صدائے معصوم
....................
گئے دنوں کی یہ بات ہے ۔۔۔۔
میری زندگانی کا ایک قصہ ۔۔۔۔۔
کہ ماہِ رمضاں کی طاق راتوں کا۔۔
کوئی لمحہ تھا۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ میں تھا۔۔
کہ اپنے عصیاں کا بوجھ لے کر۔۔
نہ جانے کس سمت جا رہا تھا۔
بُجھا بُجھا سا۔۔۔۔
تھکا ہوا ۔۔۔۔
میں بکھر رہا تھا۔
کوئی ٹھکانہ۔۔۔۔۔۔ نہ کو ئی منزل
نہ کوئی رستہ سجھائی دیتا۔۔
کہ جیسے انجان راستوں کا۔۔
کوئی مسافر ۔۔۔
جسے نہ امید و آسراہو۔۔۔
نہ کوئی ہمت نہ حوصلہ ہو۔
وہ شب گزیدہ ۔۔۔۔دریدہءِ دل
ستم گروں کے شہر کا باسی....
فکر کا، حالات کا ستایا۔۔۔۔
قدم قدم چل کے۔۔۔۔
ایک مسجد کے سائے میں جا کے رک گیا تھا۔۔۔!!
تو چند لمحوں میں.....
اک سپیکر سے.....
میٹھی آواز کا ترنم فضا میں گونجا
کہ جس نے میری سماعتوں کو سکون بخشا.
صدائے رب ِ جلیل سن کر میں چونک اُٹھا.
تو رُوبرو اپنے رب کے ایسے ..
میں ناتواں سا بدن لیے
جاکے مسجد کے ایک کونے میں سر جھکا کے
میں ڈھے گیا تھا...
شکستگی کی لہر تھی ایسی
کہ جسم سارا نڈھال ساتھا
پھر اک تہی دست ۔۔
اک سیاہ کار.....
دونوں ہاتھوں کو یوں اُٹھاکے
جو اپنے مولا سے تھا مخاطب...
کہ دل پہ قابو رہا نہیں تھا.....
وہ لے کے برسات اپنی آنکھوں میں....
. کپکپاتے ہوئے لبوں کو .....
یوں میں نے کھولا....
اے میرے مولا....!
اے میرے مالک ۔۔۔ اے میرے داتا....
تجھے تری کبریائی کا
واسطہ ہے ۔۔!!
سن لے
مری دعائیں..... مری خطائیں ۔
تُومعاف کر دے.....
تُو صاف کر دے....
گناہوں میں ڈوبے میرے دل کو.
اے میرے مالک..... ،اے میرے مولا......
میں دست بستہ یہ تیرے در پہ کھڑا ہوا ہوں..
پڑا ہوا ہوں.
تجھے ہی پانے کی جستجو ،آرزو،لگن ہے.
مری محبت کو میرے مولا...
جو ہوسکے کوئی نام دے دے....
مگر تمنائے دل ہے یہ بھی.....
کہ اپنے لطف و کرم سے مولا....
مرے سخن کو دوام دے دے..
مرے وطن ،میری سرزمیں پہ.....
سلامتی، امن و آشتی کو...
سکون کو اور تازگی کو....
دوام دے دے.....،دوام دے دے...
اے میرے مولا...
دوام دے دے..
محبتوں اُلفتوں کی خوشبو..
خلوص کا کوئی جام دے دے...
دوام دے دے.... دوام دے دے ....
دوام دے دے۔۔۔۔دوام دے دے۔۔۔۔
بڑی ہی چاہت ،بڑی لگن سے
میں اپنی دُھن میں مگن تھا یونہی
کہ ایسے میں ایک ننھا سایہ سا ...
.میرے پیچھے کھڑا ہوا تھا....
تو میں نے دیکھا
کہ ایک ننھا سا طفل تھا وہ......
اداس نظروں سے....
ٹکٹکی باندھ کر مسلسل.....
مجھے دعا مانگتے ہوئے وہ .....
نہ جانے حسرت سے دیکھ کر کیا سمجھ رہا تھا .
ابھی میں حیران تھا کہ بچے نے۔۔۔
جھٹ سے میری نقل میں اپنے...
دو ننھے ہاتھوں کو یوں اُٹھایا...
فضا میں پھیلا کے ہاتھ اُس نے..
دعا کی حالت میں ان کو جوڑا..
سکوت توڑا۔۔
پھر اپنے لفظوں کو اس نے تولا....!!
تو جھٹ سے بولا۔
وہ ننھا بچہ
کچھ ایسے بولا ....
اے میرے مالک ، اے میرے مولا....
مجھے خوشی کا پیام دے دے..
تجھی سے میں ہی مانگتا ہوں یارب...
کہ جو بھی تُو اس کو نام دے دے
دو آم دے دے ۔۔۔
دو آم دے دے
اے مہرے مولا! دو، آم دے دے
بہت دنوں سے نہیں ہیں کھائے....
نہ میرے بابا ہی گھر کو آئے...
سنا ہے امی سے میں نے اپنی...
کہ آم لائیں گے میرے بابا....
گئے جنت میں آم لانے کو .۔۔۔
جلد آئیں گے ایک دن وہ......
یہ ماں کو شایدپتا نہیں ہے.
کہ اب میں بچہ رہا نہیں ہوں...
جو جا چکا ایک بار اس کو.....
کبھی بھی آنا نہیں ہے واپس...
اے میرے مولا ۔۔۔
اے میرے مالک
ہے میری ننھی سی ایک بہنا...
یا مجھ کو اک ماں کا آسرا ہے...
کوئی بھی ہمسر نہیں ہے تیرا.....
نہ تجھ سا کوئی بھی دوسرا ہے...
تیرے خزانوں میں کیا کمی ہے ...
مجھے کوئی اچھا سا کام دے دے....
اے میرے مولا۔۔.
دو آم دے دے ۔۔۔...
مجھے خوشی کا پیام دے دے۔
بڑی لگن سے وہ ننھا معصوم...
رب کے آگے جھکا ہوا تھا....
پھر ایک لمحے وہ گڑگڑایا۔
چھلکتی معصوم ننھی آنکھوں میں
کیا بتاؤں کہ کیا اداسی۔۔۔
وہ ننھا ساپھول رو رہا تھا۔
وہ اپنے اشکوں سے
اپنے چہرے کو دھو رہا تھا۔
میرے تخیل کو ہوش آیا....
میں کانپ اٹھا....
تڑپ کے بیٹھا
خدا کی رحمت کو جوش آیا...
صدائے معصوم اُٹھ رہی تھی....
دلوں میں جذبے مچل رہے تھے...
توایسے عالم میں....
میں نے دیکھا
کہ دھیرے دھیرے سے ....
رفتہ رفتہ....
وہ یاس کے سائے چھٹ رہے تھے....
یا کٹ رہے تھے کہ پھٹ رہے تھے .....
دعاکی برکت سے گھٹ رہے تھے ......
تو صحنِ مسجد میں پیچھے مُڑ کے.....
جو میں نے دیکھا
تو واقعی....
آم بٹ رہتے تھے...!!
Ziaullah Mohsin
۔ ۔۔۔*۔۔۔**۔۔۔*۔۔۔
....................
گئے دنوں کی یہ بات ہے ۔۔۔۔
میری زندگانی کا ایک قصہ ۔۔۔۔۔
کہ ماہِ رمضاں کی طاق راتوں کا۔۔
کوئی لمحہ تھا۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ میں تھا۔۔
کہ اپنے عصیاں کا بوجھ لے کر۔۔
نہ جانے کس سمت جا رہا تھا۔
بُجھا بُجھا سا۔۔۔۔
تھکا ہوا ۔۔۔۔
میں بکھر رہا تھا۔
کوئی ٹھکانہ۔۔۔۔۔۔ نہ کو ئی منزل
نہ کوئی رستہ سجھائی دیتا۔۔
کہ جیسے انجان راستوں کا۔۔
کوئی مسافر ۔۔۔
جسے نہ امید و آسراہو۔۔۔
نہ کوئی ہمت نہ حوصلہ ہو۔
وہ شب گزیدہ ۔۔۔۔دریدہءِ دل
ستم گروں کے شہر کا باسی....
فکر کا، حالات کا ستایا۔۔۔۔
قدم قدم چل کے۔۔۔۔
ایک مسجد کے سائے میں جا کے رک گیا تھا۔۔۔!!
تو چند لمحوں میں.....
اک سپیکر سے.....
میٹھی آواز کا ترنم فضا میں گونجا
کہ جس نے میری سماعتوں کو سکون بخشا.
صدائے رب ِ جلیل سن کر میں چونک اُٹھا.
تو رُوبرو اپنے رب کے ایسے ..
میں ناتواں سا بدن لیے
جاکے مسجد کے ایک کونے میں سر جھکا کے
میں ڈھے گیا تھا...
شکستگی کی لہر تھی ایسی
کہ جسم سارا نڈھال ساتھا
پھر اک تہی دست ۔۔
اک سیاہ کار.....
دونوں ہاتھوں کو یوں اُٹھاکے
جو اپنے مولا سے تھا مخاطب...
کہ دل پہ قابو رہا نہیں تھا.....
وہ لے کے برسات اپنی آنکھوں میں....
. کپکپاتے ہوئے لبوں کو .....
یوں میں نے کھولا....
اے میرے مولا....!
اے میرے مالک ۔۔۔ اے میرے داتا....
تجھے تری کبریائی کا
واسطہ ہے ۔۔!!
سن لے
مری دعائیں..... مری خطائیں ۔
تُومعاف کر دے.....
تُو صاف کر دے....
گناہوں میں ڈوبے میرے دل کو.
اے میرے مالک..... ،اے میرے مولا......
میں دست بستہ یہ تیرے در پہ کھڑا ہوا ہوں..
پڑا ہوا ہوں.
تجھے ہی پانے کی جستجو ،آرزو،لگن ہے.
مری محبت کو میرے مولا...
جو ہوسکے کوئی نام دے دے....
مگر تمنائے دل ہے یہ بھی.....
کہ اپنے لطف و کرم سے مولا....
مرے سخن کو دوام دے دے..
مرے وطن ،میری سرزمیں پہ.....
سلامتی، امن و آشتی کو...
سکون کو اور تازگی کو....
دوام دے دے.....،دوام دے دے...
اے میرے مولا...
دوام دے دے..
محبتوں اُلفتوں کی خوشبو..
خلوص کا کوئی جام دے دے...
دوام دے دے.... دوام دے دے ....
دوام دے دے۔۔۔۔دوام دے دے۔۔۔۔
بڑی ہی چاہت ،بڑی لگن سے
میں اپنی دُھن میں مگن تھا یونہی
کہ ایسے میں ایک ننھا سایہ سا ...
.میرے پیچھے کھڑا ہوا تھا....
تو میں نے دیکھا
کہ ایک ننھا سا طفل تھا وہ......
اداس نظروں سے....
ٹکٹکی باندھ کر مسلسل.....
مجھے دعا مانگتے ہوئے وہ .....
نہ جانے حسرت سے دیکھ کر کیا سمجھ رہا تھا .
ابھی میں حیران تھا کہ بچے نے۔۔۔
جھٹ سے میری نقل میں اپنے...
دو ننھے ہاتھوں کو یوں اُٹھایا...
فضا میں پھیلا کے ہاتھ اُس نے..
دعا کی حالت میں ان کو جوڑا..
سکوت توڑا۔۔
پھر اپنے لفظوں کو اس نے تولا....!!
تو جھٹ سے بولا۔
وہ ننھا بچہ
کچھ ایسے بولا ....
اے میرے مالک ، اے میرے مولا....
مجھے خوشی کا پیام دے دے..
تجھی سے میں ہی مانگتا ہوں یارب...
کہ جو بھی تُو اس کو نام دے دے
دو آم دے دے ۔۔۔
دو آم دے دے
اے مہرے مولا! دو، آم دے دے
بہت دنوں سے نہیں ہیں کھائے....
نہ میرے بابا ہی گھر کو آئے...
سنا ہے امی سے میں نے اپنی...
کہ آم لائیں گے میرے بابا....
گئے جنت میں آم لانے کو .۔۔۔
جلد آئیں گے ایک دن وہ......
یہ ماں کو شایدپتا نہیں ہے.
کہ اب میں بچہ رہا نہیں ہوں...
جو جا چکا ایک بار اس کو.....
کبھی بھی آنا نہیں ہے واپس...
اے میرے مولا ۔۔۔
اے میرے مالک
ہے میری ننھی سی ایک بہنا...
یا مجھ کو اک ماں کا آسرا ہے...
کوئی بھی ہمسر نہیں ہے تیرا.....
نہ تجھ سا کوئی بھی دوسرا ہے...
تیرے خزانوں میں کیا کمی ہے ...
مجھے کوئی اچھا سا کام دے دے....
اے میرے مولا۔۔.
دو آم دے دے ۔۔۔...
مجھے خوشی کا پیام دے دے۔
بڑی لگن سے وہ ننھا معصوم...
رب کے آگے جھکا ہوا تھا....
پھر ایک لمحے وہ گڑگڑایا۔
چھلکتی معصوم ننھی آنکھوں میں
کیا بتاؤں کہ کیا اداسی۔۔۔
وہ ننھا ساپھول رو رہا تھا۔
وہ اپنے اشکوں سے
اپنے چہرے کو دھو رہا تھا۔
میرے تخیل کو ہوش آیا....
میں کانپ اٹھا....
تڑپ کے بیٹھا
خدا کی رحمت کو جوش آیا...
صدائے معصوم اُٹھ رہی تھی....
دلوں میں جذبے مچل رہے تھے...
توایسے عالم میں....
میں نے دیکھا
کہ دھیرے دھیرے سے ....
رفتہ رفتہ....
وہ یاس کے سائے چھٹ رہے تھے....
یا کٹ رہے تھے کہ پھٹ رہے تھے .....
دعاکی برکت سے گھٹ رہے تھے ......
تو صحنِ مسجد میں پیچھے مُڑ کے.....
جو میں نے دیکھا
تو واقعی....
آم بٹ رہتے تھے...!!
Ziaullah Mohsin
۔ ۔۔۔*۔۔۔**۔۔۔*۔۔۔
Comments
Post a Comment