ہم پہنچے واہ کینٹ 4

ہم پہنچے واہ کینٹ! سفرنامہ(4)
٭٭٭٭٭٭
آنٹی کی اس حرکت پر تو ہم باقاعدہ جل بھن ہی گئے… اور ایک فوری فیصلہ کر اٹھے… ایک تو یہ کہ اب ہم سارے راستے آنٹی کو نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھیں گے…دوجے یہ کہ’ آنٹی‘ اور ’بی بی‘ کے اسم تخاطب سے مخاطب کر کے اس کے فیشن کی ایسی کی تیسی کر دیں گے… ہماری نظر میں ایک فیشن ایبل خاتون کے لیے یہی بہت بڑی سزا ہے کہ اسے آنٹی اور بی بی کہہ کر پکارا جائے… بس پھر یہی کچھ کیا بھی… جب آنٹی کولڈڈرنک سرو کرنے آئیں… جب وہ’’اوئے ہوئے چپس‘‘ کا ڈبہ تھمانے آئیں… ہم نے ہر بار انہیں کسی نہ کسی بہانے بڑی معصومیت سے’ آنٹی‘اور ’بی بی‘ جڑ دیا اور پھر چور نگاہ سے انہیں غصے سے بل کھانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا (کوشش ہی کر سکتی تھیں بے چاری، اب اسامہ سرسری کی سی کمر رکھتے ہوئے، بل تو کھا نہیں سکتی تھیں)
خیر ہماری اس کمینی انتقامی حرکت کے اس وقت تو ہم نے بہت مزے لیے… بعد میں مگر افسوس ہوا کہ خواتین سے درگزر کرنا چاہیے نہ کہ بدلہ لینا چاہیے… کیا ہوا اگر وہ نوکری پیشہ ہونے کے باوجود نخریلی تھی، پہلو میں نازک سا دل بھی تو رکھتی تھی! 😗
٭
اسکائی وے کوچ بے حد سبک رفتاری کے ساتھ موٹروے پر اڑی جا رہی تھی… کوئی ہچکولا نہیں، کوئی جھٹکا نہیں… جیسے کوئی ہموار پرواز کرتا ہوا اڑن کھٹولا ہو یا کوئی خلا میں تیرتا ہوا خلائی جہاز!
ہمارا دماغ بھی کم بخت کچھ گھوما ہوا سا ہی ہے… عموما رنگین و سنگین اور عجیب وغریب خیالات کی آماجگاہ بنا رہتا ہے…سو ’باہوبلی‘ جیسی تھرڈ کلاس پکچر سے بیزار ہوئے بیٹھے یونہی ایک خیال آ گیا… کہ یہ اسکائی وے کوچ جس الہڑپن سے اونچے نیچے نہایت دلکش مگر خطرناک رستے پہ بھاگ رہی ہے، کہیں واقعی مسافروں کو آسمان تک ٹرانسفر کرنے کا ’آسمانی راستہ‘ نہ بن جاوے…!!!
بس اس خیال کا آنا تھا کہ… اس کے بعد کیا کیا ہونا تھا، وہ سارے ممکنہ خیالات قطار باندھے ذہن میں آتے چلے گئے…
بریکنگ نیوز، تحقیقات کا حکم، حکمرانوں کا اظہار افسوس، یادگار کے طور پر کلر کہار کے پرفضا مقام پراسکائی وے پسنجرز کی اجتماعی تدفین، پس ماندگان کو بڑا سا چیک اور… پھر وہ بیگم کا سینے پر دو ہتڑ مار کر غش کھانے کا بڑا مزیدار ٹریجڈی سین چل رہا تھا… کہ تب ایک ہلکا سا جھٹکا ہمیں ہوش میں لے آیا۔ گاڑی اچانک آہستہ ہوئی تھی۔
لاحول ولاقوۃ الا باللہ… ذہنی خود ترسی (جسے ذہنی خود لذتی کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے) کی اس تخیلاتی مشق پر خود کو کوستے ہوئے بے اختیار زبان سے لاحول نکلا تھا۔
گاڑی ایک خوبصورت ریستوران کے پورچ ایریا کی طرف مڑ رہی تھی… دور سے ہی ریستوران کے ماتھے پر بڑا بڑا لکھا ہوا نظر آ رہا تھا: گرین لگون!
بہت ساری کوچز اور پرائیوٹ گاڑیاں وہاں کھڑی تھیں جن کے مسافر پیسہ خرچ کر کے ریستوران کی سہولیات سے مستفید ہو رہے تھے۔ ہمارا مگر پیسہ خرچ کرنے کا کوئی موڈ نہیں تھا… البتہ ’فطرت کی پکار‘ پر کان دھرنا چوں کہ مجبوری تھی… سو کھانے پینے کے ایریے سے نظر بچاتے ہوئے، مفت کا واش روم استعمال کرنے دوڑ گئے۔
واش روم ایریے میں داخل ہوئے تو صفائی کا اعلیٰ معیار دیکھ کر دل خوش ہو گیا… عموما پبلک ٹوائلٹس کی جو حالت زار ہوتی ہے، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں… مگر یہاں صفائی کا بہت اچھا نظام تھا… البتہ لائن سے لگے یورینر (Uriner) اور ساتھ ساتھ کھڑے مسافروں کو مصروف عمل دیکھ کر طبیعت مکدر ہو گئی… ہم کسی سہولت کو غلط تو نہیں کہتے، مگر یورینر جس میں پاس پاس کھڑے ہو کر فارغ ہوا جاتا ہے… حیا، پاکیزگی اور فطری طریقے کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہماری طبیعت پر سخت گراں گزرتا ہے… خیر استنجا وضو سے فراغت کے بعد لان میں نماز قصر پڑھی اور گاڑی کے پاس آ کھڑے ہوئے۔
اس بار جو گاڑی چلی تو پھر دو بجے راولپنڈی 26 نمبر پر ہی اس نے اسٹاپ کیا…اترنے لگے تو دیکھا، دروازے پر بی بی کھڑی تھیں… انہوں نے خشمگیں نگاہوں سے ہمیں گھورتے ہوئے جگہ دی… ہم مسکراہٹ چھپاتے ہوئے نیچے اترے۔ ہمارا بیگ اتارا گیا اور گاڑی یہ جا وہ جا!
بلال سے رابطہ کوچ میں ہوتا رہا تھا۔ مسلسل سفر کو تقریبا بائیس گھنٹے ہو رہے تھے، سو ایک سالخوردہ سیٹ پرتھکن سے تقریبا گرتے ہوئے اسے کال ملائی تو اس نے بتایا کہ ہم بس پہنچ ہی گئے ہیں، پانچ منٹ میں اڈے پر ہوں گے۔
ہم نے کال آف کر کے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ جمعے کا دن اور خاص جمعے کا وقت تھا… شاید اسی لیے تاحد نگاہ منظرخالی خالی سا تھا۔
چند ہی منٹ گزرے تھے کہ ایک کار زن سے ہمارے پاس آ کر رکی اور اس میں سے اول سید بلال پاشا برآمد ہوا… پھر ڈرائیونگ سیٹ سے ایک شخصیت برآمد ہونا شروع ہوئی… برآمدات پوری ہوئیں تو ہمیں ایک زوردار جھٹکا لگا…
اپنے فیصل آبادی عبید حسنی بھائی کا بلال کی کار سے ظہور کرنا، ہمارے لیے ایسا ہی غیر متوقع تھا جیسے قائدین جمعیت وانصاف کا اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا!
بہت جلد ہی لیکن ہماری غلط فہمی دور ہو گئی… معلوم ہوا کہ عبید حسنی بھائی سے شکل و جثے کی شباہت رکھنے والے دراصل زبیر بھائی تھے، بلال کے بہنوئی… فیصل آباد سے ہی ان کا تعلق تھا۔
زبیر بھائی کی بہترین ڈرائیونگ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے محض آدھ گھنٹے میں ہم واہ پہنچ گئے۔ پندرہ سال بعد واہ کی زمین ہمارے قدموں سے مشرف ہو رہی تھی۔ بستی لالہ رخ کے ایک خوبصورت گھر کے گیٹ پر گاڑی رکی تو دیکھا، نیم پلیٹ پر سید عصمت پاشا نام لکھا ہوا تھا۔
بلال نے ہماری نگاہوں کا تعاقب کرتے ہوئے نیم پلیٹ کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا:
’’میرے ابو کا نام پاشا ہے، عصمت ابو اور ان کے تمام بھائیوں کے نام کا حصہ ہے۔‘‘
’’اوہ تو پاشا تم لوگوں کی قومیت نہیں بلکہ تمہارے ابا جان کا نام ہے؟… ہم تو سمجھتے تھے کہ شاید تم لوگ کمال اتاترک پاشا کی فوج سے بھاگے ہوئے ہو!‘‘
ہم نے حیرت سے بلال کو دیکھا۔
ہماری بات سن کر بلال برے برے منہ بنانے لگا۔ اب گھر آئے مہمان کو وہ پلٹ کر جواب تو نہیں دے سکتا تھا نا! (ہماری یہ خوش فہمی بھی مگر بہت جلد دور ہو گئی تھی 😥)
’’جی ہاں… ہم تو سید ہیں، پاشا ہمارے ابو کا نام ہے اور ترکی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں… بس اب اندر چلیے ابا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو سرخ انگوروں سے بھری ہوئی ایک سرسبز بیل کے نیچے کھڑی ایک شخصیت کو دیکھ کر محض آدھے گھنٹے میں دماغ دوسری بار جھنجھنا اٹھا۔
’’ارے اشتیاق صاحب…!!!‘‘
بلال کے والد محترم جناب پاشا صاحب بالکل بنے بنائے گھڑے گھڑائے مرحوم اشتیاق احمد صاحب تھے۔
ویسا ہی بوٹا سا قد، دبلی پتلی جسامت…ویسی ہی داڑھی، ویسی ہی مسکراہٹ… بس فرق تھا تو آنکھوں کی بناوٹ میں تھا!
ہم نے بڑھ کر چچا جان سے گلے ملنے کی سعادت حاصل کی اور کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بلال کو سرگوشی کی:
’’یہ سارے مشہور لوگوں کی نقلیں تم نے گھر میں جمع کر رکھی ہیں کیا؟… اگر ایسی ہی بات ہے تو ہماری نقل کہاں…………‘‘
ہمارے الفاظ ابھی منھ میں ہی تھے کہ حیرت سے ہمارا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا… 😲
(جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی شیخ شوخ و مستی
٭٭٭

Comments