بمبئ سے جی ایچ کیوتک


سلسلہ نمبر 2
بمبئ سے جی ایچ کیوتک

میجرجنرل ابوبکرعثمان مٹھاوہ عظیم شخصیت ہیں جن کاتذکرہ کئے بغیرہماری عسکری تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی.
ویسے تو جنرل مٹھاکی تمام تر فوجی خدمات ہماراقومی وقاراورفخرہیں تاہم ان کاسب سے بڑااورتاریخ سازکارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے SSG  کی صورت میں پاک فوج کے ایک نہایت اہم ترین گوریلا لڑاکاگروپ کی بنیادرکھی. آپ SSG کے سب سے پہلے کمانڈنگ آفیسرتھے.
جنرل مِٹھا 1923 ء میں بمبئ کے ایک میمن گھرانے میں پیداہوے. 1942ء میں انڈین ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور 1947 ء میں پاکستان آگئے.
زیرنظرکتاب"بمبئ سے جی ایچ کیوتک" جنرل مِٹھاکی خودنوشت سوانح ہے اور یہ زیادہ ترعسکری یادداشتوں پرمشتمل ہے. انہوں نے یہ کتاب انگریزی زبان میں
 Fallacies and Realities
کے عنوان سےقلمبندکی  جس کااردوترجمہ کرنل غلام جیلانی خان نے کیا.کرنل جیلانی نے جس مہارت اورذوق کے ساتھ اردوترجمہ کیاوہ بلاشبہ انہی کا خاصہ ہے.دراصل جیلانی صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف اردواورانگریزی زبانوں پر کامل دسترس رکھتے ہیں بلکہ وہ خود عسکری ماحول کاحصہ بھی رہے ہیں,پھران کے مطالعہ کامیدان بھی بے حدوسیع ہےاور عسکری علوم میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں.
اپنی یادداشتوں میں SSG کے حوالے سے جنرل مِٹھالکھتے ہیں کہ اس کی تشکیل میں جنرل ایوب اور یحییٰ خان کی دلچسپی بہت زیادہ رہی,اگریہ لوگ نہ ہوتے توSSG کے باب میں جوکامیابیاں ہم نے حاصل کیں وہ کبھی ممکن نہ تھیں. وہ ہرمشکل اور ہرمسئلے کی تہہ میں جلداترجاتے اور اس سے وابستہ تمام مسائل کاادراک کرلیتے.
جنرل  مٹھاکہتے ہیں کہ 1958 ء میں جس وقت مارشل لاء کااعلان ہوااورجنرل ایوب و یحییٰ نے رابطہ کیاتومیں نے انہیں فوراً جواب دیاکہ SSG کومارشل لاء اور دیگرسیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیاجاے.انہوں نے میری بات سے فوری اتفاق کیا.حالانکہ ایک کرنل کو صدراورچیف آف آرمی سٹاف کویوں جواب دیناکوئ معمولی بات نہ تھی. جب چند روز بعد  جنرل ایوب اور یحییٰ ہماری سالانہ ایکسرسایزدیکھنے آے توایوب نے کہا, مٹِھا! تم مزید کتناعرصہ ایس ایس جی میں رہناچاہتے ہو? میں نے جواب دیاکہ اس سے بہتر میرے لئے کوئ اورجگہ نہیں ہوسکتی.جنرل ایوب نے فوراً اپنے اے ڈی سی سے کہا کہ بس" ابوبکر مِٹھا SSG میں ہی رہے گا".  جنرل مِٹھاکہتے ہیں کہ میں حیران رہ گیاکہ یہ بات انہوں نے اس واقعہ کے صرف تین ہفتے بعد کہی جب میں نے ان کا حکم ماننے سے صاف انکارکردیاتھا.
جنرل ابوبکرعثمان مِٹھاکی اس تاریخ ساز خودنوشت کا لفظ لفظ پڑھنے سے تعلق رکھتاہے. بلاشبہ یہ کتاب ہماری قومی اور عسکری تاریخ کازرتاب باب بھی ہے.سات سوصفحات پرمشتمل یہ کتاب' دوست پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کی.
عبدالستاراعوان

Comments