا ہوں کہ انگلش میں تم سے کیا کہا جا رہا ہے. نہ تم سے بولی جاتی ہے، نہ تمہیں کچھ سمجھ آتی ہے. اس لیے میں تو شک میں پڑ گیا ہوں. "
" بات سنیں ذرا!  ہم کالج کے زمانے میں انگلش میں تقاریر کیا کرتے تھے اور جیت کے آتے تھے. غلطی یہاں کے لوگوں کی ہے، یہ اتنا منہ ٹیڑھا کر کے انگلش بولتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتا یہ بول کیا رہے ہیں. ہماری قابلیت پہ شک مت کیجئے آپ. " ہم ان سے خفا ہو گئے اور سارا رستہ خفا ہی رہے!
ہم سچ کہہ رہے ہیں لوگو، تعلیمی زمانے میں آپ بےشک انگلش کے پیپر میں سب سے ذیادہ نمبر لیتے ہوں لیکن اگر کسی گورے کی انگلش سنیں گے تو حیرت سے کہیں گے،
"ہیں!! یہ کیا بول رہا ہے؟"  مسئلہ نہ آپ کی قابلیت میں ہے نہ انگلش زبان میں. مسئلہ برطانیہ کے لوگوں کے انگلش تلفظ میں ہے جو ہمارے پلے نہیں پڑتا. پاکستانی لوگوں کا انگلش تلفظ امریکی لوگوں جیسا صاف ہے. ہمیں حیرت ہوئی جب ایک نہیں، تین گورے لوگوں نے ہمیں کہا کہ ہمارا تلفظ امریکیوں جیساہے. چلیے، ایک قدرِمشترک تو نکلی ہم پاکستانیوں اور امریکیوں میں!
شروع کے سالوں ہی کی بات ہے، ہمیں ہاسپٹل جانا تھا، یہاں قانون ہے کہ آپ کا کوئی جاننے والا آپ کا مترجم نہیں بن سکتا. کیونکہ کچھ واقعات ایسے ہوئے تھے جس میں گھر کے کسی فرد نے غلط ترجمہ کر کے فراڈ کر لیا تھا،نہ گورے کو پتا چلا کہ یہ مترجم میری انگلش کا غلط ترجمہ کر رہا ہے، نہ انگلش زبان سےنابلد خاتون کو پتا چلا کہ میرا شوہر مجھے غلط معلومات دے رہا ہے. خیر، ہمیں اس زمانے میں انگلش تلفظ کی سمجھ نہیں آتی تھی، اس لیے میاں جی نے ہاسپٹل والوں کوبتا دیا کہ ہمیں مترجم کی ضرورت ہے. ہاسپٹل نے بھی مترجم بک کر لیا. اندازہ لگائیں زرا ہماری شرمندگی کا! ایک انگلش ماسٹرز ہولڈر لڑکی کے لیے مترجم بک کی گئی جو ہمیں بتا سکے کہ ڈاکٹر کیا کہہ رہی ہے! اتفاق دیکھیے کہ آگے سے ڈاکٹر انڈین تھی، یعنی اس کی انگلش کا تلفظ ابھی اتنا 'ٹیڑھا'  نہیں ہوا تھا! اس کی سب انگلش ہمیں سمجھ آتی گئی اور ہم جواب دیتے گئے. بےچاری مترجم ہاتھ پہ ہاتے دھرے بیٹھی رہی، پھر آخر میں ہنس کے کہنے لگی،
"آپ تو خود اچھی انگلش بول لیتی ہیں، آپ کو مترجم کی کیا ضرورت! " ہم خوشی سے پھول کے کپا ہو گئے!

کچھ وقت لگا لیکن آہستہ آہستہ ہم اس قابل ہو گئے کہ یہاں کی انگلش سمجھ سکیں. ایک دن میاں نے کہا کہ عید پہ ان کے ایک دوست اپنی زوجہ کے ساتھ عید ملنے آنا چاہتے ہیں. ہم نے کہا،" بسم اللہ، ضرور آئیں. "
" لیکن ایک مسئلہ ہے، وہ ملائشیا کے رہنے والے ہیں. انہیں اردو نہیں آتی اور تمہیں ملائشیا کی زبان. باتیں کیسے کرو گی؟ "
" انگلش تو آتی ہے ناں انہیں؟ اور ہمیں بھی آتی ہے. مسئلہ ختم. "ہم نے مسکراتے ہوئے حل تو بتا دیا لیکن بہنو، یقین کرو، ہمیں تو پسینہ ہی آ گیا انگلش بولتے بولتے. ہوا یہ کہ میاں کے دوست مردانے میں بیٹھ گئے اور ان کی اہلیہ ہمارے پاس آ گئیں. چھوٹے سے قد کی، گول مٹول، ہنستی مسکراتی ہوئی، ہمیں اچھی لگیں اور تسلی ہوئی کہ گپ شپ اچھی ہو جائے گی. علیک سلیک اور حال چال کے بعد سمجھ ہی نہ آئے کہ کیا بات کریں. وہ پاکستان سے ہوتیں تو پھر بھی آسانی ہو جاتی کہ بات سے بات

Comments