گاؤں خالق داد میں ایک رات! (سفرنامہ 7)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پھر اچانک… اسٹول لڑکھڑانے لگا… اس پر دھری دو منزلہ اینٹیں ہلنے لگیں اور ان پر کھڑے ہم لرزنے لگے… خطرہ بھانپ کر ہم نے فوراً انگور کی بیل چھوڑی اورصحن میں کھڑے ائیر کولر کو تھامتے ہوئے چھلانگ مار دی… یوں ہم واہ کینٹ کے ہڈی جوڑ ہسپتال کی سیر کرنے سے بال بال بچ گئے!
ہم نے ادھر ادھر دیکھا اور خفت مٹانے کی غرض سے ایک بار پھر نہانے کے لیے غسل خانے میں گھس گئے… واپس آکر انگوروں کے ایک خوشے سے زباں کو تر، دل کو شاد کیا… گاڑی اور مسافر تیار تھے، سو کچھ ہی دیر بعد ہم خالق داد کے لیے نکل چکے تھے۔
گاؤں خالق داد پشاور روڈ پر حسن ابدال سے پندرہ بیس کلومیٹر آگے ہے… وہیں مولانا اسماعیل ریحان صاحب کا مدرسہ تعلیم القرآن اور ان کی رہائش تھی۔
خالق داد پہنچنا بھی ایک کہانی ہے، جسے طوالت کے ڈر سے چھوڑتے ہیں… قصہ مختصر آدھ گھنٹہ گاوں میں خواری کے بعد ہم مولانا کے گھر پہنچ ہی گئے… نماز پڑھ کر پرتکلف کھانا کھایا… کھانے کے دوران میں ہی ہم نے تہہ خانے کا ذکر چھیڑ دیا…
’’مولانا! وہ تہہ خانہ تو دکھائیں جہاں آپ دنیا والوں یعنی بیگم سے چھپ کر تصنیفی کام کرتے ہیں…‘‘
وہ مسکراتے ہوئے ہمیں صحن کے ایک گوشے میں لے چلے… ایک دروازہ کھولا تو نیچے جاتی سیڑھیاں نظر آئیں… سیڑھیوں نے ہمارے قدموں کو بوسہ دیا اور ایک نیم تاریک تہہ خانے میں پہنچا دیا…
ہم سیڑھیاں کیا اترے، یوں لگا ہمارے ساتھ درجہ حرارت بھی اتر گیا ہو… پندرہ بیس سینٹی گریڈ تو ضرور کم ہو گیا ہوگا… ایک خوشگوار ٹھنڈک تھی جس نے ہمارے تپتے بدنوں کو نرمی سے تھپکا…
تین چارپائیاں، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، کاغذ، کتابیں، قلم…
پچھلے چار برس سے اسی گوشہ عافیت میں بیٹھ کر وہ تاریخ کی خبر لیے جا رہے تھے… ہم سب چارپائیوں پر ڈھیر ہو گئے… باتوں کا ایک نیا دور چلا جن میں سنجیدگی کا نام و نشاں بھی نہ تھا، شوخی کا رنگ غالب تھا…
آدھ گھنٹہ، چالیس منٹ کی گپ شپ کے بعد تہہ خانے کی نیم تاریکی اور ٹھنڈک نے گندم اور گوشت سے بھرے پیٹ والوں پر نیند کا نشہ طاری کرنا شروع کر دیا… آنکھیں بوجھل ہونے لگیں تو مولانا بول اٹھے، بھائی باقی باتیں قیلولہ کے بعد… اب کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں…
مرتضیٰ بھائی اور بلال نے مگر تکلف برتا اور واپس جانے کو اٹھ کھڑے ہوئے… ہم انہیں رخصت کرنے کھڑے ہوئے… انہیں رخصت کر کے ابھی بستر پر دوبارہ بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ فرش پر ہمیں ایک عجیب سی شے دکھائی دی…
اس کی ہیئت دیکھ کر کچھ عجیب سا احساس ہوا… ذرا جھک کر دیکھا تو اس شے کو پہچان کر ہم ہکا بکا رہ گئے… آنکھیں حلقے سے ابل پڑیں اور بے ساختہ چیخ ہی نکل جاتی اگر بروقت منہ بند نہ کر لیتے! 😱
زمین پر ایک بتیسی پڑی ہوئی تھی… بالکل اصلی… جیسے کوئی ہنسا ہو اور اس کے منھ سے نکل کر گر پڑی ہو!
’’مم مولانا!…یہ…یہ کیا؟‘‘
انہوں نے جھک کر دیکھا اورگڑبڑا گئے… ’’ارے ہائیں… یہ کم بخت یہاں کیسے؟‘‘
’’آپ… آپ اپنا منھ کھول کر دکھائیں ذرا…‘‘
’’ارے سٹھیا گئے ہو کیا میاں… ابھی تو میں جوان ہوں…ایک وقت میں دو دو اخروٹ دانتوں سے توڑ سکتا ہوں…‘‘
’’ارے چھوڑئیے حضور… ہمیں سب پتا ہے… مگر یہ تو بتائیے، یہ کس کی ہے؟‘‘
’’شاید ہمارے پڑوسی بابا کی ہے… وہی آئے تھے صبح… خیر آپ چھوڑیں اور سونے کی کریں… وقت کم ہے…‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے بتی گل کر دی… اب جو ہم بستر پر دراز ہوئے تو بس پھر عصر کی ہی خبر لائے۔
گھر کے ساتھ ہی مسجد میں باجماعت نماز پڑھ کر ہم دونوں مدرسے کی طرف چل پڑے… گھر جی ٹی روڈ کے دائیں طرف والے گاؤں میں تھا اور بالکل روڈ کے ساتھ ہی… جب کہ مدرسے کے لیے جی ٹی روڈ کراس کر کے اس پار گاؤں خالق داد جانا پڑتا تھا… کم ازکم دو کلومیٹر پیدل کا سفر تھا… مگر کھیت کھلیان اور باغوں کے ساتھ چلتے چلاتے ہمیں پتا ہی نہیں چلا اور مدرسے کا گیٹ آ گیا۔
اس مدرسے کے مہتمم مولانا کے ماموں جناب عمیر صاحب ہیں… مہتمم کیا، مدرسے کے ماں باپ سب کچھ وہی ہیں… پلاٹ لینے سے اس پر تین منزلہ خوبصورت عمارت تعمیر ہونے تک… اورمسجد کی ایک چٹائی سے، اساتذہ کی تنخواہ تک سب انہی کے ذمے ہے۔
طلبہ کی چھٹیاں تھیں۔ اسکول ومدرسہ کا تفصیلی دورہ ہم نے مغرب تک کیا اور سچ مانیے دل خوش ہو گیا… اتنے کم وسائل میں اتنا زبردست نظام… ان کی مشکلات کے لیے زیرلب دعا کی… مغرب سے عشاء تک مولانا سے تفصیلی نشست ہوئی… بہت سارے موضوعات پر بہت ہی اچھی گفتگو رہی… بڑا مزہ آیا… ماضی کی کئی باتیں یاد کر کے لبوں پر گاہے ہنسی بھی پھوٹتی رہی…
عشاء کے بعد گھر سے کھانا آ گیا… کھانا کھا کر مولانا تو گھر چلے گئے۔ صاحبزادے نعمان یہیں رک گئے تا کہ عمارت میں ہمیں تنہا پا کر چڑیلیں نہ چمٹ جائیں!
ابھی ہم لیٹے ہی تھے کہ چڑیلیں تو نہیں… بہت سارے بھوت البتہ ہم سے آ چمٹے… خون آشام ڈریکولا المعروف کم بخت مچھر…
ہم بلبلا اٹھے… دیکھا تو نعمان بھی کئی جگہ سے گھائل زخم سہلا رہا تھا… بس پھر کیا تھا، اپنے اپنے کھٹولے کاندھے پہ اٹھائے ہم چھت پر چلے آئے…
’’اوہ…‘‘
چھت پر آتے ہی ہم مبہوت ہو گئے… جیسے یکایک ہم کسی جادونگری میں آ گئے تھے… اک سحر انگیز منظرہمارے سامنے فلک تا زمیں پھیلا ہوا تھا…!
گاؤں پر رات اپنی تمام تر دلکشی کے ساتھ اتری تھی… ایسے جیسے کوئی مہارانی سیاہ پوشاک پہنے، ستاروں سے بھرا آنچل رخ پر ڈالے بڑے نازوادا سے اپنے سنگھاسن پر آ بیٹھی ہو!
مہارانی کے بے پناہ حسن کی شرابوں سے، آنکھوں کے کٹورے بھرنے کو کینوس بھی بہت بڑا تھا… بہت بڑی کھلی چھت اور دور دور تک کوئی اوٹ کوئی عمارت نہیں… مشرق میں ایستادہ پہاڑیوں کے سیاہ ہیولے… آہستہ خرام چلتی ٹھنڈی مست ہوا… اور… سر پر تنے آسمان کے سیاہ آنچل پر کروڑہا چمکتے دمکتے، کچھ روشن کچھ ٹمٹماتے ستارے…!
اف کتنے عرصے کے بعد آسمان نے ہم پر اپنا آپ یوں عیاں کیا تھا، یوں اپنے بھید کھولے تھے… ہم نے کھٹولے پر لیٹے ہوئے کہکشاؤں کو کسی نترکی کی طرح دیوانہ وار رقصاں دیکھا… جگمگاتے ستاروں کو پھرکی لے کر گھومتے دیکھا…
نعمان تو دس منٹ میں ہی سو گیا… ہم گھنٹہ ڈیڑھ یونہی آسمان کی بے پناہ وسعتوں میں کھوئے رہے… کیا ہی میرے اللہ میاں جی کی قدرت تھی کہ کھربوں میل پہ پھیلا آسمان اربوں سال کا ماضی لیے، ہماری آنکھ میں اتر آیا تھا…!
نہیں معلوم یہ دلنشیں منظر نگاہوں نے کب تک دیکھا… اور نہیں پتا کب ہواؤں نے ہمیں تھپک تھپک کر سلا دیا… ہماری آنکھ تو پھرایک الوہی آواز سے کھلی تھی… آنکھوں کے کنول کھلے تو ہماری سماعتوں میں فجر کی اذان رس گھول رہی تھی… تہ در تہ ظلمتوں میں جیسے نور کا کوئی گلاب کھل رہا تھا…اللہ کی کبریائی، نبی کی رسالت کی گواہی…
ہم اٹھ بیٹھے اور نیچے چلے آئے… نماز کے بعد لائبریری میں ڈیڑھ گھنٹہ گزارا… پھر جب بھوک خوب چمکنے لگی تو کتاب رکھ کر روٹی کی فکر کرنی پڑی… ایک تو اس سفر میں بھوک بھی اپنی تمام سفاکی کے ساتھ ہم پر منکشف ہوئی تھی… ایسی بھوک سے کراچی میں ہم واقف ہی نہیں تھے۔
نعمان بھی تیار کھڑا تھا… ہم دونوں باہر نکلے، تالا لگایا اور گھر کی طرف چل پڑے… سفر کے چوتھے دن کا سورج طلوع ہو رہا تھا… گھر پہنچے تو ناشتہ تیار تھا… خالص دیہاتی ناشتہ… غذائیت اور ذائقے سے بھرپور… ناشتے کے دوران میں ہی دریا پر جانے کا پروگرام بن گیا جو گھر سے پون گھنٹے پیدل کے راستے پر بہتا تھا…
بس پھر فورا ہی نہانے کے کپڑے…صابن، چھتری ، تولیا اور کتوں وغیرہ سے بچاؤ کے لیے ڈنڈے لیے گئے اور تین رکنی قافلہ دریا کا قصد لیے چل پڑا…
ڈھائی تین کلومیٹر کا دشوار گزار کچا رستہ، تیز دھوپ… اور چھتری تانے، اونچے نیچے رستے پر چلتے ہم… کوئل کی کوک اور چہکتے باتیں بناتے، ہنستے ہنساتے ہم … خوش گپیوں میں پتا ہی نہیں چلا کہ کب رستہ کٹ گیا اور پھر اچانک ہی ایک موڑ مڑتے ہی سانپ کی طرح بل کھاتا شور مچاتا دریا ہمارے سامنے آ گیا!
بے حد خوش کن منظر تھا… ہم اوپر تھے، دریا نیچے… اوپرسے ہم نے دیکھا کہ دریا کے کنارے ایک خانہ بدوش عورت کپڑے دھو رہی تھی… اس کے بچے دریا میں مستیاں کر رہے تھے… پانی کافی کم تھا …
ہم نے خاتون سے رخ بدلا اور پہاڑی سے اترتے چلے گئے، پانی قریب ہوتا چلا گیا… پانی کے قریب آتے ہی، پاؤں بھیگتے ہی… سینےمیں کواڑ بند کیے بیٹھا بچہ، یکایک کواڑ کھول کر باہر آ گیا…
ہم تینوں نے بچوں کی طرح کلکاریاں ماریں اور پانی میں گھستے چلے گئے…خوب نہائے… چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ہاتھوں سے پکڑنے کی کوشش کی… نعمان کی خوبصورت آواز میں نظمیں سنی…جھوٹے قصے کہانیاں کہیں سنیں اور بھی بہت کچھ… صبح کے بھاری بھرکم ناشتےکا اب کچھ پتا نہ تھا… ڈیڑھ دو گھنٹے دریا کی موجوں میں موج کر کے جب سب کو بھوک لگنے لگی تو ہم نے دریا کو الوداع کہتے ہوئے واپسی کی راہ پکڑی۔
اسی وقت بلال کا فون آ یا تھا… وہ پنڈی سے تصور کو لے کر سیدھا خالق داد آ رہا تھا… آج اتوار تھا، ہمیں ناران کے لیے بھی نکلنا تھا… ہم نے رفتار تیز کر دی…
اسی وقت میری نگاہ رستے کے بائیں طرف چند فرلانگ دور ایک چٹان پر پڑی… چٹان کے پیچھے سے کسی نے جھانکا تھا اور پھرصاعقہ کی رفتار سے سر چھپا لیا تھا…
’’وہاں… وہاں کوئی ہے …؟‘‘ 😲
ہم نے حیرت سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے زور سے کہا تو سب ادھر متوجہ ہو گئے…(جاری ہے)
بابا ٹنڈوآدمی شیخ شوخ و مستی
٭٭٭



Comments
Post a Comment