مولانا فضل الرحمن صاحب کے ایک مداح نے انکاتذکرہ بغیر نقطوں کے قلمبند کیا ہے ؛ مولانا پر شائد پہلی بغیر نقطوں والی تحریر ہے ...انتہائی لاجواب، حیرت انگیز اور پرلطف ، واقعی لکھنے والے نے کمال کیا ہے ...نیچےلکھےگئےمضمون میں نقطےوالےحروف نہیں ھےجیسےب ت ث ظ ش چ وغیرہ
------------------------------------------
امام العلماء
مولوی اسعد محمود کے والد، علامہ محمود مرحوم کے ولد، امام ولی اللہ دھلوی کے علمی مسلک کے راھرو، ولی العلماء امداد اللہ مکی کے سلاسل سلوک کے ماھی، احمد علی لاھوری کے احراری کارواں کے روح رواں، علماۓ اسلام کے سردار اور مسلم امہ کے مسلمہ امام.
ساٹھ کی دھائ سے اک کم آٹھ سال اول عالم ارواح سے اس عالم کو آۓ. سرحد کے ڈی آئ کے ڈسٹرکٹ کا اک دور گاؤں اس مولود مسعود کا اصلی مولد ھے. کلام الہی کا درس اور علوم وحی کے گرامر والد گرامی سے حاصل کۓ. سکول کی کلاس سادس سے اول گاؤں ھی رھے. اس سے آگے والد کے ھمراہ دور گۓ. دسواں کلاس وھاں ملہ سے موسوم اک ھائ سکول سے ھوا.
عصری علوم کے گوھر سے مالا مال ھوکر علوم اسلامی کے حصول کے لۓ لگ گۓ. اسی کی دھائ سے اک سال اول دارالعلوم اکوڑی سے علوم وحی مکمل کرکے عالم ھوگۓ. عالم ھوکر اگلے سال گھر سے دور درس کے سلسلے سے لگ گۓ. مگر اک سال ھوا کہ علامہ کے والد حکم الہی سے مرحوم ھوگۓ، اس لۓ درس کا سلسلہ روک کر عوامی مسائل کے حل کے لۓ ڈٹ گۓ. اس کے والد کئ ماہ سرحد کے حاکم اعلی رھے مگر گھر علم و سادگی کا گہوارہ ھی رھا.
اس صدی کے اول سے سہ کم آٹھ سال اول علماۓ اسلام کے ملکی گروہ کے صدر ھوۓ. اور دو دھائ ھوگۓ کہ وہ اس اھم عہدے سے اسلام کے لۓ عملی کام کر رھا ھے. کئ سالوں سے ملک کے دارالعوام کا حصہ ھے. ھر دور دامے، درمے اور کلامے ملک کی اسلامی اساس اور اسلام کے اساسی اصولوں کے لۓ ملحدوں اور گمراھوں کے آگے رکاوٹ اور سد راہ ھے. کارواں کے ھر دل کا احساس اس سے ھے.
طلسمی عمامہ، عموما سرمئ کلر کا واسکٹ، گوری داڑھی، حساس دل، ولی کامل، کلمہ کا داعی، اسلام کا راھی، مکالمہ کا حامی، دلائل کا ماھر، روح کے ڈاکٹر، اصولوں کے کٹر، ھر حوالہ مکمل، ھر کلام کمال کا اور ھر کمال عالی، عمل صالح کا، کردار مصلح کا، علم و عمل ھر دو کا علمدار، اھل دل کا دلدار.
مسلکوں کی لڑائ سے کوسوں دور، عسکری گروں کی ھٹ لسٹ کا حصہ، ھر اسلامی اکٹھ کو دوڑ، ھر گروہ سے رواداری، ھر کلمہ گو کی دلداری، صلح کل کا راوی. گالی سے دور، گولی سے اور دور، کسی کو اس سے اگر گلہ ھے، وہ اسی کو لمحہ لمحہ گلے لگا ھے.
ملٹری سرکار سے لڑائ ھو کہ کسی آمر کی رگڑائ ھو، ھر اک سے اول، ھر اک سے آگے اور ھر اک سے الگ. امراء کے ھاں محسود، علماء کے ھاں مسعود، کئ اعداء اس کے حسد سے ھلاک ھوۓ اور کئ کو اس کا عملی کردار مار ڈالا. کئ لڑھک گۓ، کئ الٹ گۓ. کوئ اگر ڈٹ کے کھڑا ھے، وہ علامہ محمود کا ولد ھی ھے.
کہسار سے ساحل اور گوٹھ سے ساگر، ملک کی ھر وادی اور ھر گھر اس کے عملی کردار کا گواہ ھے. سارے علمی مسائل کا ماھر اور ھر عالمی معاملے کا اس کو مکمل ادراک ھے.
اسلام کے سرحدوں کا رکھوالا، ملک و عوام کے لۓ سوگوار، سردی ھو کہ گرمی، ھر گھڑی اور ھر لمحہ سرگرم. دارالعوام ھو کہ دارالعلوم، اس کا ھر دعوی ھر اک کو محسور کردے. ھر مدعی اس کا سرگرداں ھے. کالم کاروں کا اس کے دلائل کو سلام ھے. کلام کرے اور اس طرح لگے کہ احرار کا مولوی عطاء اللہ ھے. اسی لۓ کہا کہ عطاء ھے اللہ کا، کرم الہی کا کہ اسد ھے عصر کا اور امام العلماء ھے.
( تحریر عبد الغفار شیرانی )
------------------------------------------
امام العلماء
مولوی اسعد محمود کے والد، علامہ محمود مرحوم کے ولد، امام ولی اللہ دھلوی کے علمی مسلک کے راھرو، ولی العلماء امداد اللہ مکی کے سلاسل سلوک کے ماھی، احمد علی لاھوری کے احراری کارواں کے روح رواں، علماۓ اسلام کے سردار اور مسلم امہ کے مسلمہ امام.
ساٹھ کی دھائ سے اک کم آٹھ سال اول عالم ارواح سے اس عالم کو آۓ. سرحد کے ڈی آئ کے ڈسٹرکٹ کا اک دور گاؤں اس مولود مسعود کا اصلی مولد ھے. کلام الہی کا درس اور علوم وحی کے گرامر والد گرامی سے حاصل کۓ. سکول کی کلاس سادس سے اول گاؤں ھی رھے. اس سے آگے والد کے ھمراہ دور گۓ. دسواں کلاس وھاں ملہ سے موسوم اک ھائ سکول سے ھوا.
عصری علوم کے گوھر سے مالا مال ھوکر علوم اسلامی کے حصول کے لۓ لگ گۓ. اسی کی دھائ سے اک سال اول دارالعلوم اکوڑی سے علوم وحی مکمل کرکے عالم ھوگۓ. عالم ھوکر اگلے سال گھر سے دور درس کے سلسلے سے لگ گۓ. مگر اک سال ھوا کہ علامہ کے والد حکم الہی سے مرحوم ھوگۓ، اس لۓ درس کا سلسلہ روک کر عوامی مسائل کے حل کے لۓ ڈٹ گۓ. اس کے والد کئ ماہ سرحد کے حاکم اعلی رھے مگر گھر علم و سادگی کا گہوارہ ھی رھا.
اس صدی کے اول سے سہ کم آٹھ سال اول علماۓ اسلام کے ملکی گروہ کے صدر ھوۓ. اور دو دھائ ھوگۓ کہ وہ اس اھم عہدے سے اسلام کے لۓ عملی کام کر رھا ھے. کئ سالوں سے ملک کے دارالعوام کا حصہ ھے. ھر دور دامے، درمے اور کلامے ملک کی اسلامی اساس اور اسلام کے اساسی اصولوں کے لۓ ملحدوں اور گمراھوں کے آگے رکاوٹ اور سد راہ ھے. کارواں کے ھر دل کا احساس اس سے ھے.
طلسمی عمامہ، عموما سرمئ کلر کا واسکٹ، گوری داڑھی، حساس دل، ولی کامل، کلمہ کا داعی، اسلام کا راھی، مکالمہ کا حامی، دلائل کا ماھر، روح کے ڈاکٹر، اصولوں کے کٹر، ھر حوالہ مکمل، ھر کلام کمال کا اور ھر کمال عالی، عمل صالح کا، کردار مصلح کا، علم و عمل ھر دو کا علمدار، اھل دل کا دلدار.
مسلکوں کی لڑائ سے کوسوں دور، عسکری گروں کی ھٹ لسٹ کا حصہ، ھر اسلامی اکٹھ کو دوڑ، ھر گروہ سے رواداری، ھر کلمہ گو کی دلداری، صلح کل کا راوی. گالی سے دور، گولی سے اور دور، کسی کو اس سے اگر گلہ ھے، وہ اسی کو لمحہ لمحہ گلے لگا ھے.
ملٹری سرکار سے لڑائ ھو کہ کسی آمر کی رگڑائ ھو، ھر اک سے اول، ھر اک سے آگے اور ھر اک سے الگ. امراء کے ھاں محسود، علماء کے ھاں مسعود، کئ اعداء اس کے حسد سے ھلاک ھوۓ اور کئ کو اس کا عملی کردار مار ڈالا. کئ لڑھک گۓ، کئ الٹ گۓ. کوئ اگر ڈٹ کے کھڑا ھے، وہ علامہ محمود کا ولد ھی ھے.
کہسار سے ساحل اور گوٹھ سے ساگر، ملک کی ھر وادی اور ھر گھر اس کے عملی کردار کا گواہ ھے. سارے علمی مسائل کا ماھر اور ھر عالمی معاملے کا اس کو مکمل ادراک ھے.
اسلام کے سرحدوں کا رکھوالا، ملک و عوام کے لۓ سوگوار، سردی ھو کہ گرمی، ھر گھڑی اور ھر لمحہ سرگرم. دارالعوام ھو کہ دارالعلوم، اس کا ھر دعوی ھر اک کو محسور کردے. ھر مدعی اس کا سرگرداں ھے. کالم کاروں کا اس کے دلائل کو سلام ھے. کلام کرے اور اس طرح لگے کہ احرار کا مولوی عطاء اللہ ھے. اسی لۓ کہا کہ عطاء ھے اللہ کا، کرم الہی کا کہ اسد ھے عصر کا اور امام العلماء ھے.
( تحریر عبد الغفار شیرانی )
Comments
Post a Comment