بے رحم مسیحا
تحریر :محمد زبیر ارشد ملتان
تحریر :محمد زبیر ارشد ملتان
’’ہمارے مطالبے پورے کرو‘‘
’’ہمارے مطالبے پورے کرو‘‘
اسفند اپنے دوستوں کے ہمراہ پلے کارڈ اٹھائے گلا پھاڑ پھاڑ کے فلک شگاف نعرے لگوا رہا تھا ۔
اسفند کو ڈاکٹر بننے کا بے حد شوق تھا ۔ وہ اکثر بیشتر اپنے دوستوں کا علاج کیاکرتا تھاتو سبھی اسے ڈاکٹر بھائی کہتے ۔ اس کے ماں باپ نے بہت مشکلات کے پہاڑ عبور کر کے اسے ڈاکٹری کی تعلیم دلوائی تھی اور ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کرنا اس کا ایک خواب بھی تھا ۔
اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے واسطے وہ بہت محنت سے پڑھ رہا تھا ۔
بالاخر وہ دن آ ہی گیا جب اسے ڈاکٹری کا شعبہ اختیار کرنے کا حکمنامہ ملا تو اس کی خوشی قابل دید تھی ۔ پہلے دن وہ سفید گائون پہنے گلے میں اسٹیھو سکوپ لٹکائے ڈیوٹی اختیار کی تو وہ خو شی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔
کچھ ماہ بعد ہی وہ اس ماحول میں رچ بس گیا اور وہ باتیں جو وہ ڈاکٹر بننے سے قبل کیا کرتا تھا وہ سب ہوا ہو گئیں ۔ کوئی غریب مسکین آ جاتا تو بری طرح سے دھتکار کے رکھ دیتا ۔ اسے سرکار کی طرف سے ملنے والا معاوضہ اپنی محنت کے آگے تھوڑا لگتا ۔ وہ جلد ہی ڈاکٹر وں کی بنائی ہوئی تنظیم میں شامل ہو گیا اور جلد ہی بہت بڑا عہدہ مل گیا ۔
آئے روز شہر میں ڈاکٹر زاپنے حقوق کی جنگ لڑنے سڑکوں پہ آئے ہوئے تھے وہ جو ایک عہد کر کے اس مقام تک پہنچتے تھے وہ سب ایک دھوکا تھا ۔ہسپتالوں میں مریض رل رہے ہیں ، خوار ہو رہے ہیں ، پریشان ہیں انہیں اس سے کوئی پروا نہ ہوتی ۔
انسانیت کی خدمت کا سبق پڑھنے والے آج جو کچھ کر رہے تھے اس سے انسانیت بھی شرما رہی تھی ۔لوگ روتے گڑگڑاتے مگر ان پتھر دل والے لوگوں کے دلوں میں زرا برابر بھی رحم کھانے اور ہمدردی کے جذبات پیدا نہیں ہو تے تھے ۔ اسفند وہی کرتا جو اس کے دوست کہتے اسے اپنے ان دوستوں پہ بے حد ناز تھا ۔ وہ جب ہسپتال میں آ کر مرکزی دروازے پہ احتجاجی کیمپ لگا کر فلک شگاف نعرے بلند کرتے اور دوسری طرف بے بس مریض ان کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپنے پیاروںکی زندگیوں کی بھیک مانگتے تو آگے سے قہقہہ لگا کر کہتے ، پہلے جا کر سرکار سے کہو ہمارے مطالبات پورے کر دیں ہم آپ کا پورے دل سے علاج کریں گے ۔
ایک بار ایک بوڑھی ماں اپنی بیٹی کو لیکر آئی تھی ۔ اس نو عمر لڑکی کا منہ جل گیا تھا اور اسے فوری طبی امداد کی اشد ضرورت تھی ۔ مگر ہسپتال بند ہونے کی وجہ سے اسے فوری امداد نہ ملنے کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہو نے لگی تھی ۔ بوڑھی ماں نے منتیں سماجتیں کیں مگر اسفند اور اس کے دوستوں نے کوئی رحم نہ کھایا۔ اتنے میں نو عمر لڑکی بے ہوش کر فرش پہ ڈھے گئی ساتھ ماں کی حالت بھی جواب دے گئی اور وہ بھی ساتھ ہی گر گئی ۔ ظالموں کو پھر بھی ترس نہ آیا ۔
سارے ڈاکٹرز مل بیٹھ کر کینٹین میں سموسے اور بوتلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہ آج کی ہڑتال پہ بے حد خوش تھے میڈیا نے بھی ان کی ہڑتال کو بہترین طریقے سے نمایاں طور پر پیش کیا تھا ۔
اسی اثناء میں اسفند کے موبائل کی گھنٹی بجی ، گھر سے اطلاع آئی بیٹے نے سیٹی منہ میں ڈال لی ہے اور وہ اس کے گلے میں پھنس گئی ہے جس سے سانس اکھڑ اکھڑ کے آ رہا ہے آپ جلد سے جلد گھر آئیں ۔
یہ سنتے ہی اسفند کے ہاتھ پیر پھول گئے اور الٹے قدموں کیساتھ گھر پہنچا ۔ جب گھر پہنچا تو اس وقت اسفند کے بیٹے کی حالت بہت پتلی ہو چکی تھی ۔اسے جلدی سے گاڑی میں لٹایا اور تیز رفتاری کیساتھ ہسپتال کی طرف گاڑی بھگانے لگا ۔
ہسپتال تو سارے شہر کے بند تھے وہ ایک ایک سے ہاتھ جوڑ کر اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا مگر کسی پر کوئی رحم کا جذبہ بیدا ر نہ ہوا ۔ اس نے اپنا سروس کارڈ دکھایا اپنا تعارف کرایا مگر کسی نے بھی اس کے بیٹے کو چیک کرنا گوارا نہ کیا اور کہا سوری دوست آج ہم سب ہڑتال پہ ہیںاس وقت ہسپتال میں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں۔
دھیرے دھیرے ا س کے بیٹے کی حالت غیر سے غیر ہوتی چلی جا رہی تھی ۔
وہ اپنے بیٹے کو لیکر اندھا دھند گاڑی چلا کر اس ہسپتال میں لے آیا جہاں وہ ملازمت کر رہا تھا۔ یہاں پہنچ کر اس نے باری باری اپنے سب دوستوں کو فون پر طلاع دی: ایمرجنسی ہے ، بچے کی حالت غیر ہو چکی ہے تم سب جلدی آئو تاکہ اس کا آپریشن کر کے اس کے گلے سے سیٹی نکالی جائے ۔
مگر دوستوں نے آنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا سوری یار ہم اس وقت ایک اچھی سی فلم دیکھنے جا رہے ہیں اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم ہڑتال پہ ہیں اور جب تک سرکار ہمارے سارے مطالبات تسلیم نہیں کر لیتی ہم کام پر نہیں آئیں گے ۔
کچھ ہی دیر بعد اس کے بیٹے نے ہسپتال کے بر آمدے میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی۔ اس کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب اس نے بوڑھی ماں کی نو عمر بیٹی کا علاج معالجہ کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔
مطالبات ابھی بھی پورے نہیں ہوئے تھے اور شیطنت اپنے جوبن پر تھی اور پھر اسفند چکرا کر وہیں فرش پہ ڈھے گیا ۔
’’ہمارے مطالبے پورے کرو‘‘
اسفند اپنے دوستوں کے ہمراہ پلے کارڈ اٹھائے گلا پھاڑ پھاڑ کے فلک شگاف نعرے لگوا رہا تھا ۔
اسفند کو ڈاکٹر بننے کا بے حد شوق تھا ۔ وہ اکثر بیشتر اپنے دوستوں کا علاج کیاکرتا تھاتو سبھی اسے ڈاکٹر بھائی کہتے ۔ اس کے ماں باپ نے بہت مشکلات کے پہاڑ عبور کر کے اسے ڈاکٹری کی تعلیم دلوائی تھی اور ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کرنا اس کا ایک خواب بھی تھا ۔
اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے واسطے وہ بہت محنت سے پڑھ رہا تھا ۔
بالاخر وہ دن آ ہی گیا جب اسے ڈاکٹری کا شعبہ اختیار کرنے کا حکمنامہ ملا تو اس کی خوشی قابل دید تھی ۔ پہلے دن وہ سفید گائون پہنے گلے میں اسٹیھو سکوپ لٹکائے ڈیوٹی اختیار کی تو وہ خو شی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔
کچھ ماہ بعد ہی وہ اس ماحول میں رچ بس گیا اور وہ باتیں جو وہ ڈاکٹر بننے سے قبل کیا کرتا تھا وہ سب ہوا ہو گئیں ۔ کوئی غریب مسکین آ جاتا تو بری طرح سے دھتکار کے رکھ دیتا ۔ اسے سرکار کی طرف سے ملنے والا معاوضہ اپنی محنت کے آگے تھوڑا لگتا ۔ وہ جلد ہی ڈاکٹر وں کی بنائی ہوئی تنظیم میں شامل ہو گیا اور جلد ہی بہت بڑا عہدہ مل گیا ۔
آئے روز شہر میں ڈاکٹر زاپنے حقوق کی جنگ لڑنے سڑکوں پہ آئے ہوئے تھے وہ جو ایک عہد کر کے اس مقام تک پہنچتے تھے وہ سب ایک دھوکا تھا ۔ہسپتالوں میں مریض رل رہے ہیں ، خوار ہو رہے ہیں ، پریشان ہیں انہیں اس سے کوئی پروا نہ ہوتی ۔
انسانیت کی خدمت کا سبق پڑھنے والے آج جو کچھ کر رہے تھے اس سے انسانیت بھی شرما رہی تھی ۔لوگ روتے گڑگڑاتے مگر ان پتھر دل والے لوگوں کے دلوں میں زرا برابر بھی رحم کھانے اور ہمدردی کے جذبات پیدا نہیں ہو تے تھے ۔ اسفند وہی کرتا جو اس کے دوست کہتے اسے اپنے ان دوستوں پہ بے حد ناز تھا ۔ وہ جب ہسپتال میں آ کر مرکزی دروازے پہ احتجاجی کیمپ لگا کر فلک شگاف نعرے بلند کرتے اور دوسری طرف بے بس مریض ان کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپنے پیاروںکی زندگیوں کی بھیک مانگتے تو آگے سے قہقہہ لگا کر کہتے ، پہلے جا کر سرکار سے کہو ہمارے مطالبات پورے کر دیں ہم آپ کا پورے دل سے علاج کریں گے ۔
ایک بار ایک بوڑھی ماں اپنی بیٹی کو لیکر آئی تھی ۔ اس نو عمر لڑکی کا منہ جل گیا تھا اور اسے فوری طبی امداد کی اشد ضرورت تھی ۔ مگر ہسپتال بند ہونے کی وجہ سے اسے فوری امداد نہ ملنے کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہو نے لگی تھی ۔ بوڑھی ماں نے منتیں سماجتیں کیں مگر اسفند اور اس کے دوستوں نے کوئی رحم نہ کھایا۔ اتنے میں نو عمر لڑکی بے ہوش کر فرش پہ ڈھے گئی ساتھ ماں کی حالت بھی جواب دے گئی اور وہ بھی ساتھ ہی گر گئی ۔ ظالموں کو پھر بھی ترس نہ آیا ۔
سارے ڈاکٹرز مل بیٹھ کر کینٹین میں سموسے اور بوتلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہ آج کی ہڑتال پہ بے حد خوش تھے میڈیا نے بھی ان کی ہڑتال کو بہترین طریقے سے نمایاں طور پر پیش کیا تھا ۔
اسی اثناء میں اسفند کے موبائل کی گھنٹی بجی ، گھر سے اطلاع آئی بیٹے نے سیٹی منہ میں ڈال لی ہے اور وہ اس کے گلے میں پھنس گئی ہے جس سے سانس اکھڑ اکھڑ کے آ رہا ہے آپ جلد سے جلد گھر آئیں ۔
یہ سنتے ہی اسفند کے ہاتھ پیر پھول گئے اور الٹے قدموں کیساتھ گھر پہنچا ۔ جب گھر پہنچا تو اس وقت اسفند کے بیٹے کی حالت بہت پتلی ہو چکی تھی ۔اسے جلدی سے گاڑی میں لٹایا اور تیز رفتاری کیساتھ ہسپتال کی طرف گاڑی بھگانے لگا ۔
ہسپتال تو سارے شہر کے بند تھے وہ ایک ایک سے ہاتھ جوڑ کر اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا مگر کسی پر کوئی رحم کا جذبہ بیدا ر نہ ہوا ۔ اس نے اپنا سروس کارڈ دکھایا اپنا تعارف کرایا مگر کسی نے بھی اس کے بیٹے کو چیک کرنا گوارا نہ کیا اور کہا سوری دوست آج ہم سب ہڑتال پہ ہیںاس وقت ہسپتال میں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں۔
دھیرے دھیرے ا س کے بیٹے کی حالت غیر سے غیر ہوتی چلی جا رہی تھی ۔
وہ اپنے بیٹے کو لیکر اندھا دھند گاڑی چلا کر اس ہسپتال میں لے آیا جہاں وہ ملازمت کر رہا تھا۔ یہاں پہنچ کر اس نے باری باری اپنے سب دوستوں کو فون پر طلاع دی: ایمرجنسی ہے ، بچے کی حالت غیر ہو چکی ہے تم سب جلدی آئو تاکہ اس کا آپریشن کر کے اس کے گلے سے سیٹی نکالی جائے ۔
مگر دوستوں نے آنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا سوری یار ہم اس وقت ایک اچھی سی فلم دیکھنے جا رہے ہیں اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم ہڑتال پہ ہیں اور جب تک سرکار ہمارے سارے مطالبات تسلیم نہیں کر لیتی ہم کام پر نہیں آئیں گے ۔
کچھ ہی دیر بعد اس کے بیٹے نے ہسپتال کے بر آمدے میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی۔ اس کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب اس نے بوڑھی ماں کی نو عمر بیٹی کا علاج معالجہ کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔
مطالبات ابھی بھی پورے نہیں ہوئے تھے اور شیطنت اپنے جوبن پر تھی اور پھر اسفند چکرا کر وہیں فرش پہ ڈھے گیا ۔
Comments
Post a Comment