ایک اور ایک گیارہ


'ایک اور ایک گیارہ'

ساجدہ غلام محمد. مانچسٹر

"چلو بھئی بھتیجے! نکلو ادھر سے." ظفر اور اس کے چاچو گوشت کے تھیلے اٹھائے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک چاچو نے ٹھٹک کر رکتے ہوئے کہا. ظفر نے حیرت سے ان کی جانب اور پھر ان کی نظروں کے تعاقب میں بائیں جانب دیکھا. کچھ ہی فاصلے پر ایک بڑے سے ٹرالر کے نیچے بیٹھا کتا انہی کی جانب دیکھ رہا تھا.

"چاچو! آپ اس کتے سے ڈر رہے ہیں؟؟ کل ہی تو آپ کہہ رہے تھے کہ ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں. "

" ایک اور ایک گیارہ تب ہوتے ہیں جب سامنے والی پارٹی بھی انسانوں کی ہی ہو، کتے کے سامنے ایک اور ایک گیارہ والے محاورے سے نو دو گیارہ والا محاورہ زیادہ کام کا ہے. "

" ڈر رہے ہیں چاچو؟؟ "ظفر نے شرارت سے ہنستے ہوئے چاچو کو چھیڑا.

" بیٹا جی! نہ تم دوڑ کی ریس کے چیمپئن، نہ میں کراٹے کا ماہر... ڈرنا بنتا ہی ہے....اوہ مارے گئے... " چاچو کے منہ سے اچانک نکلا. کتا ان کے ہاتھوں میں موجود گوشت کی بو پا کر اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اب ان کی طرف آیا ہی چاہتا تھا.

" کچھ نہیں ہوتا چاچو. آرام سے چلتے جاتے ہیں. ابو کہتے ہیں کہ 'کتا اس وقت تک کتا نہیں بنتا جب تک اسے خود سے چھیڑا نہ جائے.'" ظفر نے قدم آگے اور چاچو نے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے.

"او بھتیجے، کیا پتا اس کتے نے تمہارے ابو کا قول نہ سنا ہو اور چھیڑے بنا ہی کتا بن جائے! میں نے ٹیکے نہیں لگوانے بچُو. میں تو اس گلی سے جا رہا ہوں. تم نے کتے کے سامنے سے ہی گزرنا ہے تو شوق سے." کتا اب دم ہلاتا ہوا ان کی طرف آ رہا تھا.

"چاچو ! اسے ایک بوٹی ڈال دوں؟ گوشت پر ہی آ رہا ہو گا ورنہ ہم دونوں کے اندر تو اتنا گوشت نہیں ہے. "ظفر پھر ہنسا.

"چلو،دیکھو ڈال کر." چاچو نیم رضامند ہوئے تو طفر نے جلدی سے شاپر کھول کر ایک بوٹی نکالی اور کتے کی طرف پھینک دی. کتا فوراً بوٹی پر لپکا تھا. اچانک ہی ایک عجیب بات ہوئی، نجانے کدھر سے ایک اور کتا آ گیا اور اب وہ بھی دم ہلا کر ظفر اور چاچو کی جانب دیکھ رہا تھا.

"لو بھئی، یک نہ شد، دو شد! "چاچو کے منہ سے بے اختیار نکلا.

" چاچو جی! بھاگنا ہی پڑے گا. تین کتے اور ہماری طرف آ رہے ہیں. اس طرح تو سارا گوشت یہی ہڑپ کر جائیں گے! " ظفر نے گھبرا کر کہا تھا.

" میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا! " چاچو نے بھی دونوں ہاتھوں میں گوشت کے لفافے سنبھالتے ہوئےپتلی گلی کی طرف دوڑ لگا دی. پانچوں کتے بھونکتے ہوئے ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے.

" وہ... اسکول کی دیوار!! اس پر چڑھ جاتے ہیں. "ظفر نے ایک طرف اشارہ کیا تھا. دونوں بھاگتے ہوئے دیوار تک پہنچ گئے لیکن آرمی سکول پشاور والے واقعے کے بعد گورنمنٹ نے سارے اسکولوں کی دیواریں اونچی کروا دی تھیں.

" تم میرے کندھے پر چڑھ کر اوپر پہنچو، پھر مجھے بھی کھینچ لینا. "چاچو نے مڑ کر دیکھا. کتے ان سے کچھ ہی دور تھے. ظفر جلدی سے ان کے کندھے پر چڑھ کر دیوار تک پہنچا، گوشت کے تھیلوں کو کسی طرح سنبھالا اور چاچو کو بھی اوپر کی جانب کھینچ لیا. اُدھر چاچو دیوار کے اوپر پہنچے ، اِدھر کتے دیوار کے نیچے.

" بال بال بچ گئے! " ظفر نے ہانپتے ہوئے کہا تھا.

" آ جاؤ بھئی، ہمیں لے جاؤ اسکول کی دیوارکے اوپر سے. کتے پیچھے لگ گئے تھے. " چاچو نے کچھ منٹ اوسان بحال کرنے کے بعد گھر فون کر کے کہا تھا.

" ویسے چاچو! آج ثابت ہوا کہ ایک اور ایک گیارہ ہی ہوتے ہیں. آپ مجھے سہارا نہ دیتے تو میں دیوار پر کیسے چڑھتا؟؟ اور میں دیوار پر چڑھ کر آپ کو نہ کھینچتا تو؟؟ "

" ہاہاہا! "چاچو نے قہقہہ لگایا." ہاں بھئی، نودو گیارہ ہوتے ہوئے ایک اور ایک گیارہ بن گئے! " دونوں چاچو بھتیجا اسکول کی دیوار پر چڑھے بیٹھے، ہنستے ہوئے باتیں کر رہے تھے اور نیچے کتے دیر تک بھونکنے کے بعد اب تھک کر واپس جانے کا ارادہ کر رہے تھے!

Comments