ہم پہنچے وادئ باران... سفر نامہ افلاطون 11




ہم پہنچے وادی ناران! (سفرنامہ افلاطون 11)
محمد فیصل شہزاد
مدیر بچوں اور خواتین کا اسلام

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہاڑ بلند سے بلند تر ہو رہے تھے… اور ہر گزرتے لمحے دریائے کنہار کا جوش تھا کہ زیادہ نظر آتا تھا… دراصل ہم دریا کے بڑھاپے سے اس کی جوانی کی طرف گویا الٹا سفر کر رہے تھے… اور جوانی کا جوش تو معروف ہی ہے… نہایت تنگ دامن اس نالے نما دریا کی غضب ناکی اور جوش و خروش دیکھنے کے لائق ہے… اپنی شوریدہ سر جھاگ اڑاتی لہروں سے بڑی بڑی چٹانوں کو زیر و زبر کرتے اس دریا میں گرنے کا تصور ہی روح کو لرزا دیتا ہے… یہی سوچتے ہوئے ہمیں اچانک تین سال پہلے اپنے کراچی کے ایک استاد اور طالب علم کے اس دریا میں ڈوبنے کا سانحہ یاد آ گیا۔
کراچی جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب نصر اللہ شجیع اسکول کے طلبہ کا گروپ لے کر بالا کوٹ آئے تھے… تب ایک طالب علم دریائے کنہار کے کنارے ایک پتھر سے پھسل گیا تھا… نصرا للہ شجیع نے کمال شجاعت دکھائی اور اپنے طالب علم کو بچانے کے لیے ایک لمحہ نہ سوچا اور دریا میں چھلانگ لگا دی… بس پھر کیا تھا، اپنے طالب علم کے ساتھ ہی جنت مکانی ہو گئے…رحمۃ اللہ علیہ!
یہ دلخراش واقعہ یاد آ کر ہمارا دل اداس ہو گیا… ہم نے زیرلب شجیع شہید کو ایصال ثواب کیا اور سر جھٹک کر بلال کے کلکس دیکھنے لگے… جو وہ اپنے مانگے کے لائے ہوئے کیمرے سے دھڑا دھڑ لیے جا رہا تھا۔
ادھر تصورکرچ کرچ ’کرلیز‘ پاپڑ نگلے جا رہا تھا… ہم کیوں پیچھے رہتے… سو ہمیں اور کچھ نہ سوجھا تو چھالیہ ہی کٹ کٹ چبانا شروع کر دی!
ہمارے پیچھے والی سیٹ پر بھی ایک فیملی تھی… جو غالباً ہماری ہی طرح سیر کے لیے ناران جا رہی تھی… دو مرد تھے، ان کی دلہنیں تھیں اور دلہنوں کی گود میں چھوٹے بچے تھے… اگلی سیٹ پر بھی ایک فیملی تھی… ایک باپ اور بیٹی مگروہ لوگ مقامی تھے… شاید بالا کوٹ سے خریداری کے بعد اپنے گھر کو لوٹ رہے تھے… ہمیں بھی اپنے بچے یاد آ گئے …
’’ان شاء اللہ اگلی بار بیگم بچوں کے ساتھ آئیں گے…‘‘
ہم دل ہی دل میں عزم کر رہے تھے کہ اچانک کچھ سریلی چیخوں نے ہماری سماعتوں کو پوری شدت سے اپنی طرف متوجہ کر لیا… چیخیں اگر سریلی ہوں تو آدمی پورا کا پورا کان بن جاتا ہے یعنی ہمہ تن گوش… ہم تین مسافر تو ان سریلی چیخوں کا منبع دیکھنے کے لیے آن واحد میں ہمہ تن آنکھ بن گئے… 😉
وہ ایک بڑی سی آبشار تھی… جو اچانک گاڑی کے ایک موڑ مڑتے ہی سامنے آ گئی تھی… ہمارے دائیں طرف موجود پہاڑ کے کہیں بہت اوپر سے اس بڑی آبشار کا تیز رفتار پانی سڑک کے ایک بڑے حصے سے ہوتا ہوا نیچے کنہار میں جا گر رہا تھا…
سوداگروں نے یہاں ایک ریسٹورنٹ بنا لیا تھا… اور اپنی میز کرسیاں عین پانی پر لگا کر ہمہ قسم سودا مسافروں کو بیچ رہے تھے… مسرت بھری سریلی آوازیں وہیں سے فضا میں پھوٹ رہی تھیں!
ہماری گاڑی قریب ہوئی تو آوازوں کا "منبع" دیکھ کر کافی مایوسی ہوئی… سو ہم نے ’بدنظری‘ سے بچنے کے لیے نگاہیں جھکا لیں۔ 😁
ہماری گاڑی زن سے اس جگہ سے آگے نکل گئی… یہ مقام کیوائی میں ہے۔
کافی دیر بعد آبادی کے آثار محسوس ہونے لگے… ایک سنگ میل پر"مہانڈری" لکھا نظر آیا… کچھ دیر بعد ہی دکانیں، اسٹال اور ریسٹورنٹ نظر آنے لگے… ڈرائیور نے دس منٹ کا یہاں اسٹاپ کیا تھا… باقی مسافر کمر جب کہ ہم ٹانگیں سیدھی کرنے وین سے باہر آ گئے۔
سڑک کے دونوں جانب ریسٹورنٹ والوں نے مسافروں کو لبھانے کے لیے سب سے زیادہ ٹراؤٹ کی مشہوری کر رکھی تھی…جگہ جگہ لگے بورڈ اور فضا میں بھنی ہوئی ٹراؤٹ کی اشتہا انگیز خوشبو… مگر نہ یہاں گاڑی کا اسٹاپ زیادہ تھا اور نہ ہمارا پروگرام یہاں کچھ کھانے کا تھا…
بلال تو چھوٹی انگلی دکھا کر کہیں غائب ہو گیا تھا… تصور اور میں، ہم دونوں سڑک کنارے پڑے پتھروں پر بیٹھ گئے… سڑک کے بالکل ساتھ ڈھلوان تھی جو دریا تک گہرائی میں جا رہی تھی… ڈھلوان پر اونچے اونچے درخت کنہار کے کنارے تک یوں سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے بادشاہ کے جاہ وحشم بڑھانے کے لیے سپاہی اس کو چاروں جانب سے گھیرے رہتے ہیں…
تصورہ پر گویا جادو اثر اس منظر نے سحر سا طاری کر دیا ہو… اس پر آمد ہونے لگی… شعر اترنے لگے… وہ موبائل پر انہیں منتقل کرنے لگا… ہم مگر گم سم سے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے، بس ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہے… حسن جب بے پناہ ہو تو ہماری آنکھیں جانے کیوں بھیگنے لگتی ہیں… طلوع آفتاب ہو یا غروب کا سحر آگیں منظر… کسی کھلے میدان یا چھت پر جب کبھی یہ منظر ڈوب کر دیکھ لیا تو آنکھیں بے وجہ برسنے لگتی ہیں… اس وقت بھی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی…
اسی وقت وین کے ہارن نے چونکا دیا… کافی وقت ہو گیا تھا بلال نہیں آیا تھا… کہیں کم بخت ہمیں ایک نمبر کا اشارہ کر کے دو نمبر تو نہیں نمٹا رہا تھا؟… فریبی کہیں کا! 😕
ہم دونوں ابھی کھڑے ہی ہوئے تھے کہ وہ دور سے آتا دکھائی دیا۔
اس پر ہم دونوں نے کچھ جملہ بازی کی اور اپنی اپنی سیٹوں پر آ بیٹھے… وین چل پڑی اور دائیں بائیں کے مناظر تیزی سے پیچھے کو بھاگنے لگے…
شاید آدھ پون گھنٹہ گزرا تھا کہ اچانک دریا کے کنارے بہت سارے سرکاری لباس میں نامعلوم محکمے کے افراد نظر آنے لگے… سر پر ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس ایسے آلات نظر آ رہے تھے جیسے مہندس کے پاس ہوتے ہیں…
ہمیں تجسس ہوا تو اپنے سے آگے بیٹھے مقامی سے پوچھ بیٹھے… وہ تو گویا کسی سے باتیں کرنے کے لیے بے تاب تھا… اس نے جو تفصیل گوش گزار کی… اس سے معلوم ہوا کہ اس مقام پہ دریا پر پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت بجلی کے منصوبے پر تعمیراتی کام جاری ہے… دریا پر ڈیم بنایا جانا تھا… اسی وجہ سے کچھ ماہ میں اس سڑک کے تقریباً چار کلومیٹر حصے کو بند کر دیا جاتا اور دوسرا متبادل راستہ فراہم کر دیا جاتا! (بعد میں ناران پہنچ کر مزید تفصیل معلوم ہوئی کہ پن بجلی کا یہ بڑا منصوبہ سکی کیناری مقام پر ہے جو سی پیک کے تحت تقریباً دو ارب ڈالر کی لاگت سے 2022ء تک مکمل ہو جائے گا… اور اس منصوبے کی تکمیل سے آٹھ سو ستر میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔)
کچھ دیر بعد وہ مقامی باپ بیٹی اتر گئے… تصور، بلال اور ہم آنے والے پروگرام پر بات کرنے لگے… اچانک بلال کو جیسے کچھ یاد آ گیا…چونک کر بولا:
’’فیصل بھائی! مرتضیٰ بھائی نے کہا تھا کہ جھیل سیف الملوک کا منبع ضرور دیکھنا…‘‘
’’منبع…!؟‘‘
ہم دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ہاں… وہی نا جہاں سے جھیل شروع ہوتی ہے…‘‘
’’ارے پگلے!… دریاؤں کے منبع ہوا کرتے ہیں… جیسا کہ دریائے کنہار کا اصل منبع جھیل لولو سر ہے… اور اکثر دریاؤں کے منبع جھیل ہیں… مگر خود جھیل کا منبع تو زمین کا پیٹ ہوتا ہے… البتہ آس پاس کے ندی نالے ہو سکتا ہے کہ جھیل میں آ کر گرتے ہوں مگر وہ منبع نہیں کہلائیں گے…‘‘
مگر اس نے ایک نہ سنی… اس وقت کے بعد سے اگلے دن تک منبع ہی اس کا تکیہ کلام رہا… ہم نے لفظ منبع سے پھر اسے بہت چھیڑا… 😀
سنگ میل بتا رہے تھے کہ ناران تیزی سے قریب ہو رہا تھا… ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی… کم و بیش 18 سال پہلے اس وادی میں آنا ہوا تھا… اس وقت کی کئی حسین یادیں ذہن میں اس وادی کے ساتھ وابستہ تھیں…
چند ہی منٹوں میں ناران کے آثار نظر آنے لگے… گرچہ سنگ میل پرناران ابھی بھی 5 کلومیٹر دور تھا… مگر شہر والے وادی سے ابل ابل کر کئی میل پہلے سڑک پر بہت آ پڑے تھے…
بہت جلد ہماری وین رائیونڈ اجتماع میں داخل ہو گئی…!!!
جی ہاں! اچانک یوں لگا جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر ہمیں پہاڑ و دریا سمیت وادی کاغان سے رائیونڈ اجتماع گاہ کے قریب پہنچا دیا تھا!
وہی دور دور تک سڑک پر ہارن بجاتی گاڑیوں کا رش اور دونوں اطراف خیمے… خیموں میں عارضی چھوٹے چھوٹے ہوٹل… کہیں چپلی کباب تلے جا رہے ہیں… کہیں چائے باقر خانی سرو کی جا رہی ہے… ایک انبوہ کثیر تھا… جو ان خیموں میں، سڑک پر… گاڑیوں پر امڈ آیا تھا…
خیموں کی پوری بستی قائم تھی… سڑک پر پلاسٹک کی تھیلیاں اڑتی پھر رہی تھیں…ہماری حیرت سے آنکھیں کھل گئی تھیں… یہ وہ ناران تو نہیں تھا جو ہماری یادوں میں کہیں بس رہا تھا…ہم نے گردن گھما کر دریا کو دیکھا…
وہ جس کا جاہ و جلال پیچھے کسی کو نظر بھر کر دیکھنے نہیں دیتا تھا… یہاں سہما سہما سا خاموشی سے بہہ رہا تھا… اس کے کنارے لوگ برتن دھو رہے تھے… گاڑیاں دھو رہے تھے… ڈیزل، تیل اور سالن کی باقیات اس کے شفاف چمکدار پانیوں کو آلودہ اور چکنا کر رہی تھیں… ہر طرح سے اس کا اپمان ہو رہا تھا…
ہم نے کنہار کو ترس بھری نگاہ سے دیکھا اور اس نے ہمیں شاکی نگاہ سے… ہم نے نگاہیں چرا لیں… اور کرتے بھی بھلا کیا؟! 😣 (جاری ہے 

Comments