اُداس لڑکا

اُداس لڑکا
تحریر: محمد ندیم اختر
    ’’یہ گولک بھی میری …ابو بھی میرے …امی بھی میری ہیں ۔‘‘
    ننھی عائزہ گو لک کو گودی میں چھپاتے ہوئے زور سے چلائی ۔ کمرے میں عائزہ کے چلانے کی آوا ز سن کر عمیر کمرے سے رفو چکر ہو گیا ۔ اسے معلوم تھا کہ یقینا امی نے کچن میں ننھی عائزہ کے چلانے کی آواز سن لی ہوگی ۔ اگر امی کمرے میں آگئیں تو اس کی خیر نہیں ہوگی اور معمول کے مطابق دو چار ہاتھ تو اسے پڑ ہی جائیں گے ۔
    عمیر اور ننھی عائزہ دونوں بہن اور بھائی میں یہ معمول تھا کہ وہ جب بھی کمرے میں اکیلے ہوتے تو عمیر ننھی عائزہ کے ہاتھ میں پکڑے کھلونے یا کوئی بھی چیز اپنے ہاتھوں میں لینے کے کوشش کرتا ۔ جس کی بنا پر ننھی عائزہ چلانا شروع کر دیتی ۔ ایک دو بار تو ایسے موقع پر امی کمرے میں آن پہنچی ۔ امی کو دیکھتے ہیں ننھی عائزہ اونچی آواز میں رونے لگتیں ۔
    پچھلے ہفتے کی بات ہے ۔ جب ننھی عائزہ اپنے کمرے میں اپنے بھالو کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ عمیر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو اس نے جھٹ سے ننھی عائزہ سے وہ بھالو چھین لیا ۔ ننھی عائزہ چلائی ۔ ’’بھیا !یہ میرا بھالو ہے ۔ جیسے ابو میرے ہیں …جیسے امی میری ہیں ۔ ‘‘ لیکن مجال عمیر کو کچھ اثر ہوا ہو ۔ وہ تو ننھی عائزہ سے چیزیں چھین کر خوش ہوتا تھا ۔ سکول میں جانے سے پہلے عمیر بھی ننھی عائزہ کی طرح کا ہی تھا ۔ لیکن سکول جانے کے بعد اسے ایسے پر لگے کہ اس کی شرارتیں گھر میں کسی کو بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتی تھیں ۔ ابھی وہ  دوسری کلاس میں پہنچا تھا ۔ لیکن ان دوسالوں وہ چھوٹا عمیر نہیں بلکہ چھوٹا ڈان بن گیا تھا ۔ دو بار تو اس کے سکول سے بھی شکایت آچکی تھی ۔ پہلی بار جب اس نے اپنی کلاس میں اپنی ساتھ والی چیئر پر موجود عادل کا لنچ بکس اس سے چھین کر اس کا سارا لنچ اس کے بیگ پر ڈال دیا تھا ۔ دوسری با ر تو اپنی کلاس فیلو ہانیہ کے بیگ سے پنسل نکال کر تراش سے اسے ایسا تراشاکہ پنسل ہی ختم ہوگئی ۔ دونوں بار اس کے سکول سے عمیر کی شکایت موصول ہوئی کہ گھر والے اس بچے کو گھر پر بھی سمجھائیں یہ نہ ہو کہ کسی دن سکول میں کوئی بڑا نقصان کر بیٹھے جس کا ازالہ ہم سب کے لیے مشکل ہو ۔ آج بھی جب عمیر کمرے میں داخل ہوا تو ننھی عائزہ کے ہاتھ میں اس کی گولک تھی ۔ جس میں روزانہ وہ اپنے ابو سے پیسے لے کر اس گولک میں جمع کر تی تھی ۔ عمیر نے اس کے ہاتھ میں گولک کیا دیکھی اس کی تو رال ٹپکنے لگی ۔ اس سے پہلے کہ عمیر ننھی عائزہ کے ہاتھ سے گولک چھیننے کی کوشش کرتا ۔ ننھی عائزہ نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا ۔ ننھی عائزہ نے چلانا کیا شروع کیا عمیر کمرے سے رفو چکر ہو گیا ۔
٭٭٭
    عمیر کے گھر کے سامنے ایک پارک تھا ۔ جہاں وہ شام میں امی سے اجازت لے کر باہر پارک میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل جاتا تھا ۔ ان دنوں رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا تھا ۔ عمیر سکول کا ہوم ورک مکمل کر چکاتھا ۔ شام ہونے میں ابھی کافی دیر تھی ۔ وہ حسب معمول اپنی امی سے اجازت لے کر سامنے والے پارک میں جاپہنچا جہاں اس کے محلے کے دوست شاہد ، رضوان ، ناصر اور اطہر اس کا انتظار کر رہے تھے ۔ یہ ان کا معمول تھا ۔ محلے میں ان کی دوستی بھی مثالی دوستی مانی جاتی تھی ۔ ان کے گھر والوں کو بھی معلوم تھا یہ تمام دوست مل کر کم از کم ایسی کوئی شرارت نہیں کرتے جس سے ان کے گھر والوں کو شرمندگی کا سامنا کرنے پڑے گا۔ لیکن عمیر کے گھر والوں کو اس کے باقی دوستوں پر یقین تھا وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں لیکن اپنے بیٹے کے کرتوت وہ اچھی طرح جانتے تھے وہ انہیں کبھی نہ کبھی ضرورکسی سے شرمندہ کرائے گا۔ لیکن پھر وہ اس کے دوستوں کے بارے میں سوچ کر خاموش ہو جاتے کہ ان کے ہوتے ہوئے کم از کم عمیر ایسا کام شاید نہ کرے جس سے وہ کبھی اس محلے میں شرمندہ ہوں ۔
    ابھی افطار ی میں کافی وقت پڑا تھا ۔ جب وہ تمام دوست کھیلتے ہوئے پارک میں لگے ایک بنچ کے پاس پہنچے جہاں ایک چھوٹا سا یہ ہی کوئی سات سال کا ایک بچہ ہوگا ۔ خاموشی سے بیٹھا پارک میں کھیلنے والے بچوں کو دیکھ رہا تھا ۔ عمیر ایک دم رک گیا اور اس چھوٹے سے بچے کو دیکھنے لگا جو اس کا ہم عمر تھا ۔ اسے یوں اداس بیٹھے دیکھ کر پہلے تو حیران ہوا ۔ پھر اسے خیال آیا کہ ہو سکتا ہے اس نے بھی گھر میں اپنی چھوٹی بہن کو تنگ کیا ہو۔ جس کی وجہ سے اسے اپنی امی سے مار پڑی ہو ۔ مار کھانے کے بعد یہ یہاں اداس بیٹھا ہو ۔ ایسا سوچتے ہی وہ بھاگتا ہوا اپنے دوستوں کے ساتھ مل گیا ۔ افطار ی سے کچھ دیر پہلے وہ سب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ گھر جانے سے پہلے وہ اس چھوٹے بچے کو بھول چکا تھا ۔
٭٭٭
    افطاری کے بعد وہ ابو کے ساتھ مسجد چلا گیا ۔ اس کی شرارتیں اپنی جگہ لیکن اسے ابو کے ساتھ مسجد جانا اچھا لگتا تھا ۔ مغرب کی نماز کے بعد وہ ابو جان کے ساتھ واپس گھر آتا ۔ کھانا کھاتا تھا ۔ پھر وہ لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے اور پھر عشا کی نماز کا وقت ہو جاتا ۔ وہ ضد کر کے ابوجان کے ساتھ تراویح کے لیے بھی ان کے ساتھ ہی مسجد چلا جاتا ۔ اس دن بھی نماز مغرب کے بعد جب وہ واپس آئے تو امی کھانا لگا چکی تھیں ۔ کھانا کھاتے ہوئے امی بولیں ۔ ’’اس بار فطرانے کی رقم اس بوڑھی اماں کو دینی ہے ۔ جو ابھی پچھلے ماہ ہی اس محلے میں کرایے کے مکان میں آئی ہیں ۔ سنا ہے ان کا کوئی کمانے والا نہیں ہے ۔ وہ اور ان کا پوتا ہی اس گھر میں ہے ۔ ہمسائی بتارہی تھی کہ پہلے وہ جامع مسجد کے ساتھ والے محلے میں رہتے تھے ۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا ۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ایکسیڈنٹ میں اس بیٹے اور اس کی بہو جاں بحق ہوگئے ۔ اس حادثے میں ان کا بیٹا بچ گیا ۔ جو اب اپنی دادی کا سہارا ہے ۔ اپنے عمیر کی عمر کا ہی ہے بے چارہ ۔ ‘‘امی نے جب اس بوڑھی اماں کا ذکر کیا تو عمیر کو فورا پارک کے بنچ پر بیٹھا وہ بچہ یاد آگیا ۔ ہو نہ ہو یہ اسی اداس بچے کا ذکر کر رہی ہیں ۔
    ’’لیکن !فطرانے کی رقم تو میں اپنے دفتر میں ایک صفائی کرنے والی ماسی کو دے آیا ہوں ۔ اب تو تنخواہ بھی اتنی سی بچی ہے کہ عائزہ ، عمیر اور تمہاری عید کی خریداری کرنی ہے ۔ پہلے ذکر کر دیتی تو ہو سکتا تھا کہ ہم صفائی والی ماسی کی بجائے اسی بوڑھی اماں کو یہ رقم ادا کر دیتے ۔ چلو اگلی عید پر دیکھیں گے ۔ ‘‘ابو نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔
٭٭٭
    دوسری شام جب عمیر پارک میں کھیلنے گیا تو اس نے سب دوستوں کو اس اداس بچے کے بارے میں بتایا ۔
    ’’ارے ہاں !وہ جس اداس بچے کے پاس کل تم کھڑے ہوئے تھے ۔ بالکل یہ وہی بچہ ہے جس کے ماں باپ ایک ایکسیڈنٹ میں مرگئے تھے ۔ ‘‘ناصر نے فورا کہا۔
    ’’ہائے بے چارہ !چلو اس کے پاس چلتے ہیں ۔ ‘‘شاہد نے رائے دی ۔ سب دوستوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور اسی بنچ کی طرف قدم بڑھانے شروع کر دیے ۔ جب یہ دوست وہاں پہنچے تو وہ اداس لڑکا وہیں بیٹھا تھا ۔ ہمیشہ کی طرح اداس …!
    ’’اے اداس لڑکے !کیا تم اس محلے میں نئے آئے ہو ۔ ‘‘شاہد نے اسے مخاطب کیا ۔ شاہد کی آواز سن کر وہ چونکا ۔ اس نے جب اسے پکارنے والے دیکھنے کے نظر دوڑائی تو وہاں ایک نہیں بہت سے اس کے ہم عمر لڑکے کھڑے تھے ۔ وہ سب اس کی آنکھوں کی طرف دیکھ کر چونکے ۔ اداس نظر آنے والا لڑکا صرف اداس ہی نہیں بلکہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ اس کے گالوں پر آنسوئوں کے نشان تھے ۔ عمیر کا دل زور سے دھڑکا …
    ’’تم کیوں اداس ہو …اور تم رو بھی رہے ہو ۔ ‘‘عمیر جھٹ سے بولا ۔ وہ اداس لڑکا بغیر کچھ کہے وہاں سے اٹھا اور پارک کے گیٹ کی جانب بڑھنے لگا ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ عمیر اور اس کے تمام دوست بھی ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے اس کے پیچھے ہولیے ۔ اداس لڑکے نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تقریبا بھاگتا ہوا ایک گھر میں داخل ہوگیا ۔ اداس لڑکے کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر شاہد بولا ۔’’ عمیر تمہارا شک درست نکلا یہ وہ ہی لڑکا ہے جس کا ذکر تمہاری امی نے کیا تھا۔ ‘‘
    ’’لیکن یہ اداس کیوں ہے ا؟ور رو بھی رہا تھا ۔ ‘‘ناصر کا لہجہ سوالیہ تھا ۔
    ’’بھئی !اس کے امی ابو نہیں ہیں ۔ اس عید پر اس کے پہننے والے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی نہیں ہوں اور تو اور اسے عید ی بھی شاید نہ ملے ۔ کیونکہ میری امی بھی بتارہی تھیں ۔ وہ اپنی دادی اماں کے ساتھ اس گھر میں آیا ہے ۔ اس کی بوڑھی دادی اس کے لیے کیا کرتی ہوگی ۔ وہ کچھ کام کاج تو کر نہیں سکتی ۔ پتہ نہیں دو وقت کا تازہ کھانا بھی انہیں نصیب ہوتا ہے یانہیں ۔ ‘‘اطہر بولا ۔
    ’’پھر ایسا کرتے ہیں ۔ ہم مل کر کچھ کرتے ہیں ۔ ؟تاکہ اسے اس عید پر نئے کپڑے اور نئے جوتے مل سکیں ‘‘شاہد نے جھٹ سے تجویز دی ۔ شاہد کی تجویز قابل غور تھی ۔ سب دوست پارک میں پہنچے اور سرجوڑ کر بیٹھ گئے ۔
    ’’ٹھیک ہے !میں اس اداس لڑکے لیے ڈھیر سارے پیسوں کا بندوبست کروں گا۔ تاکہ اب اداس ہونے والا لڑکا عید والے دن ہمیں اداس نظر نہ آئے ۔ ‘‘عمیر نے جوش سے کہا ۔
    ’’اور میں بھی ابو سے پیسے مانگ کر لائوں گا۔ ‘‘شاہد بولا اور پھر تمام دوست پیسے اکٹھے کرنے کی نیت کر کے یک زبان ہو کر بولے کہ اداس لڑکا اس عید پر اداس نہیں ہوگا ۔
    ٭٭٭
    گھر میں اس نے اسی شام مغرب کی نماز کے بعدجب وہ لوگ کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تو عمیر پہلے امی ابو کو اداس لڑکے کی کہانی سنانے لگا اور یہ بھی بتانے لگا کہ اس نے اور اس کے تمام دوستوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ سب لوگ گھر سے پیسے لے کر ایک جگہ جمع کریں گے اور اس اداس لڑکے گھر جا کر دیں گے تاکہ وہ بھی اس عید پر نئے کپڑے اور نئے جوتے خرید سکے ۔ لیکن عمیر ایک لمحے کے رک گیا ۔ کیونکہ اسے رات والی بات یاد آگئی کہ اگر اس کے ابو اور امی کو اتنا خیال ہوتا تو وہ کل رات ہی فیصلہ کر لیتے کہ فطرانہ تو ادا کر دیا اگر کچھ پیسے ویسے ہی ان کے گھر دے دیں تو کم از کم ان کی کچھ مجبوری تو کم ہوجائے ۔ اگر کل رات اس کے امی ابو کے دل میں ایسا خیال نہیں آیا تو اس کے بتانے پر بھی وہ بات آئی گئی کر دیں گے ۔ پھر ایک لمحے کے لیے وہ سوچنے کے لیے رکا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
    ٭٭٭
    منصوبے کے مطابق اگلی شام وہ تمام دوست گھر سے سو ، سو روپے لے آئے لیکن عمیر کے پاس ان سب سے زیادہ پیسے تھے ۔ پورا ایک ہزار روپیہ …اس طرح ان کے پاس کل چودہ سو روپے جمع ہوگئے ۔ اتنے سارے پیسے جمع دیکھ کر سارے دوست بہت خوش ہوئے اور پھر اس گھر کی طرف روانہ ہوئے جہاں کل اداس لڑکا داخل ہوا تھا ۔ انہوں نے گھر کے دروازے پر دستک دی ۔ دروازے پر بوڑھی دادی اماں کو دیکھ کر وہ بولے ہم اداس لڑکے سے ملنا چاہتے ہیں ۔ ہم اس کے دوست ہیں ۔ دادی اماں انہیں اپنے گھر کے صحن میں لے گئی جہاں وہ ہی لڑکا بیٹھا تھا ۔ یہاں بیٹھا بھی وہ اداس  لگ رہا تھا ۔ ان تمام لڑکوں کو دیکھ کر پہلے تو وہ حیران ہوا ۔
    اس کی حیرانگی کو بھانپتے ہوئے عمیر جلدی سے بولا ۔ ’’اے اداس لڑکے ہم تمہارے دوست ہیں ۔ اس عید پر تم ہماری طرح نئے کپڑے اور نئے جوتے پہنو ۔ یہ دیکھو ہمارے گھر والوں نے تمہارے لیے اتنے سارے روپے بھیجے ہیں ۔ ‘‘اتنی دیر میں شاہد نے جیب سے وہ سارے پیسے نکال کر اس لڑکے کی جانب بڑھا دیے ۔ اداس لڑکا اور اس کی دادی حیرانگی سے ان بچوں کو دیکھ رہے تھے ۔ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکے مزید کچھ کہے بنا ان کے گھر سے جاچکے تھے ۔ گھر سے نکلتے ہوئے اطہر بولا ۔’’ہم کل شام تمہارا پارک میں انتظار کریں گے ۔ کیونکہ آج کے بعد تم ہمارے دوست ہو ۔ ‘‘
٭٭٭
    جب عمیر گھر پہنچا تو ننھی عائز ہ نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا ۔ ننھی عائزہ کے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی گولک کے ٹکڑے تھے ۔ عمیر گولک کے ٹکڑے دیکھ کر ہی ننھی عائزہ کے رونے کی وجہ جان چکاتھا ۔ اس سے پہلے کہ وہ ننھی عائزہ کے پاس پہنچا ۔ کچن سے امی نکلتی دکھائی دیں ۔ اتنی دیر میں وہ بھی امی کے نزدیک پہنچ چکا تھا ۔ امی کا ہاتھ اٹھا اور عمیر کے گال کو سرخ کر گیا ۔ چٹاخ …چٹاخ …یکے بعد دیگر دو تھپڑ پڑنے پر اسے سمجھ نہیں آئی کہ امی اسے کیوں ماررہی ہیں ۔
    ’’ایک تو اس لڑکے نے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ چلو پہلے تو شرارتیں تھیں آج چھوٹی بہن کی گولک توڑ کر چوری چکاری پر بھی اتر آیا ہے ۔ ‘‘اس سے پہلے کہ امی کچھ اور بولتیں ۔ عمیر کے ابو بھی گھر پہنچ چکے تھے ۔ وہ اس سارے واقعہ سے بے خبر تھے ۔
    ’’ارے بھئی !یہ کیوں گھر میں اتنا شور اٹھا رکھا ۔ ‘‘ ابو بے خبری سے بولے ۔
    ’’پوچھو…پوچھو !اپنے لاڈلے سے …‘‘پھر عمیر کی امی نے گولک سے پیسے چوری کرنے کی ساری روئیداد سنا ڈالی ۔ اس سے پہلے کہ ابو غصے میں آتے ۔ عمیر جھٹ سے بولا ۔ ’’ابو !پہلے میری بات سن لیں ۔ پھر اداس لڑکے والی ساری کہانی سناڈالی ۔ کہانی سننے کے بعد ابو بولے ۔ ’’یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن گولک سے پیسے چوری کیوں کیے ؟ ہم سے مانگ لیتے نا !‘‘
    ’’ابو!آپ کو تو امی نے بتایا تھا اگر آپ نے مدد کرنا ہوتی تو پہلے دن ہی کچھ پیسے امی کو دے دیتے ۔ میں نے تو اس لیے نہیں دیے کہ آپ نے کون سی مدد کرنا ہے ۔ ‘‘ عمیر نے روتے ہوئے کہا۔
    ابو جان !عمیر کی بات سن کر ایک دم آگے بڑھے اور عمیر کو اپنے گلے سے لگا لیا۔ ’’بیٹا!چپ کرو ۔یقینا یہ میری غلطی تھی کہ مجھے احساس ہی نہ ہوا ۔ تم بھی سچے ہو۔ لیکن یہ تمہاری بھی غلطی ہے ۔ تم نے یہ چوری نیکی کمانے کے لیے کی ۔ لیکن چوری کرنا انتہائی بری بات ہے چاہے وہ نیکی کی نیت سے ہی کی جائے ۔ کاش تم مجھے بتا دیتے تو ہوسکتا تھا کہ تمہارے کہنے پر میں آپ تمام دوستوں کی مدد کر سکتا ۔ ‘‘عمیرکی روتے روتے ہچکی بندھ چکی تھی ۔
    ’’عمیر کی امی !افطاری کے بعد ہم سب اس اداس لڑکے گھر جائیں گے اور عمیر کے لیے جو سوٹ خریدا ہے وہ سوٹ اب ہم اس اداس لڑکے کو دیں گے ۔ جبکہ میں کل بازار سے عمیر کے لیے ایک نیا سوٹ خرید لائوں گا۔ ‘‘ ابو کی بات سن کر عمیر کی ہچکی ختم ہوچکی تھی ۔ اس کے چہرے پر خوشی نمایاں نظر آرہی تھی ۔ وہ اپنے ابو کے گلے سے لپٹ گیا ۔ ’’سوری ابو جان !یہ واقعی میری غلطی تھی کہ میں نیکی کرنے کے چکر میں یہ بات بھول گیا کہ آپ لوگوں سے چوری ، چوری کر رہا ہوں ۔ میری ننھی بہن عائزہ کا بھی کتنا دل دکھا ہوگا۔ ‘‘عمیر شرمندہ ہو کر بولا ۔
    ’’ہاں نا !ہماری ننھی بیٹی کا دل دکھایا آپ نے ، چلو عائزہ بیٹا بھیا کو معاف کردو ۔ تم اگر معاف کر دو گی تو ہم آپ کو کل نیا گولک لا کر دیں گے اور اس کی جیب خرچی اب آپ گولک میں جایا کرے گی ۔ جب تک آپ کا نقصان پورا نہ ہوجائے ۔ ‘‘ابو نے عائزہ کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔
    عائزہ روتے روتے چپ ہوئی اور بولی ۔ ’’گندے بھیا…‘‘عائزہ کی بات سن کر سب گھر والے ہنسنے لگے ۔
٭٭٭
   

Comments