گدھا... کاوش نمبر 1

انعامی مقابلہ نمبر5
کاوش نمبر: 1
===========
موضوع: گدھا

کہتے ہیں گدھا حماقت کا استعارہ ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ گئے دور کا قضیہ تھا جو بعد از جمہوریت قصہ پارینہ بن چکا. اب تو گدھا بھی عام گدھا نہ رہا. وہ زمانے گئے جب بے چارہ روئی اور نمک کی پہچان میں ہلکان رہتا تھا اور بوجھ سے کمر دوہری کرلیتا اب تو گدھا بھی صاحب بن چکا ہے کبھی پشاور سے بیرون ملک (چائنہ) دورے پر جارہا کبھی لاہور سے اپنے کپڑے ڈرائی کلین کے لیے بیرون ملک بھیج رہا. پہلے لوگ غصے میں ایک دوسرے کو گدھا کہتے تھے اب غصہ جو کافور ہوا تو گدھے ایوان بالا پہنچا دیے. ایک زمانے تک بدعنوان لوگ گدھے پر بٹھا کر بازار میں گھمائے جاتے تھے لوگ سمجھتے کہ بدعنوان ذلیل ہورہا ہے جب کہ حقیقت میں گدھا اسے اپنی ذلت سمجھتا کہ کیا الغم شلغم سب لاد دیتے ہیں ہمارے حقوق کا بالکل خیال نہیں کرتے، کہتے ہیں اسی وقت سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنے نمائندے ایوان میں بهیجنے شروع کیے تھے جو خیر سے اب واضح اکثریت حاصل کر چکے.
گذشتہ دنوں ہم نے گدھے کے دیگر مشہور نام جاننے کے لیے ایک سروے کیا تو ہمیں دو نام اور بھی گدھے کے معلوم ہوئے، کھوتا اور گدهیڑا. کھوتے کو تو اکثر لوگ پہچانتے ہیں جب کہ آخر الذکر سے چند مخصوص قومیں ہی واقف ہیں. آپ کھوتا، گدھا اور گدهیڑا میں فرق جاننا چاہیں تو پارلیمنٹ کی مثال سے جان سکتے ہیں. اگر گدھوں کے ملک میں انکی پارلیمنٹ بنے تو سارے پارلیمنٹرین کھوتے ہوں گے اور گدھا انکا وزیر اعظم جب کہ صدر گدهیڑا کہلائے گا.
لوگ کہتے پاکستانی انجانے میں کتنے گدھے کھا گئے، میں کہتا ہوں بھلا کیوں نہ کھائیں آخر ستر سال سے گدھے بھی تو ہمارا ملک کھا رہے.
پہلے انسان بلا جھجک کہہ دیتے تھے گدھا کیا جانے زعفران کا بهاؤ، لیکن جب سے گدھے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے لگے ہیں جب سے اس کہاوت پر بھی پابندی لگا دی ہے، اب تو اشیاء کے بھاؤ اور انسانوں سے ملے گھاؤ سب کو پہچانتے ہیں.
کچھ سالوں سے ہمارا ملک بھی گدھے کا کردار نبھا رہا تھا جسکا مالک گھاس کم کھلاتا تھا اور "ڈو مور" کا تقاضہ زیادہ کرتا تھا اور کام نہ کرنے پر جھنجھنے سے حرکت بھی دیتا تھا لیکن اب دنیا کے اور گدھوں کے ساتھ شاید ہمیں بھی اپنے حقوق کی پہچان آگئی ہے جب ہی اب ہم نے دولتیاں مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے.

ایک مالک اپنے گدھے کو مارتا بھی بہت تھا چارہ بھی کم دیتا اور کام زیادہ لیتا، ایک دن اس گدھے کو دوسرے گدھے نے جهڑکا "موہے بیغیرتاں بھاگ کیوں نہیں جاتا، اتنا پٹتا بھی ہے چارہ بھی بس گذارے لائق اور کام دیکھو تو مت ماری جائے"
اس پر گدھے نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہتے تو تم صحیح ہو لیکن کیا کروں اس مالک کی ایک بیٹی ہے مالک جب بھی اس پر بگڑتا ہے اسے کہتا ہے میں تیرا بیاہ اس گدھے سے کردوں گا، بس بھائی اسی آسرے بیٹھا ہوں، کیا پتا اتنی مار کے بعد کچھ ملائی روٹی بھی مل ہی جائے.
بہت کم چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا وجود نہیں ہوتا لیکن مشہور پھر بھی ہوتی ہیں. انہی میں سے ایک چیز گدھے کے سینگ بھی ہیں یہ موجود نہیں لیکن انکا موجود نہ ہونا بھی کیا ہی مزے کا محاورہ ہے جیسے

ڈاکوؤں کو اسلحے کے زور پر لوٹتا دیکھ کر پولیس ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
بارش کے دوران انتظامیہ شہر سے ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
ڈرامہ شروع ہوتے ہی بیگم ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
تبلیغ والوں کو دیکھ کر میاں جی ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
ابھی آسمان سے سے قطرے برسے ہی تھے کہ بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سینگ.
لکھنے بیٹھیں تو الفاظ ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
خدا نہ کرے منصف نمبر دینے بیٹھے تو نمبر ایسے غائب ہوجائیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
===========

Comments