'خواب'
ساجدہ غلام محمد
"یہ میرے بیٹوں کے سروں پہ سجنی تھیں. " بزرگ کی آنکھوں میں دکھ تھا، نمی نہیں تھی. میں ایک پلازا کے سامنے موٹر سائیکل کھڑی کر کے چابی نکالنے ہی والا تھا کہ ایک بزرگ میرے پاس آ کے کھڑے ہو گئے. ان کے ہاتھ میں خاکی ٹوپیوں کو دیکھ کے میرے چھے سالہ بیٹے خرم نے لینے کی خواہش ظاہر کی.
" ماشاءاللہ میرا بیٹا تو بالکل کمانڈو لگ رہا ہے. "میں نے ایک ٹوپی بیٹے کو پہنا کے دیکھی تھی. بیٹا خوش ہو گیا. میں نے بزرگ کی جانب پیسے بڑھائے تو ان کی نظریں ابھی بھی خرم پہ تھیں.
" یہ میرے بیٹوں کے سروں پہ سجنی تھیں. "دکھ تھا، نمی نہیں تھی!
" پھر؟ "
" انہیں بھی بہت شوق تھا کمانڈو بننے کا. اونچے خواب دیکھ لیے تھے جو راس نہیں آتے. ایک بیٹا پشاور کچہری کے خودکش دھماکے میں چلا گیا، دوسرا آرمی سکول پہ حملے میں کام آ گیا، تیسرا....". دکھ تھا، نمی نہیں تھی! "تیسرا لہراتی ڈور گلے پہ پھرنے سے.... تب سے میں ان ٹوپیوں کی شکل میں اپنے خواب اور اپنے بیٹوں کے شوق بیچ رہا ہوں. یہ میرے بیٹوں کے سروں پہ سجنی تھیں. "یہ کہہ کر وہ بزرگ آگے بڑھ گئے اور میرا پیسوں والا ہاتھ وہیں کا وہیں رہ گیا.پھر اچانک جیسے میں ہوش میں آیا، میں نے خرم کے سر سے جلدی سے وہ ٹوپی اتاری تھی، مجھے لگا یہ ٹوپیاں بچوں کو راس نہیں آتیں، اور بیٹے کو کھو کے میں بھی ان بزرگ کی طرح حسرت کا نشان بن کے یہ نہیں کہنا چاہتا تھا،
"یہ میرے بیٹے کے سر پہ سجنی تھی.....!"
ساجدہ غلام محمد
"یہ میرے بیٹوں کے سروں پہ سجنی تھیں. " بزرگ کی آنکھوں میں دکھ تھا، نمی نہیں تھی. میں ایک پلازا کے سامنے موٹر سائیکل کھڑی کر کے چابی نکالنے ہی والا تھا کہ ایک بزرگ میرے پاس آ کے کھڑے ہو گئے. ان کے ہاتھ میں خاکی ٹوپیوں کو دیکھ کے میرے چھے سالہ بیٹے خرم نے لینے کی خواہش ظاہر کی.
" ماشاءاللہ میرا بیٹا تو بالکل کمانڈو لگ رہا ہے. "میں نے ایک ٹوپی بیٹے کو پہنا کے دیکھی تھی. بیٹا خوش ہو گیا. میں نے بزرگ کی جانب پیسے بڑھائے تو ان کی نظریں ابھی بھی خرم پہ تھیں.
" یہ میرے بیٹوں کے سروں پہ سجنی تھیں. "دکھ تھا، نمی نہیں تھی!
" پھر؟ "
" انہیں بھی بہت شوق تھا کمانڈو بننے کا. اونچے خواب دیکھ لیے تھے جو راس نہیں آتے. ایک بیٹا پشاور کچہری کے خودکش دھماکے میں چلا گیا، دوسرا آرمی سکول پہ حملے میں کام آ گیا، تیسرا....". دکھ تھا، نمی نہیں تھی! "تیسرا لہراتی ڈور گلے پہ پھرنے سے.... تب سے میں ان ٹوپیوں کی شکل میں اپنے خواب اور اپنے بیٹوں کے شوق بیچ رہا ہوں. یہ میرے بیٹوں کے سروں پہ سجنی تھیں. "یہ کہہ کر وہ بزرگ آگے بڑھ گئے اور میرا پیسوں والا ہاتھ وہیں کا وہیں رہ گیا.پھر اچانک جیسے میں ہوش میں آیا، میں نے خرم کے سر سے جلدی سے وہ ٹوپی اتاری تھی، مجھے لگا یہ ٹوپیاں بچوں کو راس نہیں آتیں، اور بیٹے کو کھو کے میں بھی ان بزرگ کی طرح حسرت کا نشان بن کے یہ نہیں کہنا چاہتا تھا،
"یہ میرے بیٹے کے سر پہ سجنی تھی.....!"

Comments
Post a Comment