پکوڑیات
ضیاء اللہ محسن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں پکوڑوں کی آج 25 تاریخ ہے۔ ثابت ہوا کہ آج پچیسواں روزہ ہے۔
بقول شخصے پکوڑے افطاری میں اس طرح لازم و ملزوم ہیں جیسے سیاست میں بھٹو۔
انسانی ناک پکوڑے جیسی ہوسکتی ہے، لیکن پکوڑہ کبھی انسانی ناک پہ نہیں گیا۔
پکوڑوں کے بعد سب سے زیادہ تَلی جانے والی چیز کو "لُچ" کہتے ہیں۔
ماضی میں پکوڑے کنوارے ہوتے تھے۔ پھر پاکستانیوں نے اس کی شادی کروادی اور "پکوڑیاں" بیاہ لائے۔
جسے "پکوڑیوں" کا علم نہیں اسے بھی شہید کردو۔ بلکہ وہ دہی بھلے کھانا چھوڑ دے۔
پکوڑہ گرم گرم اور وہ بھی تیل میں جبکہ پکوڑی ٹھنڈی ٹھار اور وہ بھی دہی میں اچھی لگتی ہے۔
پکوڑہ اور پیاس ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔
ایک دن سحری کھانے کے بعد ایک ایسے پکوڑے پر نظر پڑی جو نہ جانے کیسے افطاری میں شہید ہونے سے بچ گیا تھا۔ سو حقیر فقیر سمجھ کے پیٹ کےگھاٹ اتار لیا۔
کم بخت سارا دن پانی ہی مانگتا رہا۔ 😔
(جاری ہے..دوسری قسط اگلے رمضان المبارک میں۔)
ضیاء اللہ محسن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں پکوڑوں کی آج 25 تاریخ ہے۔ ثابت ہوا کہ آج پچیسواں روزہ ہے۔
بقول شخصے پکوڑے افطاری میں اس طرح لازم و ملزوم ہیں جیسے سیاست میں بھٹو۔
انسانی ناک پکوڑے جیسی ہوسکتی ہے، لیکن پکوڑہ کبھی انسانی ناک پہ نہیں گیا۔
پکوڑوں کے بعد سب سے زیادہ تَلی جانے والی چیز کو "لُچ" کہتے ہیں۔
ماضی میں پکوڑے کنوارے ہوتے تھے۔ پھر پاکستانیوں نے اس کی شادی کروادی اور "پکوڑیاں" بیاہ لائے۔
جسے "پکوڑیوں" کا علم نہیں اسے بھی شہید کردو۔ بلکہ وہ دہی بھلے کھانا چھوڑ دے۔
پکوڑہ گرم گرم اور وہ بھی تیل میں جبکہ پکوڑی ٹھنڈی ٹھار اور وہ بھی دہی میں اچھی لگتی ہے۔
پکوڑہ اور پیاس ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔
ایک دن سحری کھانے کے بعد ایک ایسے پکوڑے پر نظر پڑی جو نہ جانے کیسے افطاری میں شہید ہونے سے بچ گیا تھا۔ سو حقیر فقیر سمجھ کے پیٹ کےگھاٹ اتار لیا۔
کم بخت سارا دن پانی ہی مانگتا رہا۔ 😔
(جاری ہے..دوسری قسط اگلے رمضان المبارک میں۔)
Comments
Post a Comment