نیلا خیمہ، کالی رات اور پررونق بازار! (سفرنامہ افلاطون 12) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭








نیلا خیمہ، کالی رات اور پررونق بازار! (سفرنامہ افلاطون 12)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم ناران کے اصل بازار سے کافی پہلے وین سے اتار دیے گئے تھے… تقریباً ایک کلومیٹر پہلے… مگر یہاں بھی قدم قدم پر ایک بازار سجا ہوا تھا… ہم نے بلال کو سامان کے پاس نگرانی کے لیے کھڑا کیا اور تصور کے ساتھ ناران میں اپنے قیام کے لیے ٹھکانہ ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے…
سڑک کے دونوں کناروں پر عارضی قیام گاہیں قائم کی گئی تھیں… ان میں ٹین کی چادروں والے چھوٹے چھوٹے عارضی کمرے بھی تھے… اور چھوٹی چھوٹی خیمہ بستیاں بھی دریا کنارے بسائی گئی تھیں… ہر چار یا پانچ خیموں کا ایک مالک تھا جس نے چار پانچ خیموں کے ساتھ بالکل اجتماع گاہ کی طرز پر دو عارضی ٹوائلٹ بنا کر گویا پیکج مکمل کر رکھا تھا…
ہماری متلاشی نگاہوں کو پہچان کر سب سے پہلے ایک ٹین کمرے والے نے ہمیں آواز دی۔
’’صاحب! کمرہ چاہیے… آؤ دیکھ لو، رعایت کے ساتھ بہت اچھا کمرہ ہے…‘‘
ہم سڑک سے اتر کر اس کی دکان کی طرف چل پڑے۔ اس نے بہت ساری چابیوں کے گچھے میں سے بمشکل ایک چابی ڈھونڈی اور تالا کھولا۔
چھوٹے سے مستطیل کمرے میں دو میلے سے بستر بچھے ہوئے تھے… ایک چھوٹی سی روشن دان ٹائپ کھڑکی دریا کی سمت کھل رہی تھی اور بس… ہم نے بتایا کہ ہم تین نفر ہیں…
’’کوئی بات نہیں صاحب! تیسرا بستر یہاں لگا دیں گے۔‘‘
اس نے جو تھوڑی سی جگہ پائنتی بچ رہی تھی، اس طرف اشارہ کیا۔
صاحب اور مادام کے قدموں میں رات بھر بلال پاشا کے لوٹتے رہنے کا خیال ہمیں کچھ ظلم سا لگا۔ 😎
تصور نے کرایہ دریافت کیا تو بولا۔’’ ابھی پچیس سو کرایہ چل رہا تھا۔ آپ پندرہ سو دینا۔‘‘
ہم نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے، ہم مزید جگہ دیکھ کر کچھ فیصلہ کریں گے۔‘‘
وہاں سے آگے بڑھے تو سڑک کے بائیں طرف کچھ خوبصورت ہٹ بنے نظر آئے۔ اندازا تھا کہ وہاں کرایہ زیادہ ہو گا، پھر بھی دیکھنے میں کیا حرج تھا… ہمارے پاس یہاں کام ہی کیا تھا، دیکھنے ہی تو آئے تھے … ایک لڑکے نے ہمیں کمرہ دکھایا۔ کافی بہتر حالت میں تھا، گرم پانی کی سہولت بھی تھی۔ کرایہ بھی مگر کافی "بہتر" تھا… تین ہزار روپے…!
ہم نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی اور چپکے سے پتلی گلی نکل لیے۔
اب ہم نے خیمہ والوں سے بات کرنے کا سوچا۔ سامنے ہی ایک تبلیغی حلیے والے صاحب واسکٹ پہنے کھڑے تھے… نظروں سے نظریں ملیں تو ان کے سرخ ہونٹوں پر پیاری سی مسکان سج گئی… ہمیں یہ مسکراہٹ کاروباری نہیں بلکہ خیرمقدمی محسوس ہوئی…
نجانے کیوں ہمیں وہ بندہ پہلی ہی نظر میں بہت اچھا لگا۔
اس کی طرف بڑھے تو اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ مصافحہ کر کے اس سے خیمے کی بابت پوچھا تو بڑی خوشدلی سے بولا:
’’ہاں ہاں ہے نا… آپ جیسے نیک لوگوں کے لیے ہی تو ہے۔‘‘
ہمارے ماتھے پر پسینہ آ گیا، وہ ہماری شرمندگی سے بے خبر ہمارا ہاتھ پکڑے دریا کی طرف چل پڑا۔
چند ہی قدم پر 5 نیلے خیمے ترتیب سے لگے ہوئے تھے جن کا رخ کنہار کی طرف تھا جو بمشکل بیس پچیس قدم پر آہستہ روی سے بہہ رہا تھا…
خیمے کی زپ کھول کر وہ ہمیں اندر لے آیا… اب شاید یہ آدمی کی نفسیات ہے کہ اسے کوئی اچھا لگ جائے تو اس سے وابستہ چیزیں بھی اچھی لگنے لگتی ہیں… سو ہمیں بھی وہ خیمہ پہلی نظر میں بھا گیا… خان صاحب کراچی میں کئی عرصہ گزار چکے تھے… ہمارے کراچوی ہونے کا سنا تو جذباتی سے ہو گئے… ہم نے لوہا گرم دیکھا تو فورا چوٹ مارنے کا سوچا۔’’خان صیب کرایہ کیا لو گے؟‘‘
’’ارے بھائی جو بھی ہو دے دینا۔‘‘
ہم نے اصرار کیا تو تو اس نے جو کہا، وہ سن کر یکبارگی تو ہم حیران ہی رہ گئے۔
ابھی تین دن پہلے عید کے سیزن کی وجہ سے اس خیمے کا ایک رات کا کرایہ دو ڈھائی ہزار روپے تھا، اب وہ صرف پانچ سو روپے کہہ رہا تھا… دو بستر لگے ہوئے تھے، تیسرے بستر کا آدھ گھنٹے میں بندوبست کرنے کا وعدہ کر لیا۔
اب ہم پانچ سو روپے سے کیا کم کرواتے… ہم جانتے تھے کہ دریائے کنہار کے خوبصورت پڑوس کا یہ وہ کم ترین نذرانہ تھا، جس سے کم تر کا تصور بھی محال تھا بلکہ… پانچ سو کا بے قدر نوٹ بھی ہمیں تو کنہار اور اس حسین وادی کی توہین ہی لگ رہا تھا۔
خیر ہم نے جھٹ کنفرم کر دیا۔ رواج کے مطابق ہوٹل کا وقت صبح 12 بجے ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلے دن کے پیسے چارج ہو جاتے ہیں، مگر خان صاحب نے یہ کہہ کر تو ہمارا گویا دل ہی جیت لیا کہ آپ چوبیس گھنٹے تک رک سکتے ہیں۔
بات فائنل ہونے کے بعد گرمجوشی سے ہم نے ایک دوسرے سے معانقہ کیا اور پھر باہر واش روم دیکھنے نکل گئے۔
خیموں کے ساتھ ہی دوعارضی واش روم قائم تھے۔ ساتھ ہی خان صاحب اور ان کے دونوں باریش ہنس مکھ ساتھیوں نے ایک بہت اچھا کام بھی کیا تھا۔ وہ یہ کہ انہوں نے اپنی جگہ پر ایک بڑا سا شامیانہ لگا کر مصلیٰ بھی قائم کیا ہوا تھا جہاں پانچوں وقت اذان کے ساتھ نماز باجماعت ہوا کرتی تھی۔
ہم بھاگ کر بلال کو بلا لائے۔ سامان رکھ کر ہم سب نے سب سے پہلے دریا کے چرن چھونے کا قصد کیا۔ ویسے بھی لوگوں کے ہجوم میں ان کے ہاتھوں پائمال ہوتا یہاں وہ ایک بے ضرر سی معصوم ندی دکھائی دے رہا تھا… ابھی اسے دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ یہی وہ ایک خون آشام حسین شہزادہ ہے، جو ہر سال کئی جانوں کی بھینٹ لیتا ہے۔
قریب گئے اور پاؤں پانی میں ڈالے تو فوراً باہر نکالنے پڑ گئے… بے پناہ ٹھنڈا… خون کو جما دینے والا پانی تھا…
دو تین بار پانی میں ہاتھ ڈالنے سے ٹھنڈک کم محسوس ہونے لگی تو ہم مناسب پتھر دیکھ کر بیٹھ گئے اور وضو کرنے لگے۔
 وضو کر کے یوں لگا جیسے بدن کے ساتھ دل کی کثافت بھی دھل گئی ہے… ایک پرسکون ٹھنڈک روح کے  اندر تک اترتی محسوس ہو رہی تھی۔
ہلکے پھلکے خوشگوار احساسات کے ساتھ مصلے تک پہنچے تو جماعت ہو چکی تھی۔ ہم نے عصر پڑھی، رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور بازار کی جانب چل پڑے۔
باہم چہلیں کرتے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہم تینوں پورے دل و دماغ کی حاضری کے ساتھ اس لمحہ موجود میں حاضر تھے… آس پاس بے شمار سیاح ہمارے سنگ سنگ اپنی اپنی خوش گپیوں میں مصروف چل رہے تھے…
ایک طرف پیش منظر تھا جس میں نقرئی قہقہے تھے، شوخ باتیں تھیں، قدم قدم پر سیلفیاں اور اٹھکیلیاں تھیں… تو دوسری طرف پس منظر میں ایک مخصوص دھن پر جلترنگ بجاتا دریا، دریا کے دوسرے کنارے پر گھنا جنگل اور فلک بوس پہاڑ تھے… 
بازار کی رونق عروج پر تھی… آنکھوں کو وادی ناران پر مری کا دھوکا ہو رہا تھا… وہی رونقیں، رش، شور، عمودی چڑھائی، مہنگی گاڑیاں اور جدید ملبوسات میں ناکافی ملبوس مرد وزن…
جدید ملبوسات کے زیادہ تر ڈیزائن بھی عجیب ہی ہوتے ہیں… مہنگا اور نفیس کپڑا لباس میں ادھر ادھر لٹکتا زیادہ ہے، چھپاتا کم ہے… ہم چھپانے کے لائق جگہوں سے نظریں چراتے بازار کی چڑھائی چڑھتے چلے گئے… حتی کہ بازار کے وسط میں پہنچ گئے۔
دکانیں ولایتی سامان سے بھری ہوئی ہمیں اشاروں سے اپنی طرف بلا رہی تھیں… نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ہمارے قدم سست پڑنے لگے… اور پھر وہی ہوا کہ ہم ان کے جھانسے میں آ گئے اور کچھ ونڈو شاپنگ کر ہی بیٹھے… ہم نے شرٹس لیں، کیپ لیے اور تولیہ لی…ریٹ ہمیں اپنے شہروں سے اچھے خاصے زیادہ محسوس ہوئے۔ بہرحال باہر نکلے تو سامنے والے تھڑے سے بھاپ اڑتی دیکھ کر چائے کا موڈ بن گیا… ماحول میں ہلکی سی خنکی تھی جو بتدریج بڑھ رہی تھی… مغرب کا وقت قریب ہی تھا۔
ہم چھوٹے سے ہوٹل میں جا بیٹھے۔ دو چائے میٹھی اور ایک پھیکی کا آرڈر دے کر بیٹھے تھے کہ اچانک آسمان پر مغرب میں موجود بلند چوٹیوں پر نظر پڑ گئی… چند ثانیوں کے لیے ہم دنگ رہ گئے…
زمین پر چلنے والوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ بہت اوپر چپکے چپکے سورج کی کرنیں، بادل، پہاڑاور برف مل کر ایک حسین کھیل کھیل رہی تھیں… ایک لازوال منظر تخلیق ہو رہا تھا…
دراصل شہنشاہ خاور کی آج کی حکومت کا زوال شروع ہو چکا تھا…
زوال کسی پر بھی آئے، بہت برا لگتا ہے… حسن پر زوال آئے تو جوانی میں چاند، بادل اور گلابوں کو شرماتی، ناظرین کے ہوش وحواس پر بجلی گراتی ملکہ حسن… بہت جلد ایک مکروہ صورت بڑھیا میں تبدیل ہوجاتی ہے… زوال حکومتوں پر آئے تو بڑے بڑے پر جلال شہنشاہ ، کسی چیونٹی کی طرح عاجز اور درماندہ نظر آنے لگتے ہیں مگر…
 آفتاب کا زوال اتنا خوبصورت منظر تخلیق کرتا ہے کہ اپنے طلوع اور عروج سے زیادہ دل موہ لینے والا ہوتا ہے… غروب آفتاب کا یہ منظر ہمیشہ سے ہمارے چند پسندیدہ ترین مناظر میں سے ایک رہا ہے… اور یہاں تو اف!
تیکھے نقوش والی یہ طرح دار چوٹیاں جانے کب سے سبز پوشاک پہنے اپنے چہرے پر چاندی جیسی برف کا پلو ڈالے منہ چھپائے کھڑی تھیں… ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں نے اول سفید روئی کے گالوں جیسے بادلوں کی مانگ میں افشاں بھری اور پھر یہ افشاں بادلوں سے چھن کر چوٹیوں تک پہنچی تو یوں لگا جیسے بیوائیں سہاگن بن گئی ہوں… سفید پلو اتار کر انہوں نے سنہری زرتار آنچل اوڑھ لیے ہوں…
ان پہاڑوں کے دامن کو پکڑ کر نیچے اترتا قدموں سے لپٹتا وادی میں اندھیرا پھیلنے لگا تھا مگران کے چہرے تھے کہ گویا مزید روشن ہو رہے تھے…
اس منظر کا حق تھا کہ اسے محفوظ کیا جاتا، سو ہم سب نے قدرت کے اس سحر پھونکتے منظر میں بڑی کاریگری سے اپنے آپ کو شامل کر کے اس کو "گہنایا" 😜 اور اپنے اپنے جدید کھلونوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔
چائے آ چکی تھی… جس میں خاص بات صرف یہ تھی کہ وہ کنہار کے پانی کو ابال کر بنائی گئی تھی…
چائے کے کپوں سے کھیلتے ہوئے ہمارا مشورہ ہوا کہ اذان ہوتے ہی سڑک پرہی قائم ناران کی مرکزی جامع مسجد میں نماز ادا کی جائے اور پھر کسی جگہ اچھا سا کھانا کھایا جائے… تا کہ جلد ہی خیمے کا رخ کیا جائے… سویرے ہمیں تازہ دم اٹھنا تھا… اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ صبح ہم پر کسی قسم کی کوئی کسلمندی طاری ہو… آخر کل ہی تو ہمیں ایک پرمشقت سفر کر کے اک حسن کی دیوی کے درشن کو جانا تھا…
دیوی نے اپنا سنگھاسن اس وادی سے بہت اوپر ایک طلسم کدے میں قائم کر رکھا تھا… جہاں بس اسی کا راج اسی کا سکہ چلتا تھا! (جاری ہے) 

Comments