لوسر باؤلی اور انگوروں کے خوشے 6

لوسر باؤلی اور انگور کے خوشے! (سفرنامہ 6)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



عشاء کی نماز مسجد کے بہت بڑے صحن میں جماعت کے ساتھ ادا کی… بڑا لطف آیا۔
نماز کے بعد مرتضیٰ بھائی نے رات کے کھانے کی بات چلائی۔ ہم نے کہا کہ گنجائش تو نہیں ہے، اتنا کچھ کھا لیا ہے…
بلال جھٹ بولا: ٹھیک ہے… ٹھیک ہے…کھانا رہنے دیتے ہیں!
ہم نے اسے گھور کر دیکھا… کیسے کھانے کی بچت کرا رہا تھا کم بخت… اب مہمان جتنا بھی بے تکلف ہو، کبھی تکلف بھی کربیٹھتا ہے… مگر اسے تو گویا بہانہ ملا۔
رات ساڑھے دس بجے گھر پہنچے اور واقعی ہم بغیر ڈنر کے گیارہ بجے بستر پر پہنچا دیے گئے تھے… 🙁
دوسرے دن صبح ناشتہ کر کے ہماری خواہش پر فوراً شیر شاہ پارک کا پروگرام بنا… مرتضیٰ بھائی نے ہمت کی اور گاڑی نکال لی… ان کے دو صاحبزادے بھی ساتھ تھے… ہم خاص طور پر شیر شاہ پارک میں وہ تاریخی باؤلی دیکھنا چاہتے تھے جو شیرشاہ سوری نے بنائی تھی… پارک پہنچ کرابھی ہم نے گاڑی کھلے گیٹ سے اندر ہی کی تھی کہ ایک طرف سے چوکیدار دوڑا چلا آیا۔
’’سرجی! ابھی پارک نہیں کھلا… آج ہفتہ ہے، شام چار بجے تشریف لائیے گا۔‘‘
مرتضیٰ بھائی نے تسلی سے اس کی بات سنی اور اپنے مخصوص میٹھے انداز میں کہنے لگے:
 ’’بھائی! ہمارے مہمان بہت دور سے آئے ہیں… صرف یہ تاریخی باؤلی دیکھنا چاہتے ہیں، شام تک یہ نہیں رکیں گے… بس پانچ منٹ کی بات ہے۔‘‘
حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے وہ بے چارہ شاید کافی حجت کرتا مگر… تب تک زبان کا جادو اس پر چل چکا تھا۔
’’سر جی چلیں دیکھ آئیں… مگر جلدی آئیے گا۔‘‘
ہم جو اس کی بات سن کر تقریباً مایوس ہی ہو چکے تھے، خوش ہو گئے… جلدی جلدی باؤلی کی طرف بڑھے۔
مرتضیٰ بھائی نے بتایا کہ پچیس تیس سال پہلے تک باؤلی کھلی رہتی تھی… لوگ اندر جا کر بھی دیکھ آتے تھے مگر جب عوام نے کچھ ناخوشگوار حرکتیں کیں تو باؤلی کوچاروں طرف سے تاروں سے بند کر دیا گیا۔
ہم ان کی باتیں سن کر پھر اداس ہو گئے اور سوچنے لگے کہ ہمیشہ کچھ لوگوں کی غلط حرکتوں کی وجہ سے اکثریت کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔
تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ لوسر نامی باؤلی اچانک ہمارے سامنے آ گئی… ہم جیسے ہی پھولوں کی ایک کیاری پار کر کے باؤلی کے دروازے کی طرف آئے… بلال اور مرتضیٰ بھائی دونوں حیرت سے اچھل پڑے…
دروازہ کھلا ہوا تھا!
ہم تو خوش سے کھل گئے… مرتضیٰ بھائی نے حیرت سے کہا کہ ہم نے اپنی زندگی میں اسے کھلا ہوا نہیں دیکھا… آج آپ کی برکت سے دیکھ لیا۔
’’ارے بھیا! یہ تو چند کھلی کرامتیں ہیں جونہ چاہتے ہوئے بھی ظاہر ہو گئیں …ڈھیر ساری مخفی کرامتیں تو اہل دل ہی دیکھ سکتے ہیں…‘‘ 😜
 ہم نے عاجزی سے کہا تو وہ دونوں نجانے کیوں ہنس پڑے۔
ہم نے چور نگاہوں سے دور گیٹ پر چوکیدار کی طرف دیکھا اور چپکے سے اس گنبد نما محرابی دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔
475 سال قدیم ایک منظر ہمارے سامنے تھا… دروازے کے ساتھ ہی دونوں اطراف پختہ اینٹوں سے بنے بڑے سے چبوترے تھے… تخیل ایک پل میں ہمیں چار صدیاں پہلے لے گیا۔
 ہم نے دیکھا کہ ان ٹھنڈے چبوتروں پر تشریف فرما مسافر اپنی تھکن اتار رہے ہیں … اور ان کے پیاسے جانور سیڑھیاں اتر کر نیچے بہت گہرائی میں پانی کی سطح کے پاس بنے ہوئے حوض پر پہنچ کر اپنی پیاس بجھا رہے ہیں…
 جی ہاں! 160 فٹ گہری یہ باؤلی جس کا نام لوسر باؤلی تھا، آج کل کے عام کنوؤں کی طرح نہیں ہے… بلکہ اس کی خاص بات مسافروں کے ساتھ ساتھ ان کی سواریوںکے پانی پینے کے لیے بھی خصوصی طور پر بنائی گئی وہ سیڑھیاں ہیں،جن سے ان کے سدھائے ہوئے جانور اتر کر نیچے حوض سے اپنی پیاس بجھایا کرتے تھے۔
بظاہر بوسیدہ اینٹوں سے بنی اس تعمیر میں نئی نسل کے لیے ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی…مگر ہم سے ماضی پسند جوگی تو اس باؤلی پر آسمان سے باتیں کرتی کئی جدید عمارتیں قربان کر دیتے…
ایک دو تصویریں لیں اور فرید خان المعروف شیر شاہ سوری رحمہ اللہ کی روح کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے ہم وہاں سے لوٹ آئے… گاڑی میں بیٹھے تو مولانا اسماعیل ریحان صاحب کی کال آ گئی۔
ان کا گاؤں خالق داد… واہ سے قریب ہی تھا… شاید آدھے گھنٹے کی ڈرائیونگ پر… ظہر کی نمازسے پہلے ہمیں وہاں نکلنا تھا، سو ہم نے گھر واپسی کے لیے گاڑی موڑ لی۔
گھر پہنچے تو جناب عصمت پاشا صاحب نے مولانا اسماعیل ریحان صاحب کے گھر جانے کی بات سن کر ارادہ کیا کہ انہیں گھر کے انگور ہدیۃ بھیجے جائیں… پھر بلال کو کہا کہ سیڑھی چھت سے لے آؤ…
یہ سدا کا سست کہاں جاتا…سو فورا بہانہ بناتے ہوئے کہنے لگا :
’’ابا! فیصل بھائی کے ہاتھ قانون سے بھی لمبے ہیں…یہ تو اسٹول پر چڑھ کر بھی بڑے آرام سے انگور کے خوشے توڑ لیں گے… ویسے بھی یہ انگوروں کے خوشے توڑنے کے شوقین ہیں…‘‘ 😉
ابا جان اپنی سست اولاد کو ڈانٹ پلانا ہی چاہتے تھے کہ ہم نے اس کی جان بخشی کراتے ہوئے خود ہی کہہ دیا کہ جی ہم بیری پر تو پتھر مارتے ہی رہے ہیں، آج انگور وں کے خوشے بھی توڑنے کی کوشش کر لیں گے…
بس پھر کیا تھا…ابا جان نے فورا کٹر منگوایا… اسٹول چھوٹا تھا تو اس کے اوپر دودو کر کے چار اینٹیں رکھیں اور ہمیں دیکھنے لگے…
ہم نے ان کی نگاہوں کا مطلب سمجھا اور چڑھ گئے گھوڑی یعنی اسٹول پر…
لو جی پھر ہم سرکس کے کرتب دکھانے لگے…اینٹوں پر پاؤں ہمارے لڑکھڑاتے رہے…انگوروں کے خوشے ٹوکری میں بھرتے رہے… کبھی اسٹول ہمارا نوے کلو وزن برداشت نہ کرتے ہوئے ہانپتا… تو کبھی ہمارا دل کسی نازک کمر جیسی شاخ پر سجے ہوئے انگوروں کے خوشے پر کٹر چلاتے ہوئے کانپتا…
آہاہاہا… کیا رس سے بھرے سڈول، پکے ہوئے سرخ انگور تھے… سچی بات ہے کہ مزہ ہی آ گیا… توڑتے توڑتے کسی خوشے پردل زیادہ ہی للچا جاتا توہم وہیں اس پر دانت صاف کر دیتے…اور ایک بے حد خو ش ذائقہ شیریں رس ہمارے منھ میں بھر جاتا… 😘
اتنے میں بلال کے ابا جان ہم سے زیادہ جوش میں آ گئے… ہم نے حق مہمانی اداکرتے ہوئے جہاں تک ممکن تھا، سارے خوشے صاف کر دیے تھے… مگر وہ زبان حال سے 'ہل من مزید'… اور زبان قال سے "وہ اوپر… وہ ادھر دیکھیے بس تھوڑا سا ہی اوپر ہے" کہتے جاتے… ہم مرتے کیا نہ کرتے… اچک اچک کر ہاتھ بڑھاتے جاتے… مگر پھر اچانک……… 😣(جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی شیخ شوخ و مستی
٭٭٭

Comments