رودادِ سفر

روداد سفر۔۔۔
(محمدگل)

سفر خوف اور ہیبت کے عالم میں شروع ہوا کہ شاہرائے قراقرم پر تیز رفتار گاڑی میں پرسکون بیٹھنا بڑے دل گردے کاکام ہے۔ فلک بوس پہاڑوں کے سنگلاخ چٹانوں کے عین سینے کو چیرتی ہوئی یہ سڑک دنیا کا آٹھواں عجوبہ ایسے ہی تو نہیں کہلاتی ہے۔ دعائے سفر اور آیت الکرسی کے ورد سے قلبی اطمینان اور ذہنی خوف سے نجات ملی۔ داسو ڈیم ایریا سے نکلے تو کفایت نے جیسے اڑان بھری اور شوں کے ساتھ ہوا کے تھپیڑوں نے گال سہلائی۔ میں نے پسنجر سائڈ شیشہ زرا اوپر کھسکائی اور باہر پیچھے دوڑتے مناظر پر نظریں جمالیں۔ سامنے نزدیک فاصلے پر قوی الجثہ پہاڑ جس کے ننگے چٹانی بدن سے بعض مقامات پر درختوں کے جھنڈ اور جھاڑ جھنکاڑ جڑے ہوئے نظر آئے۔ عین اس کے قدموں سے لپٹی ہوئی دریائے سندھ جس کے جوبن اور طغیانی کا یہ عالم کہ پانی کا رنگ ہی سیاہ مائل ہورہا تھا۔ بپھری ہوئی لہریں دل دہلا رہی تھی جیسے ہمیں اپنے اندر سمونے کو بیتاب ہیں۔ میں نے امڈتے،اچھلتے مست موجوں کی تاب نہ لاکر نظریں پھیر کر سامنے پہاڑ کے سینے سے لپٹی بل کھاتی کالی ناگن جیسی سڑک پر ٹکا دیں۔

سردار علی ٹکر کی مدہوش کن آواز میں پشتو کا صوفیانہ کلام سماعت کو سرور اور ذہن کو جولانی بخش رہا تھا۔ کچھ دیر کفایت اور دیگر ساتھیوں سے حالات حاضرہ اور کچھ ذاتی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔ پھر ایک خاموشی سی چھا گئی جیسے کسی کے پاس بولنے کےلئے کچھ رہا نہیں ہو۔ میں نے ایک بار پھر گردن موڑی اور باہر نظاروں میں کھوگیا۔ برسین سے آگے کا علاقہ تھا۔ دور پہاڑوں کے بلندیوں پر حسب مزاج و فطرت تخیل کے گھوڑے کو دوڑا دیا۔ کہیں برف کے اجلے سفید دھبے اور کہیں بادلوں کے پھیلے مرغولے پہاڑوں کے چوٹی سے ہم بوس وکنار نظر آئے۔ گر میری وجودی تگ وتاز ان چوٹیوں پر ممکن ہوتی تو میں چھولیتا ان بادلوں کے دامن اور برف کے ان دبیز تہیوں سے گولے بنابنا کر یہاں وہاں اچھال بھی دیتا۔ میں واپس ہی نہ آتا ان اونچائیوں اور حقیقی بلندیوں سے۔ انہی نظاروں سے اچانک میری نظریں نیچے ڈھلک گئی جیسے کسی نادیدہ طاقت نے پپوٹوں سے پکڑ کر کھینچ لی ہوں۔ پہاڑ کے دامن میں دریائے سندھ کے اوپر کندیا پل نظر آیا جس سے آگے پار طرف ریت اور روڑوں سے اٹی ہوئی ایک پتلی سڑک وادی کندیا کا راستہ دکھا رہی تھی۔ وہ وادی جس کے خمیر سے میرا وجودی ڈھانچہ تیار ہوا ہے۔ میرے اجداد کا مسکن جن کے قدموں کے چھاپ یہاں کی مٹی اور سنگریزوں پر آج بھی ثبت ہیں۔ کس قدر پسماندگی، اندھیروں اور محرومیوں میں گھری ہوئی یہ وادی جب کبھی سوچتا ہوں تو جھرجھری سی بھرجاتی ہے جسم میں اور ارباب اختیار و اقتدار کی بےحسی و عدم توجہی پر کلیجہ چھلنی ہوجاتا ہے۔

تفکر و استغراق اور کھلے آنکھوں تصورات کی دنیا میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے سمرنالہ پہنچے، یخ بستہ مگر خوشگوار ہواوں سے گرم ہڈیوں کو سہلایا۔ دریا کنارے چارپائیوں پر بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا اور آگے روانہ ہوئے۔ سازین، شتیال سے ہوتے ہوئے وادی تانگیر اور داریل پلوں سے آگے جہاں نظری حدود کا اختتام ہوتا ہے وہاں سے آگے چشم تصور کی مدد سے ان حسین و دلکش وادیوں کے پرت کھول کھول کر روحانی لذتیں کشید کئے۔ اور پھر وہ مقام آپہنچا جس کے ساتھ میری زیست کے نہایت تلخ ایامی کی یادیں وابستہ ہیں۔ پولیس چوکی ہربن داس اور گرد ونواح کی ویران زمینیں۔ کیا دن تھے وہ جو یہاں بسر ہوئے تھے۔ ملازمت کے ابتدائی سالوں کے کچھ مہینے جو اس وحشت ناک سرزمین پر گزارے تھے۔ خوف،تفکرات،تنہائیوں اور مصائب و مشکلات سے پالا تھا، سچ معنوں میں زندگی کی اصل آزمائش و تلخی ان ایام میں محسوس کی جن کا ذائقہ تاحال روح سے نتھی ہے۔ ایک گہری نظر چوکی کی خستہ در ودیوار پر ڈالی وہی کیفیات دوبارہ محسوس ہوئے مگر مناظر تو لمحوں میں غائب ہو رہے تھے۔ زرا آگے ویران دشت میں اس بڑے پتھر پر نظر جم سی گئی جس پر سرشام چوکی سے چہل قدمی کرتے ہوئے میں آبیٹھتا تھا۔ اس پتھر پر کچھ نقوش جو میں نے کھینچے تھی تصور نے دھندلا سا عکس دکھا دیا۔ چھوٹے نوکیلے کنکر سے کنندہ میرا نام، دستخط اور تاریخ شائد جون 2008 کا کوئی تپتا ہوا دن۔۔۔

اچانک بریک کے چرمراہٹ سے عالم تصور سے وجودیت میں آیا۔ سامنے روڈ پر آئل ٹینکر الٹ پڑا ہوا تھا۔ کچھ لوگ بڑےبڑے ڈرم رکھے بہتا تیل بچا رہے تھے۔ ہربن تھانے کے حدود سے گزرے اور بھاشا ڈیم کے سنگ میل پر پہنچے۔ ایشاء کا سب سے بڑا ڈیم لگ بھگ پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی مگر تاحال کام کا آغاز نہ ہوسکا ہے یہاں ویرانی کا بسیرا چارسو پھیلا ہوا دیکھا۔ دل ہی دل میں جلد اس منصوبے کی تکمیل اور وطن عزیز سے بجلی بحران میں خاطرخواہ کمی کی دعا مانگتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ضلع کوہستان کے حدود کو الوداع کہا اور صوبہ گلگت بلتستان ضلع دیامر میں داخل ہوئے۔ انجن کی گھن گھرج  سے گوش آلودہ ہوتے رہے۔ چلاس سے آگے راکوٹ پل اور فیری میڈوز کے دہانے کو چھوتے ہوئےجگلوٹ پہنچے۔ کچھ دیر سستانے کے بعد آگے بڑھے اور ایک موڑ موڑتے ہوئےاس منظر کی جھلک نے روح کھینچ لی اور پلکیں ساکت کردئیے جسے چھونے کا خواب میں نے ازل سے دیکھا ہے۔ ننگا پربت کی چوٹی کی وہ جھلک جو روحوں کو مقید اور دلوں کو مسخر کرتی ہے۔ بادلوں کے اوٹ سے جھانکتا ہوا سفید مکھڑا جیسے کسی موتی کی طرح جگمگا رہا تھا۔ منظر کی ایک جھلک نے روح کو نڈھال اور جسم کو بےجان سا کردیا۔ قریب تھا کہ میں چھلکتی اس چوٹی پر تن من سے قربان ہوجاتا ڈرائیونگ سنھبالے کفایت کے ٹہوکے سے چونک پڑا۔ جو گلگت شہر پہنچنے کی خبر دے رہا تھا۔ سامنے نظر ڈالی باب گلگت بانہیں دراز کئے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔۔۔۔

Comments