یہ وطن ہمارا ہے

''یہ وطن ہمارا ہے''

سلجھن ۔۔۔۔ عمرفاروق راشد

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ مصورِ پاکستان کہلاتے ہیں۔ تاریخی روایت موجود ہے کہ علامہ نے الہ آباد کانفرنس کے خطبہ صدارت میں الگ ریاست کا تصور دیا تھا، جسے اہل اسلام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ آپ کے یہ الفاظ زبان زدِ عام ہیں: ’’میں صرف ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کر رہا ہوں، کیونکہ یہ امر کسی طرح مناسب نہیں کہ مختلف ملّتوں کے وجود کا خیال کیے بغیر ہندوستان میں مغربی طرز کی جمہوریت کا نفاذ کیا جائے، لہذا مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ ہندوستان میں ایک اسلامی ہندوستان قائم کیا جائے، بالکل حق بجانب ہے۔‘‘ اس جملے کے آخری الفاظ بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ تصور اس خطبے سے پہلے بھی مسلمانوں میں گردش کرتا تھا۔ اس کی تائید ہندوستان کے ممتاز و معروف عالم دین اور باکمال مفسر، مصنف و ادیب جناب مولانا عبدالماجد دریا آبادی کے اس اقتباس سے ہوتی ہے: فرماتے ہیں : 1928ء میں ہم نے حکیم الامت، مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے یہ الفاظ سنے: ’’دل یوں چاہتا ہے کہ ایک خطے پر اسلامی حکومت قائم ہو، سارے قوا نین وغیرہ اجرائے احکام شریعت کے مطابق ہو۔ بیت المال ہو، نظام زکوۃ رائج ہو، شرعی عدالتیں قائم ہوں، وقس علی ہذا۔ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے یہ نتائج کہاں حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تو صرف مسلمانوں کی ہی جماعت ہونی چاہیے اور اسی کو یہ کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

اس سے ظاہر ہے کہ ایک الگ ریاست کے تصور کی پہلی صراحت جو صادر ہوئی وہ ایک عالم دین کی زبان سے ہوئی تھی۔ خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں دیا گیا، جبکہ حضرت مولانا تھانوی یہ وضاحت اس سے دو سال قبل پیش کر رہے ہیں۔ اگر تصور پیش کرنا کسی بھی مملکت کی بنیاد کا سب سے پہلا پتھر ہے تو یہ رکھنے کی سعادت ایک عالم دین کو حاصل ہوئی ہے۔ اس کے بعد خطبہ الہٰ آباد کے توسط سے اسے عام مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ نعرہ پورے ہندوستان میں پھیل گیا۔

پاکستان کے لیے علمائے کرام کی سیاسی، علمی، عملی اور دیگر ہر نوع کی کاوشوں کا سلسلہ روزاول سے جاری ہے۔ تحریک پاکستان کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کرنے کا جو سلسلہ حضرت مولانا تھانوی کی تائید، دعا اور سرپرستی سے شروع ہوا، وہ خواب سے تعبیر تک اس عظیم تحریک کے سنگ سنگ ہی رہا۔ کبھی ختم نہ ہوا۔ حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے اپنی عمومی زندگی، معمولات اور فرائض منصبی سے ہٹ کر تحریک پاکستان کو اپنی توجہ اور خدمات سے خصوصیت کے ساتھ نوازا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کے دستور و قانون کے نفاذ کی عملی جد و جہد میں حصہ لیتے رہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کے بقول: شروع کے تقریباً دس سال کے شب و روز اسی کوشش اور محنت میں گزرے۔

مولانا ظفر علی خان جب بعض امور میں رہنمائی کے لیے حضرت پیر سید مہر علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان سے درخواست کی: ’’جناب! میں تو اہل اللہ کے دربار میں مسلمانان ہند کے لیے سلطنت مانگنے آیا ہوں۔‘‘ اس کے جواب میں پیر مہر علی شاہ نے پہلے توقف فرمایا اور پھر بولے: ’’میں دعا کرتا ہوں، آپ بھی دعا کریں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس ملک کے مسلمانوں کو آزادی نصیب فرمائے اور ایسی حکومت بخشے جو ان کے دین کی خدمت کر سکے۔‘‘ آپ تاریخ کے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھیں تو مولانا تھانوی رحمہ اللہ کے خلیفۂ اعظم مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی صف میں نظر آتے ہیں، جنہوں نے تحریک پاکستان میں شانہ بشانہ حصہ لیا۔ امرتسر اور اس کے قرب و جوار میں الیکشن مہمات کو مسلم لیگ کے حق میں کامیاب کروانے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ لاہور کی عظیم روحانی و علمی شخصیت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے 1949ء میں قرار دادِ مقاصد کی ترتیب و منظوری کے موقع پر اس کی بھرپور تائید فرمائی اور اطمینا ن کا اظہار فرمایا۔ وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے: ’’پاکستان کے وجود کا دنیا کے نقشے پر ابھرنا پروردگار عالم کا احسانِ عظیم ہے۔‘‘

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃاللہ علیہ نے قیام پاکستان کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا: ’’لیگ سے ہماری سیاسی کشمکش ختم ہو چکی ہے اور الیکشن کے ساتھ ختم ہو گئی تھی۔ اس وقت لیگ قوت حاکمہ ہے اور مسلمانوں نے اسے بنایا اور قبول کیا ہے۔۔۔ میری آخری رائے اب یہی ہے کہ ہر مسلمان کو پاکستان کی فلاح و بہبود کی راہیں سوچنی چاہییں اور اس کے لیے عملی قدم اٹھانے چاہییں۔‘‘ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی وطن عزیز کے لیے خدمات محتاج بیان نہیں۔ 1945ء میں جمعیت علمائے اسلام کے قیام اور اس کی صدارت سے لے کر دو قومی نظریے کے فروغ کے لیے اپنی خصوصی کوشش کرنا، پھر قیام کے موقع پر پرچم کشائی اور دیگر عظیم کارنامے تاریخ کا ان مٹ حصہ ہیں۔ پاکستان کے قیام کے لیے خصوصی کاوشیں کرنے والوں میں ایک بڑا نام مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ آپ نے اپنے استاد گرامی علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے موقف کی مکمل حمایت کی اور انہی کی زیر قیادت جمعیت علمائے اسلام کے پروگراموں میں شامل ہوتے رہے۔ آپ نے تقریر و تحریر کے ذریعے ایک اسلامی مملکت کے قیام کے لیے اپنی ناگزیر کوششیں فرمائیں۔
حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ سیاسی لحاظ سے اس قافلے کے عظیم فرد تھے جس کے سالار مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ آپ تحریک پاکستان کے زبردست حامی اور سپاہی تھے۔آپ قیام پاکستان کے بعد قرار دادِ مقاصد اور اسلامی نظام کے نفاذ میں علامہ شبیر احمد عثمانی کے دست راست رہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کی بے شمار خدمات ہیں۔

 اس عظیم کارواں عزیمت و بصیرت کے ایک عظیم رکن شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی بھی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے مختلف اضلاع کے دورے کر کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ رہنے اور پاکستان کے قیام کے لیے جد و جہد کی تلقین فرمائی۔ لیاقت علی خان مرحوم نے اپنے کامیاب ہونے پر مبارک باد کا پہلا تار مولانا ظفر علی خان کو کیا اور اس کامیابی کو علما کی طرف منسوب کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ڈھاکہ میں پرچم کشائی کے لیے قائد اعظم کی ہدایت پر آپ کو نامزد کیا گیا۔ اسی طرح آئین سازی کے سلسلے میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے جس مہم کا آغاز کیا تھا، اس میں سب سے اہم کردار مولانا احتشام الحق تھانوی نے ادا کیا۔

الغرض! قیام پاکستان کے لیے علمائے کرام کی جد وجہد ایک اٹل حقیقت ہے، جس کا اعتراف وہ لوگ عمل سے کر گئے جنہوں نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آج کی نسل اگر اس کو تسلیم نہ کرے تو یہ طوطا چشمی اور چڑھے سورج کو جھٹلانے کے سوا کچھ نہیں، تاہم اس سے بڑا فریضہ بانیان پاکستان کے روحانی فرزندوں کا ہے کہ وہ آج 70برس کے بعد اکابر و اسلاف کی قربانیوں، کاوشوں اور ان تھک محنتوں کو اپنی خاموشی کے ذریعے جھٹلائیں نہیں۔ یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے۔

اگر آپ اپنی تاریخ سے واقف نہیں تو اس سے بڑی کوئی زیادتی نہیں۔ اگر آپ واقف ہیں اور اعتراف حقیقت سے عاری ہیں تو یہ اس سے بڑا ظلم ہے۔ آپ آگے بڑھیے۔ اپنے اکابر کی اس امانت کو سینے سے لگائیے۔ اسے لٹیرے لوٹ کے لے چلے ہیں، آپ اسے سنبھالیے۔ اسے قرآن و سنت کے نفاذ کا عملی نمونہ بنانے کے لیے کوششیں کیجیے۔ اگست کے دن اسی اعتراف حقیقت، اظہارِ تشکر، اکابر کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے کے دن ہیں۔ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے حصے کا کام، اس کے وقت پر کیجیے۔ اپنے اکابر کی خدمات کے اعتراف کے لیے ماہ آزادی میں تقریبات اور پروگرام منعقد کیجیے۔ اللہ کی اس عظیم کا شکرادا کیجیے۔ اس کی حفاظت کے لیے دعائیں مانگیے۔ نئی نسل کی درست ذہن سازی کیجیے اور اسے مثبت سوچ سے نوازیے ۔

(شایع شدہ، ہفت روزہ ضرب مومن)

Comments