تھر میں گزرے تین دن
کارزار/ انور غازی
گزشتہ ہفتے ہم نے 3 دن ضلع تھر پارکر کے 140 مختلف بستیوں، دیہاتوں اور علاقوں میں گزارے۔ اس دورے کا مقصد تھری بھائیوں کی مشکلات کا جائزہ لینا تھا۔ ہمارا 3 رُکنی وفد اتوار کی صبح تھر کے لیے روانہ ہوا۔ کراچی سے حیدرآباد، میرپور خاص، عمر کوٹ، چھاچھرو تک واقعتا حالات معمول کے مطابق تھے۔ زندگی یونہی رواں دواں تھی، لیکن جیسے ہی چھاچھرو سے آگے ”میٹھریو“ پہنچے تو آنکھوں سے پٹی کھلنا شروع ہوگئی۔ سب ہرا ہی ہرا دِکھنا بند ہوگیا۔ روڈ ختم ہوگیا۔ عام گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی۔ ریت کے جکھڑ جکڑنے لگے۔ مشکیزے اور مٹکے نظر آنے لگے۔ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے پانی منتقل ہوتا نظر آنے لگا۔ خال خال نظر آتے لوگوں کے چہروں پر مسکنت عیاں تھی۔ ہم ”کھیکھڑے“ پر سوار ہوکر سرحد کے قریبی علاقوں پنجلائی بستی، لالوکاتڑ بستی، مٹڑیو بستی، کیتاڑی بستی، تڑاکا بستی، بہچو بستی، خیر محمد بستی، میر خان بستی، محمد علی بستی، نور محمد بستی، دریاخان بستی، فقیر بستی، خالد کی بستی، مولوی شہاب الدین بستی، میٹھل بستی.... کی طرف چل پڑے۔ 2 گھنٹے لق و دق صحرا میں چلنے کے بعد ہم عصر کی نماز کے لیے پانی کی تلاش میں ایک قدیم کنویں پر پہنچے۔ یہ جملانی بستی کے مضافات میں واقع تھا۔ کنویں کے اردگرد لوگوں اور جانوروں کا ایک ہجوم تھا۔ خواتین کے سروں پر مٹکے تھے۔ ننگے پاﺅں بچوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنی بچیوں نے گدھوں پر چمڑے کے مشکیزے لادے ہوئے تھے۔ یہ سب اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ گاﺅں کے نوجوان اور بوڑھے چمڑے کے ڈولوں سے بڑی محنت اور مشقت سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالنے میں مصروف تھے۔ جس طرح بیلوں کو کولہو میں یا کھیت میں ہل چلانے کے لیے پنجالی میں جوتا جاتا ہے، اسی طرح نوجوانوں کو جوتا ہوا تھا۔ وہ ڈول کھینچتے کھینچتے دور تقریباً ربع کلومیٹر تک جاتے اور پھر واپس آتے۔ تھر میں پانی اوسطاً 4 سو سے 6 سو فٹ نیچے ہوتا ہے۔ ہمیں پانی کے انتظار میں کھڑے کھڑے مغرب ہوچکی تھی۔ بڑی مشکل سے دو لوٹے پانی ملا۔ منہ میں ڈالا تو نمکین۔ پوچھنے پر پتا چلا یہاں پر ایسے نمکین پانی کو میٹھا پانی ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایک بچی سے میں نے پوچھا: ”تمہارا گھر کدھر ہے؟“ اس نے قطب شمالی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ گھر تقریباً 3 کلومیٹر دور تھا۔ یہ بچی وہاں سے پانی لینے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ ہم نے تصویریں لینا شروع کیں تو بستی کے بوڑھے ہمارے قریب آگئے۔ ہم نے پوچھا: ”آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کنویں پر جنریٹر کے ذریعے موٹر لگ جائیں تو پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔“ 65 سالہ ”خیرو“ نے بتایا کہ میری 50 ایکڑ زمین ہے۔ اگر بارش ہوتی رہے تو لاکھوں کی آمدن ہوتی ہے۔ اگر 2 سال مسلسل بارش نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ اور امسال بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ اس وقت اگرچہ ملک کے اکثر حصوں میں بارشیں ہورہی ہیں، مون سون شروع ہوچکا ہے، لیکن ضلع تھرپارکر کے پسماندہ ترین علاقے اچھڑوتھر میں ایک بوند تک نہیں برسی ہے۔ کنوﺅں میں پانی نیچے تک چلا گیا ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ اور گھاس بھی ختم ہوچکے ہیں۔ ایک اور بستی میں گئے۔ اس میں 100 کے قریب گھرانے آباد تھے۔ اس پورے گاﺅں میں کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی ڈسپنسری۔ کوئی سخت بیمار ہوجائے تو کھیکھڑے میں ڈال کر 3 گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر چھاچھرو لایا جاتا ہے۔ آئے دن سانپوں کے ڈسنے سے اموات واقع ہوتی رہتی ہیں۔ کیتاڑی بستی میں ہم نے رات گذارنے کا ارادہ کیا۔ رات کے کھانے میں باجرے کی موٹی سی روٹی تھی لال مرچ کے ساتھ اور صبح ناشتہ لسی اور روٹی تھی۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلی ہوئی ہیں۔ جانور مررہے ہیں۔ تھر میں روزانہ بھوک پیاس اور دوائی نہ ملنے کی وجہ سے بیسیوں افراد مررہے ہیں۔ ان کو اس وقت 5 بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ میٹھے پانی کا حصول ہے۔ دوسرا صحت ہے۔ تیسرا خوراک ہے۔ چوتھا تعلیم ہے۔ پانچواں معاش ہے۔ تھر میں گھومتے ہوئے ایسے لگتا ہے جیسے صدیوں پہلے پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔ نہ بجلی، نہ گیس، نہ روڈ،نہ ہسپتال، نہ ہم نے ان تین دنوں میں ہر اعتبار سے تھر اور تھریوں کا جائزہ لیا ہے۔ 32 کے قریب ویڈیو انٹرویوز لیے ہیں۔ تھر میں فلمائے گئے اور عکسبند کیے گئے دلدوز مناظر دیکھ کر آپ کو ایتھوپیا اور افریقہ کے بھیانک مناظر یاد آجائیں گے۔ ہم نے تاریخ میں پڑھا تھا کہ صومالیہ اور ایتھوپیاکے قحط کے دوران امدادی کارکنوں نے ایسے مناظر دیکھے کہ روتے روتے ان کی آنکھیں خشک ہوگئیں۔ تھر کا قحط اور تھری لوگوں کی حالت زار دیکھ کر ہم بھی آبدیدہ ہوگئے، ہماری آنکھوں نے بھی ساون بھاوں برسا دیا۔ تھر کا یہ قحط اور تھری لوگوں کی حالتِ زار دیکھ کر ہماری آنکھوں کے سامنے بھوک و افلاس کے تاریخی منظر گردش کرنے لگے۔ تھر میں گھومتے پھرتے، دیکھتے ہوئے یوں لگا جیسے پتھر کے زمانے میں یہ لوگ جی رہے ہیں۔ وہی دور دور پانی کے کنویں، اونٹوں اور گدھوں پر سواری اور سامان کی منتقلی، نہ بجلی نہ گیس نہ فون، لکڑیوں اور گھاس پھوس کے تنوں سے بنے جھونپڑے، نہ روڈ نہ گاڑی، نہ استاذ نہ اسکول، نہ ڈاکٹر نہ دوائی.... سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت اور خدا کے آسرے پر ہورہا ہے۔ ایک جھونپڑے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے ہمیں نم دیدہ کردیا۔ غلام رسول کے 5 بچے تھے۔ یہ صحرا میں بکریاں چراتا تھا۔ ایک رات کو زہریلے سانپ نے کاٹا۔ فرسٹ ایڈ اور زہر کا تریاق نہ ملنے کی وجہ سے 4 گھنٹے بعد ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جھگی میں مرگیا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا، وہ بھی ایک پاﺅں سے معذور۔ اب ان معصوم بچوں کی ذمہ داری اس معذور شخص کے ناتواں کاندھوں پر آگئی ہے۔ یہ معذور شخص صحراءمیں بکریاں چراکر گذر بسر کررہا تھا کہ بارش کی وجہ سے گھاس پھوس بھی ختم ہونے لگا۔ کنوﺅں سے پانی کم ہونے لگا۔ یہ معذور شخص صبح سویرے بکریاں لے کر نکلتا۔ چارے کی تلاش میں دور تک چلا جاتا۔ ڈھلتے سورج لوٹتا، بڑی مشکل سے کنویں سے پانی نکال کر بکریوں کو پلاتا۔ اس نے بکریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ 60 بکریوں میں سے 11 بکریاں رہ گئیں۔ باقی قحط کی وجہ سے اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔ کانٹوں کے احاطے میں ایک ہی جھگی تھی۔ اس میں معصوم بچے دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ کھانے میں صرف باجرے کی روٹی تھی جو بکری کے پانی ملے دودھ کے ساتھ کھارہے تھے۔ تین بچے شلوار سے محروم تھے جبکہ کسی کے بھی پاﺅں میں چپل نہ تھی۔ ٹھنڈی ریت پر یونہی بیٹھے تھے۔ سردی کی وجہ سے بچوں کی ناک بہہ رہی تھی۔ ہم سے جو کچھ ہوسکا فوری مدد کی اور دوسرے گاﺅں کی طرف چل پڑے۔ اس وقت تھر کے لوگوں کو چار بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ نمبر 1، پانی کی قلت ہے۔ کنوﺅں سے پانی نکالنے کے لیے موٹروں اور جنریٹروں کی ضرورت ہے۔ نمبر 2، کھانے کے لیے خوراک کی اَشد ضرورت ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلنے لگی ہیں۔ وافر مقدار میں خوراک تقسیم کرنی چاہیے۔ نمبر 3، صحت کے سنگین مسائل ہیں۔ ادویہ اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ فرسٹ ایڈ کا سامان درکار ہے۔ نمبر4، تعلیم کے لیے اسکول اور مکاتب قائم کیے جائیں۔ نمبر 5، معاش کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ تھر کے لوگ بھی خودکفیل اور خوشحال ہوسکیں۔ دادو بستی میں ایک پڑھے لکھے بوڑھے بابا نے مجھ سے پوچھا کہ میرا حکمرانوں سے سوال ہے کہ ”کیا تھر سی پیک کا حصہ نہیں بن سکتا؟ حالانکہ پورا تھر اعلیٰ کوئلے، نمک اور دیگر معدنیات کی کانوں سے بھرا پڑا ہے۔“
٭٭٭
کارزار/ انور غازی
گزشتہ ہفتے ہم نے 3 دن ضلع تھر پارکر کے 140 مختلف بستیوں، دیہاتوں اور علاقوں میں گزارے۔ اس دورے کا مقصد تھری بھائیوں کی مشکلات کا جائزہ لینا تھا۔ ہمارا 3 رُکنی وفد اتوار کی صبح تھر کے لیے روانہ ہوا۔ کراچی سے حیدرآباد، میرپور خاص، عمر کوٹ، چھاچھرو تک واقعتا حالات معمول کے مطابق تھے۔ زندگی یونہی رواں دواں تھی، لیکن جیسے ہی چھاچھرو سے آگے ”میٹھریو“ پہنچے تو آنکھوں سے پٹی کھلنا شروع ہوگئی۔ سب ہرا ہی ہرا دِکھنا بند ہوگیا۔ روڈ ختم ہوگیا۔ عام گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی۔ ریت کے جکھڑ جکڑنے لگے۔ مشکیزے اور مٹکے نظر آنے لگے۔ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے پانی منتقل ہوتا نظر آنے لگا۔ خال خال نظر آتے لوگوں کے چہروں پر مسکنت عیاں تھی۔ ہم ”کھیکھڑے“ پر سوار ہوکر سرحد کے قریبی علاقوں پنجلائی بستی، لالوکاتڑ بستی، مٹڑیو بستی، کیتاڑی بستی، تڑاکا بستی، بہچو بستی، خیر محمد بستی، میر خان بستی، محمد علی بستی، نور محمد بستی، دریاخان بستی، فقیر بستی، خالد کی بستی، مولوی شہاب الدین بستی، میٹھل بستی.... کی طرف چل پڑے۔ 2 گھنٹے لق و دق صحرا میں چلنے کے بعد ہم عصر کی نماز کے لیے پانی کی تلاش میں ایک قدیم کنویں پر پہنچے۔ یہ جملانی بستی کے مضافات میں واقع تھا۔ کنویں کے اردگرد لوگوں اور جانوروں کا ایک ہجوم تھا۔ خواتین کے سروں پر مٹکے تھے۔ ننگے پاﺅں بچوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنی بچیوں نے گدھوں پر چمڑے کے مشکیزے لادے ہوئے تھے۔ یہ سب اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ گاﺅں کے نوجوان اور بوڑھے چمڑے کے ڈولوں سے بڑی محنت اور مشقت سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالنے میں مصروف تھے۔ جس طرح بیلوں کو کولہو میں یا کھیت میں ہل چلانے کے لیے پنجالی میں جوتا جاتا ہے، اسی طرح نوجوانوں کو جوتا ہوا تھا۔ وہ ڈول کھینچتے کھینچتے دور تقریباً ربع کلومیٹر تک جاتے اور پھر واپس آتے۔ تھر میں پانی اوسطاً 4 سو سے 6 سو فٹ نیچے ہوتا ہے۔ ہمیں پانی کے انتظار میں کھڑے کھڑے مغرب ہوچکی تھی۔ بڑی مشکل سے دو لوٹے پانی ملا۔ منہ میں ڈالا تو نمکین۔ پوچھنے پر پتا چلا یہاں پر ایسے نمکین پانی کو میٹھا پانی ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایک بچی سے میں نے پوچھا: ”تمہارا گھر کدھر ہے؟“ اس نے قطب شمالی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ گھر تقریباً 3 کلومیٹر دور تھا۔ یہ بچی وہاں سے پانی لینے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ ہم نے تصویریں لینا شروع کیں تو بستی کے بوڑھے ہمارے قریب آگئے۔ ہم نے پوچھا: ”آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کنویں پر جنریٹر کے ذریعے موٹر لگ جائیں تو پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔“ 65 سالہ ”خیرو“ نے بتایا کہ میری 50 ایکڑ زمین ہے۔ اگر بارش ہوتی رہے تو لاکھوں کی آمدن ہوتی ہے۔ اگر 2 سال مسلسل بارش نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ اور امسال بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ اس وقت اگرچہ ملک کے اکثر حصوں میں بارشیں ہورہی ہیں، مون سون شروع ہوچکا ہے، لیکن ضلع تھرپارکر کے پسماندہ ترین علاقے اچھڑوتھر میں ایک بوند تک نہیں برسی ہے۔ کنوﺅں میں پانی نیچے تک چلا گیا ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ اور گھاس بھی ختم ہوچکے ہیں۔ ایک اور بستی میں گئے۔ اس میں 100 کے قریب گھرانے آباد تھے۔ اس پورے گاﺅں میں کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی ڈسپنسری۔ کوئی سخت بیمار ہوجائے تو کھیکھڑے میں ڈال کر 3 گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر چھاچھرو لایا جاتا ہے۔ آئے دن سانپوں کے ڈسنے سے اموات واقع ہوتی رہتی ہیں۔ کیتاڑی بستی میں ہم نے رات گذارنے کا ارادہ کیا۔ رات کے کھانے میں باجرے کی موٹی سی روٹی تھی لال مرچ کے ساتھ اور صبح ناشتہ لسی اور روٹی تھی۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلی ہوئی ہیں۔ جانور مررہے ہیں۔ تھر میں روزانہ بھوک پیاس اور دوائی نہ ملنے کی وجہ سے بیسیوں افراد مررہے ہیں۔ ان کو اس وقت 5 بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ میٹھے پانی کا حصول ہے۔ دوسرا صحت ہے۔ تیسرا خوراک ہے۔ چوتھا تعلیم ہے۔ پانچواں معاش ہے۔ تھر میں گھومتے ہوئے ایسے لگتا ہے جیسے صدیوں پہلے پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔ نہ بجلی، نہ گیس، نہ روڈ،نہ ہسپتال، نہ ہم نے ان تین دنوں میں ہر اعتبار سے تھر اور تھریوں کا جائزہ لیا ہے۔ 32 کے قریب ویڈیو انٹرویوز لیے ہیں۔ تھر میں فلمائے گئے اور عکسبند کیے گئے دلدوز مناظر دیکھ کر آپ کو ایتھوپیا اور افریقہ کے بھیانک مناظر یاد آجائیں گے۔ ہم نے تاریخ میں پڑھا تھا کہ صومالیہ اور ایتھوپیاکے قحط کے دوران امدادی کارکنوں نے ایسے مناظر دیکھے کہ روتے روتے ان کی آنکھیں خشک ہوگئیں۔ تھر کا قحط اور تھری لوگوں کی حالت زار دیکھ کر ہم بھی آبدیدہ ہوگئے، ہماری آنکھوں نے بھی ساون بھاوں برسا دیا۔ تھر کا یہ قحط اور تھری لوگوں کی حالتِ زار دیکھ کر ہماری آنکھوں کے سامنے بھوک و افلاس کے تاریخی منظر گردش کرنے لگے۔ تھر میں گھومتے پھرتے، دیکھتے ہوئے یوں لگا جیسے پتھر کے زمانے میں یہ لوگ جی رہے ہیں۔ وہی دور دور پانی کے کنویں، اونٹوں اور گدھوں پر سواری اور سامان کی منتقلی، نہ بجلی نہ گیس نہ فون، لکڑیوں اور گھاس پھوس کے تنوں سے بنے جھونپڑے، نہ روڈ نہ گاڑی، نہ استاذ نہ اسکول، نہ ڈاکٹر نہ دوائی.... سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت اور خدا کے آسرے پر ہورہا ہے۔ ایک جھونپڑے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے ہمیں نم دیدہ کردیا۔ غلام رسول کے 5 بچے تھے۔ یہ صحرا میں بکریاں چراتا تھا۔ ایک رات کو زہریلے سانپ نے کاٹا۔ فرسٹ ایڈ اور زہر کا تریاق نہ ملنے کی وجہ سے 4 گھنٹے بعد ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جھگی میں مرگیا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا، وہ بھی ایک پاﺅں سے معذور۔ اب ان معصوم بچوں کی ذمہ داری اس معذور شخص کے ناتواں کاندھوں پر آگئی ہے۔ یہ معذور شخص صحراءمیں بکریاں چراکر گذر بسر کررہا تھا کہ بارش کی وجہ سے گھاس پھوس بھی ختم ہونے لگا۔ کنوﺅں سے پانی کم ہونے لگا۔ یہ معذور شخص صبح سویرے بکریاں لے کر نکلتا۔ چارے کی تلاش میں دور تک چلا جاتا۔ ڈھلتے سورج لوٹتا، بڑی مشکل سے کنویں سے پانی نکال کر بکریوں کو پلاتا۔ اس نے بکریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ 60 بکریوں میں سے 11 بکریاں رہ گئیں۔ باقی قحط کی وجہ سے اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔ کانٹوں کے احاطے میں ایک ہی جھگی تھی۔ اس میں معصوم بچے دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ کھانے میں صرف باجرے کی روٹی تھی جو بکری کے پانی ملے دودھ کے ساتھ کھارہے تھے۔ تین بچے شلوار سے محروم تھے جبکہ کسی کے بھی پاﺅں میں چپل نہ تھی۔ ٹھنڈی ریت پر یونہی بیٹھے تھے۔ سردی کی وجہ سے بچوں کی ناک بہہ رہی تھی۔ ہم سے جو کچھ ہوسکا فوری مدد کی اور دوسرے گاﺅں کی طرف چل پڑے۔ اس وقت تھر کے لوگوں کو چار بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ نمبر 1، پانی کی قلت ہے۔ کنوﺅں سے پانی نکالنے کے لیے موٹروں اور جنریٹروں کی ضرورت ہے۔ نمبر 2، کھانے کے لیے خوراک کی اَشد ضرورت ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلنے لگی ہیں۔ وافر مقدار میں خوراک تقسیم کرنی چاہیے۔ نمبر 3، صحت کے سنگین مسائل ہیں۔ ادویہ اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ فرسٹ ایڈ کا سامان درکار ہے۔ نمبر4، تعلیم کے لیے اسکول اور مکاتب قائم کیے جائیں۔ نمبر 5، معاش کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ تھر کے لوگ بھی خودکفیل اور خوشحال ہوسکیں۔ دادو بستی میں ایک پڑھے لکھے بوڑھے بابا نے مجھ سے پوچھا کہ میرا حکمرانوں سے سوال ہے کہ ”کیا تھر سی پیک کا حصہ نہیں بن سکتا؟ حالانکہ پورا تھر اعلیٰ کوئلے، نمک اور دیگر معدنیات کی کانوں سے بھرا پڑا ہے۔“
٭٭٭
Comments
Post a Comment