نیو بالا کوٹ کا ایک اسپتال






نیوبالا کوٹ کا ایک اسپتال! (سفرنامہ افلاطون 9)
محمد فیصل شہزاد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم حیرت کا بت بنے کھڑے تھے کہ دانشورصاحب، فیصل بھائی کہہ کر ہم سے لپٹ گئے…لپٹ کیا گئے، ان کا ’سینک سلائی‘ وجود ہمارے’چوڑے چکلے‘ سینے میں سما گیا…ہماری نیند سے بوجھل آنکھیں اسے دیکھ کر پوری طرح کھل گئی تھیں۔
دراصل ہمیں اس کے منحنی سے وجود، ملیح چہرے پر کھیلتی شرمیلی مسکراہٹ اور حد درجے سادگی کو دیکھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا… شاید اس لیے کہ ہمارے لاشعور نے اس کے ہر وقت کے دنگوں و پنگوں کی وجہ سے اسے کوئی ایسا لمبا تڑنگا پہلوان تصور کر رکھا تھا، جس کے گلے میں سرخ مفلر، کھڑے کالر، چہرے پر خشونت جھلکتی اور آنکھوں سے شرارت ٹپکتی ہو… 🤩
خیر مزید حیران ہونے کا وقت نہیں تھا… رات جوان ہو چکی تھی اور ہم بری طرح تھک چکے تھے… سو ہم گلے ملے، سامان گاڑی میں رکھا… وہ ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھا، ہم اس کے برابر میں… تصور و بلال پیچھے… اور گاڑی چل پڑی۔
فیس بک پر بہت زیادہ بے تکلفی نہ ہونے کی وجہ سے ابھی کچھ جھجک سی تھی، سو رسمی باتیں ہوتی رہیں… رات کے اندھیرے میں، دشوار گزار پہاڑی راستے پر وہ بے حد مہارت سے ڈرائیونگ کر رہا تھا… مانسہرہ سے بالا کوٹ جانے والی سڑک پر گاڑی رواں دواں تھی۔ معلوم ہوا کہ ہمارا ٹھکانہ 10 میل کے فاصلے پر ہے… یہ دس میل دس منٹ میں کٹ گئے… اور یکایک گاڑی لب سڑک… ایک نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب عمارت کے ساتھ مڑ گئی۔
ہم نے اس اسپتال کے بارے میں فیس بک پر پہلے پڑھ رکھا تھا، کچھ تصویریں بھی دیکھی تھیں… مگر سچی بات یہ ہے کہ تصویریں اور تعارف، اصل کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا… بے حد خوبصورت اور اہم سیاحتی مقام پر… یعنی مانسہرہ تا بالاکوٹ جانے والی مین سڑک کے بالکل کنارے… ایک جدیداور دلکش تین منزلہ عمارت سر اٹھائے کھڑی تھی…
پارکنگ ایریے کے ساتھ سرو اور چیڑکے آسمان سے باتیں کرتے پیڑ ایک ترتیب سے کھڑے ہوا میں یوں جھوم رہے تھے جیسے بہت سارے دیو جھوم جھوم کر ہمیں خوش آمدید کہہ رہے ہوں!
اسپتال کی عمارت کے اندر داخل ہوئے تو رات کے اس پہر بھی ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹرز کو فعال دیکھ کردل خوش ہو گیا… ہم نے سب سے مصافحہ کیا اور دانشور صاحب کے ساتھ مہمان گاہ کی طرف چل پڑے۔
مہمان گاہ… دس کمروں پر مشتمل تھا… دواور تین بیڈ والے ان لگژری کمروں میں وہ سیاح نہایت مناسب معاوضے پر قیام و طعام کی سہولت حاصل کر سکتے تھے جو ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے بالا کوٹ اور اس سے آگے کاغان، ناران، بابوسر ٹاپ اور گلگت تک جانا چاہتے ہوں… سفر میں شام ہو جائے تو یہاں آرام کر کے تھکن اتاری… اور صبح تازہ دم ہو کر دوبارہ سے اپنا سفر شروع کر دیا…
ہم تین مسافروں کو بھی ایک رات دانشور صاحب کی مہمانی کے مزے لوٹ کر آگے جانا تھا… سو کمرے میں چلے آئے۔
کمرہ شاید فیملی کے لیے تھا… ایک ڈبل بیڈ اور ایک چھوٹا سا بیڈ شاید بچے کے لیے…
ہماری فیملی بھی مکمل تھی… بے بی بلال نے خود ہی سعادت مندی سے بچے والا بیڈ سنبھال لیا… ڈبل بیڈ پر تصورہ اور ہم دراز ہوئے… اچھے نئے بیڈ تھے، چادریں بھی دھلی ہوئی تھیں… البتہ تکیے بس دو ہی تھے…ایک بلال نے لیا، ایک تصور نے…بڑوں کے اکرام کے جذبے سے چوں کہ دونوں ہی خالی تھے… سو ہمیں ’اپنے‘ بازوؤں کو ہی تکیہ بنانا پڑا…
اچھا اچھا ایک منٹ… یہ سونے وغیرہ کا مرحلہ تو ذرا بعد کا ہے… ہم بلاوجہ ہی جذباتی ہو گئے… ابھی تو ہم کمرے میں پہنچے ہیں… دانشور صاحب نے ڈنر کے لیے ہمیں ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو کہا ہے… سو ہم تینوں بیگ وغیرہ رکھ کر آنے والے کل کا پروگرام بناتے رہے… ڈیڑھ گھنٹے بعد تقریباً پونے بارہ بجے جب بھوک سے ہمارا برا حال ہو چکا تھا اور ہم سارا رکھ رکھاؤ بھول کر دانشور صاحب کے کچن میں دھاوا بولنے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ ڈنر کا بلاوا آ گیا…
واہ وا کیا ہی خوب عشائیہ تھا…دو تین قسم کے کھانے، سلاد، روٹی چاول اورہم تینوں کے ساتھ تین میزبان… ایک دانشور، دوسرے ایک باریش ڈاکٹر صاحب اور تیسرے ایک خادم… کھانے کے دوران میں ہلکی پھلکی نوک جھونک چلتی رہی…مذاق میں ایک دوسرے پر چوٹ کرتے رہے…کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور اس بار لمبی بیٹھک ہوئی… ان دنوں فیس بک پر چلنے والے کئی متنازعہ مباحث زیر بحث آئے… ہم نے دانشور صاحب سے کچھ نہایت ذاتی سوالات کیے تو کئی پرتیں کھلیں…معلوم ہوا کہ موصوف ماضی میں جمعیت کے اتنے ہی فدائیہ کارکن رہ چکے، جتنا ابھی تحریک انصاف پر جان دیتے ہیں!
یہ تبدیلی کب اور کیسے ہوئی؟…یہ ہم نہیں بتاتے، انہی سے پوچھیے گا… البتہ یہ پول کھولے دیتے ہیں کہ پتلے دبلے سے یہ ڈیڑھ چھٹانک دانشور گھر کے پہلوان ہیں… یعنی گھر ایک مگر گھروالیاں تین تین رکھتے ہیں… اور بچے پندرہ! 😱
تین تین گھر والیوں کا ہوناتو خوش کن ہے… مگر ایک ہی گھر میں تینوں کا رہناہمارے لییحیران کن تھا…ایک کچھار میں تین شیرنیوں کا رہنا اور محبت سے رہنا واقعی بڑی بات ہے… شاباش شیر شاباش! 😍
ہم نے تو اس کمال پر اس کی پیٹھ ٹھونکی …مگر بلال میاں اور تصور میاں نجانے کیوں حسرت سے اسے دیکھا کیے… بلال تو اس لیے کہ کنوارا تھا اور تصورہ شاہد  اس لیے کہ زن مرید تھے…
رات کے دو بج رہے تھے…اُدھر بات میں سے بات تھی کہ نکلتی جاتی اور پھر دور تک جاتی… دوسرے دن ہمیں طویل سفر کرنا تھا…اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا…اپنے کمرے میں آ کر ہم نے بتی بجھائی اور سونے کے لیے لیٹ گئے… جلد ہی وہ دونوں تو سو گئے… ہمیں مگر نجانے کیا ہوا کہ گھنٹہ ڈیڑھ کروٹیں ہی بدلتے رہے…
صبح ناشتے سے پہلے ہم تینوں جنگل نما لان میں آ بیٹھے تھے… موسم بے حد دلفریب ہو رہا تھا…ہم نے کچھ دیر فوٹوسیشن کیا… ناشتے کی آواز پڑی تو ڈائننگ روم میں جا بیٹھے۔
ناشتے میں پراٹھے بھی تھے اور جام سلائس بھی…جس کو جو اچھا لگے…ناشتے سے فارغ ہو کردانشور بھائی نے ہمیں اسپتال کا تفصیلی دورہ کروایا۔
سچی بات یہ ہے کہ ہم ان کے کام سے اور خدمت خلق سے بے حد متاثر ہوئے… ان کی مشہور فیس بکی امیج سے یہ پہلو بے حد مختلف تھا اور بہت حسین بھی…
 یہ ایک جنرل رفاعی اسپتال تھا جو کچھ برس پہلے ترکی کی ایک این جی او نے بنوا دیا تھا… مگر صرف عمارت کھڑی کر دی گئی تھی (گرچہ یہ بھی بہت بڑی بات تھی کہ کروڑوں کی جگہ ہے) مگر اس کے بعد ضروری سامان، طبی مشینیں اور عملے کی تنخواہ وغیرہ کے لیے جو کچھ ہاتھ پیر مارنے تھے، وہ مقامی عملے کو ہی کرنا تھا…اور ہمارا دانشور ان میں سب سے متحرک تھا۔
یہ پچاس روپے کی پرچی والا ایسا اسپتال تھا جس میں جنرل وارڈ، اسپیشل رومز، لیب، ایمرجنسی وارڈ، میڈیکل اسٹور، آپریشن روم، چلڈرن وارڈ اور گائنی وارڈ بنے ہوئے تھے… ان شعبہ جات میں سے گرچہ بہت سارے ابھی فعال نہیں تھے… کیوں کہ ان شعبوں کے لیے ضروری سامان اور مشینوں وغیرہ کا انتظام اب تک نہ ہو سکا تھا…
ہمیں ڈاکٹرز نے بتایا کہ یوں تو صرف پچاس روپے چیک اپ فیس رکھی گئی ہے تا کہ کم ازکم دواؤں کے اخراجات تو اس سے پورے ہوں… مگرعلاقے میں غربت اتنی زیادہ ہے کہ آس پاس کے گاؤں سے آنے والے کچھ مریض پچاس روپے دینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے…
دس روپے پرچی سے صرف اتنی ہی رقم بمشکل جمع ہوتی تھی کہ غریب مریضوں کے لیے دوائیں آ جاتی تھیں…ڈاکٹراور طبی عملے کی تنخواہ وغیرہ کے لیے مہمان گاہ میں ٹھہرنے والے مسافروں کی ترتیب بنائی گئی تھی مگر ابھی تک صحیح طرح پبلسٹی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تنگی تھی…
 ہم نے بیگ سنبھال لیے …اور چلنے کے لیے تیار ہو گئے… گیٹ کی طرف آئے تو مریضوں کا رش ہونے لگا تھا… ہم نے دیکھ کر زیر لب دعا دی، دانشور کا کاندھا تھپتھپایا… حوصلہ دیا کہ جلد ہی ان شاء اللہ آپ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے… اللہ تعالیٰ آپ کی خدمت کے جذبے کو قبول فرماتے ہوئے کوئی نہ کوئی راستہ کھولے گا…
وہ ہمیں باہر تک چھوڑنے آیا… ایک وین رکی اور ہم تینوں بالا کوٹ جانے کے لیے اس میں بیٹھ گئے…دانشور ہمیں دیر تک ہاتھ ہلاتا الوداع کرتا رہا…
یقینا اب تک آپ احباب ان صاحب کو پہچان گئے ہوں گے…
اگر نہیں تو حیرت ہے… ارے بھئی وہی… اصغر علی المعروف ہمدرد حسینی… اور کون!؟ (جاری ہے)

Comments