سفر کی وہ ایک رات 2

سفر کی وہ ایک رات! (2)
٭٭٭٭٭٭٭
بیگ سیٹ کے نیچے رکھ کر بیٹھنے اور ٹرین کے آہستہ آہستہ رینگنے سے فراٹے مارنے تک بمشکل پندرہ منٹ لگے ہوں گے کہ ہمیں یہ احساس ہو چکا تھا کہ ہم بدقسمتی سے بہت بری طرح پھنس چکے ہیں… ایک ایسے شکنجے میں جس میں سولہ سترہ گھنٹے پھنسے رہنے سے بہت بہتر یہ تھا کہ ہماری ٹرین چھوٹ جاتی اور ہم بس میں رلتے ہوئے جاتے…
یہ شکنجہ تھا 4 مختلف النسل مگر مشترکۃ العادۃ عورتوں کا جانا مانا شکنجہ…جی ہاں ان کی گاڑی سے زیادہ تیزی سے فر فر چلتی زبانوں کا شکنجہ…!!
ہماری بات کو مبالغہ نہ سمجھا جائے تو یقین مانیے، گاڑی ابھی کراچی کی حدود میں ہی ہو گی، شایداسٹیل مل تک بھی نہ پہنچی ہو گی کہ ہمیں… نہ چاہتے ہوئے بھی ان خواتین کے نہ صرف کراچی کے علاقوں کا علم ہو چکا تھا بلکہ جہاں وہ جا رہی تھیں، ان شہروں کے، ان علاقوں کے، ان رشتوں کے نام…اسی طرح وہ کیوں جا رہی ہیں؟… کتنے برسوں بعد جا رہی ہیں؟… اور حتیٰ کہ ان کے بچوں کی تعداد، عادات اور بہوؤں کی’حرکتیں‘ تک ہمیں ذہن نشین ہو چکی تھیں…! 😕
ہم نے چکراتے ہوئے سر کے ساتھ دور بیٹھے دوسرے صاحب کو دیکھا مگر انہیں شاید کوئی مسئلہ نہیں تھا… بلکہ وہ توکچھ مسرور سے دکھائی دے رہے تھے… شاید اس لیے کہ ان کی بیگم ان کی جان چھوڑکر عورتوں میں بیٹھی زبان کے خوب جوہر دکھا رہی تھیں…خیر ہم نے قراقرم میں سفر کرتے اس "اندرون محلہ لاہور" سے جان چھڑاتے ہوئے مغرب کے فورا بعد اوپر اپنی برتھ پر جانے کا فیصلہ کر لیا۔
 اوپر جانے لگے تو ادھیڑ عمر لاہور کا تنہا سفر کرنے والی خاتون بول اٹھیں:
’’ارے بھئی اتنی جلدی سونے جا رہے ہو… پھر ہمارے جواب کا انتظار کیے بغیر دوسری خاتون سے ہنس کر بولیں۔ بھئی ہمیں تو ٹرین میں نیند نہیں آتی، ہم تو ڈھائی تین بجے تک خوب باتیں کریں گے… کیوں شبو!؟‘‘
’’ہاں ہاں آنٹی! آپ سے مل کر، باتیں کر کے تو بہت مزہ آرہا ہے۔‘‘
 فیصل آباد جانے والی خاتون نے بڑے مزے سے کہا تو ہم لاحول پڑھتے ہوئے تیزی سے اوپر چڑھ گئے۔
ہمیں سب سے زیادہ حیرت ان آنٹی پر ہو رہی تھی جو عمر میں سب سے زیادہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ بول رہی تھیں۔ ان کی لٹکتی دہری ٹھوڑی کو دیکھ کر سائنس کے اس نظریے کی صداقت پر شبہ ہو چلا تھا کہ چربی ورزش سے گھل جاتی ہے!
اوپر بھی گرچہ آوازیں صاف آ رہی تھیں مگر ان کی شدت کم تھی۔تھوڑی دیر بعد اوپر برتھ پر ہی سر جھکائے جھکائے ہم نے بڑی مشکل سے قیمہ پراٹھا اور کریلے کا اچار نوش جاں کیا، اللہ کا شکر اور بیگم کا شکریہ زیر لب ادا کیا اور رومال کو خوب اچھی طرح سر، کان کے گرد لپیٹ کر لیٹ گئے۔
نہیں معلوم کہ جلتے کڑھتے کس وقت ہماری آنکھ لگی تھی…کہ پھر وہ روہڑی اسٹیشن پر اسٹال والوں کے مخصوص آوازے اور پتیلوں پر چمچ مارنے کی آوازیں تھیں، جن سے ہماری آنکھ کھلی۔
 ڈبے میں خلاف توقع کافی سکون تھا۔نیچے اترے تو دیکھا، ماڈرن ساس بھاپ اڑاتی چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے خلا میں کہیں گھور رہی تھیں۔ شاید اپنے درخشاں ماضی میں کہیں گم تھیں جب گھر پر صرف ان کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ باقی دونوں فیملیاں شاید اسٹیشن پر اتر کر ٹہل رہی تھیں۔ ہم بھی گاڑی سے اترے اورادھر ادھر ٹہل کر ہاتھ پاؤں سیدھے کرنے لگے۔
کسی بڑے اسٹیشن پر کوئی مسافر گاڑی آ کر رکتی ہے تو وہاں کچھ دیر کے لیے گویا بے جان اشیاء بھی جی اٹھتی ہیں۔ ایک زبردست ہلچل اور گہماگہمی منظر پر چھا جاتی ہے…ریلوے اسٹیشن کا ایک مخصوص منظر نامہ،ایک مخصوص شور اور ایک مخصوص مہک ہوتی ہے… 😨
اگرایک طرف اسٹال والوں کے بلاوے، اشارے… مسافروں کے نخرے، مطالبے… مختلف شہروں کی سوغات اور ثقافت کے نام پر گھٹیااور ردّی مال سے بھری دکانیں اورہمہ قسم گداگروں کا رش اور فریادیں اسٹیشن کا مخصوص منظرنامہ ترتیب دیتی ہیں… تو دوسری طرف دیواروں سے اٹھتی پیشاب کی سخت بدبوئیں، سستے مصالحوں کی گھٹیا خوشبوؤں سے مل کر اسٹیشن کی ایک مخصوص کراہیت انگیز مہک کو تخلیق کرتی ہیں…
مسافر بھی عموما عمر اور جنس کے اعتبار سے مختلف گروپس میں تقسیم نظر آتے ہیں… نوجوانوں کا ٹرین سے اترتے ہی سب سے پہلے اپنے بزرگوں کی نگاہ سے دور، کسی تاریک گوشے کو تلاشنا اور پھرجلدی جلدی سگریٹ پھونکنا… گھاگ مردوں کا گرسنہ نگاہوں سے عورتوں کو تاکتے پھرنا… نمازیوں کا جلدی جلدی وضو بنا کے پلیٹ فارم پر ہی جلدی جلدی دو رکعتیں بھگتانا… اور بزرگوں کا ٹرین کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے چیخ چیخ کر ہدایات دینا وغیرہ
ہم چوں کہ اکیلے بھی تھے اور شرمیلے تھے… سو اس تمام ہلچل سے دور ایک بنچ پہ بیٹھ کر بڑے مزے سے روہڑی اسٹیشن کے ان تمام مناظر سے فلسفے کشید کرتے رہے… گاہے ٹرین کی چھت پر لمبے لمبے پائپوں سے پانی بھرنے والے کارکنوں پر بھی نظر ڈال لیتے… کہ جب تک وہ اوپر نظر آ رہے ہیں، ٹرین کی طرف سے اطمینان ہے کہ وہ چلنے والی نہیں…
آخر پانی بھرا گیا اور ٹرین نے وسل دی… مدہم پڑتی آوازیں یکایک دوبارہ شور میں بدل گئیں… دوڑتے بھاگتے قدم تیزی سے اپنے اپنے ڈبوں کے پائیدانوں پر جمنے لگے… ہم بھی اٹھ گئے تھے… دروازے سے گزر کر مسافروں سے دامن بچاتے اپنی سیٹ پر پہنچے تو ایک بار پھر زنانہ چوپال سجی دیکھ کر سارے موڈ کی ایسی کی تیسی ہو گئی…
’’ پتا نہیں کون سی مخلوق ہیں بھئی یہ…‘‘
غصے سے بدبدا تے ہوئے ہم تیزی سے برتھ پر چڑھے اور پہلے کی طرح رومال لپیٹ کر آنکھیں بند کر لیں…
نیچے عورتیں اپنی محدود ترین دنیا کے لامحدود مسائل ڈسکس کر رہی تھیں… ادھر سفر کے پہلے دن کی چند ہی گھڑیاں باقی رہ گئی تھیں… کچھ ہی دیر میں تاریخ بدل جاتی اور ایک نیا انجانا دن اپنے جلو میں بہت ساری نت نئی کہانیاں لیے آ جاتا…
قراقرم رات کی اندھیریوں میں کسی کالی ناگن کی طرح بل کھاتے ہوئے تیزی سے اپنی منزل کی طرف دوڑی چلی جا رہی تھی… اس کے ایک ترتیب سے ہونے والے ہچکولوں نے ہمیں جلد ہی تھپک کر خوابوں کی دنیا میں پہنچا دیا…
اس رنگین دنیا میں، جہاں نہ ہم اکیلے تھے اور نہ ہی شرمیلے…! (جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی
٭٭٭

Comments