لکشمی پور کا فاتح


لکشمی پور کا فاتح۔۔۔۔۔۔ میجر طفیل محمد شہیدؒ

تحریر: عبدالصبور شاکرؔ

تاریخ اسلام ایسے لاکھوں افراد کے تذکرے سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دین و وطن اور ملک و ملت کی حفاظت کی۔ اپنے لہو سے گلشن اسلام کی آبیاری کی اور قیامت تک کے لیے امر ہو گئے۔ میجر طفیل محمد شہید کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ جو ایک سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر معلم، کامیاب ٹرینر، بہترین قائد اور نڈر آفیسر تھے۔ آپ کا تعلق ضلع ہوشیار پور کے مضافاتی گاؤں ’’کھرکاں‘‘ سے تھا۔ والد صاحب مولوی معراج الدین گوجر ایک صوفی منش انسان تھے۔
میجر طفیل محمد شہیدؒ 22جولائی 1914ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ سے حاصل کی اور ایف ۔ اے گورنمنٹ کالج جالندھر سے کیا۔ ٹھیک اٹھارہ سال کی عمر میں 22جولائی 1932ء کو آپ فوج میں بھرتی ہوئے۔ اور اپنی فطری صلاحیتوں کی بنا پر ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کرنے لگے۔ حتی کہ تاسیس پاکستان سے سات سال قبل جبکہ منٹو پارک میں قرارداد پاکستان منظور کی جارہی تھی، آپ صوبیدار کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ افسران کو آپ کی صلاحیتوں پر اتنا اعتماد تھا کہ محض تین سال بعد 1943ء میں آپ کو 16پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل ہو گیا۔ 1947ء میں آپ کو میجر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ مملکت خداد پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد آپ کے خاندان نے اسلامی مملکت میں رہنا پسند کیا اور ہجرت کر کے صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں چک 253/E.Bمیں آبسے۔ میجر طفیل محمد شہیدؒ کی خدمات بھی اسلام اور پاکستان کے لیے وقف ہو گئیں۔
آپ شہری تنظیم کی مختلف کمانڈز اور سکاؤٹس کی تربیت سے وابستہ رہے۔ فوج میں نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں کی اعلی فنی، ذہنی اوراخلاقی تربیت کے لیے معلم کے فرائض سر انجام دیے۔ اور یہ امور اتنے احسن طریقے سے سرانجام دیے کہ آج بھی آپ کے تلامذہ آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ آپؒ نے ان کی ایسی تربیت کی کہ جب
آپ انہیں عملی میدان میں اتارنے لگے اور زبان حال سے کہنے لگے کہ ’’تم اپنے وطن اور دین کی حفاظت کے لیے کس حد تک جاسکتے ہو؟‘‘ تو سب نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ ہم اپنی جان لٹانے کو بھی تیار ہیں۔
1957ء کو بزدل بھارتی فوجیوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا اور کئی نہتے دیہاتیوں پر ظلم کی انتہاء کر دی۔ پاکستان کے بہادر سپوتوں نے آگے بڑھ کر یہ حملہ روکا اور اپنے علاقوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ انڈیا کے ایک گاؤں لکشمی پورسے بھی بزدل دشمن کو پسپا کر دیا۔ بعد میں صلح کی شرائط لکھتے ہوئے انڈین فوج نے ناک رگڑتے ہوئے وہ علاقہ پاکستان کے حوالے کر دیا۔ یوں لکشمی پور پاکستان کا حصہ بن گیا۔ لیکن ملک پاکستان کے وجود کی طرح انہیں لکشمی پور کا بھی ہاتھ سے جاناہضم نہیں ہو رہا تھا۔ چنانچہ ٹھیک ایک سال بعد 7اگست 1958ء کی ایک تاریک رات میں بزدل دشمن نے لکشمی پور ہلہ بول دیا۔ انڈین فوج کی اس بزدلانہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے پاکستانی فوج کے آفیسرز کی نظر انتخاب میجر طفیل محمد پرv پڑی۔ آپ کو پچھتر افراد پر مشتمل ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ آپؒ نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے  ہوئے ٹیم کے تین حصے کیے۔ اور پچیس پچیس نفر پر مشتمل افراد کو دشمن کے دائیں بائیں حملہ کرنے کے لیے بھیجا اور خود پچیس افراد کا دستہ لے کر دشمن کے عقب پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔آپ شیر کی مانند گرجے، شاہین کی مانند جھپٹے اور چیتے کی سرعت سے دشمن کے سروں پر پہنچ گئے۔ حتی کہ دشمن آپ سے محض پندرہ گز کے فاصلے پر رہ گیا۔ پاکستان کے بہادر سپوتوں کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر دشمن بدحواس ہو گیا۔ اس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس کے نتیجے میں آپ کو کافی سارے زخم آئے۔ لیکن آپ نے گولیاں برسانے والے پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا جس سے وہ اپنی گن سمیت جہنم رسید ہو گیا۔ فتح کو قریب دیکھتے ہوئے آپ خوشی سے سرشار ہو گئے اور باوجود زخمی ہونے کے مزید آگے بڑھے۔ سامنے سے ایک بھارتی سورما نکلا، اور آپ کے ایک ساتھی پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ آپ نے اپنی ٹانگ آگے کر اسے اوندھے منہ گرا دیا اور اپنی آہنی ٹوپی سے اس کی خوب خبر لی۔ اسی اثنا میں آپ پر دوسری طرف سے مشین گن سے فائرنگ ہونے لگی۔ جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔ لیکن آپ کے بہادر دوستوں نے جلد ہی دشمن کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ اور انہیں چار لاشوں کا تحفہ دے کربھگا کر دم لیا۔ یوں وطن عزیز کا ایک حصہ ناپاک دشمن سے واگزار کرا لیا گیا۔ لیکن پاکستان کو اس کے بدلے میں اپنے ایک نڈر، شیردل اور بہادر سپاہی کی قربانی دینا پڑی۔ لیکن یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ کیونکہ راہِ حق میں جان دینے والا تو شہید ہوتا ہے اور شہید کبھی مرا نہیں کرتے؂
تمہاری ضو سے دل نشیں جبینِ کائنات ہے
بقا کی روشنی ہو تم پناہ اندھیری رات ہے
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوۃ ہے۔
آپ کی تدفین وہاڑی میں آپ کے گاؤں 253/E.Bمیں ہوئی۔ سن 1959ء میں آپ کو پاکستان کا سب بڑے انعام ’’نشانِ حیدر‘‘ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا اوراس کے لیے ایک تقریب ایوان صدر کراچی میں منعقد کی گئی۔ جس میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے یہ ایوارڈآپ کی صاحبزادی نسیم اختر کو دیا۔
آپؒ کو آپ کے سینئر افسر جناب صاحب داد نے ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا: ’’میجر طفیل محمد ایک مثالی مسلمان تھا۔ ان کی شہادت سے ہماری فوج کا مورال بلند ہوا۔ ان میں بے شمار خوبیاں تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ غیر شرعی حرکات سے وہ مکمل اجتناب کرتے تھے۔‘‘چنانچہ
زمانے میں جب تک اجالا رہے گا
ترے نام کا بول بالا رہے گا
کیونکہ ؂
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیے تم نے

Comments