ملنا ہمارا عبدالقدوس ہاشمی صاحب سے! (سفرنامہ 5)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کمرے میں داخل ہوتے ہی حیرت سے ہمارا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا…
کمرے میں ہماری نقل بھی موجود تھی… اور ہاتھ پھیلائے مسکرا رہی تھی!
جی ہاں… بالکل ہماری طرح وجیہہ… سروقد، صبیح پیشانی، گلابی ہونٹ، بڑی بڑی آنکھوں میں شرارت کی چمک اور خوش لباس نقل… مم مطلب صاحب سامنے کھڑے ہم سے بغلگیر ہونے کو بے تاب تھے( جھوٹ نہیں بولیں گے، رنگ البتہ ان کا ہمارے مقابلے میں زیادہ سرخ وسپید تھا) 😉
ہم حیرت سے انہیں دیکھتے ہوئے گلے لگ گئے۔
تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ بلال کے بڑے بھائی سید مرتضیٰ پاشا ہیں… بے حد خوش اخلاق اور پیارے بھائی… کچھ ہی دیر میں ان کی خوش اخلاقی کا ’سبب‘ بھی معلوم ہو گیا…مطلب یہ کہ وہ فطری طور پر بھی بہت اچھے ہوں گے مگر اللہ والوں کی نسبت نے ان کی شخصیت کو نکھار سنوار کر بےحد جاذب نظر بنا دیا تھا… جی ہاں وہ حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب مدظلہ کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔
تعارفی سیشن خدا کا شکر ہے، جلدی ختم ہوا… اور ہمیں غسل کی اجازت مل گئی۔
ٹھنڈے پانی کے شاور نے نہ صرف بدن سے 23 گھنٹے سفر کی میل صاف کر دی تھی بلکہ دل و دماغ پر چھائی کسل مندی بھی دھو ڈالی تھی… تازگی کے بھرپور احساس کے ساتھ واپس آئے تو ظہرانے کے سارے لوازمات سجائے جا چکے تھے… ہماری شوگر ہی نہیں، مزاج اور پسند کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا تھا جو یقینا بلال کا کمال تھا… شاباش بچے! 😘
لذیذ کھانوں سے انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو بھی ہوتی رہی۔ زبیر بھائی اور مرتضیٰ بھائی آیندہ سفر کے پروگرام سے متعلق استفسار کرتے رہے۔ اسی دوران میں واہ کینٹ کی سیر کا پروگرام بھی بن گیا …کہ ہمارے پاس واہ کے لیے بس آج کا ہی دن تھا۔
طے یہ ہوا کہ مغرب کے بعد تو ہم گاڑی میں واہ کینٹ کے خاص خاص مقامات پر جائیں گے… جب کہ عصر کے بعد بلال کے ساتھ مشہور مزاح نگار ڈاکٹرعبدالقدوس ہاشمی صاحب کے کلینک ہو آئیں گے… ہاشمی صاحب واہ کینٹ میں ہی ہوتے ہیں۔
کھانے سے فراغت کے بعد کچھ دیر قیلولہ کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں عصر کی اذان ہو گئی۔ محلے کی مسجد میں نماز پڑھ کر ہم اور بلال چل پڑے ہاشمی صاحب کے کلینک کی طرف… دس منٹ پیدل کا راستہ تھا… جلد ہی پہنچ گئے۔
وہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا کلینک تھا… جس میں روایتی انداز میں ڈاکٹری ٹیبل سجائے ایک قدرے فربہ بدن صاحب مریضوں کی تلاش میں دروازے پر نگاہ جمائے بیٹھے تھے… ہم اندر داخل ہوئے تو ان کی ذہانت سے بھری آنکھوں میں ایک تیز چمک پیدا ہوئی، جو بلال کو دیکھتے ہی بجھ سی گئی۔
وہ بلال کو جانتے تھے اور سمجھ گئے تھے کہ وہ چھٹی پر گھر آیا ہے تو ملاقات کے لیے آیا ہو گا… سواپنی کرسی سے اٹھے اور بلال سے کافی گرم جوشی سے جب کہ ہم سے قدرے رسمی سے انداز میں ملے… ظاہر ہے وہ ہمیں بلال کا کوئی واقف کار سمجھ رہے ہوں گے۔
بلال نے پلان کے مطابق ہمیں اپنا ایک دوست ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ یہ آپ کے کالم اشتیاق سے پڑھتے ہیں، ملنا چاہتے تھے۔
یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا…کیوں نہ خوش ہوتے، فین تو بہت قیمتی ہوتا ہے، مریض سے بھی زیادہ 😃… اب انہوں نے ہمیں ذرا غور سے دیکھا، ابھی کچھ کہنا چاہتے ہی تھے کہ ہم کلینک میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے چہرے پر مصنوعی حیرت طاری کرتے ہوئے بول اٹھے:
’’ڈاکٹر صاحب! ہم تو سمجھے تھے کہ یہاں بہت ساری اٹھکیلیاں چہل قدمی کر رہی ہوں گی…مگر افسوس یہاں تو کوئی ایک اٹھکیلی بھی اٹکھیلیاں کرتی نہیں پائی جا رہی!‘‘
ڈاکٹر صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے… ہم جو چھیڑچھاڑ کے فل موڈ میں تھے، ان کا ساتھ دیتے ہوئے ہنسنے کے لیے دانت نکالا ہی چاہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کی کرسی کے پیچھے دیوار پر ایک بڑا سا پوسٹر دیکھ کر چونک اٹھے۔
یہ پوسٹر نمونیا بخار سے بچنے کے لیے چند ہدایات کے بعد اپنی دوا بیچنے کا اشتہار نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا۔
دو سطری بڑا بڑا اعلان پڑھ کرہم بے ساختہ بول اٹھے:
’’اف تو ہاشمی صاحب آپ بھی فیس بک کے ڈسے ہوئے ہیں…!؟‘‘
ہماری بات کا سننا تھا کہ ہاشمی صاحب کے چہرے پر گھمبیر بے چارگی طاری ہو گئی۔بلال ہماری بات سن کردوسری دیوار پر چسپاں پوسٹر پڑھنا شروع کر چکا تھا۔ چھوٹے سے کلینک کی تینوں دیواروں پر اس اعلان کی ایک ایک کاپی چپکی ہوئی تھی… لکھا تھا:
’’ضروری اعلان! میری فیس بک پر کوئی آئی ڈی نہیں ہے۔ کوئی ناہنجار میرے نام اور پہچان ڈاکٹر عبدالقدوس ہاشمی کے نام سے فیس بک پر فیک آئی ڈی بنا کر چلا رہا ہے، جس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب جن کے فیس بکی زخم گویا پھر سے ہرے ہو گئے تھے۔ بڑی بے چارگی سے ہمیں جرم و سزا کی وہ انوکھی کہانی سنانے لگے جس میں جرم ہی جرم تھا… سزا کا کوئی نام و نشان نہ تھا…
ہوا یوں تھا کہ کسی بیرون ملک رہنے والے کمینے نے ان کے کالم کے ساتھ دیے گئے موبائل نمبر سے ان کے نام سے آئی ڈی بنا لی تھی اور اس میں باقاعدگی سے فحش مواد اپ لوڈ کیا کرتا تھا… ڈاکٹر صاحب کو جب پتا چلا توبہت پریشان ہوئے… کسی نے مشورہ دیا تو اپنی عرفی حیثیت بچا نے کے لیے فوراسائبر کرائم والوں کو شکایت درج کروائی… سائبرکرائم والوں نے آئی ڈی بند کی تو دوسرے ہی دن دوبارہ بنا دی گئی… اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کر سکتے تھے کہ مجرم باہر بیٹھا تھا… سو ہنوز وہ آئی ڈی اسی بے باکی سے چل رہی تھی…اور ڈاکٹر صاحب بے چارے اپنے کلینک پر طبی ہدایات کی بجائے فیس بک سے لاتعلقی کے اعلان چپکانے پر مجبور تھے! 😣
ہم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے ساتھ مزید اٹھکیلیاں کرنے کا پروگرام ختم کیا اور اپنا تعارف کروا دیا۔
اوہ… ڈاکٹر صاحب نے بے یقینی سے ہمیں دیکھا اور پھر کچھ اس طرح دیکھتے چلے گئے کہ ہم ان کی نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ شرمانے سے لگے۔
اب تو بات برابر سرابر ہو گئی تھی۔ ہم انہیں پڑھتے تھے تو وہ ہمیں پڑھتے تھے… اور بلال ہم دونوں کو پڑھتا تھا!
انہوں نے جلدی سے اپنے ملازم کو جوس لانے کے لیے آواز دی۔ ہم نے اپنی شوگر کی وجہ سے معذرت کی… مگر بلال نے ہماری آمد سے ہونے والے ڈھیر سارے قیمتی فوائد میں سے پہلا فائدہ وہیں بیٹھے حاصل کیا تھا… فورا کہہ اٹھا:
’’کوئی بات نہیں… آپ منگوا لیں، میں ان کا جوس بھی پی لوں گا…‘‘
جب ڈاکٹر صاحب نیسلےکا ایک ڈبہ ، بلال دو ڈبے اور ہم ان دونوں کا منھ تکتے ہوئے، منھ میں آیا پانی ڈکار چکے… تو جل کر ہم نے فوری واپسی کا ارادہ کر لیا۔
ہاشمی صاحب نے بے حد محبت سے رات کے کھانے کی دعوت دی، مگر ہم نے اتنی ہی محبت سے معذرت کر لی۔ وہ ہمیں کافی آگے تک چھوڑنے آئے۔ مغرب کا وقت ہو گیا تھا،اس لیے ہم تیزی سے اپنے محلے کی مسجد کے لیے چل پڑے۔
مغرب کے فوراً بعد مرتضیٰ بھائی ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھے۔ ہم ان کے برابر میں براجمان ہوئے۔ بلال اور اس کے بہنوئی زبیر بھائی پیچھے بیٹھے اور گاڑی واہ کی سڑکیں ناپنے چل پڑی۔
واہ کینٹ ایک بے حد خوبصورت شہر ہے…سرسبزو شاداب، جدیداور عسکری اہمیت کا حامل شہر…!
ہم 2002ء میں پہلی بار یہاں آئے تھے اور دو دن اپنے دوست غلام علی کے ساتھ رہے تھے جو پی او ایف میں ملازم تھا بلکہ اب بھی ہے۔
واہ کی پی او ایف یعنی پاکستان آرڈیننس فیکٹری افواج پاکستان کے لیے اسلحہ سازی میں سب سے بنیادی اور بڑا نام ہے۔ پاکستان بننے کے صرف دو سال بعد 1949ء میں تعمیر کی گئی یہ فیکٹری عظیم الشان رقبے پر قائم ہے۔ ہم نے تو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اس کی بیرونی دیواریں دیکھیں۔
مرتضیٰ بھائی اور زبیر بھائی ہمیں دائیں بائیں اہم اہم مقامات کے بارے میں بتاتے رہے، جب کہ بلال کچھ کھا لیں، کچھ پی لیں کا راگ مستقل الاپتا رہا… ہمیں حیرت ہوئی کہ ابھی ساڑھے چار بجے مست ہو کر کھانا کھانے اور کچھ دیر قبل دو ڈبے جوس کے حلق سے اتارنے کے باوجود اس پر کھانے پینے کا ہی بھوت سوار تھا…!
آخربلال کی مستقل ترغیب نے تین سمجھ دار سیاحوں کو بھی پیٹ سے سوچنے پر مجبور کر دیا اور یوں ایک مشہور جگہ کی فروٹ چاٹ کھانے کا پروگرام بن گیا…گاڑی لائق علی چوک کی طرف موڑ دی گئی۔
لائق علی چوک کی فروٹ چاٹ اچھی تو تھی مگر اتنی کچھ خاص نہیں… چٹ پٹی مزیدار باتیں کرتے ہوئے شاید زیادہ اچھی لگی۔
عشاء کی اذان ہو گئی تھی… اس پر کافی دیر بحث ہوتی رہی کہ نماز کہاں پڑھی جائے… پھر فیصلہ ہوا کہ واہ کینٹ کی مرکزی مسجد، المعروف بڑی مسجد میں عشاء پڑھی جائے… وہی جو لاہور کی بادشاہی مسجد کے نقشے پر بنائی گئی ہے!
بس پھر ہمارا چاررکنی قافلہ بڑی مسجد کو چلا… رات میں مخصوص لائٹس میں جامع مسجد کی خوبصورتی اور شان بہت دور سے بھی واضح تھی۔ واقعی اسے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ بادشاہی مسجد کو کسی نے مختصر کر کے لاہور سے اٹھا کر واہ کینٹ میں لا رکھا ہے۔ (جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی شیخ شوخ و مستی
٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کمرے میں داخل ہوتے ہی حیرت سے ہمارا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا…
کمرے میں ہماری نقل بھی موجود تھی… اور ہاتھ پھیلائے مسکرا رہی تھی!
جی ہاں… بالکل ہماری طرح وجیہہ… سروقد، صبیح پیشانی، گلابی ہونٹ، بڑی بڑی آنکھوں میں شرارت کی چمک اور خوش لباس نقل… مم مطلب صاحب سامنے کھڑے ہم سے بغلگیر ہونے کو بے تاب تھے( جھوٹ نہیں بولیں گے، رنگ البتہ ان کا ہمارے مقابلے میں زیادہ سرخ وسپید تھا) 😉
ہم حیرت سے انہیں دیکھتے ہوئے گلے لگ گئے۔
تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ بلال کے بڑے بھائی سید مرتضیٰ پاشا ہیں… بے حد خوش اخلاق اور پیارے بھائی… کچھ ہی دیر میں ان کی خوش اخلاقی کا ’سبب‘ بھی معلوم ہو گیا…مطلب یہ کہ وہ فطری طور پر بھی بہت اچھے ہوں گے مگر اللہ والوں کی نسبت نے ان کی شخصیت کو نکھار سنوار کر بےحد جاذب نظر بنا دیا تھا… جی ہاں وہ حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب مدظلہ کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔
تعارفی سیشن خدا کا شکر ہے، جلدی ختم ہوا… اور ہمیں غسل کی اجازت مل گئی۔
ٹھنڈے پانی کے شاور نے نہ صرف بدن سے 23 گھنٹے سفر کی میل صاف کر دی تھی بلکہ دل و دماغ پر چھائی کسل مندی بھی دھو ڈالی تھی… تازگی کے بھرپور احساس کے ساتھ واپس آئے تو ظہرانے کے سارے لوازمات سجائے جا چکے تھے… ہماری شوگر ہی نہیں، مزاج اور پسند کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا تھا جو یقینا بلال کا کمال تھا… شاباش بچے! 😘
لذیذ کھانوں سے انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو بھی ہوتی رہی۔ زبیر بھائی اور مرتضیٰ بھائی آیندہ سفر کے پروگرام سے متعلق استفسار کرتے رہے۔ اسی دوران میں واہ کینٹ کی سیر کا پروگرام بھی بن گیا …کہ ہمارے پاس واہ کے لیے بس آج کا ہی دن تھا۔
طے یہ ہوا کہ مغرب کے بعد تو ہم گاڑی میں واہ کینٹ کے خاص خاص مقامات پر جائیں گے… جب کہ عصر کے بعد بلال کے ساتھ مشہور مزاح نگار ڈاکٹرعبدالقدوس ہاشمی صاحب کے کلینک ہو آئیں گے… ہاشمی صاحب واہ کینٹ میں ہی ہوتے ہیں۔
کھانے سے فراغت کے بعد کچھ دیر قیلولہ کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں عصر کی اذان ہو گئی۔ محلے کی مسجد میں نماز پڑھ کر ہم اور بلال چل پڑے ہاشمی صاحب کے کلینک کی طرف… دس منٹ پیدل کا راستہ تھا… جلد ہی پہنچ گئے۔
وہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا کلینک تھا… جس میں روایتی انداز میں ڈاکٹری ٹیبل سجائے ایک قدرے فربہ بدن صاحب مریضوں کی تلاش میں دروازے پر نگاہ جمائے بیٹھے تھے… ہم اندر داخل ہوئے تو ان کی ذہانت سے بھری آنکھوں میں ایک تیز چمک پیدا ہوئی، جو بلال کو دیکھتے ہی بجھ سی گئی۔
وہ بلال کو جانتے تھے اور سمجھ گئے تھے کہ وہ چھٹی پر گھر آیا ہے تو ملاقات کے لیے آیا ہو گا… سواپنی کرسی سے اٹھے اور بلال سے کافی گرم جوشی سے جب کہ ہم سے قدرے رسمی سے انداز میں ملے… ظاہر ہے وہ ہمیں بلال کا کوئی واقف کار سمجھ رہے ہوں گے۔
بلال نے پلان کے مطابق ہمیں اپنا ایک دوست ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ یہ آپ کے کالم اشتیاق سے پڑھتے ہیں، ملنا چاہتے تھے۔
یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا…کیوں نہ خوش ہوتے، فین تو بہت قیمتی ہوتا ہے، مریض سے بھی زیادہ 😃… اب انہوں نے ہمیں ذرا غور سے دیکھا، ابھی کچھ کہنا چاہتے ہی تھے کہ ہم کلینک میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے چہرے پر مصنوعی حیرت طاری کرتے ہوئے بول اٹھے:
’’ڈاکٹر صاحب! ہم تو سمجھے تھے کہ یہاں بہت ساری اٹھکیلیاں چہل قدمی کر رہی ہوں گی…مگر افسوس یہاں تو کوئی ایک اٹھکیلی بھی اٹکھیلیاں کرتی نہیں پائی جا رہی!‘‘
ڈاکٹر صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے… ہم جو چھیڑچھاڑ کے فل موڈ میں تھے، ان کا ساتھ دیتے ہوئے ہنسنے کے لیے دانت نکالا ہی چاہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کی کرسی کے پیچھے دیوار پر ایک بڑا سا پوسٹر دیکھ کر چونک اٹھے۔
یہ پوسٹر نمونیا بخار سے بچنے کے لیے چند ہدایات کے بعد اپنی دوا بیچنے کا اشتہار نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا۔
دو سطری بڑا بڑا اعلان پڑھ کرہم بے ساختہ بول اٹھے:
’’اف تو ہاشمی صاحب آپ بھی فیس بک کے ڈسے ہوئے ہیں…!؟‘‘
ہماری بات کا سننا تھا کہ ہاشمی صاحب کے چہرے پر گھمبیر بے چارگی طاری ہو گئی۔بلال ہماری بات سن کردوسری دیوار پر چسپاں پوسٹر پڑھنا شروع کر چکا تھا۔ چھوٹے سے کلینک کی تینوں دیواروں پر اس اعلان کی ایک ایک کاپی چپکی ہوئی تھی… لکھا تھا:
’’ضروری اعلان! میری فیس بک پر کوئی آئی ڈی نہیں ہے۔ کوئی ناہنجار میرے نام اور پہچان ڈاکٹر عبدالقدوس ہاشمی کے نام سے فیس بک پر فیک آئی ڈی بنا کر چلا رہا ہے، جس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب جن کے فیس بکی زخم گویا پھر سے ہرے ہو گئے تھے۔ بڑی بے چارگی سے ہمیں جرم و سزا کی وہ انوکھی کہانی سنانے لگے جس میں جرم ہی جرم تھا… سزا کا کوئی نام و نشان نہ تھا…
ہوا یوں تھا کہ کسی بیرون ملک رہنے والے کمینے نے ان کے کالم کے ساتھ دیے گئے موبائل نمبر سے ان کے نام سے آئی ڈی بنا لی تھی اور اس میں باقاعدگی سے فحش مواد اپ لوڈ کیا کرتا تھا… ڈاکٹر صاحب کو جب پتا چلا توبہت پریشان ہوئے… کسی نے مشورہ دیا تو اپنی عرفی حیثیت بچا نے کے لیے فوراسائبر کرائم والوں کو شکایت درج کروائی… سائبرکرائم والوں نے آئی ڈی بند کی تو دوسرے ہی دن دوبارہ بنا دی گئی… اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کر سکتے تھے کہ مجرم باہر بیٹھا تھا… سو ہنوز وہ آئی ڈی اسی بے باکی سے چل رہی تھی…اور ڈاکٹر صاحب بے چارے اپنے کلینک پر طبی ہدایات کی بجائے فیس بک سے لاتعلقی کے اعلان چپکانے پر مجبور تھے! 😣
ہم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے ساتھ مزید اٹھکیلیاں کرنے کا پروگرام ختم کیا اور اپنا تعارف کروا دیا۔
اوہ… ڈاکٹر صاحب نے بے یقینی سے ہمیں دیکھا اور پھر کچھ اس طرح دیکھتے چلے گئے کہ ہم ان کی نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ شرمانے سے لگے۔
اب تو بات برابر سرابر ہو گئی تھی۔ ہم انہیں پڑھتے تھے تو وہ ہمیں پڑھتے تھے… اور بلال ہم دونوں کو پڑھتا تھا!
انہوں نے جلدی سے اپنے ملازم کو جوس لانے کے لیے آواز دی۔ ہم نے اپنی شوگر کی وجہ سے معذرت کی… مگر بلال نے ہماری آمد سے ہونے والے ڈھیر سارے قیمتی فوائد میں سے پہلا فائدہ وہیں بیٹھے حاصل کیا تھا… فورا کہہ اٹھا:
’’کوئی بات نہیں… آپ منگوا لیں، میں ان کا جوس بھی پی لوں گا…‘‘
جب ڈاکٹر صاحب نیسلےکا ایک ڈبہ ، بلال دو ڈبے اور ہم ان دونوں کا منھ تکتے ہوئے، منھ میں آیا پانی ڈکار چکے… تو جل کر ہم نے فوری واپسی کا ارادہ کر لیا۔
ہاشمی صاحب نے بے حد محبت سے رات کے کھانے کی دعوت دی، مگر ہم نے اتنی ہی محبت سے معذرت کر لی۔ وہ ہمیں کافی آگے تک چھوڑنے آئے۔ مغرب کا وقت ہو گیا تھا،اس لیے ہم تیزی سے اپنے محلے کی مسجد کے لیے چل پڑے۔
مغرب کے فوراً بعد مرتضیٰ بھائی ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھے۔ ہم ان کے برابر میں براجمان ہوئے۔ بلال اور اس کے بہنوئی زبیر بھائی پیچھے بیٹھے اور گاڑی واہ کی سڑکیں ناپنے چل پڑی۔
واہ کینٹ ایک بے حد خوبصورت شہر ہے…سرسبزو شاداب، جدیداور عسکری اہمیت کا حامل شہر…!
ہم 2002ء میں پہلی بار یہاں آئے تھے اور دو دن اپنے دوست غلام علی کے ساتھ رہے تھے جو پی او ایف میں ملازم تھا بلکہ اب بھی ہے۔
واہ کی پی او ایف یعنی پاکستان آرڈیننس فیکٹری افواج پاکستان کے لیے اسلحہ سازی میں سب سے بنیادی اور بڑا نام ہے۔ پاکستان بننے کے صرف دو سال بعد 1949ء میں تعمیر کی گئی یہ فیکٹری عظیم الشان رقبے پر قائم ہے۔ ہم نے تو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اس کی بیرونی دیواریں دیکھیں۔
مرتضیٰ بھائی اور زبیر بھائی ہمیں دائیں بائیں اہم اہم مقامات کے بارے میں بتاتے رہے، جب کہ بلال کچھ کھا لیں، کچھ پی لیں کا راگ مستقل الاپتا رہا… ہمیں حیرت ہوئی کہ ابھی ساڑھے چار بجے مست ہو کر کھانا کھانے اور کچھ دیر قبل دو ڈبے جوس کے حلق سے اتارنے کے باوجود اس پر کھانے پینے کا ہی بھوت سوار تھا…!
آخربلال کی مستقل ترغیب نے تین سمجھ دار سیاحوں کو بھی پیٹ سے سوچنے پر مجبور کر دیا اور یوں ایک مشہور جگہ کی فروٹ چاٹ کھانے کا پروگرام بن گیا…گاڑی لائق علی چوک کی طرف موڑ دی گئی۔
لائق علی چوک کی فروٹ چاٹ اچھی تو تھی مگر اتنی کچھ خاص نہیں… چٹ پٹی مزیدار باتیں کرتے ہوئے شاید زیادہ اچھی لگی۔
عشاء کی اذان ہو گئی تھی… اس پر کافی دیر بحث ہوتی رہی کہ نماز کہاں پڑھی جائے… پھر فیصلہ ہوا کہ واہ کینٹ کی مرکزی مسجد، المعروف بڑی مسجد میں عشاء پڑھی جائے… وہی جو لاہور کی بادشاہی مسجد کے نقشے پر بنائی گئی ہے!
بس پھر ہمارا چاررکنی قافلہ بڑی مسجد کو چلا… رات میں مخصوص لائٹس میں جامع مسجد کی خوبصورتی اور شان بہت دور سے بھی واضح تھی۔ واقعی اسے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ بادشاہی مسجد کو کسی نے مختصر کر کے لاہور سے اٹھا کر واہ کینٹ میں لا رکھا ہے۔ (جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی شیخ شوخ و مستی
٭٭٭
Comments
Post a Comment