کرنے کا ایک بڑا کام


کرنے کا ایک بڑا کام
(کارزار/ انور غازی)
جب ہم کسی کو ناکامیوں کی اہمیت بتارہے ہوتے ہیں تو وہ یہ سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ناکامی آخر اتنی ضروری کیوں ہے؟ اس کی وجوہات دلچسپ ہیں۔پہلی وجہ یہ کہ اگر ناکامیوں کے بغیر ہی کامیابی ملنی ہوتی تو ہر کوئی کامیاب ہوتا۔ اگر ہر کوئی کامیاب ہوتا تو کامیابی کی خوشی کا احساس سب کے لیے ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی وہ حیثیت نہیں رہتی جو ہونی چاہیے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ چیز جو سخت محنت کے بعد حاصل ہوتی ہے، وہ آپ کے لیے قیمتی بن جاتی ہے اور آپ اس کی قدر کرتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ جب تک کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے، تب تک آپ کی شخصیت پختہ ہوجاتی ہے۔ آپ اس مقام و مرتبے کو سنبھال لیتے ہیں۔ چوتھی وجہ ہے کہ بڑے انسان کی شخصیت سخت حالات میں ہی نکھر کر سامنے آتی ہے، بالکل ایسے جیسے کندن بنانے کے لیے سونے کو شدید گرم کرنا پڑتا ہے۔ آپ ان کی اصل طاقت کا تب تک اندازہ نہیں کرسکتے جب تک انہیں اُبلتے پانی میں نہ ڈالا جائے۔سیکھنے کے بے شمار ذرائع ہیں، مگر پھر بھی کہا جاتا ہے کہ ”زمانہ سب سے بڑا استاذ ہے۔“ منزل کے رستے میں آنے والی پریشانیاں آپ کو سکھانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ غلطیوں کے نتائج ہی انسان کے تجربے کو وسیع کرتے ہیں۔ دنیا کے استاذ پہلے سکھاتے ہیں، پھر امتحان لیتے ہیں، مگر زندگی ایک خاموش استاذ ہے جو پہلے امتحان لیتی ہے پھر سکھاتی ہے۔ ناکامیوں کے دور میں امید کا دامن تھامے بغیر ڈٹے رہنا ہی خوش بختی کی علامت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ غلطیوں کا اعتراف کریں۔ اپنی غلطیوں کو ماننے والے ہی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ جو لوگ غلطیوں پر اڑے رہتے ہیں، یا غلطیوں پر گھومانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر وہ خود ہی ناکامیوں کی وادی میں گھومتے رہتے ہیں۔ تاریخ شاہد تمام بڑے اور کامیاب لوگ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔کہتے ہیں: ”استقامت میں کرامت ہے۔“ مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا ہی مردانگی ہے۔ نوجوان ناکامی سے بچنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ہمیشہ کے لیے کامیابی سے بھی بچ جاتے ہیں، کیونکہ کامیابی ناکامیوں کے بعد ہی تو آتی ہے۔ ناکامی کسی انسان کا راستہ نہیں روک سکتی، اگر اُسے کامیابی حاصل کرنے کا مکمل یقین ہو۔ناکامی کو کامیابی کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ناکامیوں کی پروا کیے بغیر اپنا کام جاری رکھیں۔ ایسے لوگوںکو ہی کامیابیاں ملتی ہیں۔ ناکامیوں کا رونا رونے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، بالآخر رونا دھونا ہی ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ کامیاب لوگوں کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ وہ ناکامیوں سے نہیں ڈرتے، چنانچہ آپ بھی ناکامیوں سے پریشان نہ ہوں۔دوسری بات یہ ہے کہ اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کی بھی منصوبہ بندی کریں۔ مشہور مقولہ ہے: ”جو شخص اپنے کاموں کی منصوبہ بندی نہیں کرتا، وہ دراصل ناکامیوں کی منصوبہ بندی کررہا ہوتا ہے۔“ یاد رکھیں! ہر شخص اپنے کاموں کا خود ہی سب سے بڑا منتظم اعلیٰ ہوتا ہے۔ اگر آپ قیادت اور امامت کرسکتے ہیں تو ٹھیک ہے، آپ مشعل بردار بنیں، جھنڈا تھامنے والے بن جائیں۔ بڑا کام کرنے کے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے بنائیں۔ کاموں کی تکمیل میں منصوبہ بندی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جس شخص کی منصوبہ بندی زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر ہوگی، جتنی اچھی منصوبہ بندی ہوگی، اس کے کام اتنے ہی جلد پایہ ¿ تکمیل کو پہنچیں گے۔ سب سے پہلے آپ یہ تشخیص کریں کہ آپ نے کرنا کیا ہے؟ آپ کا وژن کیا ہے؟ آپ کا منصوبہ کیا ہے؟ آپ کیا بڑا کام کرنا چاہتے ہیں؟ کس لائن میں کن خطوط پر کام کرنا ہے؟ یہ بات تو پہلے ہوچکی ہے کہ آپ کا وژن ملٹی پل ہوسکتا ہے، ہر شخص کی ترجیح بھی مختلف ہوسکتی ہے۔ آپ جو بھی کام کرنا چاہیں تو اس کی وجہ اور وجہ ¿ ترجیح لازمی تلاش کریں۔ آپ کوئی بھی کام کریں، کسی بھی منصوبے پر کام کریں، لیکن وہ کام اور منصوبہ ڈھنگ اور سلیقے کے ساتھ کریں۔ اگر آپ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اچھے طریقے سے اچھی طرح کھیلیں، پوری توجہ اور محنت کے ساتھ کھیلیں۔ ہمارا قدرِ مشترکہ المیہ یہ ہے کہ ہم کام کے وقت صحیح طریقے سے کام نہیں کرتے، کھانے کے وقت ڈھنگ سے کھانا نہیں کھاتے، چھٹی کے وقت میں انجوائے اچھے طریقے سے نہیں کرتے، سونے کے وقت ڈٹ کر سوتے نہیں۔ تفریح کے وقت تفریح نہیں کرتے، دوستی کے وقت دوستی کا حق ادا نہیں کرتے۔ حاصل یہ کہ کوئی بھی کام ڈھنگ سے اور صحیح طریقے سے نہیں کرتے۔ناکامی کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی کام مکمل پلاننگ سے اور اچھی طرح محنت کرکے نہیں کرتے۔آپ دیکھ لیں.... آج بھی اچھے ڈرائیور کی، اچھے باورچی کی، اچھے چوکیدار کی، اچھے خادم کی، اچھے استاذ کی، اچھے ٹیچر کی، اچھے کمپوزر کی، اچھے شوہر کی، اچھی بیوی کی، اچھی ملازمہ کی، اچھے معاون کی، اچھے باس کی، اچھے مالک کی، اچھے ورکر کی، اچھے کلرک کی، اچھے ہیلپر کی، اچھے حکمران کی، اچھے وزیر

Comments