خالدہمایوں

سینئر صحافی,صاحبِ طرزادیب,نقاد,کالم نگاراورتبصرہ نگارجناب خالدہمایوں (روزنامہ پاکستان/ایڈیٹرماہنامہ قومی ڈائجسٹ) کے ساتھ یادگارفکری نشست
---------------------------------------------------------------
عبد الستار اعوان

خالدہمایوں اردولٹریچرپروسیع نظررکھتے ہیں.ان کاطرزِتحریرسادہ مگردلنشیں ہے.جس اندازسے کتابوں پرتبصرہ کرتے ہیں وہ ان ہی کاحصہ ہے.کوئ بھی کتاب بالاستیعاب اور نہایت عرق ریزی سے پڑھنے کے بعدہی اس پراپنی عالمانہ راے پیش کرتے ہیں.ان کے یہ تبصرے اعلیٰ شاہکارکے حامل ہیں.ہمایوں صاحب طویل عرصے سے روزنامہ پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں اور ان کاکالم "تماشہ میرے آگے"علمی وادبی حلقوں میں بے حدمقبول ہے.
دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنفین کی کم تعدادہی ان سے خوش ہے.کیونکہ ان کاتبصرہ بڑا دبنگ اورلگی لپٹی سے ماورا ہوتاہے, محض مصنفین کوخوش کرنے کے لئے کتابوں کی تعریفیں کرنا علمی وفکری بددیانتی سمجھتے ہیں.دورِحاضرکے بیشترمصنفین توان کے علمی تعاقب سے نہیں بچ سکے.سرقہ بازوں,تحریریں چوری کرنے والوں کی خوب خبرلیتے ہیں.
کچھ عرصہ قبل لاہورکالج براے خواتین یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے "پنجابی نظم دانفسیاتی مطالعہ" کے عنوان سے مقالہ لکھاجس پرانہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری ہوئ اورپچاس ہزارروپے انعام دیاگیا.اس پرجناب ہمایوں صاحب نے بھرپوردلائل سے مزین تبصرہ کرتے ہوے لکھاکہ یہ ساراچوری شدہ موادہے, اس مقالے میں سرقے سے اس قدرزیادہ کام لیاگیاکہ ساری محنت ہی ناقابل اعتبارٹھہری ہے.
ہمایوں صاحب لکھاریوں کے اسلوب اورصحتِ لفظی کی بھی خوب اصلاح کرتے ہیں.
اورہاں......ایساہرگزنہیں کہ وہ محض تنقید  کرتے  اورخامیاں ہی تلاش کرتے ہیں بلکہ اچھالکھنے والوں اورباصلاحیت لوگوں کی تعریف وتوصیف اورحوصلہ افزائ کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے.
بلاشبہ یہ عظیم لوگ اس دھرتی کاعلمی سرمایہ ہیں جن پرہمیں بجاطورپر فخرکرناچاہیے.

Comments