سفرنامہ افلاطون (1)
٭٭٭٭٭٭٭
29جون بروز جمعرات… عید کا چوتھا دن اور… ہمارے سفر کا پہلا دن!
آج گھر میں چہل پہل معمول سے زیادہ تھی۔ ہمارے پندرہ روزہ سفر کی تیاری زوروں پر تھی۔ ہم نے بیگ تیار کر کے ایک طائرانہ نظر اس فہرست پر ڈالی جو ضروری سامان کے لیے بنائی گئی تھی۔ سب کچھ ہی تھا، بس لذت دہن کا سامان رکھا جانا باقی تھا۔
ادھر کام میں بظاہر مصروف فاخرہ بیگم کی آنکھیں ہماری جدائی کے تصور سے بار بار بھیگ رہی تھیں… چور نظروں سے ہم یہ سب تماشا دیکھ رہے تھے مگر ظاہر یہی کر رہے تھے کہ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ پچھلے بیس دنوں سے جاری ’ایموشنلی بلیک میلنگ‘ اب آخری دن آ کر صرف چپکے چپکے آنسو بہانے پر ہی رہ گئی تھی۔
ہمیں بیوی پر پیار پلس ترس تو بہت آیا مگر چوں کہ عزم مصمم کر چکے تھے، سو ان زنانہ ہتھکنڈوں سے بے نیاز کاندھے اچکائے، سفری بیگ اٹھائے ٹرین کے وقت سے سوا گھنٹہ قبل ہی گھر سے نکل پڑے…
پہلے مگر چند منٹ کے لیے دفتر جانا تھا۔ گرچہ پیشگی دو ہفتوں کا کام کرنے کے بعد ہی سفر پر نکلنے کی ہمت کر سکے تھے مگر… جاتے جاتے بھی چند دفتری کاموں میں ایسے الجھے کہ جب careem کال کی تو قراقرم ایکسپریس کے روانہ ہونے میں صرف چالیس منٹ رہ گئے تھے… یعنی تین بج کر بیس منٹ ہو چلے تھے۔
ادھر کریم والے بھائی ہماری لوکیشن پر پہنچنے کی بجائے ہماری گلی کے گرد گاڑی کو گویا طواف کرا رہے تھے… ہمارے پیٹ میں گھبراہٹ سے اینٹھن سی ہونے لگی۔ اتنی مشکل سے تو قراقرم میں برتھ ملی تھی۔ ٹرین نکل جاتی تو پیسہ تو ضائع ہوتا ہی، پھر اتنا لمبا سفرکوچ میں ہی کرنا پڑتا!
آخر ڈرائیور صاحب ٹھیک جگہ پہنچ ہی گئے۔ ہم سیٹ پر بعد میں بیٹھے، کینٹ اسٹیشن گاڑی اڑانے کی پہلے استدعا کر بیٹھے۔ اس نے ہمیں حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا:
’’بھائی جی کینٹ یہاں بغل میں تو ہے نہیں، راستہ بھی بہت جام ہوتا ہے، خیر کوشش کرتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ ابھی گاڑی نے رفتار پکڑی ہی تھی کہ گھر سے کال آ گئی۔
’’ارے کہاں ہیں آپ… کھانے کے ٹفن تو یہیں چبوترے پر بھول گئے ہیں۔ بچوں سے بھیج رہی ہوں۔‘‘
’’روکیے… ‘‘ہم چلا اٹھے۔
ایک جھٹکے سے گاڑی رک گئی۔
’’ایک منٹ بھائی … ابھی آیا!‘‘
ہم گاڑی سے تیزی سے اتر ے۔ ہم سب کچھ چھوڑ سکتے تھے حتی کہ قراقرم کو بھی… مگر اتنی محبت سے بنائے گئے قیمہ پراٹھے ہرگز نہیں چھوڑ سکتے تھے۔
سدیس اور ساریہ دور سے دوڑے چلے آ رہے تھے۔ ان سے ٹفن لیا، ایک بار پھر الوداع کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی۔
برسات ہو رہی تھی۔ کالی گھٹائیں اطراف سے جھوم جھوم کر اس طرح امڈی چلی آ رہی تھیں کہ دوپہر کے وقت مغرب کا سا گمان ہو رہا تھا۔ یکایک موسم اتنا خوبصورت ہو گیا تھاکہ دل بے ایمان ہونے لگا۔
’’چھوڑو … اتنی افراتفری میں جانے کا کیا فائدہ… دو چار دن بعد گرین لائن میں سیٹ مل رہی ہے، اسی میں عزت اور سکون سے چلے جائیں گے۔‘‘
ہم نے سر جھٹکا۔ اب یہ ممکن نہیں تھا۔ دور کہیں کوئی ہمارا انتظار کر رہا تھا۔
ٹریفک جام سے بچنے کے لیے صدر کا قریبی راستہ چھوڑ کر شاہراہ فیصل کو چنا گیا تھا، گاڑی سڑک پر بڑی سبک رفتار سے تیر رہی تھی مگر ہماری نظر گھڑی پر جمی ہوئی تھی جس کی سوئیاں اس سے زیادہ تیزی سے چار کے ہندسے کی طرف دوڑی چلی جا رہی تھیں۔ اب دل کو یقین ہونے لگا تھا کہ ہماری گاڑی چھوٹ ہی جائے گی۔
کینٹ اسٹیشن سے پانچ دس منٹ کی دوری پر تھے کہ چار بج گئے… اور ہمارے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم نے زیرلب کہا۔ کیوں کہ نان اسٹاپ گاڑیاں عموما اپنے وقت پر چل پڑتی ہیں۔ گاڑی کینٹ کے گیٹ پر پہنچی تو ہم نے بے دلی سے بیگ سنبھالا اور اتر گئے۔
ایک قلی سے پوچھا تو اس کے جملے نے بدن میں بجلی سی بھر دی۔
’’ابھی پلیٹ فارم پر ہے گاڑی…‘‘
ہم نے ایک بار پھر دوڑ لگا دی۔ سامنے گاڑی پورے طمطراق سے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر پھولی ہوئی سانسوں میں ڈھیر سارا اطمینان اتر آیا۔
اپنا ڈبہ ڈھونڈا اور اپنی مطلوبہ برتھ تک جا پہنچے۔ ہمارے حصے میں مختلف عمر کی چار خواتین اور ایک صاحب موجود تھے، ساتھ دو تین بچے بھی شور مچا رہے تھے۔
پانچوں بڑوں نے ہماری داڑھی اور حلیے کو بغور دیکھا اور ان کے چہروں پر الگ الگ تاثرات نقش ہو گئے۔
شاید ہمارا ہی انتظار تھا کہ پندرہ منٹ لیٹ گاڑی ہمارے بیٹھتے ہی وسل دے کر چل پڑی۔ ہم نے اطمینان سے سر سیٹ سے ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں اور سکون کا گہرا سانس لیا۔
اگلے دس پندرہ منٹ میں ہی ہم پر مگر ایک بھیانک انکشاف ہو چکا تھا…!!!
یااللہ خیر…! 😱
٭٭٭٭٭٭٭
29جون بروز جمعرات… عید کا چوتھا دن اور… ہمارے سفر کا پہلا دن!
آج گھر میں چہل پہل معمول سے زیادہ تھی۔ ہمارے پندرہ روزہ سفر کی تیاری زوروں پر تھی۔ ہم نے بیگ تیار کر کے ایک طائرانہ نظر اس فہرست پر ڈالی جو ضروری سامان کے لیے بنائی گئی تھی۔ سب کچھ ہی تھا، بس لذت دہن کا سامان رکھا جانا باقی تھا۔
ادھر کام میں بظاہر مصروف فاخرہ بیگم کی آنکھیں ہماری جدائی کے تصور سے بار بار بھیگ رہی تھیں… چور نظروں سے ہم یہ سب تماشا دیکھ رہے تھے مگر ظاہر یہی کر رہے تھے کہ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ پچھلے بیس دنوں سے جاری ’ایموشنلی بلیک میلنگ‘ اب آخری دن آ کر صرف چپکے چپکے آنسو بہانے پر ہی رہ گئی تھی۔
ہمیں بیوی پر پیار پلس ترس تو بہت آیا مگر چوں کہ عزم مصمم کر چکے تھے، سو ان زنانہ ہتھکنڈوں سے بے نیاز کاندھے اچکائے، سفری بیگ اٹھائے ٹرین کے وقت سے سوا گھنٹہ قبل ہی گھر سے نکل پڑے…
پہلے مگر چند منٹ کے لیے دفتر جانا تھا۔ گرچہ پیشگی دو ہفتوں کا کام کرنے کے بعد ہی سفر پر نکلنے کی ہمت کر سکے تھے مگر… جاتے جاتے بھی چند دفتری کاموں میں ایسے الجھے کہ جب careem کال کی تو قراقرم ایکسپریس کے روانہ ہونے میں صرف چالیس منٹ رہ گئے تھے… یعنی تین بج کر بیس منٹ ہو چلے تھے۔
ادھر کریم والے بھائی ہماری لوکیشن پر پہنچنے کی بجائے ہماری گلی کے گرد گاڑی کو گویا طواف کرا رہے تھے… ہمارے پیٹ میں گھبراہٹ سے اینٹھن سی ہونے لگی۔ اتنی مشکل سے تو قراقرم میں برتھ ملی تھی۔ ٹرین نکل جاتی تو پیسہ تو ضائع ہوتا ہی، پھر اتنا لمبا سفرکوچ میں ہی کرنا پڑتا!
آخر ڈرائیور صاحب ٹھیک جگہ پہنچ ہی گئے۔ ہم سیٹ پر بعد میں بیٹھے، کینٹ اسٹیشن گاڑی اڑانے کی پہلے استدعا کر بیٹھے۔ اس نے ہمیں حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا:
’’بھائی جی کینٹ یہاں بغل میں تو ہے نہیں، راستہ بھی بہت جام ہوتا ہے، خیر کوشش کرتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ ابھی گاڑی نے رفتار پکڑی ہی تھی کہ گھر سے کال آ گئی۔
’’ارے کہاں ہیں آپ… کھانے کے ٹفن تو یہیں چبوترے پر بھول گئے ہیں۔ بچوں سے بھیج رہی ہوں۔‘‘
’’روکیے… ‘‘ہم چلا اٹھے۔
ایک جھٹکے سے گاڑی رک گئی۔
’’ایک منٹ بھائی … ابھی آیا!‘‘
ہم گاڑی سے تیزی سے اتر ے۔ ہم سب کچھ چھوڑ سکتے تھے حتی کہ قراقرم کو بھی… مگر اتنی محبت سے بنائے گئے قیمہ پراٹھے ہرگز نہیں چھوڑ سکتے تھے۔
سدیس اور ساریہ دور سے دوڑے چلے آ رہے تھے۔ ان سے ٹفن لیا، ایک بار پھر الوداع کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی۔
برسات ہو رہی تھی۔ کالی گھٹائیں اطراف سے جھوم جھوم کر اس طرح امڈی چلی آ رہی تھیں کہ دوپہر کے وقت مغرب کا سا گمان ہو رہا تھا۔ یکایک موسم اتنا خوبصورت ہو گیا تھاکہ دل بے ایمان ہونے لگا۔
’’چھوڑو … اتنی افراتفری میں جانے کا کیا فائدہ… دو چار دن بعد گرین لائن میں سیٹ مل رہی ہے، اسی میں عزت اور سکون سے چلے جائیں گے۔‘‘
ہم نے سر جھٹکا۔ اب یہ ممکن نہیں تھا۔ دور کہیں کوئی ہمارا انتظار کر رہا تھا۔
ٹریفک جام سے بچنے کے لیے صدر کا قریبی راستہ چھوڑ کر شاہراہ فیصل کو چنا گیا تھا، گاڑی سڑک پر بڑی سبک رفتار سے تیر رہی تھی مگر ہماری نظر گھڑی پر جمی ہوئی تھی جس کی سوئیاں اس سے زیادہ تیزی سے چار کے ہندسے کی طرف دوڑی چلی جا رہی تھیں۔ اب دل کو یقین ہونے لگا تھا کہ ہماری گاڑی چھوٹ ہی جائے گی۔
کینٹ اسٹیشن سے پانچ دس منٹ کی دوری پر تھے کہ چار بج گئے… اور ہمارے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم نے زیرلب کہا۔ کیوں کہ نان اسٹاپ گاڑیاں عموما اپنے وقت پر چل پڑتی ہیں۔ گاڑی کینٹ کے گیٹ پر پہنچی تو ہم نے بے دلی سے بیگ سنبھالا اور اتر گئے۔
ایک قلی سے پوچھا تو اس کے جملے نے بدن میں بجلی سی بھر دی۔
’’ابھی پلیٹ فارم پر ہے گاڑی…‘‘
ہم نے ایک بار پھر دوڑ لگا دی۔ سامنے گاڑی پورے طمطراق سے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر پھولی ہوئی سانسوں میں ڈھیر سارا اطمینان اتر آیا۔
اپنا ڈبہ ڈھونڈا اور اپنی مطلوبہ برتھ تک جا پہنچے۔ ہمارے حصے میں مختلف عمر کی چار خواتین اور ایک صاحب موجود تھے، ساتھ دو تین بچے بھی شور مچا رہے تھے۔
پانچوں بڑوں نے ہماری داڑھی اور حلیے کو بغور دیکھا اور ان کے چہروں پر الگ الگ تاثرات نقش ہو گئے۔
شاید ہمارا ہی انتظار تھا کہ پندرہ منٹ لیٹ گاڑی ہمارے بیٹھتے ہی وسل دے کر چل پڑی۔ ہم نے اطمینان سے سر سیٹ سے ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں اور سکون کا گہرا سانس لیا۔
اگلے دس پندرہ منٹ میں ہی ہم پر مگر ایک بھیانک انکشاف ہو چکا تھا…!!!
یااللہ خیر…! 😱
Comments
Post a Comment