حسن ابدال سے نیو بالا کوٹ!(سفرنامہ 8)
٭٭٭٭٭٭٭
محمد فیصل شہزاد
سب ہماری انگلی کی سیدھ میں دیکھ رہے تھے…اگلے ہی پل سب کی ہنسی نکل گئی… وہ چھوٹا سا سر جو ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ہمیں نظر آیا اور پھر چٹان کے پیچھے ہو گیا تھا… ایک نیولے کا تھا…جو اب دوڑتا ہوا اپنے بل کی طرف جا رہا تھا!
اس سرزد ہو جانے والے لطیفے کے مزے لیتے ہوئے ہم تیزی سے آگے بڑھتے چلے گئے… آدھے گھنٹے مسلسل چلتے رہے، تب آبادی نظر آئی… گھر پہنچے تودریا کے پانی کی تازگی ہوا ہو چکی تھی…ہم پسینہ پسینہ ہو چکے تھے… ایک بار شاور سے غسل کرنا ضروری تھا، سو کیا…کھٹی میٹھی باتوں میں مزید ایک گھنٹہ بیت گیا… کچھ دیر کمر سیدھی کرنے کو چارپائی پر دراز ہوئے ہی تھے کہ موبائل پر بیپ ہوئی۔
دیکھا تو بلال کی کال تھی… وہ نیچے سڑک پر پہنچ چکے تھے… مولانا کو ہم نے بتایا اور ہم دونوں گھر سے نکلتے ہی، بس کچھ دیر چلتے ہی… ان کی گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے…
بلال اور تصور گاڑی سے نکل کر یوں والہانہ گلے ملے جیسے برسوں کے بچھڑے ہوئے ہوں… اس محبت کے اظہار پر ہماری انکھیاں بھیگ بھیگ گئیں…
😉 مولانا سے اظہار محبت کر کے وہ دونوں گاڑی میں آ بیٹھے… ہم ڈرائیور بلال کے برابر بیٹھے جب کہ بے غم پیچھے …
چند ہی لمحوں میں گاڑی فراٹے بھرتی حسن ابدال کی طرف دوڑ رہی تھی…حسن ابدال سے ہمیں جوگرز وغیرہ خریدنے تھے…آخر پہاڑوں پر ٹریکنگ بھی تو کرنی تھی…
حسن ابدال پہنچ کر گاڑی سڑک کنارے پارک کی اورلوگوں سے پوچھتے ہوئے حسن ابدال کے بازار میں جا گھسے… ابھی ضروری سامان لے رہے تھے کہ مولانا اسماعیل ریحان صاحب کی کال آ گئی کہ حسن ابدال کے اندرون ابدالی محلہ کی مشہور مسجد کے امام مولانا صفدر صاحب آپ سے ملاقات کے خواہش مند ہیں…ان کا نمبر دے رہا ہوں، ملتے ہوئے جائیے۔
نماز میں وقت بہت کم تھا… جلدی جلدی خریداری کی اور ایک ساتھی کی رہنمائی میں تیزی سے ابدالی محلہ چل پڑے… مسجد پہنچے تو اقامت ہو رہی تھی… امام صاحب اگر مولانا صفدر ہی تھے تو دکھنے میں امام صاحبان سے کافی الگ دکھائی دے رہے تھے… اسمارٹ سے بغیر توند کے… ایک نظر میں مولانا کا پشت سے پوسٹ مارٹم کیا اور تکبیر کہتے ہوئے جماعت میں شامل ہو گئے…
سلام پھیرتے ہی چوں کہ وقت کم تھا ،ہم تیزی سے آگے بڑھے اور مولانا کے قریب ہو کر دھیمی آواز میں اپنا تعارف کروا دیا…
اجی ہمارے نام کا اثردیکھیے کہ ان کے چہرے پر جو اس سے قبل ایک خاص قسم کی مولویانہ بردباری ثبت تھی، یکلخت بے تکلفانہ شگفتگی میں بدل گئی…
😜
وہ بڑی محبت سے ہمارا ہاتھ تھامے صفیں چیرتے ہوئے صحن میں چلے آئے…
معلوم ہوا کہ انہوں نے اسی دن اتوار کے شمارے کا اداریہ "سیاحت وسیلہ راحت" پڑھ کر اسماعیل بھائی کو فون کر دیا تھا کہ آپ کے پاس فیصل بھائی آئیں تو ان کو لے کر ہمارے پاس ضرور تشریف لائیے گا۔
ان کے اخلاص کی برکت کہیے یاحسین اتفاق کہ ہم اس وقت حسن ابدال میں ہی تھے جب انہوں نے ہمیں یاد کیا…
بہرحال اب وہ ہمیں اس دیسی مرغی کے فضائل سنانے لگے جو بقول ان کے ہمارے ہی نصیب سے صبح سویرے ان کے گھر پہنچی تھی… اور انہوں نے مسز کو کہا تھا کہ ضرور آج کوئی مہمان آنے والا ہے…
ہمارے نصیب کی بوٹیاں چوں کہ واہ کینٹ کے ایک گھر میں بھنی جا رہی تھیں… سو ہم نے بہت پیار سے مولانا صفدر کی دیسی مرغی قبول کرنے سے معذرت کر لی… انہوں نے یہ کہہ کر مگر ہمارے دل کو چھو لیا کہ کوئی بات نہیں…آپ وعدہ کریں کہ سفر سے واپسی پرآپ ہمارے ہاں سے ہوتے ہوئے جائیں گے … ہم یہ دیسی مرغی فریز کر ر ہے ہیں!
اس دیسی مرغی پر ہمارا تو نہیں، تصور بے غم کا نام یقینا نقش ہو چکا تھا، تب ہی تو چار دن بعد سہی… ہمیں حسن ابدال دو گھنٹے کے لیے رکنا ہی پڑا!
😍
خیر چار دن بعد کی کہانی چار دن بعد… اس وقت تو مولانا سے رخصت لے کر ہم واہ کینٹ کے لیے نکل گئے۔
واہ پہنچے…ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی…ایک دکان سے رک کر بلال اور ہم نے ٹراؤزر لیے…گھر پہنچے اور دن میں پانچویں بار نہائے… دوپہر کا کھانا 4 بجے کھایا… اب نجانے وہ کھانا ہی بے حد لذیذ تھایا دسترخوان پر تصورہ کی ہم نشینی کا اثر تھا کہ ہم نے بہت کھایا، حتی کہ میٹھا بھی کھا لیا!
کھانے کے بعد تیزی سے پیکنگ مکمل کی… بیگ سنبھالے اور نکل پڑے تین مسافر انجانی راہوں پر…
مین سڑک پر پہنچے اور حسن ابدال موڑ اڈے کے لیے ایک چنگ چی پر بیٹھے…دس منٹ میں اس نے ہمیں وین اڈے پر اتار دیا… مانسہرہ کے لیے وین تیار تھی… ٹکٹ لیے اور وین کے پاس پہنچے… اس وقت ہمیں اپنے ایک ساتھی کی عادت بد کا علم ہوا…
موصوف وین میں پیچھے بیٹھنے کا شوق رکھتے تھے… اس لیے اس نے پیچھے کی سیٹوں پر رومال رکھ دیے… کہتا تھا کہ ہمارے چینوٹ میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ پچھلی سیٹ کے لیے لڑتے ہیں… ہم حیرت سے اسے دیکھا کیے، اس کی بات سنا کیے…ہمارے ہاں تو اس کے الٹ فیشن تھا… ہم توآگے کے لیے کوشش کرتے تھے…اول ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ کے لیے کوشش کی جاتی ، ورنہ پھر آگے کی سیٹوں پر قبضہ کیا جاتا…
پھر اسے سمجھایا کہ بیٹا جی پیچھے لگتے ہیں دھکے… اور مڑتے ہیں گھٹنے…
😣
شکر ہے جلد ہی سمجھ میں آ گیا اور ہم سہولت سے سفر کرنے کے قابل ہوئے…وین چل پڑی… حسن ابدال سے ہری پور… ہری پورسے حویلیاں…
ایک سنگ میل پر حویلیاں پڑھ کر یکایک ہمیں یاد آیا کہ شاہراہِ قراقرم کا آغاز یہیں سے تو ہوتا ہے… حویلیاں سے کاشغر…بارہ سو کلومیٹر ایک ایسی شاہراہ جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہاگیا… اور سچ ہے کہ غلط نہیں کہا گیا… وہ خوش قسمت احباب جنہیں اس شاہراہ پر آغاز سے انجام تک سفر کا تجربہ ہوا ہے ، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ شاہراہ دراصل کیا ہے؟!
ایک یورپی سیاح مارک فیلٹن راولپنڈی سے گلگت کے لیے روانہ ہوا… اس نے سفر کا آغاز رات کو کیا تھا، لہٰذا بشّام تک کاسفر سوتے ہوئے گذر گیا… صبح کی روشنی پھیلی تو اس نے شاہراہ کا اصل روپ دیکھا… اس نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا:
’’دن کے وقت مجھے شاہراہِ قراقرم کی ہیبت اور ہولناکی کا اصل اندازہ ہوا… اس کے خطرناک موڑ،گہرائی میں بہتا ہوا دریا اور گہری گھاٹیاں یہ تاثر چھوڑتے ہیں کہ اس سڑک کو بنانے والے اور اس پر ڈرائیونگ کرنے والے سب عقل سے عاری ہوں گے… کوئی صحیح الدماغ شخص اس جغرافیائی لینڈ سکیپ پر سڑک تعمیر کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا! ‘‘
یہی وہ قدیم شاہراہ ہے جسے کلاسکل ادب میں شاہراہ ریشم کہا جاتا تھا…شاہراہ ریشم نے شاہراہ قراقرم کا روپ مگر اتنی آسانی سے نہیں اوڑھ لیا تھا…810 پاکستانی اور92چینی کارکنوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا…دو کروڑ ستر لاکھ بارودی دھماکے کیے گئے… آٹھ سو ٹن بارود، اسی ہزار ٹن ڈیزل وپٹرول، پینتیس ہزار ٹن تارکول اور اسی ہزار ٹن سیمنٹ استعمال ہوا… تب یہ عجوبہ روزگار شاہراہ وجود میںآئی…!
ہم پاکستانیوں کو عموماً اپنے ملک پرقدرت کی ان عظیم نوازشات کا علم ہے نہ ہی تجسس ہے جن سے ہمارا ملک مالا مال ہے اور جن کے مجموعے سے دنیا کے نوے فیصد ممالک محروم ہیں … آپ اپنے دوستوں کو، رشتے داروں کو بڑے اشتیاق سے ان مقامات کے متعلق بتانا شروع کرتے ہیں مگر ان کے چہروں پر بیزاری کے تاثرات دیکھ کر آپ کو بات سمیٹنا پڑتی ہے… اور پھر سے سیاست پر بات شروع کرنی پڑتی ہے… سیاست اب چاہے وہ ملک کی ہو یا گھروں کی! دنیا بھر سے مگر لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور کھلے دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں… ڈاکومینٹری بناتے ہیں… کتابیں لکھتے ہیں… فیچر اور مقالے لکھتے ہیں…
خیر بات کہیں اور نکل جائے گی…ابھی تو ہم حویلیاں سے مانسہرہ کی طرف رواں دواں وین کی طرف چلتے ہیں…
وین کافی تیز رفتاری سے حویلیاں سے ایبٹ آباد کے قریب پہنچی تھی مگرایبٹ آباد کے آثار ظاہر ہوتے ہی آہستہ آہستہ اس کی رفتار کم ہوتے ہوتے چیونٹی کی رفتار سے رینگنے پر آ گئی… ٹریفک جام تھا اور بدترین جام تھا…
حسن ابدال تا مانسہرہ سفر کا ایک نہایت اذیت ناک حصہ شروع ہو گیا تھا… عصر میں ہم ٹریفک جام میں پھنسے… اور دس منٹ کا سفر ہم نے گھنٹے بھر میں کیا…بڑی مشکل سے ایبٹ آباد پہنچے تو مغرب کا وقت ختم ہونے والا تھا… ایک مسجد کے پاس وین رکوا کر ہم نے جلدی سے مغرب کے فرض ادا کیے اور اللہ کا شکر ادا کیا…
آج رات ہمارا قیام مانسہرہ سے بارہ کلومیٹر آگے نیو بالا کوٹ میں فیس بک کے ایک مشہور دانشور کے پاس تھا…ایسے دانشور جو اپنی دانش سے زیادہ اپنی نہایت متنازع پوسٹس کی وجہ سے زیادہ مشہور تھے!
😀
وہ ہم سے مسلسل رابطے میں تھے …شام ساڑھے چار بجے سے شروع ہونے والا ہمارا سفر… ڈھائی گھنٹے تاخیر سے تقریباًسوا دس بجے مانسہرہ نیازی اڈے پر ختم ہوا…
نیازی اڈے پر پہنچنے سے قبل مگر ہمارے سینے میں اتھل پتھل سی ہونے لگی تھی…وہ کیسا دکھتا ہو گا جس سے ہمارے بڑے جھگڑے بھی ہوئے… اور جس کے لیے ہم دوسروں سے کئی بار جھگڑے بھی…وین ڈرائیور نے کہا:
’’لو جی آ گیا تمہارا نیازی اڈہ…!‘‘
ہم وین سے اترے تودانشور اپنی گاڑی لیے وہاں پہلے سے موجود تھا…بلال کی وہ فرینڈ لسٹ میں نہیں تھے نہ ہی وہ ان کی "شیطانی" امیج سے واقف تھے… سو وہ تو نارمل رہا مگر… تصور ہ اور ہمارا… ہم دونوں کا اس کو دیکھ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا…ہمارے تصورات سے وہ بالکل ہی الگ تھا… قدکاٹھ الگ… جثہ اور ہڈی پسلی الگ… چہرہ الگ… اور چہرے پر کھیلتی نرم مسکراہٹ الگ!
’’اوہ…یہ…یہ ہے وہ…؟!‘‘
😱
لمحوں میں اس کی چار سالہ پوسٹس اور امیج ذہن میں دوڑ گیا۔
تصور ہ نے ہمیں اور ہم نے اسے دیکھا… ادھر دانشور صاحب والہانہ ہاتھ کشادہ کیے ہماری طرف بڑھ رہے تھے! (جاری ہے)
٭٭٭٭٭٭٭
محمد فیصل شہزاد
سب ہماری انگلی کی سیدھ میں دیکھ رہے تھے…اگلے ہی پل سب کی ہنسی نکل گئی… وہ چھوٹا سا سر جو ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ہمیں نظر آیا اور پھر چٹان کے پیچھے ہو گیا تھا… ایک نیولے کا تھا…جو اب دوڑتا ہوا اپنے بل کی طرف جا رہا تھا!
اس سرزد ہو جانے والے لطیفے کے مزے لیتے ہوئے ہم تیزی سے آگے بڑھتے چلے گئے… آدھے گھنٹے مسلسل چلتے رہے، تب آبادی نظر آئی… گھر پہنچے تودریا کے پانی کی تازگی ہوا ہو چکی تھی…ہم پسینہ پسینہ ہو چکے تھے… ایک بار شاور سے غسل کرنا ضروری تھا، سو کیا…کھٹی میٹھی باتوں میں مزید ایک گھنٹہ بیت گیا… کچھ دیر کمر سیدھی کرنے کو چارپائی پر دراز ہوئے ہی تھے کہ موبائل پر بیپ ہوئی۔
دیکھا تو بلال کی کال تھی… وہ نیچے سڑک پر پہنچ چکے تھے… مولانا کو ہم نے بتایا اور ہم دونوں گھر سے نکلتے ہی، بس کچھ دیر چلتے ہی… ان کی گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے…
بلال اور تصور گاڑی سے نکل کر یوں والہانہ گلے ملے جیسے برسوں کے بچھڑے ہوئے ہوں… اس محبت کے اظہار پر ہماری انکھیاں بھیگ بھیگ گئیں…
چند ہی لمحوں میں گاڑی فراٹے بھرتی حسن ابدال کی طرف دوڑ رہی تھی…حسن ابدال سے ہمیں جوگرز وغیرہ خریدنے تھے…آخر پہاڑوں پر ٹریکنگ بھی تو کرنی تھی…
حسن ابدال پہنچ کر گاڑی سڑک کنارے پارک کی اورلوگوں سے پوچھتے ہوئے حسن ابدال کے بازار میں جا گھسے… ابھی ضروری سامان لے رہے تھے کہ مولانا اسماعیل ریحان صاحب کی کال آ گئی کہ حسن ابدال کے اندرون ابدالی محلہ کی مشہور مسجد کے امام مولانا صفدر صاحب آپ سے ملاقات کے خواہش مند ہیں…ان کا نمبر دے رہا ہوں، ملتے ہوئے جائیے۔
نماز میں وقت بہت کم تھا… جلدی جلدی خریداری کی اور ایک ساتھی کی رہنمائی میں تیزی سے ابدالی محلہ چل پڑے… مسجد پہنچے تو اقامت ہو رہی تھی… امام صاحب اگر مولانا صفدر ہی تھے تو دکھنے میں امام صاحبان سے کافی الگ دکھائی دے رہے تھے… اسمارٹ سے بغیر توند کے… ایک نظر میں مولانا کا پشت سے پوسٹ مارٹم کیا اور تکبیر کہتے ہوئے جماعت میں شامل ہو گئے…
سلام پھیرتے ہی چوں کہ وقت کم تھا ،ہم تیزی سے آگے بڑھے اور مولانا کے قریب ہو کر دھیمی آواز میں اپنا تعارف کروا دیا…
اجی ہمارے نام کا اثردیکھیے کہ ان کے چہرے پر جو اس سے قبل ایک خاص قسم کی مولویانہ بردباری ثبت تھی، یکلخت بے تکلفانہ شگفتگی میں بدل گئی…
وہ بڑی محبت سے ہمارا ہاتھ تھامے صفیں چیرتے ہوئے صحن میں چلے آئے…
معلوم ہوا کہ انہوں نے اسی دن اتوار کے شمارے کا اداریہ "سیاحت وسیلہ راحت" پڑھ کر اسماعیل بھائی کو فون کر دیا تھا کہ آپ کے پاس فیصل بھائی آئیں تو ان کو لے کر ہمارے پاس ضرور تشریف لائیے گا۔
ان کے اخلاص کی برکت کہیے یاحسین اتفاق کہ ہم اس وقت حسن ابدال میں ہی تھے جب انہوں نے ہمیں یاد کیا…
بہرحال اب وہ ہمیں اس دیسی مرغی کے فضائل سنانے لگے جو بقول ان کے ہمارے ہی نصیب سے صبح سویرے ان کے گھر پہنچی تھی… اور انہوں نے مسز کو کہا تھا کہ ضرور آج کوئی مہمان آنے والا ہے…
ہمارے نصیب کی بوٹیاں چوں کہ واہ کینٹ کے ایک گھر میں بھنی جا رہی تھیں… سو ہم نے بہت پیار سے مولانا صفدر کی دیسی مرغی قبول کرنے سے معذرت کر لی… انہوں نے یہ کہہ کر مگر ہمارے دل کو چھو لیا کہ کوئی بات نہیں…آپ وعدہ کریں کہ سفر سے واپسی پرآپ ہمارے ہاں سے ہوتے ہوئے جائیں گے … ہم یہ دیسی مرغی فریز کر ر ہے ہیں!
اس دیسی مرغی پر ہمارا تو نہیں، تصور بے غم کا نام یقینا نقش ہو چکا تھا، تب ہی تو چار دن بعد سہی… ہمیں حسن ابدال دو گھنٹے کے لیے رکنا ہی پڑا!
خیر چار دن بعد کی کہانی چار دن بعد… اس وقت تو مولانا سے رخصت لے کر ہم واہ کینٹ کے لیے نکل گئے۔
واہ پہنچے…ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی…ایک دکان سے رک کر بلال اور ہم نے ٹراؤزر لیے…گھر پہنچے اور دن میں پانچویں بار نہائے… دوپہر کا کھانا 4 بجے کھایا… اب نجانے وہ کھانا ہی بے حد لذیذ تھایا دسترخوان پر تصورہ کی ہم نشینی کا اثر تھا کہ ہم نے بہت کھایا، حتی کہ میٹھا بھی کھا لیا!
کھانے کے بعد تیزی سے پیکنگ مکمل کی… بیگ سنبھالے اور نکل پڑے تین مسافر انجانی راہوں پر…
مین سڑک پر پہنچے اور حسن ابدال موڑ اڈے کے لیے ایک چنگ چی پر بیٹھے…دس منٹ میں اس نے ہمیں وین اڈے پر اتار دیا… مانسہرہ کے لیے وین تیار تھی… ٹکٹ لیے اور وین کے پاس پہنچے… اس وقت ہمیں اپنے ایک ساتھی کی عادت بد کا علم ہوا…
موصوف وین میں پیچھے بیٹھنے کا شوق رکھتے تھے… اس لیے اس نے پیچھے کی سیٹوں پر رومال رکھ دیے… کہتا تھا کہ ہمارے چینوٹ میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ پچھلی سیٹ کے لیے لڑتے ہیں… ہم حیرت سے اسے دیکھا کیے، اس کی بات سنا کیے…ہمارے ہاں تو اس کے الٹ فیشن تھا… ہم توآگے کے لیے کوشش کرتے تھے…اول ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ کے لیے کوشش کی جاتی ، ورنہ پھر آگے کی سیٹوں پر قبضہ کیا جاتا…
پھر اسے سمجھایا کہ بیٹا جی پیچھے لگتے ہیں دھکے… اور مڑتے ہیں گھٹنے…
شکر ہے جلد ہی سمجھ میں آ گیا اور ہم سہولت سے سفر کرنے کے قابل ہوئے…وین چل پڑی… حسن ابدال سے ہری پور… ہری پورسے حویلیاں…
ایک سنگ میل پر حویلیاں پڑھ کر یکایک ہمیں یاد آیا کہ شاہراہِ قراقرم کا آغاز یہیں سے تو ہوتا ہے… حویلیاں سے کاشغر…بارہ سو کلومیٹر ایک ایسی شاہراہ جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہاگیا… اور سچ ہے کہ غلط نہیں کہا گیا… وہ خوش قسمت احباب جنہیں اس شاہراہ پر آغاز سے انجام تک سفر کا تجربہ ہوا ہے ، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ شاہراہ دراصل کیا ہے؟!
ایک یورپی سیاح مارک فیلٹن راولپنڈی سے گلگت کے لیے روانہ ہوا… اس نے سفر کا آغاز رات کو کیا تھا، لہٰذا بشّام تک کاسفر سوتے ہوئے گذر گیا… صبح کی روشنی پھیلی تو اس نے شاہراہ کا اصل روپ دیکھا… اس نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا:
’’دن کے وقت مجھے شاہراہِ قراقرم کی ہیبت اور ہولناکی کا اصل اندازہ ہوا… اس کے خطرناک موڑ،گہرائی میں بہتا ہوا دریا اور گہری گھاٹیاں یہ تاثر چھوڑتے ہیں کہ اس سڑک کو بنانے والے اور اس پر ڈرائیونگ کرنے والے سب عقل سے عاری ہوں گے… کوئی صحیح الدماغ شخص اس جغرافیائی لینڈ سکیپ پر سڑک تعمیر کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا! ‘‘
یہی وہ قدیم شاہراہ ہے جسے کلاسکل ادب میں شاہراہ ریشم کہا جاتا تھا…شاہراہ ریشم نے شاہراہ قراقرم کا روپ مگر اتنی آسانی سے نہیں اوڑھ لیا تھا…810 پاکستانی اور92چینی کارکنوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا…دو کروڑ ستر لاکھ بارودی دھماکے کیے گئے… آٹھ سو ٹن بارود، اسی ہزار ٹن ڈیزل وپٹرول، پینتیس ہزار ٹن تارکول اور اسی ہزار ٹن سیمنٹ استعمال ہوا… تب یہ عجوبہ روزگار شاہراہ وجود میںآئی…!
ہم پاکستانیوں کو عموماً اپنے ملک پرقدرت کی ان عظیم نوازشات کا علم ہے نہ ہی تجسس ہے جن سے ہمارا ملک مالا مال ہے اور جن کے مجموعے سے دنیا کے نوے فیصد ممالک محروم ہیں … آپ اپنے دوستوں کو، رشتے داروں کو بڑے اشتیاق سے ان مقامات کے متعلق بتانا شروع کرتے ہیں مگر ان کے چہروں پر بیزاری کے تاثرات دیکھ کر آپ کو بات سمیٹنا پڑتی ہے… اور پھر سے سیاست پر بات شروع کرنی پڑتی ہے… سیاست اب چاہے وہ ملک کی ہو یا گھروں کی! دنیا بھر سے مگر لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور کھلے دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں… ڈاکومینٹری بناتے ہیں… کتابیں لکھتے ہیں… فیچر اور مقالے لکھتے ہیں…
خیر بات کہیں اور نکل جائے گی…ابھی تو ہم حویلیاں سے مانسہرہ کی طرف رواں دواں وین کی طرف چلتے ہیں…
وین کافی تیز رفتاری سے حویلیاں سے ایبٹ آباد کے قریب پہنچی تھی مگرایبٹ آباد کے آثار ظاہر ہوتے ہی آہستہ آہستہ اس کی رفتار کم ہوتے ہوتے چیونٹی کی رفتار سے رینگنے پر آ گئی… ٹریفک جام تھا اور بدترین جام تھا…
حسن ابدال تا مانسہرہ سفر کا ایک نہایت اذیت ناک حصہ شروع ہو گیا تھا… عصر میں ہم ٹریفک جام میں پھنسے… اور دس منٹ کا سفر ہم نے گھنٹے بھر میں کیا…بڑی مشکل سے ایبٹ آباد پہنچے تو مغرب کا وقت ختم ہونے والا تھا… ایک مسجد کے پاس وین رکوا کر ہم نے جلدی سے مغرب کے فرض ادا کیے اور اللہ کا شکر ادا کیا…
آج رات ہمارا قیام مانسہرہ سے بارہ کلومیٹر آگے نیو بالا کوٹ میں فیس بک کے ایک مشہور دانشور کے پاس تھا…ایسے دانشور جو اپنی دانش سے زیادہ اپنی نہایت متنازع پوسٹس کی وجہ سے زیادہ مشہور تھے!
وہ ہم سے مسلسل رابطے میں تھے …شام ساڑھے چار بجے سے شروع ہونے والا ہمارا سفر… ڈھائی گھنٹے تاخیر سے تقریباًسوا دس بجے مانسہرہ نیازی اڈے پر ختم ہوا…
نیازی اڈے پر پہنچنے سے قبل مگر ہمارے سینے میں اتھل پتھل سی ہونے لگی تھی…وہ کیسا دکھتا ہو گا جس سے ہمارے بڑے جھگڑے بھی ہوئے… اور جس کے لیے ہم دوسروں سے کئی بار جھگڑے بھی…وین ڈرائیور نے کہا:
’’لو جی آ گیا تمہارا نیازی اڈہ…!‘‘
ہم وین سے اترے تودانشور اپنی گاڑی لیے وہاں پہلے سے موجود تھا…بلال کی وہ فرینڈ لسٹ میں نہیں تھے نہ ہی وہ ان کی "شیطانی" امیج سے واقف تھے… سو وہ تو نارمل رہا مگر… تصور ہ اور ہمارا… ہم دونوں کا اس کو دیکھ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا…ہمارے تصورات سے وہ بالکل ہی الگ تھا… قدکاٹھ الگ… جثہ اور ہڈی پسلی الگ… چہرہ الگ… اور چہرے پر کھیلتی نرم مسکراہٹ الگ!
’’اوہ…یہ…یہ ہے وہ…؟!‘‘
لمحوں میں اس کی چار سالہ پوسٹس اور امیج ذہن میں دوڑ گیا۔
تصور ہ نے ہمیں اور ہم نے اسے دیکھا… ادھر دانشور صاحب والہانہ ہاتھ کشادہ کیے ہماری طرف بڑھ رہے تھے! (جاری ہے)


Comments
Post a Comment