اونٹ... کاوش نمبر 10

انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 10
===========
موضوع: اونٹ

اونٹ بھی کیسا جانور ہے۔ نہ خوبصورت شکل، نہ بانکی چال اور نہ سریلی آواز۔ اسے اردو زبان کے شاعروں اور ادیبوں نے نظر انداز کیے رکھا ہے۔ میرے علم کے مطابق آج تک کسی شاعر نے محبوب کو اونٹ سے تشبیہ نہیں دی۔ اردو محاورات اور ضرب الامثال میں اونٹ کا جی بھر کے مذاق اڑایا گیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
"اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔" اب بندہ پوچھے باقی جانوروں میں کون سے خطوطِ مستقیم اور اقلیدس کی شکلیں بنی ہوئی ہیں۔
"اونٹ بلبلاتا ہی لدتا ہے۔" تو صاحبان باقی جانور لدتے ہوئے لُڈی ڈالتے ہیں یا مالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں ؟
"اونٹ بڑا ہوا پر موتنا نہ آیا۔" ان سے سوال کریں باقی جانور موتتے وقت بیت الخلا کا استعمال کرتے ہیں ؟
کسی لمبے تڑنگے اور بے ڈھنگے انسان کو بڑے آرام سے اونٹ کہہ دیتے ہیں۔ آخر اونٹ ہی کیوں؟ باقی جانور مر گئے ہیں کیا ؟ زرافہ لمبا نہیں ہوتا؟ ہاتھی اور گینڈا تو بہت سمارٹ ہوتے ہیں نا ؟
شاعری میں جہاں گل و بلبل کی بات ہوتی ہے، محبوب کی چال کو ہرنی کی مست چال سے تشبیہ دی جاتی ہے اور اس کے قد کو سرو سے تشبیہ دیتے ہیں کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی جو محبوب کی لمبی گردن کو اونٹ کی قوسی گردن سے، اس کے نازک لبوں کو اونٹ کے لٹکتے ہوئے ہونٹوں سے، اس کے قد کو اونٹ کے قد سے اور اس کی چال کو اونٹ کی ناز و ادا سے بھر پور چال سے تشبیہ دے سکے۔ حالانکہ ولی دکنی نے تو اپنے محبوب کی چال کا مقابلہ ہاتھی کی چال سے کروا دیا؛
چلنے منے اے چنچل ہاتھی کوں لجاوے توں
بے تاب کرے جگ کوں جب سامنے آوے توں

برصغیر میں ہندو گائے کو مقدس سمجھتے تھے اور ان سے مقابلے کے لیے مسلمانوں کو کسی جانور کی تلاش ہوئی۔ قرعہ اونٹ کے نام نکلا۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اپنے اردو اور فارسی کلام میں اونٹ کی تعریف سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں رنگوں میں کی۔ اس کے علاوہ اکبر الہ آبادی نے اونٹ کے بارے میں مزاحیہ کلام بھی لکھا۔ اقبال جہاں
ہمت و محنت شعارِ اشتر است
صبر و استقلال کارِ اشتر است
کا نعرہ لگا کر مردِ مسلمان کو اونٹ جیسا صابر، محنتی اور سخت کوش بننے کی تلقین کرتے ہیں وہیں جنگِ عظیم اول میں ترکوں کی ناکامی کی وجہ عربوں سے بے وفائی اور اونٹ کی ناقدری کو قرار دیتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:

ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر
حاصل ہوا یہی، نہ بچے مار پیٹ سے
مغرب میں ہے جہاز بیاباں شتر کا نام
ترکوں نے کام کچھ نہ لیا اس فلیٹ سے

اس کے علاوہ گائے اور اونٹ کا مکالمہ بھی مزے کی چیز ہے۔
عربوں کے ادب سے اگر فحاشی اور خونریزی نکال لی جائے تو باقی اونٹ بچتا ہے۔ جس طرح کرنل شفیق الرحمٰن نے لکھا ہے:
"بھینس تو ہمارے بغیر شاید گزارا کر لے لیکن ہم بھینس کے بغیر گزارا نہیں کر سکتے۔"
اسی طرح اونٹ تو عربوں کے بغیر رہ سکتا ہے لیکن اونٹ کے بغیر عربوں کا رہنا محال ہے۔ صحرا کا سفر ہو یا اونٹوں کی دوڑ اونٹ اور عرب لازم و ملزوم ہیں۔ کہتے ہیں عربی زبان میں اونٹ کے ایک سو نام ہیں۔ بقول مشتاق احمد یوسفی:
"عربی کے اساتذہ کہا کرتے تھے اگر کسی بہت کڈھب عربی لفظ کا معنی پتہ نہ چل رہا ہو تو سمجھ لینا اونٹ کا کوئی نام ہو گا۔"
فارسی شاعری میں لیلیٰ کے محمل کا بہت چرچا رہا۔ اس لئے کچھ شاعروں نے عام محبوباؤں کو بھی محمل پر بٹھانا چاہا۔ سعدی نے تو اونٹ والے کی منت بھی کی:
اے ساربان! آہستہ ران کہ آرامِ جانم می رود
پنجابی اور سرائیکی میں بھی کبھی کبھی:
"ڈاچی والیا موڑ مہاراں نوں"
اور
"نی اٹھاں والے ٹر جان گے"
کا تذکرہ مل جاتا ہے۔
اونٹ اپنی جسامت، خوبیوں اور عادات کی وجہ سے اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس ادب میں خاص مقام دیا جائے۔ اگر اللہ اس کا تذکرہ اپنے پاک کلام میں کر کے اسے اپنی قدرت کی نشانی قرار دے سکتا ہے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔

===========
انعامی مقابلہ نمبر 5 کی تمام کاوشیں:
https://web.facebook.com/groups/elanaat.e.Aojeadab/permalink/454749208258128/

Comments