حسد سے چھٹکارے کا ایک آزمودہ نسخہ

حسد سے چھٹکارے کا ایک آزمودہ نسخہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب کسی کی کوئی کامیابی برداشت نہ ہو اور دل جل کر بھسم ہونے لگے تو اس کیفیت کو حسد کہتے ہیں… اس کی بنیاد یقیناً حب جاہ ہوتی ہے… اس سے بڑے بڑے نامور محفوظ نہیں مگر وہ کہ جسے اللہ محفوظ کر دے… ابلیس لعین جو اپنے تقویٰ اور عبادت کی وجہ سے فرشتوں کا معلم بنا دیا گیا تھا، اسی حب جاہ کے ہاتھوں برباد ہوا اور آدم علیہ السلام سے حسد کر بیٹھا…پھر اس کا انجام سب جانتے ہی ہیں کہ ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا!
 یہ حسد ہی کی تو بیماری تھی جس نے یہود کو ایمان جیسی عظیم دولت اور نعمت سے محروم رکھا… وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ آخری نبی بنی اسرائیل میں مبعوث ہوگا لیکن جب ان کی امید کے برخلاف جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسمٰعیل میں پیدا ہوگئے تو وہ بدبخت حسد میں مبتلا ہوگئے!
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ’’برے اخلاق میں سے حسد سے زیادہ عدل والا خلق کوئی نہیں جو کہ محسود تک حسد کے اثرات پہنچنے سے پہلے حاسد کو ختم کردیتا ہے۔‘‘یہ بھی آپ ہی کا قول ہے کہ ’’میں حاسد کے سوا ہر شخص کو خوش کرسکتا ہوں، حاسد تو صرف نعمت کے زوال پر ہی خوش ہوتا ہے۔‘‘
مقصود اس پوسٹ سے یہ ہے کہ ہم بھی ایک عام سےگناہ گار بندے ہیں…اپناکوئی قریبی دوست کسی میدان میں ہم سے آگے بڑھ جائے…نمایاں ہو جائے… تو سچی بات یہ ہے کہ گاہے جلن بھی ہوتی ہے، لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بہت بچپن سے خود احتسابی کی عادت ہے… سو فوراً تنبیہ بھی ہو جاتی ہے…!
 ہمیں یاد ہے کہ بہت چھوٹی عمر تھی، شاید ان دنوں آٹھویں میں تھے…ایک بار ایک موقع پر ایک دوست سے شدید حسد محسوس ہوا… وہ اور ہم بچپن سے دوستی کے باوجود ایک مقابلے کی کیفیت میں رہتے تھے…ان دنوں وہ ایک خاص معاملے میں ہم سے آگے بڑھا ہوا تھا… بس یہی چیز ہمارے نفس کو بے چین کیے دے رہی تھی… کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا…اور جیسا کہ حسد کی علامت ہے کہ حاسد کو چاہے وہ چیز یا کامیابی ملے نہ ملے، بس کسی طرح محسود تباہ ہو جائے، اس سے وہ چیزچھین جائے…سو ایسی ہی تباہ کن کیفیت ایک دو دن تک شدید بے کل کیے رہی… دل میں چھپا بغض کسی پل چین نہیں لینے دے رہا تھا کہ پھر کسی وقت اچانک کیا ہوا کہ بیٹھے بیٹھے رونا آ گیا…
 اس وقت بے اختیار دعا کی کہ یہ عارضہ چھوٹ جائے… اللہ کی شان کریمی ملاحظہ فرمائیے کہ عین اسی وقت دعا کرتے وقت مرض کا علاج شروع ہو گیا… اپنے لیے دعا کرتے کرتے ہم نے اس دوست کے لیے دعا کرنا شروع کر دی… اس کے لیے دعا میں حد سے زیادہ مبالغہ شروع کر دیا… اس کی جو کامیابی ہمیں ہضم نہیں ہو رہی تھی … اسی میدان میں اس کے لیے نہایت مبالغے کے ساتھ ترقی کی دعائیں مانگیں… اور صرف دنیا کی ہی نہیں آخرت کے لیے بھی اس کے لیے وہ وہ کچھ مانگا کہ جس کا خود اس نے بھی کبھی تصور نہیں کیا ہو گا…
بس جی دعا بعد میں ختم ہوئی، یہ منحوس جذبہ پہلے دل سے ختم ہو گیا… اس کے ساتھ ہی بے پناہ سکون مل گیا جو حاسد کو کبھی نصیب نہیں ہوتا… یہی نہیں سکون کے نقد انعام کے ساتھ اور بھی بہت سے انعامات اگلے چند ہی دنوں میں مشاہدہ ہوئے… پہلی بات تو یہی کہ وہ چیز نہ صرف ہمیں مل گئی بلکہ اس دوست سے بڑھ کر ملی… دوسری اہم بات یہ کہ وہ دوست خودبخود پہلے سے زیادہ ہمارا گرویدہ ہو گیا!
آج سوچا کیوں نہ یہ نسخہ آپ دوستوں کو بھی بتا دیا جائے… ویسے تو یقیناً آپ میں سے اکثر دوست نہایت صاف دل کے ہوں گے… اس لیے آپ حضرات کو تو اس کی ضرورت نہیں مگر… بغض و کینہ کے کسی مریض کو تو بتایا جا سکتا ہے…!
تو جناب کرنا یہ ہے کہ جب کسی سے حسد محسوس ہو تو اس کے لیے نہایت مبالغے کے ساتھ خوب دعا میں لگنا چاہیے…گو پہلے پہل محسود کے لیے دعا میں ہاتھ اٹھانا کسی پہاڑ اٹھانے سے زیادہ بھاری لگے گا… زبان و دل دعا کے لیے ہرگز آمادہ نہ ہوں گے، مگر ہمت کر کے یہ کام کر گزریے… چند دعائیہ جملے باتکلف دل پر پتھر رکھ کر اللہ کو سنا دیں… ہمیں یقین ہے کہ پھر رحمت خداوندی خود دست گیری کرے گی…
اس کے ساتھ یہ دعا بھی کیجیے کہ اے اللہ! میرے حسد کے شر سے دوسروں کو محفو ظ فرما اور دوسروں کے حسد کے شر سے مجھے اور میرے اہل خانہ کو محفوظ فرما۔ آمین
محمد فیصل شہزاد

Comments