غیر سرکاری رؤیت ہلال کمیٹی کا حکم

غیر سرکاری رؤیت ہلال کمیٹیوں کا شرعی حکم!

مفصل فتوی

1.... ریاست کی طرف مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اور اس کی ذیلی صوبائی کمیٹیوں کے ہوتے ہوئے متوازی غیر سرکاری کمیٹیوں کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے اور نہ ان کے فیصلوں کے مطابق عمل کرنا اور کروانا درست ہے. کیونکہ ریاست کی طرف سے جو مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہے اس کی حیثیت قاضی کی ہے اور چاند اور شرعاً چاند کی رؤیت کے اعلان کی ولایت( اختیار) اسے ہی حاصل ہے. لہذا اگر مرکزی کمیٹی رمضان یا عید کا چاند نظر آنے کا اعلان کرے تو یہ فیصلہ ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس فیصلہ کے مطابق عمل کرنا تمام اہلِ پاکستان کے لیے ضروری ہے اور اس کے خلاف کرنا جائز نہیں ہے.
لہذا علماء کرام کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کو مرکزی کمیٹی کے اعلان کے مطابق عمل کروانے کی کوشش کریں، کیونکہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو ولایت عامہ حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ شہادتوں کو وصول کرسکتی ہے. جو عیدین اور بعض صورتوں میں رمضان کے کے لیے ضروری ہیں.
نیز مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عمل کرنے سے امت فتنہ و انتشار سے بچ جاتی ہے. اس کے برخلاف متوازی غیر سرکاری کمیٹیوں کو چونکہ ولایتِ عامہ حاصل نہیں اس لئے وہ شہادتوں کو وصول نہیں کرسکتیں. نیز متوازی کمیٹیوں کے اعلانات کے مطابق عمل کرنے سے عوام میں فتنہ و انتشار پیدا ہوتا ہے. قتل و قتال تک نوبت آجاتی ہے. لوگ دین اور اہلِ دین کے بارے میں شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں اور سوءِ ظن میں مبتلا ہوجاتے ہیں. جس کا مشاہدہ ہر سال رمضان اور عیدین کے موقع پر ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں متوازی کمیٹیاں بنی ہوتی ہیں.
رؤیت ہلال کی شہادت قبول کرنے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ مجلسِ قضا کا ہونا بھی شرط ہے.....
2.... مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو پورے ملک میں ولایت حاصل ہے اس لیے اس کا اعلان پورے ملک کے لوگوں کے لیے حجت ہے. جبکہ متوازی غیر سرکاری کمیٹیوں کے پاس ولایت نہیں ہے. لہذا ان کا اعلان بھی عام لوگوں کے حق میں حجت نہیں ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا بھی لازم نہیں ہے. اس سلسلہ میں علماء کرام اور پڑھے لکھے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عمل کروانے کی کوشش کریں نہ کہ غیر سرکاری کمیٹیوں کی موافقت کرکے غلط طرزِ عمل کی تائید کریں.
3.... جب سرکاری طور پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے عید کا چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا اس کے باوجود جن لوگوں نے غیر سرکاری متوازی کمیٹیوں کے اعلان کے مطابق عید منائی ان کے ذمہ لازم ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلانِ عید کے حساب سے ان کے جتنے روزے ضائع ہوئے ہیں، ان کی قضا کریں.
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی
9-9-2015
فتوی نمبر 18/1742
دستخط مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مدظلہ
مفتی محمد عبداللہ صاحب مدظلہ
وغیرہما.

Comments