گمانِ محبت

تحریر : گل رعنا

"گمانِ محبت "

وہ ایک بوسیدہ مکان کی جالیوں والی کھڑکی تھی.کھڑکی کی طرف دیکھو ایسے لگتا تھا کہ جیسے برسوں سے صاف نہ کی ہو.لیکن یہ بھی اچھا تھا.اس مٹی بھری جالیوں نے باہر سے دیکھنے والوں کے لیے اندر کا منظر دھندلا دیا تھا.سو وہ اب جھانک کر دیکھنے کا تکلف نھیں کرتے تھے.
پہلی بار جب میں وہاں سے گزرا تو دوسری نظر بھی نھیں ڈالی تھی.دوسری بار ٹھیک دوپہر کے وقت جب سورج صحیح معنوں میں آپ کے سر پہ ہوتا ہے.میری بائیک اس کھڑکی کے سامنے خراب ہو گئی.اس وقت تک بھی مجھے اس میں کوئی دلچسپی نھیں تھی.میں اپنے دوست کو فون کرنے کے بعد ایک گھر کی سیڑھیوں پہ بیٹھ گیا.ساتھ ہی کچھ بچے کھیل رہے تھے.کہ اچانک اس کھڑکی سے بہت ہی پیاری نسوانی  آواز سنائی دی.
" وہ دیکھو بچے آپ کے پاؤں پر چھپکلی." میں نے چونک کر بچے کی طرف دیکھا.وہاں کچھ نہ تھا.وہ بچہ بھی اپنے پاؤں کی طرف دیکھ کر پھر سے کھیلنے لگا. اب کھڑکی سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی جیسے وہ اپنی بات پہ ہنسے جا رہی ہو. میرا دھیان بٹ چکا تھا.میں اس آواز کے سحر میں تھا.
اس کے بعد بھی مسلسل دو تین بچوں کے گزرنے پہ اسی طرح کمنٹس کیے گئے.ہنسی کی آواز آتی رہی اور میرے دل کے دروازوں سے اندر داخل ہو کر میرے دماغ میں سما گئی.میرا دوست آ چکا تھا.مجھے جانا پڑا.
اگلے دن میں بے اختیار ہو کر وہیں آ بیٹھا.
میرے کان اس آواز کو سننا چاہتے تھے.شاید کہ میں مایوس ہو کر اٹھ جاتا میرے کانوں میں وہ جادوئی آواز پڑی.اک عجیب سی سرشاری میری روح میں اتر گئی.جیسے برسوں سے میں یہی چاہ رہا تھا .
پھر یہ معمول بن گیا.میں روز وہاں آتا ہے اور اس کی  آواز سے اپنی محبت کو توانائی مہیا کرتا.دس منٹ کے اس دورانیے میں کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ کوئی بچہ نہ آتا .تب وہ آواز سروِں میں  بدل جاتی .نام لیے جاتے .مجھے یہ سب کسی نوجوان لڑکی کی شرارت لگتی.
اب کان صرف آواز کے منتظر نھیں رہتے تھے.بلکہ نگاہیں اس کے دروازے کی چوکھٹ کا بار بار طواف کرتیں.
میں نے اس کے گھر سے کبھی کسی کو نکلتے یا جاتے نھیں دیکھا تھا.شاید گھر کا کوئی اور دروازہ ہو گا.
پھر ایک دن وہ آواز سنائی نہ دی.میرا دل اداس ہوا.اس دن میں بیٹھا نھیں رہا ..چکر کاٹتا رہا .پر محبوب کی کوئی خبر میرے دل کو آس دلانے نہ آئی.میں نے محبت کو دوسرے دن پہ ادھار رکھا اور چلا آیا.
پھر دن ڈھلا ،رات آئی،صبح کا سورج طلوع ہوا اور وقت مقررہ پہ میں پھر وہیں تھا.بچے آج بھی کھیل رہے تھے.شاید دوپہر میں گھروالوں کے سونے کی بے خبری سے فائدہ اٹھائے چلے  آتے تھے.میری طرح..!
گھڑی کی سوئیاں چلتی رہی.میرا دل بے قراری سے پہلو بدلتا رہا .کم سے کم مجھے تو یہی محسوس ہوا .
پھر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا.محبت جانے کب اس انتہا کو چھو گئی تھی مجھے پتا ہی نا لگا.میں اس کی چوکھٹ پہ اپنی آس کو تھامے چلا آیا.دروازہ کھٹکھٹانے کو ہاتھ بڑھایا تو وہ جیسے میرا منتظر تھا کہ پل میں کھل گیا.
اندر بڑے سے ًصحن کے دوسری طرف برآمدہ نظر آرہا تھا.میں نے قدم بڑھائے.ساتھ سے کچھ کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دی.میں پل کو ہچکچایا پھر برآمدے میں آٹھہرا.
کوئی جلدی سے باہر نکلا.میں نے قدم روک لیے.وہ کوئی درمیانی عمر کی عورت تھی.جو حلیے سے کام والی لگ رہی تھی.
" او لڑکے ،ادھر کیا کر رہے ہو " اس نے تیوری چڑھا کر پوچھا.
سنبھل کر پوچھا.
" یہ جو باہر کی طرف کھڑکی ہے  وہاں کون ہوتا ہے "
اس عورت نے ماتھے پہ ہاتھ مارا .
" تم بھی شکایت لے آئے .معاف کرنا بچے .وہ ایسی ہی ہے.سارا دن پہلے بولتی رہتی تھی .اب کچھ نہ کچھ اٹھا کر پھینک دیتی ہے."
" مجھے ان سے ملنا ہے " میں نے  اپنا مدعا بیان کیا.اس عورت نے حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر  اندر کی طرف چل پڑی.میں بھی پیچھے ہو لیا.دو کمرے چھوڑ کر دایاں ہاتھ پر موجود ایک دروازے سے وہ اندر داخل ہو گئی.میں دروازے میں رکا.دل کو سنبھالا اور پھر اندر کی طرف قدم بڑھا ئے.اور جیسے ہی نظریں اٹھائیں میں  ساکت رہ گیا.
وہ کوئی بہت بوڑھی سی عورت تھی.جو وہیل چیئر پر اسی کھڑکی کے پاس موجود تھی. اس کی گردن اک طرف کو جھکی ہوئی تھی اور نطریں اپنے ہاتھ پر تھیں.
" یہ اماں جی ہیں.ان کے بچے باہر رہتے ہیں.اور مجھے ان کی  خدمت پر یہاں رکھا ہے.دل بہلانے کو اس کھڑکی میں موجود بچوِں کو دیکھ کر یہی آوازیں لگاتیں اور ہنستی تھیں.بقول ان کے انھیِں اپنا بچپن اور بچے  دکھائی دیتے ہیں اس کھڑکی میں.پر پرسوں ہی  انھیں فالج کا اٹیک ہوا ہے اور اب یہ بول نھیں سکتیں.جو چیزیں اٹھا کر پھینکتی رہتی ہیں.اور اپنا وقت اور قسمت کاٹتی ہیں.میں ادھر اپنے شوہر کے ساتھ ان کے پاس رہتی ہوں.ان کی خدمت کرتی ہوں اور.....!"
وہ  اور بھی کچھ کہہ رہی تھی پر میرے کان سائیں سائیں کر رہے تھے.میں باہر کو لپکا اور شکستہ قدموں سے انہی سیڑھیوں پہ جا بیٹھا.وہ  سحر انگیز آواز  مسلسل گونج رہی تھی.
تین سال گزرنے کے بعد بھی وہ آواز گونجتی رہتی ہے.حالانکہ میں  اسے کچھ ہی دن بعد  اس کے چہرے کے ساتھ مٹی تلے دبا آیا تھا .پر محبت چہروں کی محتاج تو نھیں ہوتی.

Comments