دریائے کنہار ہوا ہمارا ہم سفر! (سفرنامہ افلاطون 10




دریائے کنہار ہوا ہمارا ہم سفر! (سفرنامہ افلاطون 10)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وین تیز رفتاری سے اونچے نیچے… دشوار گزار مگر نہایت خوبصورت راستے پر دوڑے جا رہی تھی… ہم نے نوٹ کیا کہ لینڈ اسکیپ تیزی سے اپنا رنگ ڈھنگ بدل رہا ہے… پہاڑ اب زیادہ اونچے… زیادہ سرسبز دکھائی دینے لگے تھے… شاید آدھا گھنٹہ بمشکل گزرا تھا کہ خوشنما مناظر میں اچانک ایک سحرانگیز اضافہ ہوا…گاڑی کے ایک موڑ مڑتے ہی ہمارے دائیں طرف نیچے گہرائی میں ایک شور مچاتا سفید جھاگ اڑاتا دریا منظر میں ایڈ ہو گیا… اور گویا آس پاس کے تمام مناظر کو پیچھے دھکیل کر سب پر حاوی ہو گیا…یہ دریائے کنہار تھا!
کنہار…اپنی خاص اداؤں کی وجہ سے پاکستان کا اک البیلا دریا… جس کا منبع ناران سے گھنٹہ بھر کی مسافت پر واقع ایک خوبصورت جھیل لولوسر ہے… وہاں سے یہ چلبلا بھاگتے دوڑتے، جھیل سیف الملوک اور وادی کاغان کے ندی نالوں و چشموں کا پانی سمیٹتا ہوا آزاد کشمیر میں داخل ہو کر دریائے جہلم سے گلے جا ملتا ہے!
’’یہ ہے دریائے کنہار… اب یہ ناران تک ہمارا ہم سفر رہے گا… اس حسین ہم سفر سے دوستی لگا لو تو یہ تحفے میں اپنی مشہور سوغات ٹراؤٹ مچھلی کھلاتا ہے …‘‘
ہم نے مچھلیوں کی دلدادہ مچھلی مم مطلب تصور سمیع سے سرگوشی کی۔ 😄
’’ارے واہ… کیوں نہیں… کچھ خاص ہے کیا؟‘‘
’‘ ہاں بھئی… دنیا بھر میں مشہور ہے یہاں کی ٹراؤٹ… بشرطیکہ تازہ مل جائے… مہنگی بھی بہت ہے۔‘‘
’’چلو ضرور چکھیں گے…‘‘
کنہار بہت نیچے بہہ رہا تھا… مگر اس غصیلے سفید ناگ کی پھنکار ہم تک بخوبی پہنچ رہی تھی…اس غصہ ور کو مگر نظر بھر کر دیکھنے سے روح میں تازگی کی ایک لہر دوڑ رہی تھی…
ہماری اس سے پرانی واقفیت تھی… اس وقت جب ہم نے جوانی کی سرحد پر قدم رکھا ہی تھا… 99 میں ہم چار اسکول کے دوست کنہار سے مصافحہ کرنے یہاں آئے تھے… یہ الگ بات ہے کہ ایک موقعے پر کنہار نے مصافحہ سے آگے بڑھ کر ہمیں اپنی آغوش میں سما لینا چاہا تھا… بس اللہ نے بچا لیا تھا… خیر یہ قصہ پھر کبھی…
ہم تینوں نیو بالا کوٹ سے بالاکوٹ کے اس مختصر سفر میں خاموش ہی رہے… بس ہماری آنکھیں ہی بولتی رہیں ، آنکھیں ہی سنتی رہیں…
اب شہر کے آثار نظر آنے لگے تھے… ہم نے ڈرائیور کو اڈے پر اتارنے کا کہہ دیا تھا… پیاس محسوس ہو رہی تھی…غور کیا تو احساس ہوا کہ آج دھوپ بہت تیز ہے، نتیجتاً گرمی بھی بہت زیادہ ہے… گاڑی اڈے پر پہنچ چکی تھی… ہم نے بالا کوٹ کی تاریخی زمین پر قدم رکھا اور پھپھڑوں میں تروتازہ ہوا بھرنے کو ایک گہری سانس لی…
سوا ایک ہو گئے تھے… ہمیں سب سے پہلے نماز کی فکر ہوئی… دیکھا تو اڈے پر ہی ایک مسجد غرباء اہل حدیث کی تھی…سیڑھیاں چڑھے، وضو کیا اور مسجد کے ہال میں نماز کا وقت دیکھا تو معلوم ہوا کہ ابھی جماعت میں بیس منٹ ہیں… ہم نے اپنی قصر نماز پڑھی اور نیچے آ گئے۔
بالاکوٹ میں ہمارا قیام نہیں تھا، وہ تو گزر گاہ تھی… البتہ بالاکوٹ میں ہمیں شہداء کی قبور پر ضرور جانا تھا… ہم نے میٹرک میں حضرت علی میاں رحمہ اللہ کی کتاب دعوت و عزیمت کے کچھ حصے پڑھے تھے، تب سے ہی بالاکوٹ کا نام سنتے ہی شہدائے بالاکوٹ کا خیال ذہن میں ضرور آ جاتا تھا۔ 99 میں حضرت سید شہید رحمہ اللہ کی قبر کی زیارت تو ہم نے کی تھی مگر حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے مزار کو نہیں دیکھ سکے تھے۔
ہم تینوں نے مشورہ کیا اور ایک کار والے سے بات کر کے، ڈبہ بند جوس سے پیاس بجھاتے ہوئے اس کی چھمیا میں بیٹھ گئے۔
مہران نامی یہ چھمیا کافی بوڑھی ہو گئی تھی اور خستہ حال بھی… مگر ابھی بھی پوری تندہی سے اپنے مالک کا پیٹ بھر رہی تھی…اس نے یوٹرن لیا اور چل پڑی… ڈرائیور اسے چابک رسید کرتا رہا اور چھمیا ہانپتے کانپتے ایک پہاڑ پر جانے والے ٹوٹے پھوٹے پتھریلے راستے پر اوپر ہی اوپر چڑھتی رہی…
کچھ دیر بعد ایک موڑ پر تبلیغی مرکز بالاکوٹ کا بورڈ لگا ہوا نظر آیا… تبلیغی مرکز سے بس کچھ ہی دور شاہ صاحب کی قبر کا احاطہ تھا… احاطے کے پاس گاڑی رکی تو دل و دماغ پرایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی… حضرت شہید کی زندگی، ان کی تصانیف، جہاد اور شہادت… سب کچھ ذہن میں تازہ ہو گیا۔
ہم تینوں احاطے میں داخل ہوئے… ایک طرف دیوار میں ایک بڑا سنگ مرمر لگا ہوا تھا، جس پر شاہ صاحب کی زندگی کے احوال درج تھے… ہم اس طرف بڑھے تو سنگ مرمر کے نیچے ہی حضرت کی قبر مبارک تھی… بالکل سادہ اور کچی… ایک بہت پرانا سا کتبہ سرہانے نصب تھا جس پر حضرت کا نام اور تاریخ شہادت لکھی ہوئی تھی…
ہمیں ماحول میں قبرستان کی سی افسردگی اور اداسی ذرا بھی محسوس نہ ہوئی… بلکہ اک عجیب خوشگواری اور فرحت کے احساس نے روح کو چھو لیا…ہم مودب کھڑے زیر لب فاتحہ خوانی کرتے رہے… دعا کی، ایک دو تصویریں لیں اور باہر آ گئے۔
گاڑی واپسی کے لیے مڑ گئی۔ راستے میں ایسے ہی بات برائے بات، ڈرائیور صاحب سے ناران جانے کی ترتیب اور کرایہ کیا پوچھ لیا… کہ اس نے تو فورا ہی ہم پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے…اس کی چاہت تھی کہ اسی چھمیا میں اس کے ساتھ ناران جایا جائے…
بقول اس کے وہ ہمیں دوسروں سے بہت کم کرائے پر لے جائے گا… مگر جو کرایہ اس نے بتایا، اتنے پیسوں میں ہم تین افراد طعام و قیام سمیت ہمہ قسم مزوں کے، ناران میں دو دن ایک رات گزار کر واپس مانسہرہ بھی پہنچ گئے تھے…
خیر ہم نے اسے فورا مایوس کرنا مناسب نہیں سمجھا… اور ’’دیکھتے ہیں‘‘ کی گولی دیتے ہوئے اس کا وزیٹنگ کارڈ مانگ لیا…
واپسی نسبتاً تیزی سے ہوئی… کچھ ہی دیر میں ہم اڈے پر پہنچ گئے… چھمیا سے اترنے تک ہمارا پرائیوٹ جیپ وغیرہ کا ارادہ ختم ہو چکا تھا… سو تصور اور بلال پبلک ٹرانسپورٹ کا معلوم کرنے چلے گئے…
ہم وہیں ایک طرف کھڑے اڈے پر گاڑیوں، ڈرائیوروں اور مسافروں کو دیکھتے رہے…ہم نے سفرنامے کی دوسری قسط میں اسٹیشن کی منظرکشی کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ تمام اسٹیشن ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، یہ قول ملک بھر کے تمام لاری اڈوں پر بھی صادق آتا ہے… تمام لاری اڈوں کے مناظر بھی یکساں ہی ہوتے ہیں… ایک سی ہلچل اور نفسا نفسی، مسافروں کا ایک سا حلیہ اوردھینگا مشتی… گاڑیوں کے سمع خراش ہارن، سستی اور گھٹیا اشیائے خورونوش بیچنے والوں کی آوازیں اور کنڈکٹروں کے بلاوے…
ابھی ہم مزید دانشوری پکاتے کہ بلال میاں آتے نظر آئے…
وہ اکیلے ہی تھے… ہمیں تصور کے بلاخیز حسن اور خیبرپختون خوا میں اس کی موجودگی کا خیال آ کر برے برے اندیشوں نے گھیر لیا… 😱
بلال نے پاس آ کر یہ بتا کر مگر ہمارے سارے اندیشوں کا ستیا ناس کر دیا کہ ایک ہائی ایس دس منٹ میں ناران کے لیے نکل رہی ہے، اس میں سیٹ بک کروا لی ہیں، چلیے…
ہم بیگ سنبھالے چل پڑے… گاڑی کے قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ تصورہ نے ایک بار پھر اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے کنڈکٹر سے کہہ کر آخری سیٹس بک کروا لی ہیں…یہ دیکھ کر ہم نے زیر لب نہیں بلکہ’’زبر لب‘‘ اسے صلواتیں سنائیں… اسے کہا کہ اپنی پسند نہیں بلکہ دوسرے ساتھیوں کی راحت کا خیال رکھنا، سفر کا سب سے پہلا اور بنیادی اصول ہے…
بچہ سعادت مند ہے… سو سر نیہوڑائے بے چارہ چوں چاں کرتا رہا… ہم نے بہرحال ہلکا ہی ہاتھ رکھا… اور کنڈکٹر کی طرف متوجہ ہو گئے… کچھ کوشش کرنے پر شکر ہے کہ درمیان کی سیٹوں میں جگہ مل ہی گئی… کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بلال جا بیٹھا… درمیان میں تصورسمیع اور دروازے کی طرف ہم براجمان ہوئے…
ہم بلال اور تصور کی بانسبت جس سیٹ پر بیٹھے تھے، اس میں بے شک یہ جھنجھٹ ضرور تھی کہ پچھلی سیٹوں کے مسافر اترتے چڑھتے تو ہمیں بار بار سیٹ سے اتر کر انہیں جگہ دینی پڑتی مگر…اس تین گھنٹے کے نہایت حسین سفر سے اچھی طرح لطف اندوز ہونے کے لیے ہمیں ہر مشقت گوارا تھی… وہ اس لیے کہ سڑک کے بائیں طرف ہی گہری کھائی… کھائی میں اپنی پوری حشرسامانی کے ساتھ شور مچاتا دریائے کنہار… اور کنہار کے دوسری طرف آسمان سے باتیں کرتے انتہائی خوبصورت پہاڑوں کے دیدہ زیب مناظر پھیلے ہوئے تھے…
کچھ ہی دیر میں وین چل پڑی… اور ہم نے گویا ایک طلسم کدے میں اپنا پہلا قدم رکھ دیا… یہاں سے مناظر کا مقابلہ حسن شروع ہو جاتا ہے… تیزرفتاری سے دوڑتی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایک کے بعد ایک خوبصورت منظر آپ کی نگاہوں کی گرفت میں آتا ہے اور ابھی آپ اس کو پلکوں سے تھام کر نینوں کے رستے صحیح طرح دل میں اتار بھی نہیں پاتے کہ اگلا منظر آ دھمکتا ہے… (جاری ہے)

Comments