اہل کتاب کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت پر ایمان لائے بغیر جنت میں جانا
تحریر مفتی عزیز الرحمان
پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خاتمہ کے لیے عظمت کی ستارہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کے انتقال پر ایک صاحب نے یوں کہا:
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اللہ تعالی محترمہ کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے، کہ یہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ {البقرہ 62)
اس پر میں نے عرض کیا کہ اس بارے میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں
سورہ البقرۃ آیت نمبر 62
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾
ترجمہ:
حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا نصرانی یا صابی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے وہ اللہ کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے اور ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے (٤٨)
تفسیر:
48: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی نافرمانیوں کے تذکرے کے بیچ میں یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک باطل گھمنڈ کی تردید کے لئے آئی ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف انہی کی نسل اللہ کے منتخب اور لاڈلے بندوں پر مشتمل ہے، ان کے خاندان سے باہر کا کوئی آدمی اللہ کے انعامات کا مستحق نہیں ہے، (آج بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ ہے، اسی لئے یہودی مذہب ایک نسل پرست مذہب ہے اور اس نسل کے باہر کا کوئی شخص یہودی مذہب اختیار کرنا بھی چاہے تو اختیار کر ہی نہیں سکتا، یا ان کے حقوق کا مستحق نہیں ہوسکتا جو ایک نسلی یہودی کو حاصل ہیں) اس آیت میں واضح فرمایا کہ حق کسی ایک نسل میں محدود نہیں ہے، اصل اہمیت ایمان اور نیک عمل کو حاصل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور عمل صالح کی بنیادی شرطیں پوری کردے گا خواہ وہ پہلے کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو اللہ کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا، یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ عرب میں کچھ ستارہ پرست لوگ رہتے تھے جنہیں صابی کہا جاتا تھا اس لئے ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ پر ایمان لانے میں اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے، لہذا نجات پانے کے لئے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ؛ چنانچہ پیچھے آیت ٤٠۔ ٤١ میں اسی لئے تمام بنی اسرائیل کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید دیکھئے قرآن کریم کی آیات ٥: ٦٥ تا ٦٨، ٧: ١٥٥ تا ١٥٧۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
https://goo.gl/2ga2EU
مزید بندہ نے کہا:
خدا کا نام مانا کرو!
قوم کو گمراہ نہ کیا کرو!
اگر نجات کے لیے اور جنت کے لیے ایمان بالرسالة کی ضرورت ہی نہیں تو اسلام کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے؟
جب ایمان بمحمد صلی اللہ علیہ و سلم ہی زائد چیز ہے تو عقیدہ ختم نبوت کہاں رہ گیا!
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ عالم تورات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی نشانیاں دیکھنے اور ایمان لانے کی کیا ضرورت تھی؟
یہود جو منافقین تھے جو صرف زبانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو نبی مانتے تھے. قرآن کو انہیں منافق کہنے کی ضرورت تھی اور اللہ تعالٰی نے پوری سورت المنافقون کس لیے نازل فرمائی؟
قرآن پاک میں جا بجا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول کس کے لیے ہے؟
جنت متقین کے لیے ہے.
جہنم کافروں کے لیے ہے.
سورت البقرہ کی ابتدائی آیات دیکھ لی جائیں کہ متقین کی صفات کیا ہیں؟
صرف ایک آیت کو دیکھ کر باقی سارا قرآن چھوڑ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے ترک کرکے اپنا من پسند فیصلہ قرآن سے ثابت کرنے کو آپ ہدایت کا نام دیں گے؟
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ قرآن میں آتا ہے نماز کے قریب نہ جاؤ اور آگے پیچھے قرآنی آیات نہ پڑھے اور کہے نماز کی ضرورت نہیں. ایسے شخص کو لوگ صحیح العقل مشکل سے مانیں گے!
اس لیے میرے بھائی!
مستشرقین کی پٹی نہ پڑھا کریں بل کہ کسی ثقہ عالم سے پوچھ لیا کریں!
قرآن کریم میں تو ان لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فیصلہ قبول کرکے دل سے راضی نہ ہوجائیں انہیں بھی مؤمن نہیں کہا گیا تم تو سرے سے ایمان بالرسالة کے منکر کر جنت پہنچا رہے ہو!
کچھ خیال کیا کرو!
تحریر مفتی عزیز الرحمان
پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خاتمہ کے لیے عظمت کی ستارہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کے انتقال پر ایک صاحب نے یوں کہا:
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اللہ تعالی محترمہ کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے، کہ یہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ {البقرہ 62)
اس پر میں نے عرض کیا کہ اس بارے میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں
سورہ البقرۃ آیت نمبر 62
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾
ترجمہ:
حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا نصرانی یا صابی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے وہ اللہ کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے اور ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے (٤٨)
تفسیر:
48: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی نافرمانیوں کے تذکرے کے بیچ میں یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک باطل گھمنڈ کی تردید کے لئے آئی ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف انہی کی نسل اللہ کے منتخب اور لاڈلے بندوں پر مشتمل ہے، ان کے خاندان سے باہر کا کوئی آدمی اللہ کے انعامات کا مستحق نہیں ہے، (آج بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ ہے، اسی لئے یہودی مذہب ایک نسل پرست مذہب ہے اور اس نسل کے باہر کا کوئی شخص یہودی مذہب اختیار کرنا بھی چاہے تو اختیار کر ہی نہیں سکتا، یا ان کے حقوق کا مستحق نہیں ہوسکتا جو ایک نسلی یہودی کو حاصل ہیں) اس آیت میں واضح فرمایا کہ حق کسی ایک نسل میں محدود نہیں ہے، اصل اہمیت ایمان اور نیک عمل کو حاصل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور عمل صالح کی بنیادی شرطیں پوری کردے گا خواہ وہ پہلے کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو اللہ کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا، یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ عرب میں کچھ ستارہ پرست لوگ رہتے تھے جنہیں صابی کہا جاتا تھا اس لئے ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ پر ایمان لانے میں اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے، لہذا نجات پانے کے لئے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ؛ چنانچہ پیچھے آیت ٤٠۔ ٤١ میں اسی لئے تمام بنی اسرائیل کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید دیکھئے قرآن کریم کی آیات ٥: ٦٥ تا ٦٨، ٧: ١٥٥ تا ١٥٧۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
https://goo.gl/2ga2EU
مزید بندہ نے کہا:
خدا کا نام مانا کرو!
قوم کو گمراہ نہ کیا کرو!
اگر نجات کے لیے اور جنت کے لیے ایمان بالرسالة کی ضرورت ہی نہیں تو اسلام کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے؟
جب ایمان بمحمد صلی اللہ علیہ و سلم ہی زائد چیز ہے تو عقیدہ ختم نبوت کہاں رہ گیا!
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ عالم تورات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی نشانیاں دیکھنے اور ایمان لانے کی کیا ضرورت تھی؟
یہود جو منافقین تھے جو صرف زبانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو نبی مانتے تھے. قرآن کو انہیں منافق کہنے کی ضرورت تھی اور اللہ تعالٰی نے پوری سورت المنافقون کس لیے نازل فرمائی؟
قرآن پاک میں جا بجا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول کس کے لیے ہے؟
جنت متقین کے لیے ہے.
جہنم کافروں کے لیے ہے.
سورت البقرہ کی ابتدائی آیات دیکھ لی جائیں کہ متقین کی صفات کیا ہیں؟
صرف ایک آیت کو دیکھ کر باقی سارا قرآن چھوڑ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے ترک کرکے اپنا من پسند فیصلہ قرآن سے ثابت کرنے کو آپ ہدایت کا نام دیں گے؟
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ قرآن میں آتا ہے نماز کے قریب نہ جاؤ اور آگے پیچھے قرآنی آیات نہ پڑھے اور کہے نماز کی ضرورت نہیں. ایسے شخص کو لوگ صحیح العقل مشکل سے مانیں گے!
اس لیے میرے بھائی!
مستشرقین کی پٹی نہ پڑھا کریں بل کہ کسی ثقہ عالم سے پوچھ لیا کریں!
قرآن کریم میں تو ان لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فیصلہ قبول کرکے دل سے راضی نہ ہوجائیں انہیں بھی مؤمن نہیں کہا گیا تم تو سرے سے ایمان بالرسالة کے منکر کر جنت پہنچا رہے ہو!
کچھ خیال کیا کرو!

Comments
Post a Comment