دیس، پردیس

پرديسيوں کے دل کی ترجمانی کرتی ہوئی ساجدہ غلام محمد کی ايک نظم ۔۔

دیس اور پردیس کی عید میں فرق بس اتنا ہے کہ دیس میں عید کی کیفیت خود بخود طاری ہو جاتی ہے اور پردیس میں اس کیفیت کو زبردستی خود پر طاری کرنا پڑتا ہے... اگر ایسا نہ کریں تو عید کا دن بھی خاموشی کے ساتھ، عام دنوں کی طرح گزر جائے...
یہاں جب عید آتی ہے
اداسی ساتھ لاتی ہے
وہ ہاتھوں پہ لگی مہندی
وہ ہونٹوں پہ بسی ہنسی
سبھی کچھ یاد آتا ہے
پھر دل کو کچھ نہیں بھاتا ہے
یہاں نماز عید پڑھ کے آنکھ
کسی اپنے کے دھوکے میں
ہر چہرے پہ رکتی ہے،
کوئی اپنا نہیں ملتا
کوئی گلے نہیں لگتا
یہاں جب عید آتی ہے
ہمیں سب یاد آتا ہے
وہ ایک ناز سے سج دھج کر
سبھی اپنوں کے گھر جانا
سبھی شکوے بھلا دینا
وہ مل بیٹھ کے کھانا
وہ ہنسنا اور ہنسانا
اب تو حسرتیں ہی ہیں
کوئی تو ہو جو گھر آئے
سنگ اپنے عید لے آئے
کہ ہم پردیس میں ہو کر
بہت تنہا، اکیلے ہیں...
یہاں جب عید آتی ہے
اداسی ساتھ لاتی ہے
یہاں جب عید آتی ہے

(ساجدہ غلام محمد)
_________________

Comments