ماحولیاتی آلودگی

موضوع ذرا خشک، لیکن بات آپ کے فائدے کی ہے۔
۔۔۔
ماحولیاتی آلودگی ایک ایسا زہر ہے جو بطور قوم ہم اپنی رگوں میں اور اپنے سے زیادہ اپنی اگلی نسل کی رگوں میں انجیکٹ کر رہے ہیں۔  اگر انفرادی حیثیت میں ہمارے پاس کچھ کرنے کا شارٹ کٹ ہے جسے ہم ایک سانس میں بیان کر سکتے ہیں تو وہ ہے شجر کاری اور بے حد شجر کاری۔ ہر وقت، ہر موسم میں اور ہر جگہ۔۔۔!!
انفرادی حیثیت میں کرنے کے کچھ اور کام بھی ہیں جن میں جدوجہد طویل لیکن عملدرآمد کے بعد عملی تاثیر بہت زیادہ ہے۔ حکومتوں کو ایک ایسا جدید بنیادوں پہ استوار قانون بنانے پہ آمادہ/ قائل / مجبور کرنا جو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اور عمل درآمد کا ایسا نظام کہ جس سے کوئی فرد یا ادارہ رو گردانی نہ کر سکے۔
حکومت سے مطالبہ اس لئےبھی درست ہے کہ حکومتی اقدامات طویل المدتی ، زیادہ effective اور magnitude میں high ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر امریکا میں بھی چمنیاں دھواں بلکہ زہر اگلتی تھیں ، آبی ذخیرے toxic مادے سے لبریز تھے ، درختوں کی کٹائی کو کوئی ریگولیٹ نہیں کیا جا رہا تھا ، جب 1970 میں غالبا رچرڈ نکسن نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے  United States Environment Protection Agency قائم کی  جسے عرف عام میں  EPA کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 
آپ نیویارک کی EPAسے پہلے اور بعد کی تصاویر دیکھ لیں ، اس وقت ہائی رائز بلڈنگز زہریلے دھویں اور گردو غبار میں لپٹی ہوئی تھیں ، اب صورتحال میں بہتری کیمرے کی آنکھ بخوبی کیپچر کر سکتی ہے۔
جبکہ چین میں ایسے قوانین کی عدم موجودگی کے باعث شنگھائی جیسے میگا سٹی کا  زہریلا دھوں ( سموگ smog )  بھی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ کچھ کمپنیاں سڑکوں پر موو کرنے کے لئے ، ذاتی استعمال کے لئے ائر سلنڈر بیچتی ہیں ، تاکہ آپ اپنے کاندھے پر "صاف ہوا " لاد کر چل سکیں۔
بحیثیت قوم اگر ہم نے ہوش نہ کیا تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب ہم آدھا سال قحط سے مریں گے اور آدھا سال سیلاب سے۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین۔
Muhammad Umair Azhar

Comments